🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. بَابٌ: فِيمَا يَجِبُ بِهِ الصَّدَاقُ
مہر کے واجب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 767 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1944
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ،" أَنَّ عَمْرَو بْنَ نَافِعٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، وَكَانَتْ قَدْ أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ، فَزَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَقْرَبْهَا وَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَدْ قَرَبَهَا، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى شُرَيْحٍ فَصَبَرَ يَمِينَ عَمْرٍو بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ مَا قَرَبَهَا، وَقَضَى عَلَيْهِ بِنِصْفِ الصَّدَاقِ" .
عمرو بن نافع نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور دعویٰ کیا کہ اس نے اسے نہیں چھوا، عورت نے مخالفت کی، معاملہ حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس گیا۔ حضرت شریح نے عمرو سے قسم لی اور عورت کے حق میں نصف مہر کا فیصلہ کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1944]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 767، 768، 769، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14591، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10887»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 768 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1945
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
حضرت شریح قاضی رحمہ اللہ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1945]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 767، 768، 769، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14591، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10887»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 769 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1946
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ نَافِعٍ، تَزَوَّجَ بِنْتَ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ , فَطَلَّقَهَا، وَزَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَقْرَبْهَا، فَخَاصَمُوهُ إِلَى شُرَيْحٍ فَاسْتَحْلَفَهُ وَقَضَى عَلَيْهِ بِنِصْفِ الصَّدَاقِ" .
عمرو بن نافع نے سیدہ بنت یحییٰ بن الجزار سے نکاح کیا اور طلاق دی، اور دعویٰ کیا کہ اس نے بیوی کو نہیں چھوا۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے قسم لے کر عورت کے حق میں نصف مہر کا فیصلہ دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1946]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 767، 768، 769، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14591، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10887»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 770 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1947
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لَهَا: " لا , لا أُصَدِّقُكِ لِنَفْسِكِ، وَأَتَّهِمُكِ لِنَفْسِكَ". قَالَ هُشَيْمٌ: يَقُولُ: فَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ، وَلا تَزَوَّجِي حَتَّى تَعْتَدِّي .
حضرت شریح رحمہ اللہ نے عورت سے کہا: ”میں تیرے حق میں تیرے قول کو تسلیم نہیں کرتا، اور تمہیں خود پر متہم کرتا ہوں۔“ اور فرمایا: ”تم پر عدت واجب ہے اور عدت پوری کیے بغیر نکاح نہ کرو۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 771 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1948
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّ رَجُلا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَكَانَ يَبِيتُ عِنْدَهَا فَطَلَّقَهَا، فَقَالَتْ: لَمْ يَقْرَبْنِي وَكَانَ يَبِيتُ عِنْدِي وَعَلَيَّ ثِيَابِي , قَالَ:" عَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الصَّدَاقُ , أَلا تَرَى أَنَّهَا لَوِ ادَّعَتْ حَمْلا صُدِّقَتْ" .
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نکاح کیا، اس کی بیوی نے کہا: وہ رات میرے پاس گزارتا مگر کپڑے بدستور ہوتے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا: ”اس عورت پر عدت واجب ہے اور اس کا مہر بھی لازم ہے۔ دیکھتے نہیں کہ اگر عورت حمل کا دعویٰ کرے تو بھی اس کی تصدیق کی جاتی ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1948]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 772 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1949
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا لَيْثٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ إِذَا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ، ثُمَّ طَلَّقَهَا فَزَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَمَسَّهَا، قَالَ:" عَلَيْهِ نِصْفُ الصَّدَاقِ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اگر مرد عورت کو اپنے نکاح میں لائے اور طلاق دے دے اور دعویٰ کرے کہ میں نے اسے نہیں چھوا، تو اس پر نصف مہر واجب ہو گا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1949]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 772، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14588»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. بَابُ الرَّجُلِ يُزَوِّجُ ابْنَهُ وَهُوَ صَغِيرٌ
باپ کا اپنے کم عمر بیٹے کا نکاح کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 773 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1950
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " إِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ ابْنَهُ وَهُوَ صَغِيرٌ فَالصَّدَاقُ عَلَى الابْنِ إِلا أَنْ يَضْمَنَهُ الأَبُ" . قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ.
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب باپ اپنے نابالغ بیٹے کا نکاح کرے تو مہر بیٹے پر لازم ہے، الا یہ کہ باپ ضمانت لے لے۔“ ہشیم کہتے ہیں: یہی قول معتبر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1950]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 773، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16264، 16268»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 774 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1951
نا هُشَيْمٌ، أنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " هُوَ عَلَى الأَبِ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مہر باپ پر لازم ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1951]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 774، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16270»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 775 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1952
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ ," أَنَّهُ زَوَّجَ ابْنَةَ أَخِيهِ ابْنَ أَخِيهِ وَهُمَا صَغِيرَانِ" .
حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کی بیٹی کا نکاح اپنے بھائی کے بیٹے سے کیا، حالانکہ دونوں کم عمر تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 775، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10358، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17628»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. بَابُ الْإِقَامَةِ عِنْدَ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ
کنواری اور بیوہ کے پاس قیام کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 776 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1953
نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَتْ أُمُّ سَلَمَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِلا فَثَلَّثْتُكِ ثُمَّ أَدُورُ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے گھر والوں کے نزدیک تمہاری کوئی بے وقعتی نہیں، اگر چاہو تو میں تمہارے لیے سات راتیں مقرر کر دوں، ورنہ تین راتیں، پھر تقسیم (یعنی عدل) شروع کر دوں۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1953]
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1460، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1935، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 776، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14873، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3732، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10645، 10646، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4332، 4333، والطبراني فى «الكبير» برقم: 591»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں