🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1127. فصل في قيام الليل - ذكر إباحة الاضطجاع للمتهجد بعد فراغه من ورده قبل طلوع الفجر
قیام الليل کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ تہجد کرنے والا اپنے ورد کے بعد فجر کے طلوع ہونے سے پہلے لیٹ سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2636
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ، لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْقُبُهُ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَتَامَّتْ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَإِذَا بِلالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاةِ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَكَانَ فِي دُعَائِهِ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا" ، قَالَ كُرَيْبٌ: فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ، فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَذَكَرَ:" عَصَبِي، وَلَحْمِي، وَدَمِي، وَشَعْرِي، وَبَشَرِي"، وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی۔ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزے کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا منہ کھولا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جو درمیانے درجے کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں زیادہ مرتبہ اعضاء کو نہیں دھویا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور نماز ادا کرنے لگے، میں بھی اٹھا، میں نے یوں ظاہر کیا جیسے ابھی بیدار ہوا ہوں، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے (کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لے رہا تھا، میں اٹھا میں نے وضو کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف آ کر کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان پکڑے اور مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تیرہ رکعات میں پوری ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور سو گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے تو خراٹے لیا کرتے تھے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلانے کے لیے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا، اور اس (نماز) میں یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! تو میرے دل میں نور کر دے، میری بصارت میں نور کر دے، میری سماعت میں نور کر دے، میرے دائیں طرف نور کر دے، میرے بائیں طرف نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے نیچے نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے اور میرے لیے نور کو زیادہ کر دے۔“ کریب نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ میری ملاقات سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی سے ہوئی انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی جس میں یہ الفاظ بھی بیان کیے: ”میرے پٹھوں، میرے گوشت، میرے خون، میرے بالوں اور میری کھال میں (نور) کر دے۔“ انہوں نے دو خصلتوں کا ذکر بھی کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2636]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،وابن الجارود فى "المنتقى"، 10، 11، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، 2196، 2579، 2592، 2626، 2627، 2636، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، 5043، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، 476، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868» «رقم طبعة با وزير 2627»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1226): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1128. فصل في قيام الليل - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم كان يجعل آخر صلاته بالليل نومة خفيفة قبل انفجار الصبح في بعض الليالي دون بعض
قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بعض راتوں میں، نہ کہ سب، رات کے آخر میں ہمارے بیان کردہ ہلکی نیند سوتے تھے صبح کے طلوع سے پہلے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2637
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، وَجُمْعَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَلْخِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا أَلْفَاهُ السَّحَرَ عِنْدِي إِلا نَائِمًا" ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے آپ کو سحری کے وقت اپنے ہاں ہمیشہ سوئے ہوئے پایا ہے، ان کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2637]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1133، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 742، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2637، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1318، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1197، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4731، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25701» «رقم طبعة با وزير 2628»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1191). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1129. فصل في قيام الليل - ذكر السبب الذي من أجله كان ينام صلى الله عليه وسلم آخر الليل النومة التي وصفناها
قیام الليل کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخر میں ہمارے بیان کردہ ہلکی نیند کیوں سوتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2638
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةُ الْمَرْءِ بِأَهْلِهِ كَانَ، فَإِذَا سَمِعَ الأَذَانَ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَإِلا تَوَضَّأَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ الأَخْبَارُ لَيْسَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ، وَإِنْ تَبَايَنَتْ أَلْفَاظُهَا وَمَعَانِيهَا مِنَ الظَّاهِرِ، لأَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ عَلَى الأَوْصَافِ الَّتِي ذُكِرَتْ عَنْهُ، لَيْلَةً بِنَعْتٍ وَأُخْرَى بِنَعْتٍ آخِرَ، فَأَدَّى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَا رَأَى مِنْهُ، وَأَخْبَرَ بِمَا شَاهَدَ، وَاللَّهُ جَلَّ وَعَلا جَعَلَ صَفِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلِّمًا لأُمَّتِهِ قَوْلا وَفِعْلا، فَدَلَّنَا تَبَايُنُ أَفْعَالِهِ فِي صَلاةِ اللَّيْلِ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ مُخَيَّرٌ بَيْنَ أَنْ يَأْتِيَ بِشَيْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ الَّتِي فَعَلَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ بِاللَّيْلِ دُونَ أَنْ يَكُونَ الْحُكْمُ لَهُ فِي الاسْتِنَانِ بِهِ فِي نَوْعٍ مِنْ تِلْكَ الأَنْوَاعِ لا الْكُلِّ.
اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی (نفل) نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں سو جاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل ادا کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب سحری کا وقت قریب آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کر لیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر آتے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ خواہش ہوتی جو کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ ہوتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پوری کر لیتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کی آواز سنتے تو جلدی سے اٹھ جاتے، اگر جنابت کی حالت میں ہوتے تو غسل کر لیتے ورنہ وضو کر کے نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، اگرچہ بظاہر اور معانی میں اختلاف محسوس ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت مختلف (تعداد میں) نوافل ادا کرتے تھے، ایک رات میں ایک طریقے کے مطابق اور دوسری رات میں دوسرے طریقے کے مطابق ادا کرتے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طریقے کے مطابق نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اسے آگے بیان کر دیا اور جو مشاہدہ کیا، اس کے بارے میں خبر دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو ان کی اُمت کے لیے زبانی اور عملی طور پر معلم بنا کر بھیجا تھا، تو رات کے نوافل کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کا اختلاف اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ آدمی کو اس بارے میں اختیار ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رات کے نوافل کے بارے میں جو طریقہ بھی اختیار کیا، آدمی ان میں سے کسی ایک طریقے کے مطابق نوافل ادا کر لے، ایسا نہیں ہے کہ اس کے لیے یہ حکم ہو کہ وہ ان میں سے کسی ایک طریقے کی ہی پیروی کر سکتا ہے اور تمام طریقوں کی پیروی نہیں کر سکتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2638]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 286، 288، 1146، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 305، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 213، 215، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1217، 1218، 2589، 2593، 2638، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 255، وأبو داود فى (سننه) برقم: 222، بدون ترقيم، 224، 228، 1363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 118، 119، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 581، 582، 583، والدارقطني فى (سننه) برقم: 453، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24717،» «رقم طبعة با وزير 2629»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (223). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1130. فصل في قيام الليل - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه يضاد الأخبار التي ذكرناها قبل
قیام الليل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے پہلے بیان کردہ خبروں سے متعارض ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2639
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، ثُمَّ يُسَبِّحُ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا يُصَلِّي، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ، فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ، وَصَلاتُهُ تِلْكَ الآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ" .
یعلیٰ مملک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی (نفل) نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز ادا کرتے تھے، پھر آپ تسبیح پڑھتے رہتے تھے، پھر اس کے بعد رات کے وقت جب اللہ کو منظور ہوتا تھا نماز ادا کرتے رہتے تھے، پھر آپ نماز ختم کر کے اتنی ہی دیر کے لیے سو جاتے تھے جتنی دیر آپ نماز ادا کرتے رہے تھے، پھر آپ اپنی اس نیند سے بیدار ہو کر اتنی دیر نماز ادا کرتے رہتے تھے جتنی دیر سوئے رہتے تھے، یہاں تک کہ آپ کی آخری نماز صبح صادق تک جاری رہتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2639]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1158، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2639، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1169، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1021، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1466، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2923، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4788، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27169» «رقم طبعة با وزير 2630»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (260)، «المشكاة» (1210 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1131. فصل في قيام الليل - ذكر خبر ثان قد يوهم في الظاهر من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد للأخبار التي تقدم ذكرنا لها
قیام الليل کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ظاہری طور پر اس شخص کو جو حدیث کی صنعت میں ماہر نہیں، یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے پہلے بیان کردہ خبروں سے متعارض ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2640
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُرَّةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ تَجَوَّزَ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَنَامُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ طَهُورُهُ وَسِوَاكُهُ، فَيَقُومُ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي، وَيَتَجَوَّزُ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمُ، جَعَلَ الثَّمَانِ سِتًّا، وَيُوتِرُ بِالسَّابِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ إِذَا زُلْزِلَتْ" ، أَبُو حُرَّةَ وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
سعد بن ہشام انصاری بیان کرتے ہیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی (نفل) نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے، تو دو مختصر رکعات ادا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے موجود ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر مسواک کرتے تھے، پھر وضو کرتے تھے اور نماز ادا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دو مختصر رکعات ادا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعات ادا کرتے تھے جن میں تقریباً ایک جتنی تلاوت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نویں رکعت کے ذریعے انہیں طاق کر لیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بھاری ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات کی جگہ چھ ادا کرنا شروع کر دیں اور ساتویں رکعت کے ذریعے انہیں طاق کر لیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الکافرون اور سورۃ الزلزال کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، 2441، 2442، 2551، 2552، 2635، 2640، 2642، 2644، 2645، 2646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، 3863، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907» «رقم طبعة با وزير 2631»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - هو مكرر (2626). تنبيه!! رقم (2626) = (2635) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1132. فصل في قيام الليل - ذكر الزجر عن ترك المرء ما اعتاد من تهجده بالليل
قیام الليل کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنے عادی تہجد کو رات میں ترک کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2641
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، لا تَكُنْ مِثْلَ فُلانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ قَوْلِ الإِنْسَانِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ فِي الإِنْسَانِ مَا إِذَا سَمِعَهُ اغْتَمَّ بِهِ، إِذَا أَرَادَ هَذَا الْقَائِلُ بِهِ إِنْبَاهَ غَيْرِهِ دُونَ الْقَدْحِ فِي هَذَا الَّذِي قَالَ فِيهِ مَا قَالَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! تم فلاں شخص کی مانند نہ ہو جانا جو پہلے رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتا تھا اور پھر اس نے رات کے قیام کو ترک کر دیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لیے کسی دوسرے شخص کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہنا جائز ہے کہ اگر وہ شخص خود اس بات کو سن لے تو غمگین ہو جائے، جبکہ کہنے والے شخص کا مقصد اس کی برائی بیان کرنا نہ ہو بلکہ کسی اور شخص کو کسی حوالے سے تنبیہ کرنا مقصود ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2641]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1152، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1129، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2641، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1762، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1331، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4794، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6695» «رقم طبعة با وزير 2632»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الترغيب» (641): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1133. فصل في قيام الليل - ذكر ما يستحب للمرء أن يصلي بالنهار ما فاته من تهجده بالليل
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ دن میں اس تہجد کو پڑھے جو رات میں اس سے چھوٹ گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2642
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلا أَثْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ، أَوْ مَرِضَ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً" . قَالَتْ: قَالَتْ: " وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلا رَمَضَانَ" ، قَالَ: أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ، إِذْ لَوْ كَانَ فَرْضًا لَصَلَّى مِنَ النَّهَارِ مَا فَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل کرتے تھے تو باقاعدگی سے کیا کرتے تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت سو جاتے یا بیماری کی وجہ سے (رات کے نوافل ادا نہیں کر پاتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی ساری رات صبح صادق تک نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی رمضان کے مہینے کے علاوہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلسل (پورا مہینہ) روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ وتر فرض نہیں ہیں، کیونکہ اگر یہ فرض ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت اپنی رات کے وقت رہ جانے والی 13 رکعات ادا کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2642]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، 2441، 2442، 2551، 2552، 2635، 2640، 2642، 2644، 2645، 2646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، 3863، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907» «رقم طبعة با وزير 2633»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى مختصرا (2411). تنبيه!! رقم (2411) = (2420) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1134. فصل في قيام الليل - ذكر البيان بأن من نام عن حزبه ثم صلى مثله ما بين الفجر والظهر كتب له أجر حزبه
قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص اپنے حصے سے سو جائے پھر فجر اور ظہر کے درمیان اس کے برابر پڑھے، اس کے لیے اس کے حصے کا اجر لکھا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2643
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ابْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أخبراه، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ مِنْ بَنِي قَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ، أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلاةِ الْفَجْرِ وَصَلاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ بِاللَّيْلِ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اپنے معمول کے وظیفے کو سرانجام دینے سے پہلے سو جائے یا اس میں سے کوئی چیز رہ جائے، تو وہ اگر اسے (اگلے دن) فجر کی نماز سے لے کر ظہر کی نماز تک کے درمیانی حصے میں پڑھ لے، تو اس کے نامہ اعمال میں یہ اسی طرح نوٹ کیا جائے گا، جس طرح اس کے رات کے وقت پڑھنے کو نوٹ کیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 747، ومالك فى (الموطأ) برقم: 686، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1171، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2643، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1789، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1313، والترمذي فى (جامعه) برقم: 581، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1343، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4630، وأحمد فى (مسنده) برقم: 225، 383» «رقم طبعة با وزير 2634»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1186): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1135. فصل في قيام الليل - ذكر ما يستحب للمرء إذا فاته تهجده من الليل بسبب من الأسباب أن يصليها بالنهار سواء
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اگر وہ کسی وجہ سے رات کا تہجد چھوڑ دے تو دن میں اسے پڑھ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2644
أَخْبَرَنَا أَبُو فِرَاسٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الأَصَمُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعِيشَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلا أَثْبَتَهُ"، وَقَالَت:" كَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ صَلَّى بِالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً" . " وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصُّبْحِ، وَلا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلا رَمَضَانَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل کرتے تھے تو اس کو باقاعدگی سے کیا کرتے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے (نوافل) ادا کیے بغیر سو جاتے یا بیماری کی وجہ سے (انہیں ادا نہ کر پاتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے، میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری رات صبح صادق تک نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے مہینے کے علاوہ کسی اور پورے مہینے میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، 2441، 2442، 2551، 2552، 2635، 2640، 2642، 2644، 2645، 2646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، 3863، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907» «رقم طبعة با وزير 2635»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (2633). تنبيه!! وقعت كنيت الراوي «مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الأَصَمُّ» في «طبعة باوزير»، «أَبُو قُرَيش» بدلا من «أَبُو فِرَاسٍ». ملحوظة رقم (2633) = (2642) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1136. فصل في قيام الليل - ذكر ما كان يصلي صلى الله عليه وسلم بالنهار ما فاته من ورده بالليل
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن میں وہ ورد پڑھتے تھے جو رات میں ان سے چھوٹ گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2645
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ، مَنَعَهُ عَنْ ذَلِكَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند کی وجہ سے رات کے وقت نوافل ادا نہیں کر پاتے تھے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ لگ جاتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2645]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، 2441، 2442، 2551، 2552، 2635، 2640، 2642، 2644، 2645، 2646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، 3863، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907» «رقم طبعة با وزير 2636»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں