صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
40. باب مواقيت الصلاة - ذكر البيان بأن المدرك ركعة من الصلاة عليه إتمام الباقي من صلاته دون أن يكون مدركا لكلية صلاته بإدراك بعضها
نماز کے اوقات کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جو شخص ایک رکعت پالے اسے اپنی نماز کا باقی حصہ پورا کرنا لازم ہے، نہ کہ اس کے کچھ پالینے سے پوری نماز پا لی
حدیث نمبر: 1486
أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ ، بِبَيْرُوتَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا غُصْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَمَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلاةِ رَكْعَةٍ فَقَدْ أَدْرَكَهَا وَلْيُتِمَّ مَا بَقِيَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز کی ایک رکعت پا لے، اس نے اسے پا لیا، وہ باقی رہ جانے والی نماز کو مکمل کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1486]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 556، 580، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 607، مالك فى (الموطأ) برقم: 20، وابن الجارود فى "المنتقى"، 170، 353، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1595، 1848، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1483، 1485، 1486، 1487، 1586، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1081، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 700 م، 1121، 1122، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1313، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7404، والحميدي فى (مسنده) برقم: 976» «رقم طبعة با وزير 1484»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق، وليس عند (م): «وليتم ما بقي». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط غصن بن إسماعيل: ذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 4، وقال: ربما خالف، وابن ثوبان: هو عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان العنسي، مختلف فيه، وفي «التقريب»: صدوق يخطئ، وتغير بأخرة، وباقي السند رجاله ثقات. وانظر (1483) و (1484).
41. باب مواقيت الصلاة - ذكر الخبر الدال على أن الطرق المروية في خبر الزهري من أدرك من الجمعة ركعة كلها معللة ليس يصح منها شيء
نماز کے اوقات کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زہری کی خبر میں جمعہ کی ایک رکعت پالینے کے تمام طریق معیوب ہیں، ان میں سے کوئی صحیح نہیں
حدیث نمبر: 1487
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلاةٍ رَكْعَةً، فَقَدْ أَدْرَكَ" ، قَالُوا: مِنْ هُنَا قِيلَ: وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً صَلَّى إِلَيْهَا أُخْرَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز کی ایک رکعت کو پا لے اس نے اس (نماز کو) پا لیا۔“ لوگ یہ کہتے ہیں، اس بنیاد پر یہ بات کہی جاتی ہے، جو شخص جمعہ کی نماز کی ایک رکعت کو پا لے وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ادا کر لے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1487]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 556، 580، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 607، مالك فى (الموطأ) برقم: 20، وابن الجارود فى "المنتقى"، 170، 353، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1595، 1848، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1483، 1485، 1486، 1487، 1586، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1081، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 700 م، 1121، 1122، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1313، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7404، والحميدي فى (مسنده) برقم: 976» «رقم طبعة با وزير 1485»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو كامل الجحدري: هو فضيل بن حسين بن طلحة الجحدري.
42. باب مواقيت الصلاة - ذكر الأمر بالصلاة للنائم إذا استيقظ عند استيقاظه
نماز کے اوقات کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ سونے والے کو جب وہ جاگے تو اپنی نماز ادا کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 1488
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلا يُصَلِّي صَلاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتِي وَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ"، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا: يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ فَتَصُومُ، وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ وَلا أَصْبِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" لا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا"، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا: لا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے شوہر (سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ) کا یہ حال ہے کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں، تو وہ مجھے مارتے ہیں اور جب میں نفلی روزہ رکھتی ہوں، تو وہ میرا روزہ تڑوا دیتے ہیں اور وہ خود فجر کی نماز اس وقت تک ادا نہیں کرتے جب تک سورج نکل نہیں آتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس خاتون کے بیان کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! جہاں تک اس کا یہ کہنا ہے، جب میں نماز پڑھتی ہوں، تو یہ مجھے مارتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دو سورتوں کی تلاوت کرتی ہے، تو میں اسے اس بات سے منع کرتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر ایک سورت ہوتی، تو وہ بھی لوگوں کے لیے کفایت کر جاتی۔“ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جہاں تک اس عورت کے یہ کہنے کا تعلق ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں، تو یہ میرا روزہ تڑوا دیتے ہیں، تو یہ مسلسل روزے رکھتی رہتی ہے میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔“ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جہاں تک اس عورت کے یہ کہنے کا تعلق ہے، میں اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتا جب تک سورج نکل نہیں آتا تو ہمارے گھر میں یہ صورت حال ہے، ہم اس وقت تک بیدار نہیں ہوتے جب تک سورج نکل نہیں آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم بیدار ہو جاؤ تو نماز ادا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1488]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1488، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1600، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2459، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1760، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1762، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8591، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11938، 11980، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1037، 1174، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2044» «رقم طبعة با وزير 1486»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (395)، «صحيح أبي داود» (2122). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب، وجرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو صالح: هو ذكوان الزيات.
43. باب مواقيت الصلاة - ذكر لفظة تعلق بها من جهل صناعة الحديث وزعم أن الإسفار بالفجر أفضل من التغليس
نماز کے اوقات کا بیان - اس لفظ کا ذکر جس سے ناواقف حدیث نے یہ سمجھا کہ فجر کی نماز کو روشن کرنے سے بہتر ہے کہ اسے اندھیرے میں پڑھا جائے
حدیث نمبر: 1489
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ، فَإِنَّكُمْ كُلَمْا أَصْبَحْتُمْ بِالصُّبْحِ كَانَ أَعْظَمَ لأُجُورِكُمْ أَوْ لأَجْرِهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالإِسْفَارِ لِصَلاةِ الصُّبْحِ، لأَنَّ الْعِلَّةَ فِي هَذَا الأَمْرِ مُضْمَرَةٌ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يُغَلِّسُونَ بِصَلاةِ الصُّبْحِ، وَاللَّيَالِي الْمُقْمِرَةُ إِذَا قَصَدَ الْمَرْءُ التَّغْلِيسَ بِصَلاةِ الْفَجْرِ صَبِيحَتَهَا رُبَّمَا كَانَ أَدَاءُ صَلاتِهِ بِاللَّيْلِ، فَأَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالإِسْفَارِ بِمِقْدَارِ مَا يَتَيَقَّنُ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ طَلَعَ، وَقَالَ:" إِنَّكُمْ كُلَمْا أَصْبَحْتُمْ" يُرِيدُ بِهِ تَيَقَّنْتُمْ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، كَانَ أَعْظَمَ لأُجُورِكُمْ مِنْ أَنْ تُؤَدُّوا الصَّلاةَ بِالشَّكِّ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ صبح کے ہمراہ صبح کرو، کیونکہ تم لوگ جب بھی صبح کے ہمراہ صبح کرو گے تو یہ تمہارے اجر کے لیے زیادہ فضیلت رکھے گا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے اجر کے لیے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کو روشنی کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حکم میں علت پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب صبح اندھیرے میں ہی نماز ادا کرنا شروع کر دیتے تھے، تو چاندنی راتوں میں جب انسان صبح کی نماز صبح صادق کے وقت اندھیرے میں ادا کرنے کا ارادہ کر لے گا، تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی نماز رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے ہی) شروع ہو جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی روشنی کرنے کا حکم دیا، جس سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہو جائے کہ صبح صادق طلوع ہو چکی ہے، اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جب صبح کرو“ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تمہیں صبح صادق ہو جانے کا یقین ہو جائے، تو یہ بات تمہارے لیے زیادہ اجر کا باعث ہو گی بہ نسبت اس کے کہ تم نماز کو شک کے ہمراہ ادا کرو۔ (یعنی ابھی اس کا وقت شروع ہونے کے بارے میں تمہیں شک ہو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1489]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1489، 1490، 1491، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 547، وأبو داود فى (سننه) برقم: 424، والترمذي فى (جامعه) برقم: 154، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 672، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16061، 17530، والحميدي فى (مسنده) برقم: 413» «رقم طبعة با وزير 1487»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الإرواء» (258)، «صحيح أبي داود» (451). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، ابن عجلان: هو محمد، وثقه غير واحد، وأخرج حديثه أصحاب السنن، وروى له مسلم في المتابعات، وليس هذا الحديث مما تكلم فيه بعضهم، وقد توبع عليه، وباقي السند على شرطهما غير محمود بن لبيد، فإنه لم يخرج له البخاري، وهو صحابي صغير، جل روايته عن الصحابة.
حدیث نمبر: 1490
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1490]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1489، 1490، 1491، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 547، وأبو داود فى (سننه) برقم: 424، والترمذي فى (جامعه) برقم: 154، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 672، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16061، 17530، والحميدي فى (مسنده) برقم: 413» «رقم طبعة با وزير 1488»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، إسناده قوي لولا عنعنة ابن إسحاق.
44. باب مواقيت الصلاة - ذكر خبر أوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن الإسفار بصلاة الصبح أفضل من التغليس فيه
نماز کے اوقات کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ فجر کی نماز کو روشن کرنا اندھیرے میں پڑھنے سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 1491
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " أَسْفِرُوا بِصَلاةِ الصُّبْحِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ" ، أَوْ قَالَ:" أَعْظَمُ لأُجُورِكُمْ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقَوْلِهِ:" أَسْفِرُوا" فِي اللَّيَالِي الْمُقْمِرَةِ الَّتِي لا يَتَبَيَّنُ فِيهَا وُضُوحُ طُلُوعِ الْفَجْرِ، لِئَلا يُؤَدِّي الْمَرْءُ صَلاةَ الصُّبْحِ إِلا بَعْدَ التَّيَقُّنِ بِالإِسْفَارِ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، فَإِنَّ الصَّلاةَ إِذَا أُدِّيَتْ كَمَا وَصَفْنَا، كَانَ أَعْظَمَ لِلأَجْرِ مِنْ أَنْ تُصَلَّى عَلَى غَيْرِ يَقِينٍ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ» ”صبح کی نماز روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے۔“ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ”تمہارے اجور کو زیادہ کرنے کا باعث ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان «أَسْفِرُوا» ”تم روشنی کرو“ سے مراد چاندنی راتیں لی ہیں، جن میں صبح صادق کا طلوع ہونا واضح نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی صبح کی نماز اس وقت ادا کرے جب اسے صبح صادق طلوع ہونے کی وجہ سے روشنی ہو جانے کا یقین ہو جائے کیونکہ جب نماز اس طریقے سے ادا کی جائے گی جو ہم نے بیان کی ہے، تو یہ اس کے مقابلے میں زیادہ اجر کا باعث ہو گی کہ آدمی صبح صادق طلوع ہونے کا یقین نہ ہونے کے ہمراہ نماز ادا کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1491]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1489، 1490، 1491، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 547، وأبو داود فى (سننه) برقم: 424، والترمذي فى (جامعه) برقم: 154، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 672، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16061، 17530، والحميدي فى (مسنده) برقم: 413» «رقم طبعة با وزير 1489»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح.
45. باب مواقيت الصلاة - ذكر الوقت الذي أسفر المصطفى صلى الله عليه وسلم بصلاة الصبح فيه
نماز کے اوقات کا بیان - اس وقت کا ذکر جب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کو روشن کیا
حدیث نمبر: 1492
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ، فَقَالَ: " صَلِّ مَعَنْا هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ"، فَلَمْا زَالَتِ الشَّمْسُ، صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْفَجْرَ بِغَلَسٍ، فَلَمْا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَ بِلالا فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ مَغِيبِ الشَّفَقِ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ، فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ؟ قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَقْتُ صَلاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ" .
سلیمان بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان دو اوقات میں ہمارے ساتھ نماز ادا کرو۔“ جب سورج ڈھل گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج ابھی بلند، روشن اور چمک دار تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز سورج غروب ہو جانے کے بعد ادا کی اور عشاء کی نماز اس وقت ادا کی جب شفق غروب ہو گئی، اور فجر کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندھیرے میں ادا کر لی۔ جب اگلا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کے لیے (اقامت) ٹھنڈے وقت میں کہی اور اچھی طرح ٹھنڈے وقت میں کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عصر کے لیے اقامت اس وقت کہی جب سورج ابھی چمک دار تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو اس وقت سے ذرا تاخیر سے ادا کیا، جس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دن اسے ادا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے مغرب کے لیے اقامت شفق غروب ہونے سے کچھ پہلے کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عشاء کے لیے اقامت ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے فجر کے لیے اقامت روشنی ہو جانے کے بعد کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے، جو تم نے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1492]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 613، وابن الجارود فى "المنتقى"، 169، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 323، 324، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1492، 1525، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 518، والترمذي فى (جامعه) برقم: 152، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 667، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1033، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23421» «رقم طبعة با وزير 1490»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (424): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، سليمان بن بريدة: ثقة، روى له أبو داود، والترمذي، وابن ماجة، وباقي السند على شرطهما، إسحاق الأزرق: هو إسحاق بن يوسف بن مرداس المخزومي الواسطي، المعروف بالأزرق.
46. باب مواقيت الصلاة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم وقت صلاتكم بين ما رأيتم أراد به صلاته بالأمس واليوم
نماز کے اوقات کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "تمہاری نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا" سے مراد کل اور آج کی ان کی صلاۃ ہے
حدیث نمبر: 1493
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَغَلَّسَ بِهَا، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلاةِ الْغَدَاةِ؟ فِيمَا بَيْنَ صَلاتِي أَمْسِ وَالْيَوْمِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن) ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، آپ نے اسے اندھیرے میں ادا کیا، پھر اگلے دن آپ نے اسے روشنی میں ادا کیا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ (اس نماز کا وقت) ان دو نمازوں کے درمیان ہے، جو ہم نے گزشتہ کل اور آج ادا کی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1493، 1495، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5938» «رقم طبعة با وزير 1491»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (420). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، رجاله رجال الشيخين غير محمد بن عمرو-وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي- فقد روى له البخاري مقروناً، ومسلم متابعة، وهو حسن الحديث، سعيد بن يحيى: هو سعد بن يحيى بن أبان بن سعد بن العاص.
47. باب مواقيت الصلاة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم لم يسفر بصلاة الغداة قط إلا مرة
نماز کے اوقات کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کو کبھی روشن نہیں کیا سوائے ایک مرتبہ
حدیث نمبر: 1494
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الِمَنْبَرِ فَأَخَّرَ الصَّلاةَ شَيْئًا، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا عَلَمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلاةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، فَقَالَ عُرْوَةُ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلاةِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ"، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ، فِينْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلاةِ، فِيأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الأُفُقُ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعُ النَّاسُ، وَصَلَّى الصُّبْحُ بِغَلَسٍ، ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ كَانَتْ صَلاتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ، حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ" .
اسامہ بن زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن شہاب رحمہ اللہ نے انہیں یہ بات بتائی ہے کہ ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے نماز ادا کرنے میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کے وقت کے بارے میں خبر دی تھی؟ تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے کہا: اے عروہ! آپ دھیان کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، تو عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابومسعود رحمہ اللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جبریل نازل ہوئے، انہوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا تو میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی انگلیوں پر گنتی کر کے پانچ نمازوں کے بارے میں یہ بات بتائی۔ (سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے جب سورج ڈھل جاتا تھا اور جب گرمی شدید ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اسے تاخیر سے بھی ادا کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج ابھی بلند اور چمک دار ہوتا تھا اور اس میں زردی داخل نہیں ہوئی ہوتی تھی، اور کوئی شخص یہ نماز ادا کرنے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ تک جا سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا اور عشاء کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب افق سیاہ ہو جاتا تھا۔ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں تاخیر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ جب لوگ اکٹھے ہو جاتے (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اسے ادا کرتے تھے)۔ صبح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں ادا کر لیتے تھے، پھر بعد میں کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روشنی میں بھی ادا کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز اندھیرے میں ہی ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہ نماز روشنی میں ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 521، 3221، 4007، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 610، 611، ومالك فى (الموطأ) برقم: 5، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 352، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1448، 1449، 1450، 1494، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 697، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 493، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 668، والدارقطني فى (سننه) برقم: 986، 987، 992، 1025، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17364» «رقم طبعة با وزير 1492»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (418)، «الإرواء» (1/ 269 - 270). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي.
48. باب مواقيت الصلاة - ذكر العلة التي من أجلها أسفر صلى الله عليه وسلم بصلاة الغداة المرة الواحدة التي ذكرناها
نماز کے اوقات کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فجر کی نماز کو روشن کیا جو ہم نے ذکر کی
حدیث نمبر: 1495
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَلَّسَ بِهَا، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَ فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلاةِ الْغَدَاةِ؟ فِيمَا بَيْنَ صَلاتِي أَمْسِ وَالْيَوْمِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ آپ نے اسے اندھیرے میں ادا کیا، پھر اگلے دن آپ نے نماز پڑھائی تو اسے روشنی میں ادا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ (اس نماز کا وقت وہ ہے) جو ان دو نمازوں کے درمیان میں ہے، جو ہم نے گزشتہ کل اور آج ادا کی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1495]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1493، 1495، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5938» «رقم طبعة با وزير 1493»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر (1491). تنبيه!! رقم (1491) = (1493) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، وهو مكرر (1493).