🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
378. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن الشك في هذا الخبر في الظهر أو العصر إنما هو من أبي عوانة لا من عمران بن حصين
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس خبر میں شک کہ یہ ظہر کے بارے میں ہے یا عصر کے بارے میں، ابو عوانہ سے ہے، نہ کہ عمران بن حصین سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1846
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ، أَوِ الْعَصْرِ - شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ - فَقَالَ: " أَيُّكُمْ قَرَأَ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1؟". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا. فَقَالَ:" قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے شاید ظہر یا عصر کی نماز میں تلاوت کی، یہ شک ابوعوانہ نامی راوی کو ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم میں سے کس شخص نے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] کی تلاوت کی ہے؟“ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی: میں نے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے لیے (تلاوت میں) رکاوٹ ڈال رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1846]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 398، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1845، 1846، 1847، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 916،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 828، 829، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1240، 1509، 1510، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20129، والحميدي فى (مسنده) برقم: 857» «رقم طبعة با وزير 1843»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير خلف بن هشام البزار، فإنه من رجال مسلم، وهو مكرر ما قبله، وانظر ما بعده.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
379. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر لم يسمعه قتادة من زرارة بن أوفى
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر قتادہ نے زرارہ بن اوفیٰ سے نہیں سنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1847
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الظُّهْرَ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" أَيُّكُمُ الَّذِي قَرَأَ؟ أَوْ أَيُّكُمُ الْقَارِئُ؟". فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ:" قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، ایک شخص نے آپ کے پیچھے سورہ اعلی کی تلاوت شروع کر دی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت کیا: ”تم میں سے وہ کون شخص ہے جس نے تلاوت کی ہے؟“ یا شاید یہ فرمایا: ”تم میں سے کون تلاوت کرنے والا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کی: میں ہوں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اندازہ ہو گیا تھا تم میں سے کوئی ایک میرے لیے رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 398، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1845، 1846، 1847، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 916،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 828، 829، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1240، 1509، 1510، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20129، والحميدي فى (مسنده) برقم: 857» «رقم طبعة با وزير 1844»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، محمد: هو ابن جعفر الملقب بغندار.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
380. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم قد عرفت أن بعضكم خالجنيها أراد به رفع الصوت لا القراءة خلفه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میں نے جان لیا کہ تم میں سے بعض اس سے جھگڑتے ہیں" سے مراد بلند آواز سے قراءت ہے، نہ کہ امام کے پیچھے قراءت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1848
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" إِنِّي لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ". قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذًّا. قَالَ:" فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا" . قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلا تَفْعَلُوا"، لَفْظَةُ زَجْرٍ مُرَادُهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ، إِذِ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا إِذَا أَرَادَتِ الأَمْرَ بِالشَّيْءِ عَلَى سَبِيلِ التَّأْكِيدِ، تُقَدِّمُهُ لَفْظَةَ زَجْرٍ، ثُمَّ تُعْقِبُهُ الأَمْرَ الَّذِي تُرِيدُ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرأت کرنا دشوار ہوا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو۔“ راوی بیان کرتا ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! ہم تیزی سے تلاوت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ ایسا نہ کرو، صرف سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ ایسے شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس کی تلاوت نہیں کرتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم ایسا نہ کرو“ یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، اس سے مراد ابتدائی طور پر ازسرنو کوئی حکم دینا ہے، کیونکہ عرب اپنے محاورے میں جب تاکید کے طور پر کسی چیز کا حکم دینے کا ارادہ کرتے ہیں، تو پہلے ممانعت کے الفاظ ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ حکم ہوتا ہے جو وہ مراد لیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 756، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1782، 1785، 1786، 1792، 1793، 1848، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 876، وأبو داود فى (سننه) برقم: 822، 823، 824، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 247، 311، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1278، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 837، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1213، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23111، والحميدي فى (مسنده) برقم: 390» «رقم طبعة با وزير 1845»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - تقدم سندا ومتنا (1782). تنبيه!! رقم (1782) = (1785) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
381. باب صفة الصلاة - ذكر كراهية رفع الصوت للمأموم بالقراءة لئلا ينازع الإمام ما يقرؤه
نماز کے طریقہ کا بیان - مأموم کے لیے قراءت بلند آواز سے کرنے کی ناپسندیدگی کا ذکر تاکہ وہ امام کی پڑھی ہوئی چیز سے نہ جھگڑے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1849
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، انْصَرَفَ مِنْ صَلاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ:" هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا؟". فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ، أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اسْمُ ابْنِ أُكَيْمَةَ: عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ، وَهُمَا أَخَوَانِ: عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ، فَأَمَّا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ، فَهُوَ تَابِعِيٌّ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَسَمِعَ مِنْهُ الزُّهْرِيُّ. وَأَمَّا عُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ، فَهُوَ مِنْ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَرَوَى عَنْهُ مَالِكٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُمَا ثِقَتَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے جس میں آپ نے بلند آواز میں قرأت کی تھی، پھر آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابھی تلاوت کی ہے؟“ ایک شخص نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ! میں نے کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) کے حوالے سے مجھ سے مقابلہ کیا جا رہا ہے؟“ پھر لوگ ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے، یہ اس وقت ہوا جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن اکیمہ کا نام عمرو بن مسلم بن عمار بن اکیمہ ہے، یہ دو بھائی ہیں: عمرو بن مسلم اور عمر بن مسلم؛ جہاں تک عمرو بن مسلم کا تعلق ہے تو وہ تابعی ہیں، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے اور زہری نے ان سے سماع کیا ہے، جہاں تک عمر بن مسلم کا تعلق ہے تو وہ تبع تابعی ہیں، انہوں نے سعید بن مسیب سے سماع کیا ہے اور ان سے امام مالک اور محمد بن عمرو نے روایات نقل کی ہیں، یہ دونوں ”ثقہ“ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1849]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 286، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1843، 1849، 1850، 1851، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 918، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 993، وأبو داود فى (سننه) برقم: 826، 1/306، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 312، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 848، 849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1265، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7390، والحميدي فى (مسنده) برقم: 983» «رقم طبعة با وزير 1846»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»، «صحيح أبي داود» (781). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط رجاله رجال الشيخين غير ابن أكيمة، وهو ثقة كما مر في تخريج (1843).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
382. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن القوم كانوا يقرءون خلف النبي صلى الله عليه وسلم مع الصوت
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آواز کے ساتھ قراءت کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1850
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ يُونُسَ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، شَيْخٌ بِكُفْرِتُوثَا، مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّسْعَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً، فَجَهَرَ فِيهَا فَقَرَأَ أُنَاسٌ مَعَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ:" قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟". قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" إِنِّي لأَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟". قَالَ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ، فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، اس میں بلند آواز میں قراءت فرمائی۔ کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں تلاوت کی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی ایک نے ابھی تلاوت کی ہے؟“ تو لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں، یا رسول اللہ!“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، (قرآن کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور (اس کے بعد لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں) تلاوت نہیں کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1850]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 286، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1843، 1849، 1850، 1851، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 918، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 993، وأبو داود فى (سننه) برقم: 826، 1/306، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 312، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 848، 849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1265، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7390، والحميدي فى (مسنده) برقم: 983» «رقم طبعة با وزير 1847»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسحاق بن زريق: ذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 121، ومن فوقه من رجال الشيخين إلا أن الأوزاعي وهم في إسناده حين قال: عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، وإنما هو عن الزهري، سمع ابن أكيمة يحدث عن سعيد بن المسيب قال: سمعت أبا هريرة يقول: صلى بنا رسول صلى الله عليه وسلم صلاة نظن أنها الصبح ... فذكر الحديث إلى قوله: «ما لي أنازع القرآن».
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
383. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن هذا الكلام الأخير فانتهى الناس عن القراءة واتعظ المسلمون بذلك إنما هو قول الزهري لا من كلام أبي هريرة
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ آخری کلام کہ لوگوں نے قراءت ترک کر دی اور مسلمانوں نے اس سے عبرت حاصل کی، یہ زہری کا قول ہے نہ کہ ابو ہریرہ کا کلام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1851
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنا الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا؟". قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" . قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَانْتَهَى الْمُسْلِمُونَ، فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَهُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ مَشْهُورٌ لِلزُّهْرِيِّ مِنْ رِوَايَةِ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَهِمَ فِيهِ الأَوْزَاعِيُّ - إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ - فَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَعَلِمَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ وَهِمَ، فَقَالَ: عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ سَعِيدًا. وَأَمَّا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ، أَرَادَ بِهِ رَفْعَ الصَّوْتِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اتِّبَاعًا مِنْهُمْ لِزَجْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ وَالإِمَامُ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي قَوْلِهِ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں قرأت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دریافت فرمایا: ”کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ تلاوت کی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔“ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مسلمان اس سے باز آ گئے اور وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں تلاوت نہیں کیا کرتے تھے۔ امام ابو حاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ روایت زہری سے منقول ہونے کے حوالے سے مشہور ہے جو ان کے اصحاب نے ابن اکیمہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، اس میں امام اوزاعی رحمہ اللہ کو وہم ہوا ہے کیونکہ گھوڑا بھی ٹھوکر کھا جاتا ہے، انہوں نے یہ کہا: یہ زہری کے حوالے سے سعید بن مسیب سے منقول ہے، ولید بن مسلم یہ بات جانتے تھے کہ انہیں وہم ہوا ہے، اس لیے انہوں نے یہ کہا: یہ اس شخص کے حوالے سے منقول ہے جس نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسے سنا ہے، انہوں نے سعید کا تذکرہ نہیں کیا، جہاں تک زہری کے اس قول کا تعلق ہے کہ ”لوگ قرأت کرنے سے باز آ گئے“ تو اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کی پیروی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بلند آواز میں تلاوت نہیں کی، جب امام بلند آواز میں قرأت کر رہا ہو، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ہے: ”کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ تنازع کیا جا رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1851]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 286، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1843، 1849، 1850، 1851، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 918، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 993، وأبو داود فى (سننه) برقم: 826، 1/306، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 312، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 848، 849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1265، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7390، والحميدي فى (مسنده) برقم: 983» «رقم طبعة با وزير 1848»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات، لكن فيه الوهم الذي سيبينه المؤلف بإثره.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
384. باب صفة الصلاة - ذكر خبر ينفي الريب عن الخلد بأن قوله صلى الله عليه وسلم ما لي أنازع القرآن؟ أراد به رفع الصوت لا القراءة خلفه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس شبہ کو دور کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میں قرآن سے کیوں جھگڑا کروں؟" سے مراد آواز بلند کرنا ہے، نہ کہ ان کے پیچھے قراءت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1852
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَرَحُ بْنُ رَوَاحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَتَقْرَءُونَ فِي صَلاتِكُمْ خَلْفَ الإِمَامِ، وَالإِمَامُ يَقْرَأُ؟". فَسَكَتُوا، قَالَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ قَائِلٌ، أَوْ قَائِلُونَ: إِنَّا لَنَفْعَلُ. قَالَ:" فَلا تَفْعَلُوا، وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو قِلابَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور دریافت فرمایا: ”کیا تم لوگ اپنی نماز میں امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو جبکہ امام قرأت کر رہا ہو؟“ تو لوگ خاموش رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو ایک صاحب نے (یا شاید لوگوں نے) عرض کی: جی ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، تم میں سے ہر شخص دل میں سورۃ فاتحہ پڑھ لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوقلابہ نے یہ روایت محمد بن ابوعائشہ سے سنی ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے منقول ہے، انہوں نے یہ روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو یہ دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1852]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1844، 1852،والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2968، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1287، 1288، 1289، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18355» «رقم طبعة با وزير 1849»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف بهذا السياق - «ضعيف الموارد» (37/ 458 - 459). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط في «ثقات المؤلف» 9/ 13: فرج بن رواحة المنبجي: يروى عن زهير بن معاوية، حدثنا عنه عمر بن سعيد بن سنان بمنبج، مستقيم الحديث جدا، مات سنة إحدى وثلاثين ومائتين أو قبلها أو بعدها بقليل، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
385. باب صفة الصلاة - ذكر خبر فيه كالدليل على إيجاب القراءة التي وصفناها على من ذكرنا نعتهم قبل
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے بیان کردہ قراءت کا وجوب ان لوگوں پر ہے جن کا ذکر ہم نے پہلے کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1853
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " فِي كُلِّ صَلاةٍ قِرَاءَةٌ"، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس میں ہمیں سنا دیتے تھے ہم تمہیں سنا دیتے ہیں اور جس میں آپ ہم سے پوشیدہ رکھتے تھے ہم تم سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1853]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 772، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 396، وابن الجارود فى "المنتقى"، 207، 210، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 547، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1781، 1791، 1853، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 879، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 968، وأبو داود فى (سننه) برقم: 797، 819، 820، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7619، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1020» «رقم طبعة با وزير 1850»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - تقدم (1778). تنبيه!! رقم (1778) = (1781) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين غير عبد الجبار بن العلاء، فإنه من رجال مسلم، وقد تحرف في «الإحسان» إلى: «محمد بن عبد الجبار بن العلاء»، وجاء على الصواب في التقاسيم 1/ لوحة 370.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
386. باب صفة الصلاة - ذكر الإباحة للمرء أن يطول الركعة الأولى من صلاته رجاء لحوق الناس صلاته إذا كان إماما
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کی پہلی رکعت کو لمبا کر سکتا ہے تاکہ لوگ اس کی نماز میں شامل ہو سکیں اگر وہ امام ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1854
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لَكَ فِي ذَلِكَ خَيْرٌ، كَانَتِ الصَّلاةُ تُقَامُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَخْرُجُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ لِيَقْضُيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَجِيءُ، فَيَتَوَضَّأُ، فَيَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ" .
قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس میں تمہارے لیے بھلائی نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کی اقامت کہہ دی جاتی تھی، پھر ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کرنے کے لیے بقیع (کے میدان) کی طرف چلا جاتا تھا، پھر وہ واپس آتا، وضو کر لیتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز کی پہلی رکعت ہی میں پا لیتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1854]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 454، 454، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1854، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 972، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1047، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 825، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2531، 4094، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11480» «رقم طبعة با وزير 1851»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
387. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا خبر أبي سعيد الذي ذكرناه قبل
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ ابو سعید کی خبر کی صحت کی تأویل کو درست ثابت کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1855
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ فِي أَوَّلِ الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْفَجْرِ وَالظُّهْرِ" . وَقَالَ: كُنَّا نَرَى أَنَّهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لِيَتَدَارَكَ النَّاسُ.
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور ظہر کی پہلی دو رکعتیں طویل ادا کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ لوگ (باجماعت نماز میں) شریک ہو جائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1855]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 759، 762، 776، 778، 779، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 451، وابن الجارود فى "المنتقى"، 208، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 503، 504، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1829، 1831، 1855، 1857، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 973، وأبو داود فى (سننه) برقم: 798، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 819، 829، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2499، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19728» «رقم طبعة با وزير 1852»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»، «صحيح أبي داود» (763). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، أبو خالد الأحمر -واسمه سليمان بن حيان- وهو وإن روى له البخاري متابعة، واحتج به مسلم، يغلط ويخطئ، لكنه لم ينفرد به، وباقي رجاله ثقات من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں