صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
61. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن القيء ينقض الطهارة سواء كان ملء الفم أو لم يكن
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قے طہارت کو توڑ دیتی ہے، خواہ وہ منہ بھر کر ہو یا نہ ہو
حدیث نمبر: 1097
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مَعْدَانَ بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَهُ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ" ، فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَ، أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءًا.
معدان بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کر کے روزہ ختم کر دیا تھا، (راوی کہتے ہیں) پھر میری ملاقات مسجدِ دمشق میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے یعنی (سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ) نے سچ کہا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1097]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 8، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1956، 1958، 1959، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1097، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1558، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2381، والترمذي فى (جامعه) برقم: 87، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1769، والدارقطني فى (سننه) برقم: 590، 591، 592، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22114» «رقم طبعة با وزير 1094»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2060).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وأبو موسى: هو محمد بن المثنى، وابن عمرو الأوزاعي هو عبد الرحمن.
62. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن النوم لا يوجب الوضوء على النائم في بعض الأحوال
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض لوگوں کے عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ بعض حالتوں میں نیند سونے والے پر وضو واجب نہیں کرتی
حدیث نمبر: 1098
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ لِلْعَتَمَةِ إِمَّا إِمَامًا وَإِمَّا خَلْوًا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: اعْتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الصَّلاةَ الصَّلاةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ تَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: " لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَكَذَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر وہ بیدار ہو گئے، پھر وہ سو گئے، پھر بیدار ہو گئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: نماز، نماز! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) گویا کہ یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں یہ ہدایت کرتا کہ وہ اسے اسی طرح ادا کریں (یعنی عشاء کی نماز کو اسی وقت میں ادا کریں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1098]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 571، 7239، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 642، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 342، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1098، 1532، 1533، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 530، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1951، 3535، والحميدي فى (مسنده) برقم: 499» «رقم طبعة با وزير 1095»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن النسائي» (517)، ويأتي (1530): ق. تنبيه!! رقم (1530) = (1532) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، عمرو بن علي هو الفلاس، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
63. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن هذا الخبر كان في أول الإسلام
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ خبر اسلام کے ابتدائی دور میں تھی
حدیث نمبر: 1099
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ ذَاتَ لَيْلَةٍ عَنْ صَلاةِ الْعَتَمَةِ، حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ يَنْتَظِرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ الصَّلاةَ غَيْرُكُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے وقت کسی کام میں مصروف رہے، یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں ہی سو گئے، پھر ہم بیدار ہو گئے، پھر ہم سو گئے، پھر بیدار ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت روئے زمین میں تمہارے علاوہ کوئی شخص (اس) نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1099]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 639، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 343، 344، 347، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1099، 1536، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 536، وأبو داود فى (سننه) برقم: 199، 420، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4919» «رقم طبعة با وزير 1096»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (194): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
64. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن الرقاد الذي هو النعاس لا يوجب على من وجد فيه وضوءا
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نیند جو کہ اونگھنا ہے، اسے پانے والے پر وضو واجب نہیں کرتی
حدیث نمبر: 1100
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ لِي: مَا حَاجَتُكَ؟ قُلْتُ لَهُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَكُنْتُ امْرَءًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ:" نَعَمْ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الرُّقَادُ لَهُ بِدَايَةٌ وَنِهَايَةٌ، فَبِدَايَتُهُ النُّعَاسُ الَّذِي هُوَ أَوَائِلُ النَّوْمِ، وَصِفَتُهُ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا كُلِّمَ فِيهِ يَسْمَعُ، وَإِنْ أَحْدَثَ عَلِمَ، إِلا أَنَّهُ يَتَمَايَلُ تَمَايُلا. وَنِهَايَتُهُ زَوَالُ الْعَقْلِ، وَصِفَتُهُ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا أَحْدَثَ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ لَمْ يَعْلَمْ، وَإِنْ تَكَلَّمَ لَمْ يَفْهَمْ. فَالنُّعَاسُ لا يُوجِبُ الْوُضُوءَ عَلَى أَحَدٍ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ عَلَى أَيِّ حَالَةٍ كَانَ النَّاعِسُ، وَالنَّوْمُ يُوجِبُ الْوُضُوءَ عَلَى مَنْ وُجِدَ عَلَى أَيِّ حَالَةٍ كَانَ النَّائِمُ. عَلَى أَنَّ اسْمَ النَّوْمِ قَدْ يَقَعُ عَلَى النُّعَاسِ، وَالنُّعَاسُ عَلَى النَّوْمِ، وَمَعْنَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا بِقَوْلِهِ: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ سورة البقرة آية 255 وَلَمَّا قَرَنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ صَفْوَانَ بَيْنَ النَّوْمِ، وَالْغَائِطِ، وَالْبَوْلِ، فِي إِيجَابِ الْوُضُوءِ مِنْهَا، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ فُرْقَانٌ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَلِيلُ أَحَدِهِمَا أَوْ كَثِيرُهُ أَوْجَبَ عَلَيْهِ الطَّهَارَةَ، سَوَاءً كَانَ الْبَائِلُ قَائِمًا، أَوْ قَاعِدًا، أَوْ رَاكِعًا، أَوْ سَاجِدًا، كَانَ كُلُّ مَنْ نَامَ بِزَوَالِ الْعَقْلِ، وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ، سَوَاءً اخْتَلَفَتْ أَحْوَالُهُ، أَوِ اتَّفَقَتْ، لأَنَّ الْعِلَّةَ فِيهِ زَوَالُ الْعَقْلِ لا تَغَيُّرُ الأَحْوَالِ عَلَيْهِ، كَمَا أَنَّ الْعِلَّةَ فِي الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وُجُودُهُمَا لا تَغَيُّرُ أَحْوَالِ الْبَائِلِ وَالْمُتَغَوِّطِ فِيهِ.
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: ”تمہیں کیا کام ہے؟“ میں نے ان سے گزارش کی: ”علم کا حصول۔“ انہوں نے فرمایا: ”فرشتے طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لیے بچھا دیتے ہیں۔“ میں نے کہا: پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، میں آپ کے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں کہ کیا آپ نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی بات سنی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے: ”جب ہم لوگ سفر کی حالت میں ہوں۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب ہم مسافر ہوں، تو ہم تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے نہ اتاریں، البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے، تاہم پاخانہ یا پیشاب یا نیند کی وجہ سے (وضو ختم ہونے کی صورت میں) ہم موزے نہ اتاریں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «الرُّقَادُ» (یعنی سونے) کا ایک آغاز ہے اور ایک اختتام ہے۔ اس کا آغاز وہ «النُّعَاسُ» (یعنی اونگھ) ہے، جو نیند کے شروع میں ہوتی ہے، اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اس دوران اگر آدمی کے ساتھ کلام کیا جائے، تو وہ سن لیتا ہے، اور اگر وہ بے وضو ہو جائے، تو اسے یہ پتا ہوتا ہے، البتہ اگر وہ ایک طرف ڈھلک جائے (تو معاملہ مختلف ہے) اور اس کا اختتام عقل (یعنی شعور) کا زائل ہو جانا ہے۔ اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب آدمی اس حالت کے دوران بے وضو ہو جائے، تو اسے پتا نہیں چلتا اور اگر اس کے ساتھ کلام کیا جائے، تو اسے سمجھ نہیں آتا، تو اونگھ کسی بھی شخص پر وضو کو لازم نہیں کرتی، خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو، خواہ اونگھنے کی حالت کوئی سی بھی ہو، جبکہ نیند وضو کو لازم کر دیتی ہے، خواہ وہ کسی بھی حالت میں پائی جائے جو سونے والے کی ہوتی ہے۔ اس کے ہمراہ بعض اوقات لفظ «النَّوْمُ» (یعنی نیند) کا اطلاق «النُّعَاسُ» (یعنی اونگھ) پر بھی ہوتا ہے، اور لفظ «النُّعَاسُ» کا اطلاق لفظ «النَّوْمُ» پر بھی ہوتا ہے، لیکن ان دونوں کا معنی مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کو بیان کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ﴾ [سورة البقرة: 255] ”اسے اونگھ نہیں آتی اور نیند بھی نہیں آتی ہے۔“ تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں نیند، پاخانے اور پیشاب کو وضو لازم کرنے والی چیزوں میں شامل کر لیا، تو جس طرح پیشاب اور پاخانے میں کوئی فرق نہیں ہے، یہ دونوں جس کسی سے بھی صادر ہوں گے خواہ وہ تھوڑے ہوں یا زیادہ، تو ایسے شخص پر وضو کرنا لازم ہو جائے گا، خواہ پیشاب کرنے والا شخص بیٹھ کر کرے یا کھڑا ہو کر کرے یا رکوع کی حالت میں کرے یا سجدے کی حالت میں کرے، تو ہر وہ شخص جس کی عقل زائل ہو جائے اور وہ سو جائے، تو اس پر وضو کرنا لازم ہو جائے گا، خواہ اس کی حالتوں میں اختلاف ہو یا حالتوں میں اتفاق ہو، کیونکہ اس میں بنیادی علت عقل کا زائل ہو جانا ہے، حالت کا تبدیل ہونا بنیادی علت نہیں ہے، جیسا کہ پیشاب اور پاخانے میں علت ان دونوں کا پایا جانا ہے، پیشاب کرنے والے یا پاخانہ کرنے والے کی حالت کا متغیر ہونا (علت نہیں) ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1100]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 4، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 17، 193، 196، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 85، 562، 1100، 1319، 1320، 1321، 1325، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 339، 340، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 126، والترمذي فى (جامعه) برقم: 96، 2387، 2387 م، 3535، 3536، والدارمي فى (مسنده) برقم: 369، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 226، 478، 4070، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 940، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18375» «رقم طبعة با وزير 1097»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 62).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، عاصم: هو ابن بهدلة حديثه حسن، وباقي رجاله ثقات.
65. باب نواقض الوضوء - ذكر الأمر بالوضوء من المذي وضوء الصلاة
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ مذی سے وضو کیا جائے جو نماز کے لیے ہے
حدیث نمبر: 1101
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَإِنْ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَاتَ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ بِالْجُرُفِ سَنَةَ ثَلاثٍ وَثَلاثِينَ. وَمَاتَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ، وَقَدْ سَمِعَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ الْمِقْدَادَ وَهُوَ ابْنُ دُونِ عَشْرِ سِنِينَ.
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں کہ جب وہ اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے (تو اس کی مذی خارج ہو جاتی ہے) تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی)، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی میری اہلیہ ہے، اس لیے مجھے خود ان سے حیا آتی ہے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب وہ شخص اس طرح کی صورت حال پائے، تو اپنی شرم گاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا انتقال 33 ہجری میں ہوا، جبکہ سلیمان بن یسار کا انتقال 90 ہجری میں ہوا، جس وقت سلیمان بن یسار نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع کیا تھا، اس وقت ان کی عمر 10 سال سے کم تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1101]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 120، وابن الجارود فى "المنتقى"، 5، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 21، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1101، 1106، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 153، 156، 439، وأبو داود فى (سننه) برقم: 207، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 505، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 568، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16996» «رقم طبعة با وزير 1098»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (202).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أن في السند انقطاعاً سقط منه ابن عباس، لأن سليمان بن يسار لم يسمع من المقداد ولا من علي.
66. باب نواقض الوضوء - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فلينضح فرجه أراد به فليغسل ذكره
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "فلینضح فرجہ" سے مراد ہے کہ وہ اپنا ذکر دھوئے
حدیث نمبر: 1102
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، حَدَّثَنِي الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَإِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ، فَاغْتَسِلْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ هَذَا الْحُكْمِ فَسَأَلَهُ وَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ أَخْبَرَ الْمِقْدَادُ عَلِيًّا بِذَلِكَ، ثُمَّ سَأَلَ عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا أَخْبَرَهُ بِهِ الْمِقْدَادُ حَتَّى يَكُونَا سُؤَالَيْنِ فِي مَوْضِعَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُمَا كَانَا فِي مَوْضِعَيْنِ أَنَّ عِنْدَ سُؤَالِ عَلِيٍّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَهُ بِالاغْتِسَالِ عِنْدَ الْمَنِيِّ، وَلَيْسَ هَذَا فِي خَبَرِ الْمِقْدَادِ. يَدُلُّكُ هَذَا عَلَى أَنَّهُمَا غَيْرُ مُتَضَادَّيْنِ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک ایسا شخص تھا، جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لو اور جب تم پانی (یعنی منی) کو دیکھو تو تم غسل کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (اس بات کا امکان موجود ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو اس بات کی ہدایت کی ہو کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا حکم دریافت کریں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ آپ نے انہیں بتایا پھر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جس کے بارے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا تھا، تو یہ دو سوال ہوں گے جو دو مختلف موقعوں پر کیے گئے۔ اور اس بات کی دلیل کہ یہ دونوں سوال مختلف موقعوں پر کیے گئے تھے یہ ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے منی کے نزول کے وقت انہیں غسل کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بات سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں نہیں ہے۔ یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ یہ دو مختلف احادیث ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1102]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 132، 178، 269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 303، وابن الجارود فى "المنتقى"، 6، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 18، 19، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1102، 1104، 1107، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 152، وأبو داود فى (سننه) برقم: 206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 504، وأحمد فى (مسنده) برقم: 628، 673» «رقم طبعة با وزير 1099»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (125)، «صحيح أبي داود» (201). * [قَبِيصَةَ] قال الشيخ: في الأصل: (عقبة).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
67. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن غسل الذكر للمذي لا يجزئ به صلاته دون الوضوء وأن الوضوء يجزئ عن نضح الثوب له
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مذی کے لیے ذکر دھونا کافی نہیں ہوتا کہ اس سے نماز ادا ہو، بغیر وضو کے، اور یہ کہ وضو کپڑے پر چھینٹے مارنے کے بدلے کافی ہے
حدیث نمبر: 1103
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الاغْتِسَالَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ". فَقُلْتُ: فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ؟ قَالَ:" يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ" .
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے مذی کی وجہ سے مشقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور میں اس کی وجہ سے بکثرت غسل کیا کرتا تھا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے اس کی وجہ سے وضو کر لینا ہی کافی ہے۔“ میں نے عرض کی: اگر یہ میرے کپڑے پر لگ جائے تو پھر کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ایک چلو میں پانی لو اور اسے اپنے کپڑے پر اس جگہ چھڑک لو جہاں تمہیں نظر آ رہا ہے کہ یہ لگی ہوئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1103]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 291، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1103، وأبو داود فى (سننه) برقم: 210، والترمذي فى (جامعه) برقم: 115، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4194، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16220» «رقم طبعة با وزير 1100»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (205).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، فقد صرح ابن إسحاق بالتحديث.
68. باب نواقض الوضوء - ذكر إيجاب الوضوء على الممذي والاغتسال على الممني
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مذی سے وضو واجب ہے اور منی سے غسل واجب ہے
حدیث نمبر: 1104
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ، وَإِذَا رَأَيْتَ الْمَنِيَّ، فَاغْتَسِلْ" .
سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایسا شخص تھا، جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم پانی (مذی) کو دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لو اور جب تم منی دیکھو تو تم غسل کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1104]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 132، 178، 269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 303، وابن الجارود فى "المنتقى"، 6، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 18، 19، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1102، 1104، 1107، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 152، وأبو داود فى (سننه) برقم: 206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 504، وأحمد فى (مسنده) برقم: 628، 673» «رقم طبعة با وزير 1101»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (1099). تنبيه!! رقم (1099) = (1102) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.
69. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لخبر أبي عبد الرحمن السلمي الذي ذكرنا
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے ذکر کردہ ابو عبد الرحمن السلمي کی خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1105
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: " يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ" .
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں دریافت کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور وضو کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1105]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1105، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 155، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 150، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 246، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2696، والطبراني فى(الكبير) برقم: 4440، 4441، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 717، 8534» «رقم طبعة با وزير 1102»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح دون ذكر عمار - «التعليق على سبل السلام».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله رجال الشيخين غير إياس بن خليفة، فقد روى له النسائي ولم يوثقه غير المؤلف 4/ 34، ولم يرو عنه غير عطاء، وقال الذهبي في «الميزان»: لا يكاد يعرف، وقول الحافظ في «التقريب»: صدوق فيه ما فيه. وابن أبي نجيح: هو عبد الله بن أبي نجيح يسار الثقفي المكي ثقة روى له الستة.
70. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر ثالث يوهم من لم يطلب العلم من مظانه أنه مضاد للخبرين اللذين تقدم ذكرنا لهما
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو علم کے اصل مآخذ سے نہ سیکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ دو خبروں کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1106
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَإِنْ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: قَدْ يَتَوَهَّمُ بَعْضُ الْمُسْتَمِعِينَ لِهَذِهِ الأَخْبَارِ مِمَّنْ لَمْ يَطْلُبِ الْعِلْمَ مِنْ مَظَانِّهِ، وَلا دَارَ فِي الْحَقِيقَةِ عَلَى أَطْرَافِهِ، أَنْ بَيْنَهَا تَضَادًّا أَوْ تَهَاتُرًا، لأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي خَبَرِ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ، أَنَّهُ أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي خَبَرِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَمَرَ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَلَيْسَ بَيْنَهَا تَهَاتُرٌ، لأَنَّهُ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، ثُمَّ أَمَرَ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَهُ، فَسَأَلَهُ، ثُمَّ سَأَلَ بِنَفْسِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ مَا ذَكَرْتُ أَنْ مَتْنَ كُلِّ خَبَرٍ يُخَالِفُ مَتْنَ الْخَبَرِ الآخَرِ، لأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ، فَاغْتَسِلْ". وَفِي خَبَرِ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ: أَنَّهُ أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ"، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْمَنِيِّ الَّذِي فِي خَبَرِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ. وَخَبَرُ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ سُؤَالٌ مُسْتَأْنَفٌ، فَيَسْأَلُ أَنَّهُ لَيْسَ بِالسُّؤَالَيْنِ الأَوَّلَيْنِ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَاهُمَا، لأَنَّ فِي خَبَرِ الْمِقْدَادِ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَإِنْ عِنْدِي ابْنَتَهُ. فَذَلِكَ مَا وَصَفْنَا، عَلَى أَنَّ هَذِهِ أَسْئِلَةٌ مُتَبَايِنَةٌ، فِي مَوَاضِعَ مُخْتَلِفَةٍ، لِعِلَلٍ مَوْجُودَةٍ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادُّ أَوْ تَهَاتُرٌ.
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں جو اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے، تو اس کی مذی خارج ہو جاتی ہے، ایسے شخص پر کیا چیز لازم ہو گی؟ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری اہلیہ ہے، اس لیے مجھے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرے تو اسے اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لینا چاہیے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لینا چاہیے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان روایات کو سننے والے بعض ایسے افراد جنہوں نے علم حدیث کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کیا اور حقیقت کو اس کے اپنے دائرے میں نہیں گھمایا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان روایات کے درمیان تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے، کیونکہ ابوعبدالرحمن سلمی کی نقل کردہ روایت میں یہ ہے: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا“، جبکہ ایاس بن خلیفہ کی نقل کردہ روایت میں ہے کہ انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، جبکہ سلیمان بن یسار کی نقل کردہ روایت میں ہے کہ انہوں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، حالانکہ ان روایات کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ اس بات کا احتمال موجود ہے کہ پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، پھر آپ نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا ہو کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہو، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بذات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ہو۔ میں نے جو چیز ذکر کی ہے اس کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ان میں سے ہر روایت کا متن دوسری روایت کے متن سے مختلف ہے، کیونکہ ابوعبدالرحمن سلمی کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جب پانی کو دیکھو تو غسل کرو۔“ ایاس بن خلیفہ کی روایت میں الفاظ ہیں: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لے۔“ اس روایت میں منی کا تذکرہ نہیں ہے جو ابوعبدالرحمن کی نقل کردہ روایت میں ہے، جبکہ سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں مذکور ہے کہ انہوں نے پہلے سوال کیا تھا، تو یہ پہلے والے دو سوالات نہیں ہیں جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ ہے کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کریں جو اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے، تو اس کی منی خارج ہوتی ہے، تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی؟ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری اہلیہ ہے، میں (اس لیے براہِ راست آپ سے یہ سوال نہیں کر سکتا)، تو ہم نے جو چیز ذکر کی ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ مختلف سوالات ہیں جو مختلف مواقع پر کیے گئے جن کی اپنی مخصوص علتیں ہیں، ان کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 120، وابن الجارود فى "المنتقى"، 5، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 21، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1101، 1106، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 153، 156، 439، وأبو داود فى (سننه) برقم: 207، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 505، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 568، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16996» «رقم طبعة با وزير 1103»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (202).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أنه منقطع.