الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودِ الشَّهِيرِ بِابْنِ أم عبدرَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11826
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي فَقَالَ ”سَلْ تُعْطَهْ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ“ فَابْتَدَرَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ عُمَرُ مَا بَادَرَنِي أَبُو بَكْرٍ إِلَى شَيْءٍ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلَاهُ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ مِنْ دُعَائِي الَّذِي لَا أَكَادُ أَدَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نماز ادا کر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! تو جو چاہے دعا کر تجھے عطا کیا جائے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس خوشی سے آگاہ کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جس کام میں بھی میرے ساتھ مقابلہ کیا تو وہ مجھ سے سبقت لے گئے۔دونوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ انہوں نے اس رات کو کیا دعا کی تھی، انھوں نے بتلایا کہ میں نے وہ دعا کی تھی، جس کو میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں، میں نے کہا تھا: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ نَعِیمًا لَا یَبِیدُ، وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لَا تَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مُحَمَّدٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ جَنَّۃِ الْخُلْدِ۔ (یا اللہ! میں تجھ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں،آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں، جو کبھی ختم نہ ہوں او ر جنت کے اعلیٰ مقامات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ چاہتا ہوں۔) [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11826]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه ابن ماجه: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4165»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11827
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا دُونَ مَشْوَرَةِ الْمُؤْمِنِينَ لَأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کی مشاورت کے بغیر کسی کو امیر بنانا ہوتا تو میں ام عبد کے بیٹےیعنی عبداللہ بن مسعود کو امیر بناتا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11827]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف الحارث الاعور، اخرجه الترمذي: 3809،وابن ماجه: 137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 566»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11828
وَعَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ عَلَى شَجَرَةٍ أَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْهَا بِشَيْءٍ فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى سَاقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حِينَ صَعِدَ الشَّجَرَةَ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا تَضْحَكُونَ لَرِجْلُ عَبْدِ اللَّهِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أُحُدٍ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ درخت پر چڑھ کر وہاں کوئی چیز اتار لائیں، وہ درخت پر چڑھے، جب صحابۂ کرام نے ان کے درخت پر چڑھتے ہوئے ان کی پتلی پتلی کم زور پنڈلیوں کو دیکھا تو وہ ہنسنے لگے، لیکن رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں ہنستے ہو؟ قیامت کے دن عبداللہ کی ٹانگ ترازو میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوگی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11828]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 114، وابويعلي: 539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 920»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11829
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَجْتَنِي سِوَاكًا مِنَ الْأَرَاكِ وَكَانَ دَقِيقَ السَّاقَيْنِ فَجَعَلَتِ الرِّيحُ تَكْفَؤُهُ فَضَحِكَ الْقَوْمُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مِمَّ تَضْحَكُونَ“ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ فَقَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ پیلو کے درخت سے مسواک توڑ رہے تھے، ان کی پنڈ لیاں کم زور تھیں،ہوا چلنے کی وجہ سے کپڑا اڑنے لگا تو لوگ ان کی باریک پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسنے لگ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کس بات پہ ہنس رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ان کی کم زور پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسی آرہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ پنڈلیاں ترازو میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوں گی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11829]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الطيالسي: 355، والبزار: 2678، والطبراني في الكبير: 8452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3991»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11830
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ فَقُلْنَا دُلَّنَا عَلَى أَقْرَبِ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَسَمْتًا وَوَلَاءً نَأْخُذْ عَنْهُ وَنَسْمَعْ مِنْهُ فَقَالَ كَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَسَمْتًا وَدَلًّا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ حَتَّى يَتَوَارَى عَنِّي فِي بَيْتِهِ وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَةً (وَفِي رِوَايَةٍ وَسِيلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ)
عبدالرحمن بن یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور ہم نے کہا آپ ہمیں کسی ایسے آدمی کی طرف راہ نمائی کریں جو اپنی سیرت، کردار اور عمل کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہو، تاکہ ہم اس سے کچھ حاصل کر سکیں اور اس سے احادیث کا سماع کر سکیں،انہوں نے کہا:سیرت، کردار اور عمل کے لحاظ سے ام عبد کے بیٹے سیدنا عبداللہ بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہیں،یہاں تک کہ وہ گھر داخل ہو جائیں (یعنی ان کے گھر سے باہر کے تمام معمولات سنت نبوی کے مطابق ہوتے ہیں اور میں ان کے گھر کے اندرونی معمولات نہیں جانتا۔)ایک روایت میں یوں ہے:تم جس قسم کے آدمی کے متعلق پوچھتے ہو تو ایسا شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی ہے، گھر سے باہر آکر گھر جانے تک اس کے تمام معمولات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات کے مطابق ہوتے ہیں، اب میں یہ نہیں جانتا کہ گھر کے اندر ان کے معمولات کیا ہوتے ہیں؟ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے اہل علم جانتے ہیں کہ ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان میں سے اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قیامت کے دن ان سب سے بڑھ کر اللہ کے مقرب ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11830]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23732»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11831
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ“ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي بِسَوَادِي سِرِّي قَالَ أَذِنَ لَهُ أَنْ يَسْمَعَ سِرَّهُ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پردہ کو اٹھا دیا جانا تمہارے لیے آگے آجانے کی اجازت کے مترادف ہے اور تم میری راز کی باتوں کو سننے کے بھی مجازہو، یہاں تک کہ میں تمہیں اس سے روک دوں۔ ابوعبدالرحمن نے کہا: سِوَاد کا معنی راز ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں راز کی باتیں سننے کی اجازت دے رکھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11831]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3684»
وضاحت: فوائد: … کسی کو اجازت دینے کے لیے کوئی علامت مقرر کی جا سکتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11832
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَةٌ فِي الْكُتَّابِ (وَفِي لَفْظٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ غُلَامٌ لَهُ ذُؤَابَتَانِ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ستر سورتیں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھی ہیں۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس وقت چھوٹے تھے اور زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے لٹیں رکھی ہوئی تھیں۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بچے تھے ان کی دولٹیں تھیں اور وہ بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11832]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5000، ومسلم: 2462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3846»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۰۹)۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11833
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ ”يَا غُلَامُ هَلْ مِنْ لَبَنٍ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ قَالَ ”فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ“ فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَنَزَلَ لَبَنٌ فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ ”اقْلِصْ“ فَقَلَصَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ هَذَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ ”فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِنَّكَ غُلَيِّمٌ مُعَلَّمٌ“ (وَفِي رِوَايَةٍ) قَالَ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِصَخْرَةٍ مَنْقُورَةٍ فَاحْتَلَبَ فِيهَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ وَشَرِبْتُ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُلْتُ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقُرْآنِ قَالَ ”إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ“ قَالَ فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کابیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریا ں چرایا کرتا تھا، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! دودھ مل سکتا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، لیکن یہ میرے پاس امانت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس ریوڑ میں کوئی ایسی بکری ہے، جس کی ابھی تک نر سے جفتی ہی نہ ہوئی ہو؟ تو میں ایک بکری پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو دودھ اتر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن میں دودھ دوہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا (یعنی پہلے کی طرح ہو جا)۔ پس وہ سکڑ کر اپنی پہلی حالت میں ہو گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اس کے بعد ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ دعا مجھے بھی سکھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: تجھ پر اللہ کی رحمت ہو، تو سیکھا سکھایا، پڑھا پڑھایا بچہ ہے۔ دوسری روایت میں ہے: ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں پیالےیا برتن کی طرح کا ایک پتھر لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں دودھ دوہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیا اور میں نے بھی پیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے اس کے بعد ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ مجھے بھی اس قرآن میں سے کچھ سکھا دیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پڑھا پڑھایا بچہ ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نے ستر سورتیں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11833]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطيالسي: 353، والطبراني في الكبير: 8455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4412»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11834
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ عِنْدَهُ فَذَكَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَقَدْ ذَكَرْتُمْ رَجُلًا لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ“ فَبَدَأَ بِهِ ”وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ“
مسروق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جایا کرتے اور ان کے ہاں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے، ہم نے ایک دن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا: تم نے ایک ایسے آدمی کا نام لے دیا ہے کہ میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، تب سے میں اس سے محبت کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے: تم لوگ چار آدمیوں سے قرآن کا علم حاصل کرو، ابن ام عبد، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور مولائے ابی حذیفہ سالم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے ام عبد کے بیٹے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11834]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3760،ومسلم: 2464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6795»
الحكم على الحديث: صحیح
68. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِب رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمْ النَّبِيِّ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11835
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ ”هَذَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَجْوَدُ قُرَيْشٍ كَفًّا وَأَوْصَلُهَا“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا: یہ عباس بن عبد المطلب ہیں، جو کہ قریش میں سب سے زیادہ فراخ دست (یعنی سخی) اور سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11835]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 1077، وابويعلي: 820، وابن حبان: 7052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1610»
وضاحت: فوائد: … سیدناعباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں، ان کی کنیت ابوالفضل ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوتین سال بڑے تھے، قبل از اسلام قریش کے سردار تھے، مسجد حرام کے انتظامات اور حجاج کو پانی پلانے کا کام ان ہی کے ذمے تھا، بیعت ِ عقبہ میں جب انصاری لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر موجود تھے، غزوۂ بدر میں مجبور ہو کر کفار کی طرف سے شریک ہوئے اور گرفتار ہو گئے، ان کے دو بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث بھی قید ہوئے تھے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا اور اپنے دونوں بھتیجوں کا فدیہ ادا کیا اور مکہ جا کر اسلام قبول کر لیا، فتح مکہ سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں شریک ہوئے، غزوۂ حنین کے شروع میں جب صحابۂ کرام شکست کھا گئے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ (۳۲یا۳۴) سن ہجری میں (۸۸)برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا۔
الحكم على الحديث: صحیح