🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ ذِكْرِ الْإِقَامَةِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهَا
اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 941 ترقیم الرسالہ : -- 953
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ، ثنا ابْنُ الْجُنَيْدِ ، ثنا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، نا زُهَيْرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ بِلالٍ ، قَالَ:" آخِرُ الأَذَانِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ" .
اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے آخر میں یہ کلمات ہوتے تھے: اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 953]
ترقیم العلمیہ: 941
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 648، برقم: 649، برقم: 650، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1625، 1626، 1627، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 950، 951، 952، 953، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 2156، 2157، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 1074»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 942 ترقیم الرسالہ : -- 954
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّ بِلالا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِي: أَلا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ" ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَرَجَعَ فَنَادَى: أَلا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ . تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، وَكَانَ ضَعِيفًا، عَنْ أَيُّوبَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے اذان دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ حکم دیا: وہ واپس جا کر تین مرتبہ یہ اعلان کریں: خبردار! بندہ سو گیا تھا (یعنی اس سے غلطی ہوئی ہے)۔ وہ واپس گئے اور بلند آواز میں یہ کہا: خبردار! بندہ سو گیا تھا۔ یہ کلمات انہوں نے تین مرتبہ کہے۔ ایک اور راوی نے اس کی متابعت کی ہے، تاہم یہ راوی ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 954]
ترقیم العلمیہ: 942
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 532، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1829، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 954، 955، 958، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 782، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 1888، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 2322، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 864»
«‏‏‏‏قال الترمذي: غير محفوظ، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (1 / 210)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 943 ترقیم الرسالہ : -- 955
حَدَّثَنَا ابْنُ مِرْدَاسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ، يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ ، أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ ، نَحْوَهُ.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا موذن جس کا نام مسروح تھا، اس نے صبح صادق ہو جانے سے پہلے اذان دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 955]
ترقیم العلمیہ: 943
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 532، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1829، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 954، 955، 958، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 782، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 1888، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 2322، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 864»
«‏‏‏‏قال الترمذي: هذا لا يصح لأنه منقطع فيما بين نافع وعمر، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (4 / 87)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 944 ترقیم الرسالہ : -- 956
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ:" أَذَّنَ بِلالٌ مَرَّةً بِلَيْلٍ" . هَذَا مُرْسَلٌ.
ایوب بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کے وقت اذان دے دی۔ یہ روایت مرسل ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 956]
ترقیم العلمیہ: 944
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 956، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 230»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 945 ترقیم الرسالہ : -- 957
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، ثنا هُشَيْمٌ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ،" أَنَّ بِلالا أَذَّنَ لَيْلَةً بِسَوَادٍ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى مَقَامِهِ، فَيُنَادِي: إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ"، فَرَجَعَ وَهُوَ يَقُولُ: لَيْتَ بِلالا لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ، وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ .
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کے وقت ہی اذان دے دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا: وہ اپنی جگہ واپس جا کر بلند آواز میں یہ اعلان کریں: خبردار! بیشک بندہ سو گیا تھا (یعنی اس سے غلطی ہو گئی)۔ تو وہ واپس گئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: کاش بلال کی ماں نے اسے جنم نہ دیا ہوتا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 957]
ترقیم العلمیہ: 945
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1835، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 957»
«‏‏‏‏قال البیھقی: مرسل بكل حال، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (4 / 87)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 946 ترقیم الرسالہ : -- 958
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ ، ثنا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّ بِلالا أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ: إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ"، فَوَجَدَ بِلالٌ وَجْدًا شَدِيدًا . وَهِمَ فِيهِ عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، وَالصَّوَابُ قَدْ تَقَدَّمَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعِ، عَنْ مُؤَذِّنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَوْلَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے آپ نے انہیں یہ حکم دیا: وہ یہ اعلان کریں: بیشک بندہ سو گیا تھا۔ تو اس پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بہت افسوس ہوا۔ اس روایت میں عامر نامی راوی کو وہم ہوا ہے، صحیح روایت وہ ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے وہ ابن حرب نامی راوی کے حوالے سے نافع کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے موذن کے بارے میں منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 958]
ترقیم العلمیہ: 946
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل،وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 532، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1829، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 954، 955، 958، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 782، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 1888، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 2322، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 864»
«‏‏‏‏قال الدارقطني: والمرسل أصح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (12 / 339)»

الحكم على الحديث: إسناده مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 947 ترقیم الرسالہ : -- 959
نا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ السَّمِيعِ الْهَاشِمِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ ، ثنا أبِي ، نا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ بِلالا أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعُودَ فَيُنَادِيَ: إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ"، فَفَعَلَ، وَقَالَ: لَيْتَ بِلالا لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ، وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ . تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدٍ، وَغَيْرِهِ يُرْسِلُهُ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا: واپس جا کر یہ اعلان کریں: بیشک بندہ سو گیا تھا۔ تو انہوں نے ایسا ہی کیا اور یہ کہا: کاش بلال کی ماں نے اسے جنم نہ دیا ہوتا۔ اور ان کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔ اس روایت کو نقل کرنے میں ابویوسف نامی راوی منفرد ہیں۔ دیگر راویوں نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے جو قتادہ سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 959]
ترقیم العلمیہ: 947
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 959، 960، 961، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6667»
«قال الدارقطني: تفرد به أبو يوسف وأرسله غيره والمرسل أصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 318)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 948 ترقیم الرسالہ : -- 960
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ بِلالا أَذَّنَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَسًا، وَالْمُرْسَلُ أَصَحُّ.
قتادہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، اس کی سند میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس کا مرسل ہونا درست ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 960]
ترقیم العلمیہ: 948
تخریج الحدیث: «مرسل صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 959، 960، 961، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6667»
«قال الدارقطني: المرسل أصح، سنن الدارقطني: (1 / 458) برقم: (960)»

الحكم على الحديث: مرسل صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 949 ترقیم الرسالہ : -- 961
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ الأَوْدِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " أَذَّنَ بِلالٌ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ، فَرَقَى بِلالٌ وَهُوَ يَقُولُ: لَيْتَ بِلالا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ، وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَعِدَ، ثُمَّ قَالَ: أَلا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَذَّنَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ" . مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِيُّ ضَعِيفٌ جِدًّا.
حسن بصری، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا وہ دوبارہ اس کو دہرائیں، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مینار پر چڑھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے: کاش بلال کی ماں اسے روتی۔ اور ان کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔ وہ اس جملے کو دہراتے ہوئے مینار پر چڑھے اور یہ کہا: خبردار! بندہ سو گیا تھا۔ انہوں نے یہ جملہ دو مرتبہ دہرایا، پھر جب صبح صادق ہو گئی تو انہوں نے اذان دی۔ اس روایت کا راوی محمد بن قاسم اسدی نہایت ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 961]
ترقیم العلمیہ: 949
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 959، 960، 961، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6667»
«قال ابن الجوزی: فيه محمد بن القاسم مجروح قال أحمد بن حنبل أحاديثه موضوعة ليس بشيء، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 283)»

الحكم على الحديث: ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 950 ترقیم الرسالہ : -- 962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ لَمْ يُصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" أَلْقِهِ عَلَى بِلالٍ"، فَأَلْقَاهُ عَلَى بِلالٍ، فَأَذَّنَ بِلالٌ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا رَأَيْتُهُ وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ، قَالَ:" فَأَقِمْ أَنْتَ" .
محمد بن عبداللہ اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صورتیں اختیار کرنے کا ارادہ کیا، لیکن ابھی آپ نے اس میں سے کسی کو بھی اختیار نہیں کیا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن زید کو خواب میں اذان کا طریقہ سکھایا گیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: تم یہ بلال کو بتاؤ۔ انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بتایا تو سیدنا بلال نے اذان دی۔ سیدنا عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں انہیں دیکھ رہا تھا، میں خود یہ دینا چاہتا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اقامت کہہ دو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 962]
ترقیم العلمیہ: 950
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 176، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 363، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1679، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 499، 512، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 189، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1224، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 706، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1867، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 962، 963، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16739»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں