🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
388. باب صفة الصلاة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر أبي سعيد الذي ذكرناه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ ابو سعید کی خبر کے مخالف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1856
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ ، بِمَكَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلاةً فِي تَمَامٍ" . يُرِيدُ أَخَفَّ النَّاسِ صَلاةً فِيمَا اعْتَادَهَا النَّاسُ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، عَلَى حَسْبِ عَادَةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ. وَأَمَّا خَبَرُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: فَيَخْرُجُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَجِيءُ فَيَتَوَضَّأُ، فَيَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، إِنَّمَا كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَلاحَقَ النَّاسُ فَيَشْهَدُوا الصَّلاةَ، وَلا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، إِنَّمَا كَانَ يَفْعَلُهُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى فَقَطْ، وَفِيهِ كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُدْرِكَ لِلرُّكُوعِ مُدْرِكٌ لِلتَّكْبِيرَةِ الأُولَى.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکمل لیکن سب سے زیادہ مختصر نماز ادا کرتے تھے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانے میں لوگوں کی عام عادت کے حوالے سے مختصر نماز ادا کرتے تھے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عام عادت کے مطابق ہوتی تھی۔ جہاں تک سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے وہ کہتے ہیں: ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کے لیے بقیع کی طرف چلا جاتا اور پھر وہ آ کر وضو کرتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں پا لیتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ لوگ بھی آ کر نماز میں شامل ہو جائیں، آپ ہر رکعت میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ آپ صرف پہلی رکعت میں ایسا کرتے تھے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے، رکوع کو پانے والا تکبیرِ اولیٰ کو پانے والا شمار ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1856]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 469، 473، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1604، 1717، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1759، 1856، 2138، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 789، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 823، وأبو داود فى (سننه) برقم: 853، والترمذي فى (جامعه) برقم: 237، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12148» «رقم طبعة با وزير 1853»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (799): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، علي بن زياد اللَّحْجِي: ترجم له المؤلف في «الثقات» 8/ 470، فقال: من أهل اليمن سمع ابن عيينة، وكان راويا لأبي قُرَّة، حدثنا عنه المفضل بن محمد الجندي، مستقيم الحديث، مات يوم عرفة سنة ثمان وأربعين ومئتين، ومن فوقه ثقات، واللَّحْجي: نسبة إلى لحج، من قرى اليمن، وهي تقع شمال غرب عدن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
389. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر المبين أن تطويل المصطفى صلى الله عليه وسلم للصلاة التي في خبر أبي سعيد الخدري
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتا ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سعید خدری کی خبر میں بیان کردہ نماز کو لمبا کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1857
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَيُطِيلُ فِي الأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ" .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے ہوئے پہلی دو رکعتوں میں تلاوت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت کو طویل ادا کرتے تھے اور دوسری کو (نسبتاً) مختصر ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1857]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 759، 762، 776، 778، 779، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 451، وابن الجارود فى "المنتقى"، 208، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 503، 504، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1829، 1831، 1855، 1857، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 973، وأبو داود فى (سننه) برقم: 798، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 819، 829، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2499، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19728» «رقم طبعة با وزير 1854»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
390. باب صفة الصلاة - ذكر خبر قد يوهم بعض المستمعين أنه مضاد لخبر أبي قتادة الذي ذكرناه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض سننے والوں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ ابو قتادہ کی خبر کے مخالف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1858
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَدْرَ ثَلاثِينَ آيَةً، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُ أَبِي سَعِيدٍ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَدْرَ ثَلاثِينَ آيَةً، يُضَادُّ فِي الظَّاهِرِ قَوْلَ أَبِي قَتَادَةَ: وَيُطِيلُ فِي الأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَلَيْسَ بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ كَذَلِكَ، لأَنَّ الرَّكْعَةَ الأُولَى كَانَ يَقْرَأُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ثَلاثِينَ آيَةً بِالتَّرْسِيلِ، وَالتَّرْتِيلِ، وَالتَّرْجِيعِ، وَالرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مِثْلَ قِرَاءَتِهِ فِي الأُولَى، بِلا تَرْسِيلٍ وَلا تَرْجِيعٍ، فَتَكُونُ الْقِرَاءَتَانِ وَاحِدَةٌ، وَالأُولَى أَطْوَلُ مِنَ الثَّانِيَةِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہر اور عصر کی نماز میں قیام کا اندازہ لگاتے تھے، تو ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ ظہر کی نماز کی پہلی دو رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام 30 آیات کی تلاوت جتنا ہوتا تھا اور آخری دو رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں ہم نے اندازہ لگایا کہ وہ اس سے نصف ہوتا تھا، اور عصر کی نماز کی پہلی دو رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعات جتنا ہوتا تھا اور عصر کی نماز کی آخری دو رکعات کے بارے میں ہم نے اندازہ لگایا کہ وہ اس سے نصف ہوتا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ہم نے اندازہ لگایا، پہلی دو رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام تیس آیات کی تلاوت جتنا ہوتا تھا، یہ روایت بظاہر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کے برخلاف ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے اور دوسری رکعت مختصر ادا کرتے تھے، حالانکہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ پہلی رکعت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیس آیات ٹھہر ٹھہر کر ترتیل اور ترجیع کے ہمراہ پڑھتے تھے اور دوسری رکعت میں اتنی ہی آیات ترتیل اور ترجیع کے بغیر پڑھتے تھے، تو قرأت ایک جتنی ہوتی تھی لیکن پہلی رکعت دوسری سے طویل ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1858]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 452، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 349، 350، وأبو داود فى (سننه) برقم: 804، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 509، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1825، 1828، 1858، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 474، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 828، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1278، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11142» «رقم طبعة با وزير 1855»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط هو مكرر (1828).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
391. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1859
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، إِذْ جَاءَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يَشْكُونَ سَعْدًا ، حَتَّى قَالُوا لَهُ: إِنَّهُ لا يُحْسِنُ الصَّلاةَ، فَقَالَ: عَهْدِي بِهِ وَهُوَ حَسَنُ الصَّلاةِ. فَدَعَاهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" أَمَّا صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ صَلَّيْتُ بِهِمْ، أَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ" . فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ. فَبَعَثَ مَعَهُ مَنْ يَسْأَلُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ، فَطِيفَ بِهِ فِي مَسَاجِدِ الْكُوفَةِ، فَلَمْ يُقَلْ لَهُ إِلا خَيْرٌ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَسْجِدِ بَنِي عَبْسٍ، فَإِذَا رَجُلٌ يُدْعَى أَبَا سَعْدَةَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لا يَنْفِرُ فِي السَّرِيَّةِ، وَلا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ، وَلا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ. قَالَ: فَغَضِبَ سَعْدٌ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَاذِبًا فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَشَدِّدْ فَقْرَهُ، وَاعْرِضْ عَلَيْهِ الْفِتَنَ. قَالَ: فَزَعَمَ ابْنُ عُمَيْرٍ أَنَّهُ رَآهُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ، قَدِ افْتَقَرَ، وَافْتُتِنَ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، يُسْأَلُ كَيْفَ أَنْتَ أَبَا سَعْدَةَ؟ فَيَقُولُ: شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونٌ، أُجِيبَتْ فِيَّ دَعْوَةُ سَعْدٍ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران اہل کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی، یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ کچھ عرصہ پہلے تک تو وہ بہت عمدہ نماز ادا کیا کرتے تھے، انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو اس بارے میں بتایا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تعلق ہے، میں ان لوگوں کو وہ نماز (یعنی اس طریقے کے مطابق نماز) پڑھاتا ہوں، میں پہلی دو رکعتیں طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات نسبتاً مختصر ادا کرتا ہوں،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابواسحاق! آپ کے بارے میں میرا یہی گمان تھا،“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہمراہ ایک ایسے شخص کو بھیجا جو ان کے بارے میں کوفہ میں دریافت کرے، اس نے کوفہ کی تمام مساجد کا چکر لگایا اور ہر شخص نے ان کے بارے میں بھلائی کی بات کہی، یہاں تک کہ جب وہ بنو عبس کی مسجد کے قریب پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جس کا نام ابوسعدہ تھا، وہ بولا: اللہ جانتا ہے کہ یہ کسی جنگی مہم کے لیے نہیں نکلتے اور (مالِ غنیمت کو) برابری کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتے اور فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام نہیں لیتے، راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے: «اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا، فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَأَطِلْ فَقْرَهُ، وَعَرِّضْهُ لِلْفِتَنِ» ”اے اللہ! اگر یہ شخص جھوٹا ہے، تو اس کی عمر کو لمبا کر دے اور اس کی غربت کو شدید کر دے اور اس پر آزمائش ڈال دے،“ راوی کہتے ہیں کہ عمیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، انہوں نے اس شخص کو دیکھا کہ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی بھنویں اس کی آنکھوں پر آ رہی تھیں، وہ انتہائی غریب تھا اور آزمائش میں مبتلا ہو گیا تھا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملتی تھی، اس سے دریافت کیا گیا: اے ابوسعدہ! تمہارا کیا حال ہے؟ تو وہ کہتا تھا: ایک عمر رسیدہ بوڑھا شخص جو آزمائش کا شکار ہے، میرے بارے میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا قبول ہو گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 755، 770، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 453، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 508، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1859، 1937، 2140، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1001، وأبو داود فى (سننه) برقم: 803، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2523، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1529» «رقم طبعة با وزير 1856»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (765): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
392. باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمصلي رفع اليدين عند إرادته الركوع وعند رفع رأسه منه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ رکوع کے ارادے اور اس سے سر اٹھانے پر ہاتھ اٹھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1860
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ ، أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حِينَ قَامَ، فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، وَالرُّسْغِ، وَالسَّاعِدِ، ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ رَكَعَ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ، فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ، وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا" ، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَتَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَابِ.
سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ میں ضرور اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے ہیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کانوں کے برابر لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دستِ مبارک اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، گٹے اور کلائی پر رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا ہی بلند کیا (جتنا آغاز میں کیا تھا)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اتنا ہی دونوں ہاتھوں کو بلند کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں کانوں کے مقابل رکھی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں زانو کو بچھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو اور دائیں گھٹنے پر رکھا اور اپنی دائیں کہنی کو دائیں زانو پر رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ان کے ذریعے حلقہ بنایا اور پھر ایک انگلی کو بلند کیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حرکت دیتے ہوئے اس کے ہمراہ دعا مانگ رہے تھے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سردیوں کے موسم میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ لوگوں نے سردیوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور وہ کپڑوں کے اندر ہی اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہے ہیں (یعنی چادروں کے اندر ہی رفع یدین کر رہے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1860]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 457، 477، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1805، 1860، 1862، 1920، 1945، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 819، وأبو داود فى (سننه) برقم: 723، 725، والترمذي فى (جامعه) برقم: 248، 249، 292،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 810، 854،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19143» «رقم طبعة با وزير 1857»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (717). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي رجاله رجال الصحيح، غير كليب بن شهاب، وهو صدوق روى له الأربعة، لكن جملة «فرأيته يحركها» شاذة، انفرد بها زائدة بن قدامة، دون من رواه من الثقات، وهم جمع يزيد عل العشرة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1861
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. وَكَانَ لا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو انہیں اس طرح سے بلند کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی“ «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں (یعنی دو سجدوں کے درمیان) ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 735، 736، 738، 739، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 390، ومالك فى (الموطأ) برقم: 245، وابن الجارود فى "المنتقى"، 196، 197، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 456،، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1861، 1864، 1868، 1877، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 875، وأبو داود فى (سننه) برقم: 721، 722، 741، 742، والترمذي فى (جامعه) برقم: 255، 256، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 858، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2338، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1110، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4628، والحميدي فى (مسنده) برقم: 626» «رقم طبعة با وزير 1858»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (712): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
393. باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمصلي إخراج اليدين من كميه عند رفعه إياهما في الموضع الذي وصفناه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہمارے بیان کردہ مقام پر ہاتھ اٹھاتے وقت اپنے ہاتھوں کو آستینوں سے باہر نکالے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1862
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ غُلامًا لا أَعْقِلُ صَلاةَ أَبِي، فَحَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَكَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّفِّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، ثُمَّ الْتَحَفَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، أَخْرَجَ يَدَيْهِ، وَرَفَعَهُمَا، وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَ يَدَيْهِ، فَكَبَّرَ، فَسَجَدَ، ثُمَّ وَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ" . قَالَ ابْنُ جُحَادَةَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، فَقَالَ: هِيَ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ، وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ مِنَ الثِّقَاتِ الْمُتْقِنِينَ وَأَهْلُ الْفَضْلِ فِي الدِّينِ، إِلا أَنَّهُ وَهِمَ فِي اسْمِ هَذَا الرَّجُلِ، إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ، فَقَالَ: وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ، وَإِنَّمَا هُوَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ.
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صف میں داخل ہوئے (یعنی نماز پڑھنا شروع کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اِلْتِحَاف» ”کپڑا لپیٹنا“ کے طور پر کپڑا لپیٹا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا اپنا ہاتھ کپڑے کے اندر داخل کر لیا اور دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو دونوں ہاتھ باہر نکال لیے اور ان کو بلند کیا اور تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا۔ ابن جحادہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ حسن بن ابو الحسن رحمہ اللہ سے کیا تو وہ بولے: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، جس نے ایسا کرنا تھا اس نے ایسا کیا اور جس نے اس کو چھوڑنا تھا اس نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: محمد بن جحادہ نامی راوی ثقہ اور متقن راویوں میں سے ایک ہیں، یہ دین داری کے حوالے سے اہل فضل ہیں، تاہم اس راوی کے نام کے بارے میں انہیں وہم ہوا کیونکہ گھوڑا بھی ٹھوکر کھا جاتا ہے؛ انہوں نے کہا: یہ وائل بن علقمہ ہے، حالانکہ وہ علقمہ بن وائل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1862]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 457، 477، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1805، 1860، 1862، 1920، 1945، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 819، وأبو داود فى (سننه) برقم: 723، 725، والترمذي فى (جامعه) برقم: 248، 249، 292،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 810، 854،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19143» «رقم طبعة با وزير 1859»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. * [الصَّفِّ] قال الشيخ: في الأصل: «الصلاة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح غير إبراهيم بن الحجاج السامي، وهو ثقة، روى له النسائي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
394. باب صفة الصلاة - ذكر إباحة رفع المرء يديه في الموضع الذي وصفناه إلى حد أذنيه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی ہمارے بیان کردہ مقام پر اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں تک اٹھا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1863
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ" .
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تھے تو آپ تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے، یہاں تک کہ دونوں ہاتھ کانوں تک لے آتے تھے، اور جب آپ رکوع میں جاتے تھے اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے (تو بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1863]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 737، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 391، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 585، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1863، 1873، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 879، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 859، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2344، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1123، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15840» «رقم طبعة با وزير 1860»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (330): م، خ نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
395. باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمصلي أن يكون رفعه يديه في الموضع الذي وصفناه إلى المنكبين
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہمارے بیان کردہ مقام پر اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1864
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ" .
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز کا آغاز کیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر لیے یہاں تک کہ انہیں دونوں کندھوں کے برابر لے آئے۔ جب آپ نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا اور جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا (تو بھی رفع یدین) کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1864]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 735، 736، 738، 739، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 390، ومالك فى (الموطأ) برقم: 245، وابن الجارود فى "المنتقى"، 196، 197، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 456،، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1861، 1864، 1868، 1877، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 875، وأبو داود فى (سننه) برقم: 721، 722، 741، 742، والترمذي فى (جامعه) برقم: 255، 256، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 858، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2338، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1110، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4628، والحميدي فى (مسنده) برقم: 626» «رقم طبعة با وزير 1861»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (1858). تنبيه!! رقم (1858) = (1861) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1865
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَزَارِيُّ ، بِسَارِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ:" أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا: مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، وَلا أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً! قَالَ: بَلَى. قَالُوا: فَاعْرِضْ. قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ، اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ، كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فِي صُلْبِهِ وَلَمْ يَنْصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقَنِّعْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ اعْتَدَلَ، ثُمَّ سَجَدَ وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، كَبَّرَ، ثُمَّ قَامَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى رِجْلِهِ مُتَوَرِّكًا، ثُمَّ سَلَّمَ" .
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کو دس صحابہ کرام، جن میں سے ایک سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کی موجودگی میں یہ کہتے ہوئے سنا: میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے دریافت کیا: آپ نہ تو پرانے صحابی ہیں اور نہ ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا ہی ہے۔ دیگر صحابہ کرام نے فرمایا: پھر آپ پیش کیجیے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے تھے) تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے، یہاں تک کہ انہیں کندھوں تک اٹھا لیتے تھے۔ پھر آپ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر آپ جب رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ پھر آپ اپنی پشت کو سیدھا کر لیتے اور سر کو اٹھاتے نہیں تھے اور بالکل جھکاتے بھی نہیں تھے۔ پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے (یعنی رکوع سے اٹھتے تھے) اور یہ کہتے تھے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی“، پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے، انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے، پھر آپ سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے، پھر آپ سجدے میں جاتے تھے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے کنارے قبلہ کی طرف کر لیتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے تھے اور اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس ٹانگ پر تورک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے، پھر آپ سلام پھیر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1865]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 828، وابن الجارود فى "المنتقى"، 215، 216، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 587، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1865، 1866، 1867، 1869، 1870، 1871، 1876، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1038، وأبو داود فى (سننه) برقم: 730، والترمذي فى (جامعه) برقم: 260، 270، 293، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 803، 862، 863، 1061، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24086» «رقم طبعة با وزير 1862»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (720). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، عبد الحميد بن جعفر: من رجال مسلم، وباقي السند من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں