صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب:
باب: جمعہ کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 844 ترقیم شاملہ: -- 1951
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ ".
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعے کے لیے آنے کا ارادہ کرے تو وہ غسل کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1951]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی شخص جب جمعہ کے لیے آنے کا ارادہ کرے تو وہ غسل کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1951]
ترقیم فوادعبدالباقی: 844
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 844 ترقیم شاملہ: -- 1952
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَر: " مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ ".
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمیر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”تم میں سے جو جمعے کے لیے آئے غسل کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1952]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”تم میں سے جو جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1952]
ترقیم فوادعبدالباقی: 844
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 844 ترقیم شاملہ: -- 1953
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وعَبْدِ اللَّهِ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ابن جریج نے کہا: ابن شہاب نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دونوں بیٹوں سالم اور عبداللہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1953]
امام صاحب رحمہ اللہ نے اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1953]
ترقیم فوادعبدالباقی: 844
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 844 ترقیم شاملہ: -- 1954
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ (آگے) اسی (سابقہ حدیث) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1954]
مصنف نے اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1954]
ترقیم فوادعبدالباقی: 844
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 845 ترقیم شاملہ: -- 1955
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ عُمَرُ، أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ فَقَالَ: إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي، حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ، قَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءَ أَيْضًا، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ ".
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعے کے دن لوگوں کو خطاب فرما رہے تھے (کہ اسی اثناء میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے ایک شخص داخل ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں آواز دی: (آنے کی) یہ کون سی گھڑی ہے؟ انہوں نے کہا: میں آج مصروف ہو گیا، گھر لوٹتے ہی میں نے اذان سنی اور صرف وضو کیا (اور حاضر ہو گیا ہوں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور وہ بھی (صرف) وضو؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1955]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعے کے دن لوگوں کو خطاب فرما رہے تھے (کہ اسی اثنا میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے ایک شخص داخل ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں آواز دی: ”(آنے کی) یہ کون سی گھڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں آج مصروف ہو گیا، گھر لوٹتے ہی میں نے اذان سنی اور صرف وضو کیا (اور حاضر ہو گیا ہوں)۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اور وہ بھی (صرف) وضو؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1955]
ترقیم فوادعبدالباقی: 845
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 845 ترقیم شاملہ: -- 1956
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَعَرَّضَ بِهِ عُمَرُ، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَأَخَّرُونَ بَعْدَ النِّدَاءِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا زِدْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ أَنْ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءَ أَيْضًا أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ "؟.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (ایک بار) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعے کے دن لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اسی دوران میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر تعریف کی (اعتراض کیا) اور کہا: لوگوں کو کیا ہوا کہ اذان کے بعد دیر لگاتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے اذان سننے پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ وضو کیا ہے اور حاضر ہو گیا ہوں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ بھی (صرف) وضو؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جب تم میں سے کوئی جمعے کے لیے آئے تو وہ غسل کرے؟“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1956]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی اثنا میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف تعریض کرتے ہوئے کہا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اذان کے بعد دیر لگاتے ہیں؟“ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ! میں نے اذان سننے کے بعد وضو سے زیادہ کام نہیں کیا پھر آ گیا ہوں۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”(صرف) وضو ہی کیا ہے؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ ”جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو وہ غسل کرے“؟“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1956]
ترقیم فوادعبدالباقی: 845
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
1. باب وُجُوبِ غُسْلِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ بَالِغٍ مِنَ الرِّجَالِ وَبَيَانِ مَا أُمِرُوا بِهِ:
باب: ہر بالغ مرد پر غسل جمعہ فرض ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 846 ترقیم شاملہ: -- 1957
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن ہر بالغ شخص پر غسل کرنا واجب ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1957]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن ہر بالغ کے لیے غسل کرنا لازم ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1957]
ترقیم فوادعبدالباقی: 846
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 847 ترقیم شاملہ: -- 1958
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْعَوَالِي فَيَأْتُونَ فِي الْعَبَاءِ وَيُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ، فَتَخْرُجُ مِنْهُمُ الرِّيحُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا ".
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جمعے کے لیے لوگ اپنے گھروں سے اور عوالی سے باری باری آتے تھے وہ اونی عبائیں پہنے ہو تے تھے اور (راستے میں) ان پر گرد و غبار بھی پڑتا تھا جس کی وجہ سے ان سے بو پھوٹتی تھی ان میں سے ایک انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف فرما تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھا ہو کہ تم لوگ اس دن کے لیے صاف ستھرے ہو جایا کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1958]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ عوالی سے اپنے گھروں سے جمعہ کے لیے آتے تھے، وہ اونی چادروں میں آتے تھے اور (راستہ میں) ان پر گرد و غبار پڑتا تھا جس کی وجہ سے ان سے بو پھوٹتی تھی، ان میں سے ایک انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش تم آج کے دن کے لیے پاکیزگی اور صفائی حاصل کر لیا کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1958]
ترقیم فوادعبدالباقی: 847
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 847 ترقیم شاملہ: -- 1959
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ النَّاسُ أَهْلَ عَمَلٍ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ كُفَاةٌ فَكَانُوا يَكُونُ لَهُمْ تَفَلٌ، فَقِيلَ لَهُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ".
عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: لوگ کام کا ج والے تھے ان کے نوکر چاکر نہ ہو تے تھے وہ ایسے تھے کہ ان سے بو آتی تھی تو ان سے کہا گیا: کیا ہی اچھا ہو کہ تم جمعے کے دن نہا لیا کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1959]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”لوگ کام کاج کرتے تھے، ان کے نوکر چاکر نہیں تھے، ان سے بدبو اٹھتی تھی تو ان سے کہا گیا: ”اے کاش! تم جمعہ کے دن نہا لیا کرو۔“” [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1959]
ترقیم فوادعبدالباقی: 847
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کے دن خوشبو لگانے اور مسواک کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 846 ترقیم شاملہ: -- 1960
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ، وَبُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ ، حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَسِوَاكٌ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ ". إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ: فِي الطِّيبِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ.
سعید بن ابی بلال اور بکیر بن اشج نے ابوبکر بن منکدر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن سلیم سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر واجب ہے اور مسواک کرنا بھی اور (ہر شخص) اپنی استطاعت کے مطابق خوشبو استعمال کرے۔“ البتہ بکیر نے (سند میں) عبدالرحمان کا ذکر نہیں کیا اور خوشبو کے بارے میں کہا: ”چاہے وہ عورت کی خوشبو کیوں نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1960]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل ہر بالغ پر ہے اور مسواک کرنا، اور حسب استطاعت خوشبو استعمال کرنا۔“ بکیر کی روایت میں عبدالرحمان کا ذکر نہیں ہے اور خوشبو کے بارے میں ہے ”اگرچہ عورت کی خوشبو ہی ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1960]
ترقیم فوادعبدالباقی: 846
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة