🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز جنازہ میں میت کے لئے دعا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 963 ترقیم شاملہ: -- 2233
وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں معاویہ بن صالح نے دونوں میں سے ہر ایک سند کے ساتھ ابن وہب کی حدیث کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2233]
مصنف نے ایک اور استاد سے، اہل حدیث کی طرح روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2233]
ترقیم فوادعبدالباقی: 963
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 963 ترقیم شاملہ: -- 2234
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْحِمْصِيِّ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، واللفظ لأبي الطاهر، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَاعْفُ عَنْهُ وَعَافِهِ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ "، قَالَ عَوْفٌ: فَتَمَنَّيْتُ أَنْ لَوْ كُنْتُ أَنَا الْمَيِّتَ، لِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ الْمَيِّتِ.
عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما اور اسے عافیت دے، اسے معاف فرما اور اس کی باعزت ضیافت فرما اور اس کے داخل ہونے کی جگہ (قبر) کو وسیع فرما اور اس (کے گناہوں) کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا اور اسے اس گھر کے بدلے میں بہتر گھر، اس کے گھر والوں کے بدلے میں بہتر گھر والے اور اس کی بیوی کے بدلے میں بہتر بیوی عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے اپنی پناہ عطا فرما۔“ حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی وجہ سے میں نے تمنا کی کہ کاش وہ میت میں ہوتا! [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2234]
امام صاحب اپنے کئی اساتذہ سے عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نماز جنازہ میں یہ دعا سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ» ”اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحمت فرما اور اس سے درگزر فرما، اسے عذاب سے عافیت و سلامتی عطا فرما، اس کی بہترین مہمان نوازی فرما، اس کی قبر کو فراخ کر دے اور اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال اور اسے گناہوں کی گندگی سے اس طرح صاف فرما، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے اور اسے اس کے گھر کے بدلے میں اس کے گھر سے بہتر گھر دے، اس کے گھر والے سے بہتر گھر والے بدلے میں دے، اور اس کی بیوی کے بدلے میں اس سے بہتر بیوی عطا فرما، اور اسے قبر کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے بچا۔“ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس میت کے حق میں دعائیں سن کر میں نے خواہش کی، اے کاش یہ میت میں ہوتا۔““ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2234]
ترقیم فوادعبدالباقی: 963
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ لِلصَّلاَةِ عَلَيْهِ:
باب: نماز جنازہ کے لئے امام کس جگہ کھڑا ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 964 ترقیم شاملہ: -- 2235
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى عَلَى أُمِّ كَعْبٍ، مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهَا وَسَطَهَا "،
عبدالوارث بن سعید نے حسین بن ذکوان سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کعب رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی جو حالت نفاس میں وفات پا گئیں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے اس کے (سامنے) درمیان میں کھڑے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2235]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نمازِ جنازہ پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کعب رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ پڑھائی جو نفاس کی حالت میں فوت ہو گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نمازِ جنازہ کے لیے اس کے سامنے درمیان میں کھڑے ہوئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2235]
ترقیم فوادعبدالباقی: 964
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 964 ترقیم شاملہ: -- 2236
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى كلهم، عَنْ حُسَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرُوا أُمَّ كَعْبٍ.
ابن مبارک، یزید بن ہارون اور فضل بن موسیٰ سب نے حسین سے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ روایت بیان کی اور انہوں نے ام کعب رضی اللہ عنہا (کا نام) ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2236]
مصنف نے اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی اسی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے، لیکن انہوں نے ام کعب رضی اللہ عنہا کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 964
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 964 ترقیم شاملہ: -- 2237
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ : لَقَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا، فَكُنْتُ أَحْفَظُ عَنْهُ، فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا أَنَّ هَا هُنَا رِجَالًا هُمْ أَسَنُّ مِنِّي، وَقَدْ " صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ وَسَطَهَا "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: " فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلَاةِ وَسَطَهَا ".
محمد بن مثنیٰ اور عقبہ بن مکرم عمی نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی نے حسین (بن ذکوان) سے حدیث بیان کی اور انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نوعمر لڑکا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (احادیث سن کر) یاد کیا کرتا تھا اور مجھے بات کرنے سے اس کے سوا کوئی چیز نہ روکتی کہ یہاں بہت لوگ ہیں جو عمر میں مجھ سے بڑے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت کی نماز جنازہ ادا کی جو حالت نفاس میں وفات پا گئیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اس کے (سامنے) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے۔ ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے (حسین نے) کہا: مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حدیث سنائی اور کہا: آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے اس کے (سامنے) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2237]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نوخیز تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو یاد کرتا تھا اور اب مجھے بات کرنے سے صرف یہی چیز روک رہی ہے کہ یہاں پر بہت سے لوگ عمر میں مجھ سے بڑے (عمر رحضرت) موجود ہیں، میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت کی نماز جنازہ ادا کی جو حالت نفاس میں فوت ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ میں اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے۔“ عبداللہ بن بریدہ کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز کے لیے اس کے درمیان کھڑے ہوئے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2237]
ترقیم فوادعبدالباقی: 964
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب رُكُوبِ الْمُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ إِذَا انْصَرَفَ:
باب: نماز جنازہ پڑھ کر واپسی پر سوار ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 965 ترقیم شاملہ: -- 2238
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا، وَقَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى، فَرَكِبَهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جَنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ، وَنَحْنُ نَمْشِي حَوْلَهُ ".
مالک بن مغول نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بغیر زین کے) ننگی پشت والا ایک گھوڑا لایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن دحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے سے لوٹے تو اس پر سوار ہو گئے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد (پیدل) چل رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2238]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ننگی پیٹھ ایک گھوڑا لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن دحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے سے واپسی پر اس پر سوار ہو گئے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد پیدل چل رہے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2238]
ترقیم فوادعبدالباقی: 965
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 965 ترقیم شاملہ: -- 2239
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ، ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْيٍ، فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ أَوْ مُدَلًّى فِي الْجَنَّةِ لِابْنِ الدَّحْدَاحِ "، أَوَ قَالَ شُعْبَةُ: " لِأَبِي الدَّحْدَاحِ ".
شعبہ نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر ننگی پشت والا (بغیر زین کے) ایک گھوڑا لایا گیا، ایک آدمی نے اسے (پکڑ کر) روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر دلکی چال چلنے لگا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تیز قدموں کے ساتھ چل رہے تھے، کہا: لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن دحداح کے لیے جنت میں کتنے لٹکے ہوئے۔۔۔ یا جھکے ہوئے۔۔۔ خوشے ہیں!“ یا شعبہ نے (ابن دحداح رضی اللہ عنہ کے بجائے) ”ابودحداح رضی اللہ عنہ کے لیے“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2239]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی الدحداح رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھی، پھر ایک ننگی پیٹھ والا گھوڑا لایا گیا، تو ایک آدمی نے اسے پکڑ کر روکے رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر دلکی چال چلنے لگا (کودتا اچھلتا چل رہا تھا) اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے تھے اور دوڑ رہے تھے، قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ابن ابی الدحداح رضی اللہ عنہ کے لیے کتنے خوشے لٹک رہے ہیں یا جھکے ہوئے ہیں؟“ شعبہ نے ابن الدحداح کی بجائے ابوالدحداح کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2239]
ترقیم فوادعبدالباقی: 965
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. باب فِي اللَّحْدِ وَنَصْبِ اللَّبِنِ عَلَى الْمَيِّتِ:
باب: لحد کھودنا اور میّت پر کچی اینٹیں نصب کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 966 ترقیم شاملہ: -- 2240
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِسْوَرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أن سعد بن أبي وقاص ، قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي هَلَكَ فِيهِ: " الْحَدُوا لِي لَحْدًا، وَانْصِبُوا عَلَيَّ اللَّبِنَ نَصْبًا، كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنی اس بیماری کے دوران جس میں وہ فوت ہو گئے تھے، (اپنے لواحقین سے) کہا: ”میرے لیے لحد تیار کرنا اور میرے اوپر اچھے طریقے سے کچی اینٹیں لگانا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی قبر مبارک) کے ساتھ کیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2240]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنی اس بیماری میں جس میں وہ فوت ہو گئے تھے (اپنے لواحقین سے) کہا: ”میرے لیے لحد بنانا اور مجھ پر اچھے طریقے سے کچی اینٹیں لگانا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا گیا تھا، یعنی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بنائی گئی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2240]
ترقیم فوادعبدالباقی: 966
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب جَعْلِ الْقَطِيفَةِ فِي الْقَبْرِ:
باب: قبر میں چادر ڈالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 967 ترقیم شاملہ: -- 2241
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، وَوَكِيعٌ ، جميعا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ "، قَالَ مُسْلِم: أَبُو جَمْرَةَ اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ، وَأَبُو التَّيَّاحِ وَاسْمَهْ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ، مَاتَا بِسَرَخْسَ.
ابوجمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ موٹی چادر رکھی (بچھائی) گئی تھی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران اور ابوتیاح کا نام یزید بن حمید ہے۔ (ان کا نام سند میں نہیں) یہ ایک زائد فائدہ ہے جس کا اضافہ امام مسلم رحمہ اللہ نے غالباً کسی شاگرد کے سوال پر کیا۔ ان دونوں نے سرخس میں وفات پائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2241]
امام صاحب نے مختلف اساتذہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ چادر رکھی۔“ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ہے اور ابوالتیاح کا نام یزید بن حمید ہے اور دونوں (ایک ہی سال) سرخس میں فوت ہوئے۔“ (ابوالتیاح کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2241]
ترقیم فوادعبدالباقی: 967
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. باب الأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ:
باب: قبر کو برابر کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 968 ترقیم شاملہ: -- 2242
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، فِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيّ حَدَّثَهُ وَفِي رِوَايَةِ هَارُونَ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمّ قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا ".
اثامہ بن شفی نے بیان کیا، کہا: ہم سرزمین روم کے جزیرہ رودس میں فضالہ بن عبید (اوسی انصاری) رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہمارا ایک دوست وفات پا گیا۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے ان کی قبر کے بارے میں حکم دیا تو اس کو برابر کر دیا گیا، پھر انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان (قبروں) کو (زمین کے) برابر کرنے کا حکم دیتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2242]
ثمامہ بن شفی بیان کرتے ہیں کہ ہم سرزمینِ روم کے جزیرہ بردوس میں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، تو ہمارا ایک ساتھی فوت ہو گیا، حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان کی قبر (عام قبروں کے) برابر بنائی جائے۔“ یا اس کی قبر ان کے حکم سے عام قبروں کے برابر بنائی گئی، پھر انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہموار برابر کرنے کا حکم دیتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2242]
ترقیم فوادعبدالباقی: 968
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں