صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
415. باب صفة الصلاة - ذكر خبر ثان قد يوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد للخبرين الأولين اللذين ذكرناهما
نماز کے طریقہ کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ پہلی دو خبروں کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1886
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلاةً مِنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا أَتَمَّ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ وَرَاءَهُ، فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ" .
شریک بن ابونمر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور آپ سے زیادہ مکمل نماز ادا کرتا ہو۔ بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تھے، تو آپ نماز کو مختصر کر دیتے تھے، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں اس بچے کی والدہ آزمائش کا شکار نہ ہو جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1886]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 708، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 469، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1886، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5343، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13649» «رقم طبعة با وزير 1883»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - تقدم (1756). تنبيه!! رقم (1756) = (1759) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، وفي شريك بن أبي نَمِرٍ كلام خفيف، وقد توبع عليه.
416. باب صفة الصلاة - ذكر وصف بعض السجود والركوع للمصلي في صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - نمازی کے لیے سجدے اور رکوع کی بعض کیفیت کا ذکر
حدیث نمبر: 1887
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ السِّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْهَيَّاجِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَرْحَبِيُّ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ الأَسْوَدِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَلِمَاتٌ أَسْأَلُ عَنْهُنَّ. قَالَ:" اجْلِسْ". وَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَلِمَاتٌ أَسْأَلُ عَنْهُنَّ. فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَقَكَ الأَنْصَارِيُّ". فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: إِنَّهُ رَجُلٌ غَرِيبٌ، وَإِنَّ لِلْغَرِيبِ حَقًّا، فَابْدَأْ بِهِ. فَأَقْبَلَ عَلَى الثَّقَفِيِّ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَجَبْتُكَ عَمَّا كُنْتَ تَسْأَلُ، وَإِنْ شِئْتَ سَأَلْتَنِي وَأُخْبِرْكَ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلْ أَجِبْنِي عَمَّا كُنْتُ أَسْأَلُكَ. قَالَ:" جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الرُّكُوعِ، وَالسُّجُودِ، وَالصَّلاةِ، وَالصَّوْمِ". فَقَالَ: لا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَخْطَأْتَ مِمَّا كَانَ فِي نَفْسِي شَيْئًا. قَالَ: " فَإِذَا رَكَعْتَ، فَضَعْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، ثُمَّ فَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، ثُمَّ أَمْكُثْ حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، وَإِذَا سَجَدْتَ، فَمَكِّنْ جَبْهَتَكَ، وَلا تَنْقُرُ نَقْرًا، وَصَلِّ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ". فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَإِنْ أَنَا صَلَّيْتُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ:" فَأَنْتَ إِذًا مُصَلٍّ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، ثَلاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ". فَقَامَ الثَّقَفِيُّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ عَمَّا جِئْتَ تَسْأَلُ، وَإِنْ شِئْتَ سَأَلْتَنِي فَأُخْبِرْكَ". فَقَالَ: لا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي عَمَّا جِئْتُ أَسْأَلُكَ. قَالَ:" جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْحَاجِّ مَا لَهُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَقُومُ بِعَرَفَاتٍ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَرْمِي الْجِمَارَ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَحْلِقُ رَأْسَهُ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَقْضِي آخِرَ طَوَافٍ بِالْبَيْتِ؟". فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَخْطَأْتَ مِمَّا كَانَ فِي نَفْسِي شَيْئًا. قَالَ:" فَإِنَّ لَهُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ أَنَّ رَاحِلَتَهُ لا تَخْطُو خُطْوَةً إِلا كُتِبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ، أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ، فَإِذَا وَقَفَ بِعَرَفَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا، اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ذُنُوبَهُمْ، وَإِنْ كَانَ عَدَدَ قَطْرِ السَّمَاءِ وَرَمْلِ عَالِجٍ. وَإِذَا رَمَى الْجِمَارَ لا يَدْرِي أَحَدٌ لَهُ مَا لَهُ حَتَّى يُوَفَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِذَا حَلَقَ رَأْسَهُ فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَقَطَتْ مِنْ رَأْسِهِ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِذَا قَضَى آخِرَ طَوَافِهِ بِالْبَيْتِ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ کلمات ہیں، جن کے بارے میں، میں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ پھر ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ کلمات ہیں، جن کے بارے میں، میں جاننا چاہتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصاری شخص تم سے سبقت لے گیا ہے۔“ انصاری نے کہا: یہ شخص مسافر ہے اور مسافر کا حق ہوتا ہے آپ اس سے آغاز کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ثقفی شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتا دیتا ہوں، جس کے بارے میں تم دریافت کرنا چاہتے تھے اور اگر تم چاہو تو تم مجھ سے پوچھ لو میں تمہیں بتا دیتا ہوں۔“ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیے جس کے بارے میں، میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھ سے رکوع و سجود، نماز اور روزے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے آئے تھے؟“ تو اس نے کہا: جی ہاں! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میرے ذہن میں جو تھا آپ نے اس کے بارے میں کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ لو، تم اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی رکھو اور تم اتنی دیر وہاں ٹھہرے رہو کہ ہر عضو اپنی جگہ پر آ جائے۔ جب تم سجدے میں جاؤ تو اپنی پیشانی کو جما کر رکھو، تم ٹھونگ نہ مارو، تم دن کے ابتدائی حصے اور اس کے آخری حصے میں نماز ادا کرو۔“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اگر میں ان دونوں کے درمیان میں نماز ادا کر لیتا ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تم نمازی ہو گئے۔ تم ہر مہینے میں تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو روزے رکھو۔“ تو وہ ثقفی شخص کھڑا ہوا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس انصاری کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتا دیتا ہوں، جس کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے تم آئے ہو اور اگر تم چاہو تو تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں خبر دوں گا۔“ اس نے عرض کی: جی نہیں! اے اللہ کے نبی! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتا دیجیے جس کے بارے میں، میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ سے حاجی کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے آئے تھے، جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں، جب وہ عرفات میں قیام کرتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں، جب وہ جمرات کو کنکریاں مارتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں، جب وہ اپنے سر کو منڈواتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں اور جب وہ آخر میں بیت اللہ کا طواف کرتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں۔“ اس شخص نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، جو چیز میرے ذہن میں تھی اس کے بارے میں آپ نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کے لیے حکم یہ ہے، جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کی سواری جو بھی قدم اٹھاتی ہے اس کے بدلے میں اس شخص کو نیکی ملتی ہے یا اس کے کسی گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے، جب وہ حاجی عرفہ میں وقوف کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: ”میرے ان بکھرے ہوئے بالوں اور غبار آلود (اجسام) والے بندوں کو دیکھو، تم لوگ گواہ ہو جاؤ، میں نے ان کے گناہوں کی مغفرت کر دی ہے۔“ اگرچہ وہ آسمان (یعنی بارش) کے قطروں کے برابر ہوں اور ریت کے ذروں کے برابر ہوں، جب حاجی جمرات کو کنکریاں مارتا ہے تو کوئی شخص یہ نہیں جان سکتا کہ اسے کیا اجر و ثواب ملے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کا اجر و ثواب مکمل طور پر اسے دیا جائے گا، جب وہ اپنے سر کو منڈواتا ہے، تو اس کے سر سے گرنے والے ہر ایک بال کے عوض میں قیامت کے دن اسے نور نصیب ہوگا اور جب وہ بیت اللہ کا آخری طواف کرتا ہے، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں باہر آ جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1887]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1887، والبزار فى (مسنده) برقم: 6177، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 2859، 8830، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13566» «رقم طبعة با وزير 1884»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن لغيره - «التعليق الرغيب» (2/ 129 - 130). * [عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ] قال الشيخ: مدلس، انظر الحديث (1754). تنبيه!! رقم (1754) = (1757) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، يحيى بن عبد الرحمن الأرحبي، قال أبو حاتم: شيخ لا أرى في حديثه إنكاراً، يروي عن عبيدة بن الأسود أحاديث غرائب، وقال الدارقطني: صالح يعتبر به، وذكره المؤلف في «الثقات»، وقال ربما خالف، وعبيدة بن الأسود: ذكره المؤلف أيضاً في الثقات 8/ 437، وقال: يعتبر حديثه إذا بين السماع في روايته، وكان فوقه ودونه ثقات، والقاسم بن الوليد: وثقه ابن معين، والعجلي، وابن سعد، وذكره المؤلف في «الثقات» 7/ 338، وقال: يخطئ ويخالف، وقال الحافظ في «التقريب»: صدوق يغرب، وسنان بن الحارث: لم يوثقه غير المؤلف.
417. باب صفة الصلاة - ذكر إثبات اسم السارق على الناقص الركوع والسجود في صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کے اثبات کا ذکر کہ جو شخص اپنی نماز میں رکوع اور سجدہ ناقص کرتا ہے، اسے چور کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1888
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْوَأُ النَّاسِ سَرَقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلاتَهُ". قَالَ: وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلاتَهُ؟ قَالَ:" لا يُتِمُّ رُكُوعَهَا، وَلا سُجُودَهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگوں میں سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے۔“ انہوں نے عرض کی: وہ اپنی نماز کی کیسے چوری کرتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ اس کے رکوع اور اس کے سجود کو مکمل ادا نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1888]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1888، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 842، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4065، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4665» «رقم طبعة با وزير 1885»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «المشكاة» (885)، «صلاة التراويح» (ص 119 - 120)، «التعليق الرغيب» (1/ 181). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، عبد الحميد بن أبي العشرين: هو عبد الحميد بن حبيب، وهو كاتب الأوزاعي، ولم يرو عن غيره، مختلف فيه، وقال الحافظ في التقريب: صدوق ربما أخطأ، فمثله يكون حسن الحديث، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير هشام بن عمار، فإنه من رجال البخاري، وقد كبر، فصار يتلقن.
418. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن المرء يكتب له بعض صلاته إذا قصر في البعض الآخر
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر آدمی بعض حصوں میں کمی کرے تو اس کے لیے اس کی نماز کا کچھ حصہ لکھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1889
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَخَفَّفَهُمَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، أَرَاكَ قَدْ خَفَّفْتَهُمَا. قَالَ: إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا الْوَسْوَاسَ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الرَّجُلَ لِيُصَلِّي الصَّلاةَ، وَلَعَلَّهُ لا يَكُونُ لَهُ مِنْهَا إِلا عُشْرُهَا، أَوْ تُسْعُهَا، أَوْ ثُمُنُهَا، أَوْ سُبُعُهَا، أَوْ سُدْسُهَا" حَتَّى أَتَى عَلَى الْعَدَدِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا إِسْنَادٌ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّهُ مُنْفَصِلٌ غَيْرُ مُتَّصِلٍ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَلَى مَا ذَكَرَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، لأَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَمَّارٍ عَلَى ظَاهِرِهِ.
عمر بن ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے دو رکعات ادا کیں، انہوں نے انہیں مختصر ادا کیا تو عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا: اے ابویقظان! میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے وسوسے آنے سے پہلے ہی انہیں مکمل ادا کر لیا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک شخص نماز ادا کرتا ہے اور نماز میں اس کا حصہ صرف دسواں ہوتا ہے یا نواں ہوتا ہے یا آٹھواں ہوتا ہے یا ساتواں ہوتا ہے یا چھٹا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کے عدد تک آئے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث کی سند اس شخص کو جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا، اس غلط فہمی کا شکار کرتی ہے کہ اس کی سند منفصل ہے متصل نہیں ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ عمر بن ابوبکر نے یہ روایت اپنے دادا عبدالرحمن بن حارث کے حوالے سے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے سنی ہے، جیسا کہ عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا ہے؛ عمر بن ابوبکر نے یہ روایت براہ راست سیدنا عمار رضی اللہ عنہما سے نہیں سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1889]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1889، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 614، 615، وأبو داود فى (سننه) برقم: 796، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3582، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18613» «رقم طبعة با وزير 1886»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة» / المقدمة، «صحيح أبي داود» (761). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، عمر بن أبي بكر بن عبد الرحمن: روى عنه جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» 7/ 167، وترجم له البخاري 6/ 144، وابن أبي حاتم 6/ 100 فلم يذكرا فيه جرحاً ولا تعديلاً، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين.
حدیث نمبر: 1890
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ". حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَعْرِفُ غَيْرَ هَذَا، فَعَلِّمْنِي. قَالَ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاةِ، فَكَبِّرْ، وَاقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاتِكَ كُلِّهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، يُرِيدُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ. وَقَوْلُهُ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، نَفَى الصَّلاةَ عَنْ هَذَا الْمُصَلِّي، لِنَقْصِهِ عَنْ حَقِيقَةِ إِتْيَانِ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ فَرْضِهَا، لا أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ. فَلَمَّا كَانَ فِعْلُهُ نَاقِصًا عَنْ حَالَةِ الْكَمَالِ، نَفَى عَنْهُ الاسْمَ بِالْكُلِّيَّةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز ادا کی پھر وہ آ کر بیٹھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم واپس جا کر نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی ہے“، یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ ایسا کیا، پھر اس شخص نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، مجھے اس کے علاوہ کسی چیز کا علم نہیں ہے، آپ مجھے تعلیم دیجیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو، تو تکبیر کہو اور جو قرآن تمہیں آتا ہو اس کی تلاوت کرو پھر تم رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرو پھر تم (سر کو) اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدے میں جاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرو پھر (سر کو) اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، تم اپنی پوری نماز اسی طرح ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو قرآن تمہیں آتا ہو اس کی تلاوت کرو۔“ اس سے آپ کی مراد سورہ فاتحہ کی تلاوت ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم واپس جا کر نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے اپنے ذمے لازم چیز کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے اس نمازی کی نماز (ادا ہونے) کی نفی کر دی، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس شخص نے نماز ادا ہی نہیں کی تھی، تو جب اس کا فعل کمال کے حوالے سے ناقص ہوا تو اس سے کلی طور پر اسم کی نفی کر دی گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1890]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 757، 793، 6251، 6252، 6667، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 397، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 454، 461، 590، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1890، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 883، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 960، وأبو داود فى (سننه) برقم: 856، والترمذي فى (جامعه) برقم: 303، 2692، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1060، 3695، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9766» «رقم طبعة با وزير 1887»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 321 / 289)، «صحيح أبي داود» (802): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
419. باب صفة الصلاة - ذكر الزجر عن أن لا يقيم المرء صلبه في ركوعه وسجوده
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنے رکوع اور سجدے میں اپنی کمر کو سیدھا نہ کرے
حدیث نمبر: 1891
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ مُلازِمِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ السِّتَّةِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ، فَلَمَحَ بِمُؤَخَّرِ عَيْنَيْهِ رَجُلا لا يُقِرُّ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يُقِمْ صُلْبَهُ" .
عبدالرحمن بن علی بن شیبان رحمہ اللہ اپنے والد علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، جو چھ افراد کے وفد میں سے ایک فرد تھے، وہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں آنکھوں کے گوشے سے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدے کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھ رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1891]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 593، 667، 872، 1569، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1891، 2202، 2203، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 871، 1003، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5294، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16541» «رقم طبعة با وزير 1888»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»، «الصحيحة» (2536). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات.
420. باب صفة الصلاة - ذكر الإخبار عن نفي جواز صلاة المرء إذا لم يقم أعضاءه في ركوعه وسجوده
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کی نماز جائز نہیں اگر وہ اپنے رکوع اور سجدے میں اپنے اعضاء کو درست نہ کرے
حدیث نمبر: 1892
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”وہ نماز درست نہیں ہوتی جس میں آدمی رکوع اور سجود کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1892]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 218، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 591، 592، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1892، 1893، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1026، وأبو داود فى (سننه) برقم: 855، والترمذي فى (جامعه) برقم: 265، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1366، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 870، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1315، 1316، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17348» «رقم طبعة با وزير 1889»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (801). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم، وأبو معمر: هو عبد الله بن سخبرة الازدي، وأبو مسعود: هو عقبة بن عمرو بن ثعلبة الأنصاري البدري، صحابي جليل.
حدیث نمبر: 1893
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لأَحَدٍ لا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایسے کسی شخص کی نماز درست نہیں ہوتی جو رکوع اور سجود کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1893]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 218، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 591، 592، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1892، 1893، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1026، وأبو داود فى (سننه) برقم: 855، والترمذي فى (جامعه) برقم: 265، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1366، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 870، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1315، 1316، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17348» «رقم طبعة با وزير 1890»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر ما قبله.
421. باب صفة الصلاة - ذكر نفي الفطرة عن من لم يقم صلبه في الركوع والسجود
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اپنے رکوع اور سجدے میں کمر کو سیدھا نہ کرے، اس سے فطرت کی نفی ہوتی ہے
حدیث نمبر: 1894
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: رَأَى حُذَيْفَةُ رَجُلا عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ يَنْقُرُ، فَقَالَ: مُذْ كَمْ صَلَّيْتَ هَذِهِ الصَّلاةَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً؟ قَالَ: لَوْ مُتَّ، مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فُطِرَ عَلَيْهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ وَيُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ" .
زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ”کندہ“ کے دروازوں کے نزدیک ایک شخص کو ٹھونگے مارتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا: تم کتنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: چالیس سال سے۔ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اسی حالت میں مرتے ہو، تو تم اس فطرت کے علاوہ مرو گے جس پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا۔ آدمی نماز مختصر پڑھ لے لیکن رکوع اور سجود مکمل ادا کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1894]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 480، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1895، 5438، 5440، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3697، 4044، والترمذي فى (جامعه) برقم: 264، 1737، 2808، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3642، 3654، وأحمد فى (مسنده) برقم: 621» «رقم طبعة با وزير 1891»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، لكن في قوله: منذ أربعين سنة على ظاهره نظر، لأن حذيفة مات سنة ست وثلاثين، فعلى هذا يكون ابتداء صلاة المذكور قبل الهجرة بأربع سنين أو أكثر، ولم تكن فرضت الصلاة إذا ذاك، قال الحافظ: فلعله أطلقه وأراد المبالغة، أو لعله ممن كان يصلي قبل إسلامه، ثم أسلم فحصلت المدة المذكورة من الأمرين.
422. باب صفة الصلاة - ذكر الزجر عن قراءة القرآن في الركوع والسجود
نماز کے طریقہ کا بیان - رکوع اور سجدے میں قرآن کی قراءت سے منع کرنے کا ذکر
حدیث نمبر: 1895
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا وَسَاجِدًا" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”میں رکوع یا سجدے کے دوران تلاوت کروں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 480، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1895، 5438، 5440، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3697، 4044، والترمذي فى (جامعه) برقم: 264، 1737، 2808، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3642، 3654، وأحمد فى (مسنده) برقم: 621» «رقم طبعة با وزير 1892»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخن غير حرملة بن يحيى، فإنه من رجال مسلم.