🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. بَابُ مَا جَاءَ فِى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11816
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْنَاهُ يَقُولُ مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكِتَابِ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی صحابی احادیث رسول کے بارے میں مجھ سے زیادہ علم نہیں رکھتا تھا، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ احادیث لکھ کر زبانی یاد کرتے تھے اور میں محض زبانی طور پر یاد کرتا تھا، لکھتا نہیں تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث لکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو اجازت دے دی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11816]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9220»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11817
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی آدمی احادیث کا علم مجھ سے زیادہ نہیں رکھتا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ احادیث کو لکھ لیتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11817]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7383»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بہ نسبت سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو زیادہ احادیثیاد تھیں، جبکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث کی تعداد (۵۳۷۴) ہے اور یہ تعداد سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث سے کئی گناہ زیادہ ہے، اس کی وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں:
۱۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تعلیم کی بہ نسبت عبادت میں زیادہ مشغول رہتے تھے۔
۲۔ فتوحات کے بعد زیادہ تر مصر یا طائف ان کا مسکن رہا، جبکہ اس وقت طلبہ کا رجحان ان علاقوں کی طرف نہیں تھا۔
۳۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی خصوصیت بھی حاصل تھی۔
۴۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو شام میں اہل کتاب کی کئی کتب مل گئی تھیں، وہ ان کا مطالعہ بھی کرتے تھے اور ان سے بیان بھی کرتے تھے، اس لیے تابعین نے ان سے روایات لینے سے اجتناب کیا۔
جبکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تو تعلیم اور فتوے میں مشغول رہتے تھے، اسی وجہ سے آٹھ سو سے زائد تابعین نے ان سے علم حاصل کیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11818
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْزِيِّ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ قَالَ مُعَاوِيَةُ فَمَا بَالُكَ مَعَنَا قَالَ إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ“ فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ
حنظلہ بن خویلد عنبری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا کہ دو آدمیوں نے ان کے ہاں آکر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑنا شروع کر دیا، ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے ان کو قتل کیا ہے،ان کی باتیں سن کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے ہر ایک اپنے اس کارنامے پر اپنا دل خوش کر لے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ باغی گروہ اسے قتل کرے گا۔ ان سے یہ حدیث سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہ بات ہے توپھر آپ ہمارا ساتھ کیوں دیتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شکایت کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایاتھا: تمہارا والد جب تک زندہ ہے، تم اس کی اطاعت کرتے رہو۔ اس حدیث کی وجہ سے میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں، لیکن پھر بھی لڑائی میں حصہ نہیں لیتا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11818]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 291، والنسائي في خصائص علي: 164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6929»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11819
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ عَنْ شَيْخٍ مِنَ النَّخَعِ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ إِيلِيَاءَ فَصَلَّيْتُ إِلَى سَارِيَةٍ رَكْعَتَيْنِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَصَلَّى قَرِيبًا مِنِّي فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَهُ رَسُولُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنْ أَجِبْ قَالَ هَذَا يَنْهَانِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ كَمَا كَانَ أَبُوهُ يَنْهَانِي وَإِنِّي سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ“ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ
عبداللہ بن ابی ہذیل سے روایت ہے، وہ قبیلہ نخع کے ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں ایلیا کی مسجد (یعنی بیت المقدس) میں داخل ہوا اور میں نے ایک ستون کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی، ایک اور آدمی نے بھی آکر میرے قریب نماز ادا کی، لوگ اس کی طرف امڈ کر گئے۔ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔ یزید بن معاویہ کا قاصد ان کو بلانے آیا تو وہ کہنے لگے: وہ مجھے احادیث بیان کرنے سے منع کرتا ہے، جیسا کہ اس کا والد بھی مجھے رو کا کرتا تھا۔ میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعائیں کرتے سن چکا ہوں: أَعُوذُ بِکَ مِنْ نَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَّا یَخْشَعُ، وَمِنْ دُعَائٍ لَا یُسْمَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں، ایسے نفس سے جو سیر نہیں ہوتا، ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو، ایسی دعا سے جو سنی نہ جاتی ہو اور ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو۔) [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11819]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لابھام الشيخ الذي روي عنه عبد الله بن ابي الھذيل، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6865»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامِ نِ الْأَنْصَارِيِّ وَالِدِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11820
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي قَالَ جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ قَالَ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَنْهَوْنَنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي قَالَ فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْكِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَتَبْكِينَ أَوْ لَا تَبْكِينَ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ“ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ تُظَلِّلُهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب میرے والد کی شہادت ہوئی تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا،لوگ مجھے ایسا کرنے سے روکنے لگے، لیکن رسول اللہ نہیں روکتے تھے، میری پھوپھی سیدہ فاطمہ بنت عمرو رضی اللہ عنہا رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو مت روؤ یا نہ روؤ، تم نے جب تک اس میت کو اٹھایا نہیں، فرشتوں نے اس پر سایہ کئے رکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11820]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1244،ومسلم: 1471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14236»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جب ان کو شہادت کے بعد یہ مقام مل چکا ہے تو رونے کا کیا فائدہ، کیونکہ آخرت میںکامیاب ہونا حقیقی خوشی ہے۔
سیدنا عبدا للہ بن حرام رضی اللہ عنہ انصاری خزرجی مشہور صحابی ہیں،یہ بھی بیعت عقبہ اور غزوہ ٔ بدر میں شریک ہوئے، بلکہ بیعت عقبہ کے نقباء میں سے ہیں، زندگی نے زیادہ ساتھ نہ دیا اور غزوۂ احد میں شہید ہو گئے اور مشرکوں نے ان کی میت کا مثلہ بھی کیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11821
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا جَابِرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحْيَا أَبَاكَ فَقَالَ لَهُ تَمَنَّ عَلَيَّ فَقَالَ أُرَدُّ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ إِنِّي قَضَيْتُ الْحُكْمَ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جابر! کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کرکے اس سے فرمایا: تم مجھ سے جو چاہو مانگو میں تمہیں دوں گا۔ تیرے والد نے کہا: مجھے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے، تاکہ میں دوبارہ شہیدہو سکوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11821]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الترمذي: 3010، وابن ماجه: 190، 2800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14942»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی بڑی منقبت ہے، سبحان اللہ! وہ کتنا خوش بخت بیٹا تھا کہ جس کے سامنے اس کے باپ کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں کیا۔ یا اللہ! ہمارے والدین سے بھی راضی ہو جانا، وہ اس مرتبے کے تو نہیں ہیں، لیکن تیری رحمت بہت وسیع ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11822
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ فَقُلْنَ اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ فَادْفِنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ قَالَ فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ فَدَعَانِي وَقَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ“ فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد کی غزوۂ احد میں شہادت ہوئی، میری بہنوں نے اپنا اونٹ دے کر مجھے بھیجا کہ اپنے والد کی میت کو اس اونٹ پر لاد کر قبیلہ بنو سلمہ کے قبرستان میں دفن کروں، پس میں اور میرے ساتھی گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احد کے مقام پر بیٹھے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے ارادے کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوا کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہارے باپ کو اس کے دوسرے شہید بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیاجائے گا۔ چنانچہ ان کو احد ہی میں دوسرے شہداء کے ساتھ دفن کیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11822]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن سلمة بن ابي يزيد وابوه مجھولان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15331»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11823
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ وَقَالَ لِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ يَا جَابِرُ لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نَظَّارِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ إِذْ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادَلَتْهُمَا عَلَى نَاضِحٍ فَدَخَلَتْ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِتَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي أَلَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ فَرَجَعْنَا بِهِمَا فَدَفَنَّاهُمَا حَيْثُ قُتِلَا فَبَيْنَمَا أَنَا فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَثَارَ أَبَاكَ عَمَلُ مُعَاوِيَةَ فَبَدَا فَخَرَجَ طَائِفَةٌ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي دَفَنْتُهُ لَمْ يَتَغَيَّرْ إِلَّا مَا لَمْ يَدَعِ الْقَتْلُ أَوِ الْقَتِيلُ فَوَارَيْتُهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکین سے قتال کرنے کی غرض سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم اہل مدینہ کے ساتھ رہو اور اس جنگ کے انجام کو دیکھو۔ اللہ کی قسم! اگر میں اپنے بعد اپنی بیٹیوں کو نہ چھوڑ کر جا رہا ہوتا تو میں یہ پسند کرتا کہ تم میری نظروں کے سامنے شہید ہو جاؤ۔ اب میں مدینہ منورہ میں جنگ کے نتیجہ کے انتظار میں رہا تھا کہ میری پھوپھی میرے والد اور ماموں عمرو بن جموح کو اونٹ پر رکھے ہوئے آگئیں، میں انہیں لے کر مدینہ منورہ لے گیا تاکہ ان کو اپنے آبائی قبرستان میں دفن کروں، اتنے میں ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ خبر دار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم شہداء کو واپس احد لے جا کر ان کے شہید ہونے کے مقامات پر ہی دفن کرو۔ چنانچہ ہم نے ان کو واپس لے جا کر ان کے مقام شہادت پر دفن کیا۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تھا کہ ایک آدمی نے آکر مجھ سے کہا: اے جابر بن عبداللہ! سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے اہل کاروں نے تمہارے باپ کی قبر کو کھول ڈالا ہے اور ان کی میت ظاہر ہو گئی ہے اور اس کا کچھ حصہ قبر سے باہر نکل آیا ہے۔ میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ میں نے ان کو جس حال میں دفن کیا تھا، وہ اسی طرح تھے، ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، البتہ قتل والے زخم بدلے ہوئے تھے، چنانچہ میں نے ان کو دوبارہ دفن کردیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11823]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 1533، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15355»
وضاحت: فوائد: … واقدی نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پانی کا چشمہ (نہر) گزارنی چاہی، پس انھوں نے اعلان کرایا کہ اس راستے میں کسی کے شہید کی کوئی قبر آتی ہو تو وہ آکر قبر اور اس میں مدفون میت کو سنبھال لے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میںنے اپنے والد کو قبر میں اس طرح لیٹے پایا گویا کہ وہ سو رہے ہوں، قبر میں ان کے ہمسائے سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ان کے زخم پر تھا،جب اسے ہٹایا گیا تو اس سے خون پھوٹنے لگا اور ان کی قبروں سے کستوری کی مہک آرہی تھی،یہ ان کی تدفین سے چھپالیس سال بعد کا واقعہ ہے، یعنی چھیالیس برسوں میت میںنہ کوئی فرق آیا اور نہ مٹی نے ان پر اثر کیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودِ الشَّهِيرِ بِابْنِ أم عبدرَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11824
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ بَلَى قَالَ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَكَ فَقَالَ قَدِ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَمِ اسْتِعَانَةً بِي وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تا حیات محبت کرتے رہے ہوں، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپناعامل بنا کر بھیجا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11824]
تخریج الحدیث: «منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمرو بن عاص، اخرجه بنحوه النسائي في الكبري: 9274، والحاكم: 3/ 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17960»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قبیلہ بنوہذیل کے فرد تھے، آغاز اسلام میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی پہلے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے، اولأحبشہ کی طرف اور بعد میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے، غزوۂ بدر، احد، خندق، بیعت رضوان اور دیگر مواقع میں شریک رہے، اکثر و بیشتر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گزارا کرتے، بڑے اور فقیہ صحابۂ کرام میں ان کا شمار ہوتا ہے، ایک قول کے مطابق (۳۲) سن ہجری میں ان کی وفات کو فہ میں اور دوسرے قول کے مطابق مدینہ منور ہ میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر چونسٹھ پینسٹھ برس تھی۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قرآن کریم کے بہت بڑے عالم اور ماہر تھے، وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں قرآن کریم کی ہر ہر سورت کے متعلق جانتا ہوں کہ یہ کب اور کہاں نازل ہوئی، اگر مجھے پتہ چلے کہ کوئی آدمی مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا علم رکھتا ہے اور وہاں اونٹ پہنچ سکتے ہوں تو میں اس آدمی کی طرف سفر کرکے اس سے علم حاصل کروں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11825
عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَسَحَلَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ“ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَسْأَلُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”سَلْ تُعْطَهْ سَلْ تُعْطَهْ سَلْ تُعْطَهْ“ فَقَالَ فِيمَا سَأَلَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ قَالَ فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَبْدَ اللَّهَ لِيُبَشِّرَهُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ سَبَقَهُ فَقَالَ إِنْ فَعَلْتَ لَقَدْ كُنْتَ سَبَّاقًا بِالْخَيْرِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رات کو نماز ادا کر رہے تھے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، انھوں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کی اور اس کی مکمل تلاوت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قرآن کو اسی طرح پڑھنا چاہتا ہو، جیسا کہ وہ نازل ہواتھا تو وہ ابن ام عبد یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کے مطابق تلاوت کیا کرے۔ پھر وہ آگے بڑھے اور سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سوال کرنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ تو انہوں نے اپنی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی کی: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ إِیمَانًا لَا یَرْتَدُّ، وَنَعِیمًا لَا یَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی أَعْلٰی جَنَّۃِ الْخُلْدِ (یا اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کی دعا کرتا ہوں جو مجھ سے واپس نہ جائے، ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں اور میں تجھ سے ہمیشہ والی جنت کے اعلیٰ مقامات میں تیرے نبی کاساتھ چاہتا ہوں۔) اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کو بشارت دینے کے لیے آئے تو انھوں نے دیکھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بارے میں ان سے سبقت لے جا چکے تھے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ آپ نے یہ کام کیا ہے، مگر صورتحال یہ ہے کہ آپ ہر اچھے کام میں سبقت لے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11825]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواهده، اخرجه ابن ماجه: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4255»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کی ترجیح کے لیے دیکھیں احادیث نمبر (۸۴۴۹،۸۳۷۸)
صحابۂ کرام ایک دوسرے کو خوشخبری دینے اور خوش کرنے کے بڑے حریص تھے، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما جیسے عظیم صحابہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خوش کرنے کے درپے ہیں، اسلامی تعلق اور دینی محبت کا یہی تقاضا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں