🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب الأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ:
باب: قبر کو برابر کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 969 ترقیم شاملہ: -- 2243
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ "،
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے ابوالہیاج اسدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”کیا میں تمہیں اس (مہم) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا؟ (وہ یہ ہے) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے (زمین کے) برابر کر دینا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2243]
ابوالہیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا میں تمہیں اس کام کے لیے نہ بھیجوں جس کام کے لیے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا؟ کہ کسی مجسمے اور تصویر کو مٹائے بغیر نہ چھوڑوں اور نہ کسی اونچی یا بلند قبر کو (عام قبروں کے) برابر کیے بغیر چھوڑوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2243]
ترقیم فوادعبدالباقی: 969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 969 ترقیم شاملہ: -- 2244
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " وَلَا صُورَةً إِلَّا طَمَسْتَهَا ".
یحییٰ القطان نے کہا: ہمیں سفیان نے حبیب سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے ( «لا تدع تمثالا إلا طمسته» کے بجائے) «ولا صورة إلا طمستها» (کوئی تصویر نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2244]
مصنف یہی روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ ”تصویر کو مٹائے بغیر نہ چھوڑوں۔“ (یعنی تمثال کی جگہ تصویر کا لفظ ہے) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. باب النَّهْيِ عَنْ تَجْصِيصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَاءِ عَلَيْهِ:
باب: قبر کو پختہ کرنے اور اس پر عمارت بنانے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 970 ترقیم شاملہ: -- 2245
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ "،
حفص بن غیاث نے ابن جریج سے، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس بات سے) منع فرمایا کہ قبر پر چونا لگایا جائے اور اس پر بیٹھا جائے اور اس پر عمارت بنائی جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2245]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قبر کو پختہ بنانے، اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے“ سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2245]
ترقیم فوادعبدالباقی: 970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 970 ترقیم شاملہ: -- 2246
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حجاج بن محمد اور عبدالرزاق نے ابن جریج سے روایت کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔۔۔ آگے اس (پچھلی حدیث) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2246]
امام صاحب رحمہ اللہ نے اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی یہی حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2246]
ترقیم فوادعبدالباقی: 970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 970 ترقیم شاملہ: -- 2247
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نُهِيَ عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ ".
ایوب نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: قبروں کو چونا لگانے سے منع کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2247]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قبر کو پختہ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2247]
ترقیم فوادعبدالباقی: 970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. باب النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْقَبْرِ وَالصَّلاَةِ عَلَيْهِ:
باب: قبر پر بیٹھنے اور اس پر نماز پڑھنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 971 ترقیم شاملہ: -- 2248
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ "،
جریری نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی انگارے پر (اس طرح) بیٹھ جائے کہ وہ اس کے کپڑوں کو جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے، اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2248]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی انگارے پر (اس طرح) بیٹھ جائے کہ وہ اس کے کپڑوں کو جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے، اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2248]
ترقیم فوادعبدالباقی: 971
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 971 ترقیم شاملہ: -- 2249
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
عبدالعزیز اور سفیان دونوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2249]
”امام صاحب رحمہ اللہ نے اپنے دو دوسرے اساتذہ سے بھی، اس سند سے اسی قسم کی روایت نقل کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2249]
ترقیم فوادعبدالباقی: 971
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 972 ترقیم شاملہ: -- 2250
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ وَاثِلَةَ ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا ".
بسر بن عبیداللہ نے حضرت واثلہ (بن اسقع بن کعب رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے حضرت ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2250]
حضرت ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 972 ترقیم شاملہ: -- 2251
وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُصَلُّوا إِلَى الْقُبُورِ، وَلَا تَجْلِسُوا عَلَيْهَا ".
ابوادریس خولانی نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قبروں کی طرف (رخ کر کے) نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2251]
حضرت ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قبروں کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھو اور نہ ہی ان پر بیٹھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2251]
ترقیم فوادعبدالباقی: 972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. باب الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ:
باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 973 ترقیم شاملہ: -- 2252
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِإسحاق، قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ إسحاق: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَمَرَتْ أَنْ يَمُرَّ بِجَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: " مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ النَّاسُ، مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ ".
عبدالعزیز بن محمد نے عبدالواحد بن حمزہ سے اور انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں سے گزارا جائے (تاکہ) وہ بھی ان کی نماز جنازہ ادا کر سکیں۔ آپ کی بات پر لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”لوگ کس قدر جلد بھول گئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدری صحابی) سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں ادا کی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2252]
عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں سے گزارا جائے (تاکہ) وہ بھی ان کا جنازہ ادا کر سکیں۔ آپ کی بات پر لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”لوگ کس قدر جلد بھول گئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدری صحابی) سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں ادا کی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2252]
ترقیم فوادعبدالباقی: 973
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں