صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
396. باب صفة الصلاة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة الحديث أن خبر أبي حميد الذي ذكرناه معلول
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ ہمارے بیان کردہ ابو حمید کی خبر علیل ہے
حدیث نمبر: 1866
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَحَدُ بَنِي مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ كَانَ فِيهِ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، مِنَ الأَنْصَارِ، وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلاةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا: فَأَرِنَا. قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي وَهُمْ يَنْظُرُونَ " فَبَدَأَ يُكَبِّرُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَيْضًا، ثُمَّ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتِهِ غَيْرَ مُقَنِّعٍ وَلا مُصَوِّبٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَسَجَدَ، فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتِهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَجَلَسَ، وَتَوَرَّكَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ، وَنَصَبَ قَدَمَهُ الأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ الأُخْرَى، فَكَبَّرَ، فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الأُخْرَى، وَكَبَّرَ كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ، كَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الأَخِيرَتَيْنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ: سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَسَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ: سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ" . قَالَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ: وَحَدَّثَنِي عِيسَى أَنَّ مِمَّا حَدَّثَهُ أَيْضًا فِي الْمَجْلِسِ،" فِي التَّشَهُّدِ: أَنْ يَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَيَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُشِيرُ فِي الدُّعَاءِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا عباس بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک محفل میں موجود تھے، وہاں ان کے والد بھی موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، اس محفل میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ موجود تھے جن کا تعلق انصار سے تھا۔ ان حضرات نے نماز کا تذکرہ کیا، تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ بولے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کہ پھر آپ ہمیں دکھائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، دیگر حضرات دیکھ رہے تھے، انہوں نے شروع میں تکبیر کہی، دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیے، پھر انہوں نے رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہی، پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیے، اپنے سر کو بالکل جھکایا بھی نہیں اور اوپر بھی نہیں کیا، پھر انہوں نے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھا۔ پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور اپنے دونوں پاؤں کے کنارے زمین پر رکھے، وہ سجدے کی حالت میں تھے۔ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹانگ کو «تَوَرُّک» کے طور پر بچھا لیا اور دوسرے پاؤں کو کھڑا کر لیا۔ پھر انہوں نے تکبیر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کیا، تکبیر کہی اور کھڑے ہو گئے لیکن انہوں نے «تَوَرُّک» نہیں کیا۔ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا اور دوسری رکعت ادا کی۔ اس طرح تکبیر کہی اور دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھ گئے۔ پھر جب انہوں نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو تکبیر کہی۔ پھر انہوں نے آخری دو رکعات بھی اسی طرح ادا کیں، پھر جب انہوں نے سلام پھیرا تو پہلے دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ کہا۔ حسن بن حر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ عیسیٰ نامی راوی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، اس حدیث میں تشہد کے بارے میں یہ الفاظ بھی ہیں: انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھا اور دایاں ہاتھ دائیں زانو پر رکھا اور پھر انہوں نے ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: محمد بن عمرو نے یہ روایت سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ انہوں نے یہ روایت عباس بن سہل کے حوالے سے ان کے والد رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ ان کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1866]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 828، وابن الجارود فى "المنتقى"، 215، 216، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 587، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1865، 1866، 1867، 1869، 1870، 1871، 1876، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1038، وأبو داود فى (سننه) برقم: 730، والترمذي فى (جامعه) برقم: 260، 270، 293، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 803، 862، 863، 1061، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24086» «رقم طبعة با وزير 1863»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (118). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، عيسى بن عبد الله بن مالك: روى عنه جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» 7/ 231، وترجم له البخاري في «التاريخ الكبير» 6/ 389 - 390، وابن أبي حاتم 6/ 280، فلم يذكرا فيه جرحاً ولا تعديلاً، وباقي رجاله ثقات، أبو خيثمة: هو زهير بن معاوية الجعفي.
397. باب صفة الصلاة - ذكر وصف بعض صلاة النبي صلى الله عليه وسلم الذي أمرنا الله جل وعلا باتباعه واتباع ما جاء به
نماز کے طریقہ کا بیان - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض نماز کی کیفیت کا ذکر جن کے اتباع اور ان کے لائے ہوئے احکام کی پیروی کا اللہ جل وعلا نے حکم دیا
حدیث نمبر: 1867
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ ، بِتُسْتَرَ وَكَانَ أَسْوَدَ مِنْ رَأَيْتُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا: لِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً. قَالَ: بَلَى. قَالُوا: فَاعْرِضْ. قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ، كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيُقِيمُ كُلَّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ مُعْتَدِلا لا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلا يَقْنَعْ بِهِ، يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ، وَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَجْلِسُ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بَقِيَّةَ صَلاتِهِ هَكَذَا، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخْرَجَ رِجْلَيْهِ وَجَلَسَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ مُتَوَرِّكًا" . فَقَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ يُصَلِّيهَا الإِنْسَانُ سِتُّ مِائَةِ سُنَّةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَرَجْنَاهَا بِفُصُولِهَا فِي كِتَابِ صِفَةِ الصَّلاةِ، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ نَظْمِهَا فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَبْدُ الْحَمِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَدُ الثِّقَاتِ الْمُتْقِنِينَ، قَدْ سَبَرْتَ أَخْبَارَهُ، فَلَمْ أَرَهُ انْفَرَدَ بِحَدِيثٍ مُنْكَرٍ لَمْ يُشَارِكْ فِيهِ، وَقَدْ وَافَقَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ جَعْفَرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ.
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام، جن میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کی موجودگی میں یہ کہتے ہوئے سنا، سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں۔“ ان حضرات نے دریافت کیا: ”وہ کیسے؟ اللہ کی قسم! آپ نہ تو ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں اور نہ پرانے صحابی ہیں۔“ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جی ہاں۔“ دیگر صحابہ کرام نے کہا: ”پھر آپ پیش کیجیے“، تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو تکبیر کہتے تھے، پھر آپ دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے کندھوں تک اٹھا لیتے تھے، پھر آپ اس طرح قیام کرتے تھے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر ہوتی تھی، پھر آپ تلاوت کرتے تھے۔ پھر آپ دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے۔ پھر آپ رکوع میں چلے جاتے تھے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے، آپ اعتدال کی حالت میں رہتے، آپ اپنے سر کو اٹھاتے بھی نہیں تھے اور جھکاتے بھی نہیں تھے۔ پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے ہوئے رفع یدین کرتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر لے آتے تھے (اور اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ) ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی تھی۔ پھر آپ زمین کی طرف آتے تھے۔ آپ اپنے دونوں بازو اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے اور ایک ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس پر بیٹھ جاتے تھے۔ جب آپ سجدے میں جاتے تھے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے۔ پھر آپ سجدہ کرتے تھے۔ پھر آپ تکبیر کہتے تھے اور بائیں ٹانگ کے بل بیٹھ جاتے تھے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتی تھی۔ پھر آپ کھڑے ہوتے تھے اور دوسری رکعت میں بھی ایسے کرتے تھے۔ پھر آپ جب دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے، جس طرح نماز کے آغاز میں کیے تھے۔ پھر آپ بقیہ نماز بھی اس طرح ادا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ سجدہ کر لیتے تھے، اس کے بعد سلام پھیرنا ہوتا تھا تو آپ اپنے دونوں پاؤں نکال لیتے تھے اور بائیں پہلو کے بل تورک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے۔“ تو دیگر صحابہ کرام نے کہا: ”آپ نے سچ کہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز ادا کرتے تھے۔“ امام ابوحاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”چار رکعات میں چھ سو چیزیں سنت ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، ہم نے انہیں ان کی فصول کے ہمراہ کتاب ”نماز کا طریقہ“ میں ذکر کیا ہے۔ اب اس کتاب میں اس نوع کی ترتیب کے ذریعے میں نے اس کتاب سے بے نیاز کر دیا ہے۔“ امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”عبدالحمید نامی راوی ثقہ اور متقن راویوں میں سے ایک ہیں۔ میں نے ان کے حالات کی تحقیق کی ہے، میں نے نہیں دیکھا کہ یہ کسی منکر روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہوں جس میں ان کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ فلیح بن سلیمان اور عیسیٰ بن عبداللہ، محمد بن عمرو کے حوالے سے سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کرنے میں عبدالحمید کے موافق ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1867]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 828، وابن الجارود فى "المنتقى"، 215، 216، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 587، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1865، 1866، 1867، 1869، 1870، 1871، 1876، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1038، وأبو داود فى (سننه) برقم: 730، والترمذي فى (جامعه) برقم: 260، 270، 293، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 803، 862، 863، 1061، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24086» «رقم طبعة با وزير 1864»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (1862). تنبيه!! رقم (1862) = (1865) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير عبد الحميد بن جعفر، فإنه من رجال مسلم، أبو عاصم: هو الضحاك بن خلد.
398. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن خبر مالك الذي ذكرناه خبر مختصر ذكر بقصته في خبر عبيد الله بن عمر
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ مالک کی خبر مختصر ہے اور اس کی تفصیل عبید اللہ بن عمر کی خبر میں بیان ہوئی
حدیث نمبر: 1868
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَهُمَا إِلَى مَنْكِبَيْهِ" .
سالم رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تھے تو رفع یدین کرتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے تو رفع یدین کرتے تھے، جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تھے (یعنی جب رکوع سے کھڑے ہو جاتے تھے) تو رفع یدین کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو بھی دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1868]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 735، 736، 738، 739، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 390، ومالك فى (الموطأ) برقم: 245، وابن الجارود فى "المنتقى"، 196، 197، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 456،، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1861، 1864، 1868، 1877، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 875، وأبو داود فى (سننه) برقم: 721، 722، 741، 742، والترمذي فى (جامعه) برقم: 255، 256، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 858، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2338، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1110، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4628، والحميدي فى (مسنده) برقم: 626» «رقم طبعة با وزير 1865»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (728). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
399. باب صفة الصلاة - ذكر خبر احتج به من لم يحكم صناعة الحديث ونفى رفع اليدين في الصلاة في المواضع التي وصفناها
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جسے حدیث کی صنعت سے ناواقف نے دلیل کے طور پر پیش کیا اور ہمارے بیان کردہ مقامات پر ہاتھ اٹھانے کی نفی کی
حدیث نمبر: 1869
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ ، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ : أَنَا أَحْفَظُكُمْ لِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلا قَابِضٍ، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ رِجْلَيْهِ إِلَى الْقِبْلَةِ، وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ" .
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ یاد رکھے ہوئے ہوں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ تکبیر کہتے تھے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے، جب رکوع میں جاتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیتے تھے۔ آپ اپنی پشت کو سیدھا رکھتے تھے۔ جب آپ سر اٹھاتے تھے، تو سیدھا کھڑے ہو جاتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو دونوں بازوؤں کو بچھاتے بھی نہیں تھے اور اٹھا کر بھی نہیں رکھتے تھے۔ آپ اپنے دونوں پاؤں کا رخ قبلہ کی طرف رکھتے تھے، جب آپ آخری رکعت میں بیٹھتے تھے، تو بائیں ٹانگ کو باہر نکال لیتے تھے اور تشریف گاہ پر بیٹھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1869]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 828، وابن الجارود فى "المنتقى"، 215، 216، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 587، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1865، 1866، 1867، 1869، 1870، 1871، 1876، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1038، وأبو داود فى (سننه) برقم: 730، والترمذي فى (جامعه) برقم: 260، 270، 293، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 803، 862، 863، 1061، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24086» «رقم طبعة با وزير 1866»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (722): خ، وهو مختصر الذي بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط عبد الله بن محمد بن عمرو الغَزِّي: ثقة روى له أبو داود، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين غير يزيد بن محمد، وهو ابن قيس بن مخرمة بن المطلب القرشي، فإنه من رجال البخاري، يحيى بن بكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير، والليث هو ابن سعد.
400. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن خبر محمد بن عمرو بن حلحلة الذي ذكرناه خبر مختصر ذكر بقصته في خبر عبد الحميد بن جعفر
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ محمد بن عمرو بن حلحلہ کی خبر مختصر ہے اور اس کی تفصیل عبد الحمید بن جعفر کی خبر میں بیان ہوئی
حدیث نمبر: 1870
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ اسْتَقْبَلَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. وَإِذَا رَكَعَ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ، ثُمَّ عَدَلَ صُلْبَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقَنِّعْهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا، ثُمَّ هَوَى إِلَى الأَرْضِ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. وَسَجَدَ وَجَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. وَثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا، وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ عَادَ فَسَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ ثَنَّى رِجْلَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَعَدَ عَلَيْهَا حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ فِي الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، كَبَّرَ وَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ فِي ابْتِدَاءِ الصَّلاةِ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي تَكُونُ خَاتِمَةَ الصَّلاةِ، رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهُمَا، وَأَخَّرَ رِجْلَهُ، وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى رِجْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تھے، تو تکبیر کہتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تھے، تو رفع یدین کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت کو سیدھا کر لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو اٹھاتے بھی نہیں تھے اور جھکاتے بھی نہیں تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے انہیں کندھوں کے برابر تک لے آتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آ جاتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی طرف جھکتے تھے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تھے، تو اپنے دونوں بازو پہلو سے الگ رکھتے تھے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے کناروں کا رخ قبلہ کی طرف رکھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاتے تھے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا کر اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آ جاتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے ہوئے دوبارہ سجدے میں چلے جاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاتے تھے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے، پھر بائیں ٹانگ کو بچھا دیتے تھے اور اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تھے اور دوسری (رکعت) میں بھی اسی طرح کرتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو تکبیر کہنے کے بعد اسی طرح کرتے تھے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے آغاز میں کیا تھا (یعنی رفع یدین کرتے تھے)، یہاں تک کہ جب وہ سجدہ آتا جس پر نماز ختم ہو رہی ہوتی (یعنی آخری سجدہ آتا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے بعد اپنے سر کو اٹھاتے تھے اور اپنی ٹانگ کو پیچھے کر کے اپنی ٹانگ پر تورک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1870]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 828، وابن الجارود فى "المنتقى"، 215، 216، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 587، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1865، 1866، 1867، 1869، 1870، 1871، 1876، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1038، وأبو داود فى (سننه) برقم: 730، والترمذي فى (جامعه) برقم: 260، 270، 293، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 803، 862، 863، 1061، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24086» «رقم طبعة با وزير 1867»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (1862)، وانظر ما يأتي برقم (1873). تنبيه!! رقم (1862) = (1865) من «طبعة المؤسسة». رقم (1873) = (1876) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عبد الله بن عمرو الأودي روى له ابن ماجه، وهو ثقة، ومن فوقه من رجال الشيخين غير عبد الحميد بن جعفر، وأبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
401. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن على المصلي رفع اليدين عند إرادته الركوع وبعد رفعه رأسه منه كما يرفعهما عند ابتداء الصلاة
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نمازی پر لازم ہے کہ وہ رکوع کے ارادے اور اس سے سر اٹھانے پر ہاتھ اٹھائے، جیسا کہ وہ نماز کے آغاز پر ہاتھ اٹھاتا ہے
حدیث نمبر: 1871
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلاةَ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَالْقَابِضِ عَلَيْهِمَا فَوَتَرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ، وَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقَنِّعْهُ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَاسْتَوَى حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ أَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ، وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عُضْوٍ فِي مَوْضِعِهِ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ" .
عباس بن سہل ساعدی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ، سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے۔ ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں، میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔“ (پھر انہوں نے بیان کیا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہوئے رفع یدین کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہتے تھے، پھر رفع یدین کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے جاتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر یوں رکھ لیتے تھے جس طرح انہیں پکڑے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بازو سیدھے رکھتے تھے اور انہیں پہلو سے الگ رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو اٹھا کر بھی نہیں رکھتے تھے اور جھکا کر بھی نہیں رکھتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور رفع یدین کرتے، یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ایک عضو اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو اپنی ناک اور پیشانی کو جما کر رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بازو اپنے پہلو سے الگ رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے کندھوں کے برابر رکھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاتے تھے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتا، یہاں تک کہ جب آپ (نماز کی رکعات ادا کر کے) فارغ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں (پاؤں کی انگلیوں) کو قبلہ کی طرف رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں ہتھیلی کو دائیں زانو پر رکھتے تھے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں زانو پر رکھتے تھے اور اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1871]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 828، وابن الجارود فى "المنتقى"، 215، 216، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 587، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1865، 1866، 1867، 1869، 1870، 1871، 1876، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1038، وأبو داود فى (سننه) برقم: 730، والترمذي فى (جامعه) برقم: 260، 270، 293، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 803، 862، 863، 1061، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24086» «رقم طبعة با وزير 1868»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (723). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين، إلا أن فليح بن سليمان- وإن احتج به البخاري وأصحاب السنن، وروى له مسلم حديثاً واحداً- ضعفه يحيى بن معين، والنسائي، وأبو داود، وقال الساجي: هو من أهل الصدق، وكان يهم، وقال الدارقطني: مختلف فيه، ولا بأس به، وقال ابن عدي: له أحاديث صالحة مستقيمة، وغرائب، وهو عندي لا بأس به، ومثله يقوى حديثه عند المتابعة، وهذا منها.
402. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر الدال على أن المصطفى صلى الله عليه وسلم أمر أمته برفع اليدين في الصلاة عند إرادتهم الركوع وعند رفعهم رؤوسهم منه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو رکوع کے ارادے اور اس سے سر اٹھانے پر ہاتھ اٹھانے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 1872
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلَيْهِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلِينَا، سَأَلْنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِينَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَقَالَ:" ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ" .
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نوجوان اور ہم عمر لوگ تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیس دن قیام کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ ہوا کہ ہمیں اپنے اہل خانہ (سے دور رہنے میں) دشواری ہو رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت فرمایا: ”تم نے اپنے پیچھے اہل خانہ کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کی طرف واپس چلے جاؤ، تم انہیں تعلیم دو، تم انہیں حکم دو اور اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جو شخص تم میں سے عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1872]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 628، 630، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 674، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 395، 396، 397، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1658، 1872، 2128، 2129، 2130، 2131، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 633، وأبو داود فى (سننه) برقم: 589، والترمذي فى (جامعه) برقم: 205، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1288، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 979، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1068، 1069، 1311، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15838» «رقم طبعة با وزير 1869»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (213). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله رجال الشيخين غير مسدد بن مسرهد، فإنه من رجال البخاري.
403. باب صفة الصلاة - ذكر استعمال مالك بن الحويرث ما أمره النبي صلى الله عليه وسلم في صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - مالک بن الحویرث کے اس عمل کا ذکر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی نماز میں کرنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 1873
أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ ، بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ : أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ : " إِذَا صَلَّى كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَ يَدَيْهِ" ، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ هَكَذَا.
ابوقلابہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جب انہوں نے نماز ادا کی تو تکبیر کہی اور رفع یدین کیا، جب انہوں نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا، اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو رفع یدین کیا، انہوں نے یہ بات بیان کی کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1873]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 737، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 391، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 585، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1863، 1873، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 879، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 859، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2344، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1123، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15840» «رقم طبعة با وزير 1870»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (730): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، وهب بن بقية: ثقة من رجال مسلم، ومن فوقه من رجال الشيخين، خالد الأول: هو ابن عبد الله الواسطي، والثاني هو خالد بن مهران الحذاء.
404. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن عبد الله بن مسعود غير جائز في فضله وعلمه أن لا يرى المصطفى صلى الله عليه وسلم يرفع يديه في الموضع الذي وصفنا إذ كان من أولي الأحلام والنهى رحمة الله عليه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ عبد اللہ بن مسعود، جن کے فضل و علم کے باوجود، یہ جائز نہیں کہ وہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے بیان کردہ مقام پر ہاتھ اٹھاتے نہ دیکھیں، حالانکہ وہ عقل و دانش والوں میں سے تھے، اللہ ان پر رحم کرے
حدیث نمبر: 1874
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَنَا: أَصَلَّى هَؤُلاءِ؟ فَقُلْنَا: لا. قَالَ: فَقُومُوا فَصَلُّوا، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ، فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ، فَجَعَلَ إِذَا رَكَعَ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فِي الصَّلاةِ، فَجَعَلَهَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلاةَ يَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيُصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا، وَلْيَجْعَلْ صَلاتَهُ مَعَهُمْ سُبْحَةً" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَحِمَهُ اللَّهُ مِمَّنْ يُشَبِّكُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ، وَزَعَمَ أَنَّهُ كَذَلِكَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، وَأَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ قَاطِبَةً مِنْ لَدُنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا عَلَى أَنَّ الْفِعْلَ كَانَ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ، ثُمَّ نَسَخَهُ الأَمْرُ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ لِلْمُصَلِّي فِي رُكُوعِهِ، فَإِنْ جَازَ لابْنِ مَسْعُودٍ فِي فَضْلِهِ وَوَرَعِهِ، وَكَثْرَةِ تَعَاهُدِهِ أَحْكَامَ الدِّينِ، وَتَفَقُّدِهِ أَسْبَابَ الصَّلاةِ خَلْفَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي الصَّفِّ الأَوَّلِ، إِذْ كَانَ مِنْ أُولِي الأَحْلامِ وَالنُّهَى أَنْ يَخْفَى عَلَيْهِ مِثْلُ هَذَا الشَّيْءِ الْمُسْتَفِيضِ الَّذِي هُوَ مَنْسُوخٌ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ رَآهُ فَنَسِيَهُ، جَازَ أَنْ يَكُونَ رَفْعُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ عِنْدَ الرُّكُوعِ، وَعِنْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنَ الرُّكُوعِ، مِثْلَ التَّشْبِيكِ فِي الرُّكُوعِ أَنْ يَخْفَى عَلَيْهِ ذَلِكَ، أَوْ يَنْسَاهُ بَعْدَ أَنْ رَآهُ.
اسود بیان کرتے ہیں: میں اور علقمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ہم سے دریافت کیا: کیا ان لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی نہیں، تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔ ہم اٹھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے، تو انہوں نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کر لیا، پھر انہوں نے اذان دیے بغیر اور اقامت کہے بغیر نماز ادا کی۔ نماز کے دوران جب وہ رکوع میں گئے، تو انہوں نے انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں اور انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا، جب انہوں نے نماز ادا کر لی، تو یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”اے لوگو! عنقریب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے، جو نماز کو فوت کر دیں گے وہ اس کا گلا یوں گھونٹیں گے جس طرح قریب المرگ شخص ہوتا ہے۔ تم میں سے جو شخص یہ صورت حال پائے وہ نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لے اور ان لوگوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رکوع کے دوران انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیا کرتے تھے اور وہ اس بات کے قائل تھے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر ہمارے آج کے دن تک تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ فعل ابتدائے اسلام میں تھا اور پھر رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کے حکم نے اسے منسوخ کر دیا۔ تو جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے تمام تر علم و فضل اور زہد و تقویٰ اور ان کے دینی احکام پر بکثرت عمل پیرا ہونے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ان کے پہلی صف میں نماز ادا کرنے، کیونکہ وہ سمجھدار اور تجربہ کار افراد میں سے ایک تھے، اس سب کے باوجود ان سے یہ چیز مخفی کیسے رہ سکتی ہے جو تمام مسلمانوں کے اتفاق کے ساتھ منسوخ ہے یا پھر انہوں نے اسے دیکھا اور وہ اسے بھول گئے تو یہ بات بھی ممکن ہے کہ رکوع کے دوران انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کرنے کی طرح رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع یدین کرنا، ان سے مخفی رہ گیا ہو یا انہوں نے اسے دیکھا ہو پھر وہ اسے بھول گئے ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1874]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 534، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1636، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1558، 1874، 1875، وأبو داود فى (سننه) برقم: 613، 868، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3658» «رقم طبعة با وزير 1871»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (626): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
405. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن الخير الفاضل من أهل العلم قد يخفى عليه من السنن المشهورة ما يحفظه من هو دونه أو مثله وإن كثر مواظبته عليها وعنايته بها
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ بعض اوقات اہل علم کے فاضل شخص سے مشہور سنتوں میں سے کوئی سنت چھپ جاتی ہے جو اس سے کم یا اس کے برابر شخص کو یاد ہوتی ہے، خواہ وہ اس پر کتنا ہی عمل اور توجہ دے
حدیث نمبر: 1875
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَنَا: قُومُوا فَصَلُّوا، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ، " فَأَقَامَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، فَصَلَّى بِنَا بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ، فَجَعَلَ إِذَا رَكَعَ طَبَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَجَعَلَهَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ" ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ.
اسود بیان کرتے ہیں کہ میں اور علقمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ہم سے فرمایا: ”تم لوگ اٹھو اور نماز ادا کر لو۔“ ہم اٹھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے، تو انہوں نے ہم میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا اور دوسرے کو اپنے بائیں طرف کھڑا کر لیا۔ انہوں نے اذان دیے بغیر اور اقامت کہے بغیر ہمیں نماز پڑھائی، جب وہ رکوع میں گئے، تو انہوں نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں اور انہیں دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا۔ جب انہوں نے نماز ادا کر لی، تو یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1875]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 534، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1636، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1558، 1874، 1875، وأبو داود فى (سننه) برقم: 613، 868، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3658» «رقم طبعة با وزير 1872»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر ما قبله.