صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر ثان يدل على أن تارك الصلاة متعمدا حتى خرج وقتها لا يكفر باستعماله ذلك كفرا تبين امرأته به عنه
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نماز کو جان بوجھ کر اس کے وقت کے نکلنے تک ترک کرنے والا اس سے کفر نہیں کرتا جو اس کی بیوی کو اس سے جدا کر دے
حدیث نمبر: 1456
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ فِي السَّفَرِ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے کا ارادہ کرتے تھے، تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ عصر کا ابتدائی وقت داخل ہو جاتا تھا، تو آپ ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1110، 1111، 1112، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 704، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 969، 975، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1456، 1592، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 497، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1204، 1205، 1218، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1454، 1455، 1456، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12294» «رقم طبعة با وزير 1454»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1105). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، سعيد بن بحر القراطيسي: ذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 272، وقد تحرف فيه «بحر» إلى «بحير»، وترجمه الخطيب في «تاريخه» 9/ 93، ووثقه، وأورده السمعاني في «الأنساب» 10/ 84، وباقي رجال الإسناد على شرطهما.
11. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر ثالث يدل على أن من ترك الصلاة متعمدا إلى أن دخل وقت صلاة أخرى لا يكفر به
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کرے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے، وہ اس سے کافر نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 1457
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعْرٍ، فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ، أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ، فَرُحِلَتْ لَهُ، فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلَمْةِ اللَّهِ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابَ اللَّهِ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟"، قَالُوا: نَشْهَدُ أَنْ قَدْ بَلَّغْتَ، فَأَدَّيْتَ، وَنَصَحْتَ، فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ" ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّي بَيْنَهُمَا شَيْئًا . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَمْا جَازَ تَقْدِيمُ صَلاةِ الْعَصْرِ عَنْ وَقْتِهَا، وَلَمْ يَسْتَحِقَّ فَاعِلُهُ أَنْ يَكُونَ كَافِرًا، كَانَ مِنْ أَخَّرَ الصَّلاةَ عَنْ وَقْتِهَا، ثُمَّ أَدَّاهَا بَعْدَ وَقْتِهَا أَوْلَى أَنْ لا يَكُونَ كَافِرًا.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تو انہوں نے بتایا (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت بالوں سے بنا ہوا خیمہ لگا دیا گیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نمرہ میں لگایا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔ قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعرِ حرام کے قریب وقوف کریں گے، جس طرح قریش زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے آگے بڑھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ تشریف لے آئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ وادی نمرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے۔ وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت آپ کی اونٹنی قصواء پر پالان رکھ دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے نشیبی حصے میں تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری جانیں اور تمہارے مال ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح یہ دن، اس مہینے میں اور اس شہر میں قابلِ احترام ہے۔ خبردار! زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہر چیز میرے دونوں پاؤں کے نیچے رکھی گئی ہے، اور زمانہ جاہلیت کا ہر خون معاف ہو گیا ہے۔ سب سے پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے صاحب زادے کا ہے، جو بنو لیث میں دودھ پیتے بچے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں مار دیا تھا۔ تم لوگ خواتین کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کیونکہ تم نے اللہ کی امان میں انہیں حاصل کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے کلمے کے مطابق ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اگر وہ ایسا کرتی ہیں، تو تم زیادتی کیے بغیر ان کی پٹائی کرو اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں رزق اور لباس مناسب طور پر فراہم کرو۔ میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے، وہ اللہ کی کتاب ہے۔ جب تم سے میرے بارے میں دریافت کیا جائے گا، تو تم کیا جواب دو گے؟“ لوگوں نے کہا: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، آپ نے تبلیغ کر دی ہے، (فریضہ رسالت کو) ادا کر دیا ہے اور آپ نے خیر خواہی کی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف بلند کیا اور پھر اسے لوگوں کی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! تو گواہ ہو جا۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر اذان ہوئی، اقامت کہی گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر اقامت کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب عصر کی نماز کو اپنے مخصوص وقت سے پہلے ادا کرنا جائز ہے اور ایسا کرنے والا شخص اس بات کا مستحق نہیں ہوتا کہ اسے کافر قرار دیا جائے، تو جو شخص نماز کو اپنے وقت سے مؤخر کر دیتا ہے پھر اس کا وقت گزر جانے کے بعد ادا کرتا ہے، تو وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہوتا ہے کہ وہ کافر نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، 856، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، 1074، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942» «رقم طبعة با وزير 1455»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «حجة النبي صلى الله عليه وسلم»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، هشام بن عمار – وإن كان فيه ضعف - قد توبع.
12. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر رابع يدل على أن تارك الصلاة متعمدا لا يكفر كفرا لا يرثه ورثته المسلمون لو مات قبل أن يصليها
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - چوتھی خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والا کفر نہیں کرتا کہ اس کے مرنے پر اس کے ورثاء اس کی وراثت سے محروم ہوں
حدیث نمبر: 1458
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفِيلِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ، فِيصَلِّيهِمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ وَصَلاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے؛ جب آپ سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہو جاتے تھے، تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ جمع کر دیتے تھے اور وہ دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے؛ اور جب آپ سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے، تو آپ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے، پھر روانہ ہوتے تھے؛ جب آپ مغرب سے پہلے روانہ ہو جاتے تھے، تو آپ مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عشاء کے ہمراہ ادا کرتے تھے؛ اور جب آپ مغرب کے بعد روانہ ہوتے تھے، تو آپ عشاء کی نماز کو جلدی ادا کرتے تھے اور اسے مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 706، ومالك فى (الموطأ) برقم: 478، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 966، 968، 1704، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1458، 1591، 1593، 1595، 6537، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 586، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1576، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1206، 1208، 1220، والترمذي فى (جامعه) برقم: 553، 554، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1070، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1462، 1463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22419» «رقم طبعة با وزير 1456»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1210)، «صحيح أبي داود» (1089): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، ابو الطُّفيل: هو عامر بن واثلة الليثي، ولد عام أُحُد، ورأى النبي صلى الله عليه وسلم، وروى عن أبي بكر فمن بعده، وعُمِّر إلى أن مات سنة عشر ومئة على الصحيح، وهو آخر من مات من الصحابة، قاله مسلم وغيره. وقد أعله الحاكم في «علوم الحديث» ص120 بما لا يقدح في صحته، ونقل كلامه ابن القيم في «زاد المعاد» 1م477 - 480، ورد عليه. وانظر «الفتح» 2/ 583.
13. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر خامس يدل على أن تارك الصلاة بعد أن وجب عليه أداؤها وإن ذهب وقتها لا يكون كافرا كفرا يكون ماله به فيئا للمسلمين
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - پانچویں خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نماز کو اس کے واجب ہونے کے بعد ترک کرنے والا، خواہ اس کا وقت نکل جائے، کافر نہیں ہوتا کہ اس کا مال مسلمانوں کے لیے فیء بن جائے
حدیث نمبر: 1459
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى آذَتْنَا الشَّمْسُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ليَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ يَتَنَحَّى عَنْ هَذَا الِمَنْزِلِ، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي تَأْخِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي أَثْبَتَهُ إِلَى أَنْ خَرَجَ مِنَ الْوَادِي دَلِيلٌ صَحِيحٌ، عَلَى أَنَّ تَارِكَ الصَّلاةِ إِلَى أَنْ يَخْرُجَ وَقْتُهَا لا يَكُونُ كَافِرًا، إِذْ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ لأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَدَاءِ الصَّلاةِ فِي وَقْتِ انْتِبَاهِهِمْ مِنْ مَنَامِهِمْ، وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالتَّنَحِّي عَنِ الِمَنْزِلِ الَّذِي نَامُوا فِيهِ، وَالْفَرْضُ لازِمٌ لَهُمْ قَدْ جَازَ وَقْتُهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رات کے وقت پڑاؤ کیا، ہم لوگ بیدار نہیں ہو سکے، یہاں تک کہ سورج نے ہمیں بیدار کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں ہر شخص اپنی سواری کو پکڑ لے اور پھر اس پڑاؤ کی جگہ سے کچھ ہٹ جائے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر دو رکعت نماز ادا کی، پھر نماز قائم کی گئی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے جو وقت مقرر کیا تھا، آپ کا اس نماز کو تاخیر سے ادا کرنا یہاں تک کہ آپ کا اس وادی سے باہر چلے جانا اس بات کی صحیح دلیل ہے کہ نماز اتنی دیر تک ترک کرنے والا شخص کہ اس کا وقت رخصت ہو جائے، تو وہ کافر نہیں ہو گا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو ہدایت کرتے کہ وہ نماز کو اس وقت ادا کر لیں، جب نیند سے بیدار ہوئے تھے اور آپ انہیں یہ ہدایت نہ کرتے کہ اس جگہ سے کچھ ہٹ جائیں جہاں وہ سوئے رہ گئے تھے اور فرض ان کے لیے اس وقت لازم تھا جب ان کا وقت بھی جائز ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1459]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 680، ومالك فى (الموطأ) برقم: 35، وابن الجارود فى "المنتقى"، 266، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 988، 999، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1459، 2069، 2651، 2652، وأبو داود فى (سننه) برقم: 435، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3163، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 697، 1155، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9665» «رقم طبعة با وزير 1457»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده جيد، يزيد بن كيسان: صدوق من رجال مسلم إلا أنه يخطىء، وباقي رجال السند على شرطهما، ابن فضيل: هو محمد، وأبو حازم: هو سليمان الكوفي الأشجعي.
14. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر سادس يدل على أن تارك الصلاة متعمدا من غير عذر لا يوجب عليه ذلك إطلاق الكفر الذي يخرجه عن ملة الإسلام به
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - چھٹی خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بغیر عذر کے جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والا اس سے کفر کا اطلاق نہیں ہوتا جو اسے ملت اسلام سے نکال دے
حدیث نمبر: 1460
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ صَلاةٍ أُخْرَى" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي إِطْلاقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّفْرِيطَ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاةَ حَتَّى دَخَلَ وَقْتُ صَلاةٍ أُخْرَى بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّهُ لَمْ يَكْفُرْ بِفِعْلِهِ ذَلِكَ، إِذْ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ، لَمْ يُطْلِقْ عَلَيْهِ اسْمُ التَّأْخِيرِ وَالتَّقْصِيرِ دُونَ إِطْلاقِ الْكُفْرِ".
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نیند میں «تَفْرِيطٌ» ”کوتاہی“ نہیں ہے، «تَفْرِيطٌ» اس شخص کے لیے ہے جو اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتا جب تک دوسری نماز کا وقت نہیں آ جاتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لفظ «تَفْرِيطٌ» اس شخص کے لیے استعمال کیا ہے، جو نماز کو ادا نہیں کرتا یہاں تک کہ اگلی نماز کا وقت ہو جاتا ہے، تو یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ ایسا کرنے والا شخص کافر نہیں ہو گا؛ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کے لیے کفر کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے تاخیر یا کوتاہی کا لفظ استعمال نہ کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 595، 7471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 681، وابن الجارود فى "المنتقى"، 171، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 409، 410، 989، 990، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1460، 1579، 2649، 5338، 6901، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 614، وأبو داود فى (سننه) برقم: 437، والترمذي فى (جامعه) برقم: 177، 1894، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2181، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 698، 3434، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22982» «رقم طبعة با وزير 1458»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 294)، «صحيح أبي داود» (465). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، عبد الله: هو ابن المبارك.
15. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر سابع يدل على أن تارك الصلاة من غير نسيان ولا نوم حتى يخرج وقتها لا يكفر بذلك كفرا يكون ضد الإسلام
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - ساتویں خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بغیر بھولنے یا سونے کے، نماز کو اس کے وقت کے نکلنے تک ترک کرنے والا اس سے کفر نہیں کرتا جو اسلام کے مخالف ہو
حدیث نمبر: 1461
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسْنَا، فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا، وَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ إِلَى وَضُوئِهِ دَهِشًا، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّئُوا، ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ، ثُمَّ صَلُّوا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ فَصَلَّى الْفَجْرَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَّطْنَا، أَفَلا نُعِيدُهَا لِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ: " يَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ عَنِ الرِّبَا، وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ؟ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہم نے پڑاؤ کر لیا، ہماری آنکھ لگ گئی، ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا، ہر شخص خوف زدہ ہو کر وضو کے لیے اٹھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہدایت کی، انہوں نے وضو کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر ان لوگوں نے فجر کی دو رکعات ادا کیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم سے کوتاہی ہوئی ہے، کیا ہم اس نماز کو کل اس کے وقت میں دوبارہ ادا نہ کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا پروردگار تمہیں سود سے منع کرتا ہے، تو کیا وہ خود تم سے اسے قبول کر لے گا؟ کوتاہی جاگنے کے عالم میں ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1461]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 682، وابن الجارود فى "المنتقى"، 136، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1301، 1302، 1461، 2650، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1021، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 320، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 306، وأبو داود فى (سننه) برقم: 443، والدارقطني فى (سننه) برقم: 771، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20189» «رقم طبعة با وزير 1459»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (470): ق دون الركعتين. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، رجاله رجال الصحيح إلا أن فيه عنعنة الحسن
16. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر ثامن ينفي الريب عن الخلد بأن تارك الصلاة متعمدا من غير نسيان ولا نوم ولا وجود عذر حتى يخرج وقتها لا يكون كافرا
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - آٹھویں خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بغیر بھولنے، سونے یا عذر کے، جان بوجھ کر نماز کو اس کے وقت کے نکلنے تک ترک کرنے والا کافر نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 1462
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى فِيهِمْ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنْهُمُ الأَحْزَابُ:" أَلا لا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ"، فَأَبْطَأَ نَاسٌ، فَتَخَوَّفُوا فَوْتَ وَقْتِ الصَّلاةِ فَصَلُّوا، وَقَالَ آخَرُونَ: لا نُصَلِّي إِلا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ فَاتَ الْوَقْتُ، فَمَا عَنَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَوْ كَانَ تَأْخِيرُ الْمَرْءِ لِلصَّلاةِ عَنْ وَقْتِهَا إِلَى أَنْ يَدْخُلَ وَقْتُ الصَّلاةِ الأُخْرَى يَلْزَمُهُ بِذَلِكَ اسْمُ الْكُفْرِ، لَمْا أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِالشَّيْءِ الَّذِي يَكْفُرُونَ بِفِعْلِهِ، وَلَعَنَّفَ فَاعِلَ ذَلِكَ، فَلَمْا لَمْ يُعَنِّفْ فَاعِلَهُ دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَكْفُرْ كُفْرًا يُشْبِهُ الارْتِدَادِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (غزوہ احزاب کے موقع پر جب دشمن) کے لشکر واپس چلے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں حکم دیا: ”خبردار! کوئی بھی شخص ظہر کی نماز بنو قریظہ (کے علاقے) میں پہنچنے سے پہلے ہرگز ادا نہ کرے۔“ کچھ لوگوں کو جانے میں تاخیر ہو گئی، انہیں نماز کا وقت فوت ہو جانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے نماز ادا کر لی، دوسرے لوگوں نے یہ کہا: ہم اسی طرح نماز ادا کریں گے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، اگرچہ نماز کا وقت رخصت ہو جائے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں میں سے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (آدمی کا نماز میں اتنی تاخیر کر دینا کہ اگلی نماز کا وقت شروع ہو جائے۔ اگر ایسا کرنے کے نتیجے میں اس پر کفر کا اطلاق لازم ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو کسی ایسی چیز کی تعلیم نہ دیتے جس کو کرنے کی وجہ سے وہ لوگ کافر ہو جاتے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مرتکب شخص پر شدید انکار کا اظہار کرتے۔ آپ کا اس پر شدید انکار کا اظہار نہ کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسا شخص اس طرح سے کافر نہیں ہوتا جو مرتد ہونے سے مشابہت رکھتا ہے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 946، 4119، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1770، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1462، 4719، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20429» «رقم طبعة با وزير 1460»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فقه السيرة» (311): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري.
17. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد للأخبار التي تقدم ذكرنا لها
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ اخبار کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1463
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرٍو ، بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَكِّرُوا بِالصَّلاةِ فِي يَوْمِ الْغَيْمِ، فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلاةَ فَقَدْ كَفَرَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَطْلَقَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْكُفْرِ عَلَى تَارِكِ الصَّلاةِ، إِذْ تَرْكُ الصَّلاةِ أَوَّلُ بِدَايَةِ الْكُفْرِ، لأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا تَرَكَ الصَّلاةَ وَاعْتَادَهُ ارْتَقَى مِنْهُ إِلَى تَرْكِ غَيْرِهَا مِنَ الْفَرَائِضِ، وَإِذَا اعْتَادَ تَرْكَ الْفَرَائِضِ أَدَّاهُ ذَلِكَ إِلَى الْجَحْدِ، فَأَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ النِّهَايَةِ الَّتِي هِيَ آخِرُ شُعَبِ الْكُفْرِ عَلَى الْبِدَايَةِ الَّتِي هِيَ أَوَّلُ شُعَبِهَا وَهِيَ تَرْكُ الصَّلاةِ.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بادل والے (یعنی ابر آلود) دن میں نماز کو جلدی ادا کر لیا کرو، کیونکہ جو شخص نماز کو ترک کر دے اس نے کفر کیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو ترک کرنے والے پر کفر کا اطلاق کیا ہے کیونکہ نماز کو ترک کرنا کفر کے آغاز کا ابتدائی حصہ ہے کیونکہ جب کوئی شخص نماز کو ترک کرتا ہے اور اس کی عادت بنا لیتا ہے، تو وہ دیگر فرائض کو ترک کرنے کے راستے پر چل پڑتا ہے اور جب وہ فرائض ترک کرنے کی عادت بنا لیتا ہے، تو یہ چیز اسے انکار کی طرف لے جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختتامی نام کو جو کفر کے شعبوں میں سے آخری حصہ ہے اسے ابتدا کے لیے استعمال کیا ہے، جو اس کا پہلا شعبہ ہے اور وہ نماز کو ترک کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1463]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 553، 594، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 336، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1463، 1470، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 473، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 363، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 694، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23423» «رقم طبعة با وزير 1461»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح؛ دون جملة التبكير؛ فهي موقوفة - «الإرواء» (1/ 276 / 255)، «التعليق الرغيب» (1/ 169). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، إسحاق بن إبراهيم: قال أبو حاتم: شيخ لا بأس به، ولكنهم يحسدونه، سمعت يحيى بن معين أثنى عليه خيراً، وقال مسلمة: ثقة، وقال النسائي: ليس بثقة إذا روى عن عمرو بن الحارث، وسئل عنه أبو داود، فقال: ليس بشيء، ونقل تكذيبه عن ابن عوف، وباقي السند رجاله رجال الصحيح، وعم أبي قلابة: هو أبو المهلب الجرمي: ثقة من رجال مسلم.
18. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر تاسع يدل على صحة ما ذكرنا أن العرب تطلق اسم المتوقع من الشيء في النهاية على البداية
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - نویں خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عرب شروع میں اس چیز پر متوقع نتیجے کا نام رکھ دیتے ہیں
حدیث نمبر: 1464
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: إِذَا مَارَى الْمَرْءُ فِي الْقُرْآنِ أَدَّاهُ ذَلِكَ إِنْ لَمْ يَعْصِمْهُ اللَّهُ إِلَى أَنْ يَرْتَابَ فِي الآيِ الْمُتَشَابِهِ مِنْهُ، وَإِذَا ارْتَابَ فِي بَعْضِهِ أَدَّاهُ ذَلِكَ إِلَى الْجَحْدِ، فَأَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْكُفْرِ الَّذِي هُوَ الْجَحْدُ عَلَى بِدَايَةِ سَبَبِهِ الَّذِي هُوَ الْمِرَاءُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قرآن کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنا کفر ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب کوئی شخص قرآن کے بارے میں بحث کرنا شروع کرتا ہے، تو یہ چیز اسے اس چیز کی طرف لے جاتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے، تو وہ شخص متشابہ آیات کے بارے میں شکوک کا شکار ہو جاتا ہے اور جب وہ قرآن کے بعض حصے کے بارے میں شک کا شکار ہوتا ہے تو یہ چیز انکار کی طرف لے جاتی ہے، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر، جو درحقیقت انکار ہے، اس کا اطلاق اس کے سبب کے آغاز پر کیا ہے اور وہ (قرآن کے بارے میں) بحث کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1464]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 74، 743، 1464، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2900، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8039، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4603، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7624» «رقم طبعة با وزير 1462»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «المشكاة» (236)، «الروض» (1124 و 1125). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، رجاله رجال الشيخين غير محمد بن عمرو بن علقمة بن وقاص الليثي، فقد أخرج له البخاري مقروناً، ومسلم متابعة، وفيه كلام ينزله عن رتبة الصحيح، محمد بن عبيد: هو الطنافسي.
19. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر عاشر يدل على صحة ما تأولنا لهذه الأخبار بأن القصد فيها إطلاق الاسم على بداية ما يتوقع نهايته قبل بلوغ النهاية فيه
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - دسویں خبر کا ذکر جو ہمارے اس تأویل کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان خبروں میں مقصد اس چیز کی ابتدا پر نام کا اطلاق ہے جو اس کے متوقع نتیجے سے پہلے ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1465
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ ، بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ الْحَسْحَاسِ الْمُزَنِيَّةُ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ فِي بَيْتِ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلاثٌ مِنَ الْكُفْرِ بِاللَّهِ: شَقُّ الْجَيْبِ، وَالنِّيَاحَةُ، وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھے، انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”تین چیزیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کے مترادف ہیں: (نوحہ کرتے ہوئے) گریبان کو پھاڑنا، نوحہ کرنا اور کسی کے نسب پر طعن کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1465]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 67، وابن الجارود فى "المنتقى"، 564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1465، 3141، 3142، 3161، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1419، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1001، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7211، 21214، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7675» «رقم طبعة با وزير 1463»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» تحت الحديث (1801). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، كريمة بنت الحَسْحَاس: ذكرها المؤلف في «الثقات» 5/ 344، وعلق البخاري في «صحيحه» 13/ 499، الحديث القدسي «أنا مع عبدي إذا ذكرني وتحركت به شفتاه» من روايتها عن أبي هريرة بصيغة الجزم، وكانت من صواحب أبي الدرداء، وباقي السند على شرط الصحيح.