🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
588. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر الثاني وهو حضور الطعام عند صلاة المغرب
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - دوسرے عذر کا ذکر جو مغرب کی نماز کے وقت کھانا موجود ہونا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2066
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ صَلاةِ الْمَغْرِبِ، وَلا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب رات کا کھانا آ جائے اور نماز کا وقت ہو جائے، تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور کھانا کھاتے ہوئے جلد بازی نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2066]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 672، 5463، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 557، 558، وابن الجارود فى "المنتقى"، 247، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 934، 1651، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2066، 2068، 5209، 5210، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 852، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 928، والترمذي فى (جامعه) برقم: 353، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1318، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 933، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5111، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12152، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1215» «رقم طبعة با وزير 2063»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض» (482): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، حرملة من رجال مسلم، ومن فوقه على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
589. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم لا تعجلوا عن عشائكم أراد به إذا قدم ذلك على المرء
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اپنے عشاء کے بارے میں جلدی نہ کرو" سے مراد ہے جب کھانا آدمی کے سامنے پیش کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2067
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَرِيجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَبَيَّنَ لَهُ اللَّيْلُ، فَكَانَ أَحْيَانًا يُقَدِّمُ عَشَاءَهُ وَهُوَ صَائِمٌ وَالْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ، ثُمَّ يُقِيمُ وَهُوَ يَسْمَعُ، فَلا يَتْرُكُ عَشَاءَهُ وَلا يُعَجِّلُ حَتَّى يَقْضِيَ عَشَاءَهُ، ثُمَّ يَخْرُجَ فَيُصَلِّيَ، وَيَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ إِذَا قُدِّمَ إِلَيْكُمْ" .
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ جب سورج غروب ہو جاتا اور رات ہو جاتی، تو بعض اوقات وہ کھانا پہلے کھا لیتے تھے کیونکہ انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا، حالانکہ اس وقت مؤذن اذان دے رہا ہوتا تھا اور وہ اقامت بھی کہہ دیتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کو سن رہے ہوتے تھے لیکن وہ اپنے کھانے کو ترک نہیں کرتے تھے اور کھانا کھاتے ہوئے جلد بازی کا مظاہرہ بھی نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ جب وہ کھانا کھا لیتے تھے، تو تشریف لے جا کر نماز ادا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کھانا تمہارے سامنے رکھ دیا جائے، تو تم کھانا کھاتے ہوئے جلد بازی نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2067]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 673، 5463 م، 5464، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 559، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3562، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 935، 936، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2067، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3757، والترمذي فى (جامعه) برقم: 354، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 934، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4800» «رقم طبعة با وزير 2064»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (673)، م (2/ 78). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، وإسناده جيد، محمد بن بكر: هو البرساني، وثقه ابن معين وأبو داود والعجلي، وقال أبو حاتم: شيخ محله الصدق، وقال النسائي في كتاب المحاربة من سننه: ليس بالقوي، ليس له في البخاري سوى حديث واحد في كتاب المغازي، وروى له مسلم والباقون، وباقي السند على شرط الشيخين. استدراك على «طبعة المؤسسة» تكرر رقم الحديث مرتين هكذا: 2067 - 2067 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ... - مدخل بيانات الشاملة -
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
590. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر البيان بأن التخلف عن إتيان الجماعات عند حضور العشاء إنما يجب ذلك إذا كان المرء صائما
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا بیان کہ عشاء کی موجودگی میں جماعتوں میں شرکت سے پیچھے رہنا اس وقت واجب ہے جب آدمی روزے سے ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2068
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَأَحَدُكُمْ صَائِمٌ، فَلْيَبْدَأْ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ صَلاةِ الْمَغْرِبِ، وَلا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز قائم ہو جائے اور تم میں سے کوئی روزے سے ہو (یعنی روزہ دار ہو) تو وہ مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے اپنا کھانا کھا لے، اور اپنے کھانے سے جلدی نہ کرے۔“ وضاحت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرمائی کہ اگر مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ہو اور ساتھ ہی روزہ افطار کا بھی وقت ہو، تو پہلے آرام سے افطار کر لو، پھر نماز ادا کرو۔ اس میں نہ گھبراہٹ ہو اور نہ ہی کھانے میں جلدبازی کی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2068]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 672، 5463، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 557، 558، وابن الجارود فى "المنتقى"، 247، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 934، 1651، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2066، 2068، 5209، 5210، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 852، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 928، والترمذي فى (جامعه) برقم: 353، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1318، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 933، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5111، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12152، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1215» «رقم طبعة با وزير 2065»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3964)، وانظر ما مضى برقم (2063). تنبيه!! رقم (2063) = (2066) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، العباس بن أبي طالب: هو العباس بن جعفر بن عبد الله، ثقة، ومن فوقه من رجال الصحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
591. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر الثالث وهو النسيان الذي يعرض في بعض الأحوال
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - تیسرے عذر کا ذکر جو بھول ہے جو بعض حالات میں پیش آتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2069
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ سَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلالٍ:" اكْلأْ لَنَا اللَّيْلَ". فَصَلَّى بِلالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الصُّبْحُ اسْتَسْنَدَ بِلالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ يُوَاجِهُ الْفَجْرَ، فَغَلَبَتْ بِلالا عَيْنَاهُ، وَهُوَ مُسْتَسْنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا بِلالٌ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" أَيْ بِلالُ". فَقَالَ بِلالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" اقْتَادُوا رَوَاحِلَكُمْ". ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلالا فَأَقَامَ الصَّلاةَ، وَقَالَ: " مَنْ نَسِيَ الصَّلاةَ أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: أَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14" . وَقَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا: لِلذِّكْرَى. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ، وَقَالَ فِيهِ: خَيْبَرُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ لَمْ يَشْهَدْ خَيْبَرَ، إِنَّمَا أَسْلَمَ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، وَعَلَى الْمَدِينَةِ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَةَ، فَإِنْ صَحَّ ذِكْرُ خَيْبَرَ فِي الْخَبَرِ فَقَدْ سَمِعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ صَحَابِيٍّ غَيْرِهِ، فَأَرْسَلَهُ كَمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الصَّحَابَةُ كَثِيرًا، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ حُنَيْنَ لا خَيْبَرَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ شَهِدَهَا وَشُهُودُهُ الْقِصَّةَ الَّتِي حَكَاهَا شُهُودُ صَحِيحٍ، وَالنَّفْسُ إِلَى أَنَّهُ حُنَيْنٌ أَمِيلُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر چلتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آنے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ہمارے لیے رات کا دھیان رکھنا۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے جو مقدر میں تھا وہ نماز ادا کرتے رہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سو گئے۔ صبح صادق کا وقت قریب آیا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائی اور صبح صادق والی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی بھی آنکھ لگ گئی، وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی بھی شخص بیدار نہیں ہوا، یہاں تک کہ دھوپ نکل آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال!“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، جس ذات نے آپ کو نیند عطا کی تھی، اس نے مجھے بھی نیند کا شکار کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی سواریوں کو لے کر چل پڑو۔“ (کچھ آگے جانے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نماز کو بھول جائے یا نماز کے وقت سویا رہ جائے، تو جب وہ (نماز) اسے یاد آئے، تو وہ اسے ادا کر لے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”میرے ذکر کے لیے نماز کو قائم کرو۔“ یونس نامی راوی بیان کرتے ہیں: ابن شہاب اس لفظ کو یوں تلاوت کرتے تھے: «لِلذِّكْرَى» ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن قتیبہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے اور اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ خیبر کا واقعہ ہے، حالانکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا اور مدینہ منورہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں موجود تھے اور مدینہ منورہ کے نگران سیدنا سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ تھے۔ اگر اس روایت میں خیبر کا تذکرہ درست ہو، تو پھر یہ ہو سکتا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کسی دوسرے صحابی سے یہ روایت سنی ہو اور اسے «مُرْسَل» روایت کے طور پر نقل کر دیا ہو، جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکثر اس طرح کر دیا کرتے تھے۔ اور اگر اس سے مراد غزوہ حنین ہی ہو، غزوہ خیبر مراد نہ ہو، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس میں شریک ہوئے ہیں اور ان کے اس میں شریک ہونے کا واقعہ اور وہ واقعہ جو انہوں نے بیان کیا ہے یہ مستند طور پر ثابت ہے اور ذہن یہی کہتا ہے کہ یہ غزوہ حنین کا واقعہ ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2069]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 680، ومالك فى (الموطأ) برقم: 35، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 988، 999، 1118، 1252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1459، 2069، 2651، 2652، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 617، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3163، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 697، 1155، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9665» «رقم طبعة با وزير 2066»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (263). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
592. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر الرابع وهو السمن المفرط الذي يمنع المرء من حضور الجماعات
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - چوتھے عذر کا ذکر جو ضرورت سے زیادہ موٹاپا ہے جو آدمی کو جماعتوں میں شرکت سے روکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2070
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَكَانَ ضَخْمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ الصَّلاةَ مَعَكَ، فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي فَصَلَّيْتَ فِيهِ فَأَقْتَدِيَ بِكَ. فَصَنَعَ الرَّجُلُ لَهُ طَعَامًا وَدَعَاهُ إِلَى بَيْتِهِ، فَبَسَطَ لَهُ طَرَفَ حَصِيرٍ لَهُمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: فَقَالَ فُلانُ بْنُ الْجَارُودِ، لأَنَسٍ:" أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ:" مَا رَأَيْتُهُ صَلاهَا غَيْرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے، جو خوب بھاری بھرکم تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں آپ کی اقتداء میں نماز کے لیے حاضر ہونے کی استطاعت نہیں رکھتا، اگر آپ میرے ہاں تشریف لائیں اور وہاں نماز ادا کریں، تو میں آپ کی پیروی کروں گا (یعنی اس جگہ نماز ادا کر لیا کروں گا)۔ پھر ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے گھر میں بلوایا۔ انہوں نے اپنی چٹائی کا کنارہ آپ کے لیے بچھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دو رکعات نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں: فلاں بن جارود نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز ادا کرتے تھے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس دن کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2070]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 670، 1179، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2070، 2309، وأبو داود فى (سننه) برقم: 657، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3743، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12523» «رقم طبعة با وزير 2067»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (664): خ دون قوله: «فأقتدي بك». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، علي بن الجعد: ثقة من رجال البخاري، ومن فوقه على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
593. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر الخامس وهو وجود المرء حاجة الإنسان في نفسه
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - پانچویں عذر کا ذکر جو آدمی کی اپنی ذاتی ضرورت کا ہونا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2071
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الأَرْقَمِ ، كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ يَوْمًا، فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدٌ الْغَائِطَ، فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلاةِ" .
سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی امامت کیا کرتے تھے۔ ایک دن نماز کا وقت ہوا، وہ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر وہ واپس تشریف لائے اور انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کسی شخص کو پاخانہ کی ضرورت محسوس ہو، تو نماز سے پہلے اسے وہ (حاجت پوری) کر لینی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2071]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 550، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 932، 1652، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2071، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 601، وأبو داود فى (سننه) برقم: 88، والترمذي فى (جامعه) برقم: 142، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1467، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 616، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16205، 16662، والحميدي فى (مسنده) برقم: 896» «رقم طبعة با وزير 2068»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (80). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
594. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر البيان بأن المقصد فيما وصفنا من حاجة الإنسان هو أن يشغله عن الصلاة دون ما لا يتأذى بها
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ انسانی ضرورت کا مقصد یہ ہے کہ وہ اسے نماز سے مشغول کرے، نہ کہ ایسی چیز جو اسے نقصان نہ دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2072
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ هُوَ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ يَزِيدَ الأَوْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يُصَلِّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ادا نہ کرے جبکہ وہ پیشاب یا پاخانہ کو روکے ہوئے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2072]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2072، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 618، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5110، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9828، 10233، والبزار فى (مسنده) برقم: 9653، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8018، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2000» «رقم طبعة با وزير 2069»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (550): م - عائشة، وهو الآتي بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، يزيد بن عبد الرحمن بن الأسود الأودي: روى عنه جماعة، وذكره المؤلف في «الثقات» 5/ 542، ووثقه العجلي، وباقي السند رجاله رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
595. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2073
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حدثاه، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُمَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا يَقُمْ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ وَهُوَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ: الْغَائِطُ، وَالْبَوْلُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز کے لیے کھڑا نہ ہو کہ اس کا کھانا آ چکا ہو یا جب وہ دو خبیث چیزوں پاخانہ یا پیشاب کو روکے ہوئے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2073]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 560، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 933، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2073، 2074، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 603، وأبو داود فى (سننه) برقم: 89، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5105، 5106، 5117، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24800» «رقم طبعة با وزير 2070»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (81): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، القاسم بن محمد: هو القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق، وعبد الله بن محمد: هو عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق، المعروف بابن أبي عتيق.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2074
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ الْمَدِينِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عَائِشَةَ وَبَيْنَ بَعْضِ بَنِي أَخِيهَا شَيْءٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا جَلَسَ، جِيءَ بِالطَّعَامِ، فَقَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَالَتْ لَهُ: اجْلِسْ غُدَرُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا يُصَلِّ أَحَدُكُمْ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْمَرْءُ مَزْجُورٌ عَنِ الصَّلاةِ عِنْدَ وُجُودِ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ، وَالْعِلَّةُ الْمُضْمَرَةُ فِي هَذَا الزَّجْرِ هِيَ أَنْ يَسْتَعْجِلَهُ أَحَدُهُمَا حَتَّى لا يَتَهَيَّأَ لَهُ أَدَاءُ الصَّلاةِ عَلَى حَسْبِ مَا يَجِبُ مِنْ أَجْلِهِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا تَصْرِيحُ الْخِطَابِ:" وَلا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ"، وَلَمْ يَقُلْ وَلا هُوَ يَجِدُ الأَخْبَثَيْنِ، وَالْجَمْعُ بَيْنَ الأَخْبَثَيْنِ قُصِدَ بِهِ وُجُودُهُمَا مَعًا. وَانْفِرَادُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لا اجْتِمَاعُهُمَا دُونَ الانْفِرَادِ. أَبُو حَزْرَةَ: يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ.
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ان کے کسی بھانجے کے درمیان کوئی ناراضگی تھی، وہ بھانجے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، جب وہ بیٹھے تو کھانا آ گیا، وہ اٹھ کر مسجد کی طرف جانے لگے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: او نالائق! بیٹھے رہو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی بھی شخص کھانے کی موجودگی میں نماز ادا نہ کرے اور نہ اس وقت نماز ادا کرے جب وہ «الأَخْبَثَانِ» ”دو خبیث چیزوں“ یعنی پیشاب اور پاخانے کو روکے ہوئے ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (آدمی کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ جب اسے پیشاب یا پاخانہ کی ضرورت محسوس ہو تو اس وقت اسے نماز ادا نہیں کرنی چاہیے۔ اس ممانعت میں پوشیدہ علت یہ ہے کہ اگر آدمی کو ان دونوں کے کرنے کی ضرورت درپیش ہو تو آدمی صحیح طریقے سے نماز ادا نہیں کر سکے گا۔ اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ روایت کے الفاظ میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ آدمی «الأَخْبَثَانِ» ”دو خبیث چیزوں“ کو روکنے کی کوشش نہ کر رہا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی کہ وہ دو خبیث چیزوں کو محسوس نہ کر رہا ہو۔ اور یہاں «الأَخْبَثَانِ» ”دو خبیث چیزوں“ کو جمع کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں کا وجود ایک ساتھ پایا جائے یا ان دونوں میں سے کوئی ایک پایا جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ جب یہ دونوں اکٹھے ہوں تو یہ حکم رہے گا اور جب کوئی ایک ہو تو یہ حکم نہیں رہے گا۔ ابوجزرہ نامی راوی کا نام یعقوب بن مجاہد ہے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2074]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 560، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 933، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2073، 2074، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 603، وأبو داود فى (سننه) برقم: 89، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5105، 5106، 5117، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24800» «رقم طبعة با وزير 2071»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط الحسن بن سهل الجعفري: روى عنه الحسن بن سفيان وأبو زرعة وغيرهما، وذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 177، وأورده ابن أبي حاتم 3/ 17، ولم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين غير أبي حزرة، فإنه من رجال مسلم وحده.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
596. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر السادس وهو خوف الإنسان على نفسه وماله في طريقه إلى المسجد
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - چھٹے عذر کا ذکر جو انسان کا اپنی جان اور مال کے بارے میں خوف ہے جب وہ مسجد کی طرف جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2075
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ، أَتَى سُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، وَإِذَا كَانَ الأَمْطَارُ، سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ، وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي، فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلًّى. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَأَفْعَلُ". قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟" قَالَ: فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَاءَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ. قَالَ: وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ .
سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ، جو غزوہ بدر میں شریک ہو چکے تھے اور ان کا تعلق انصار سے تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نگاہ کمزور ہو چکی ہے۔ میں اپنی قوم کی امامت کرتا ہوں جب بارش آتی ہے تو نشیبی علاقے میں پانی بھر جاتا ہے، جو میرے اور ان لوگوں کے درمیان ہے، تو میں ان کی مسجد تک نہیں آ سکتا تاکہ ان کو نماز پڑھاؤں۔ اس لیے میں یہ چاہتا ہوں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تشریف لائیں میرے گھر میں نماز ادا کریں، تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں۔“ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسا کروں گا۔“ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دن چڑھ جانے کے بعد تشریف لائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اجازت پیش کی، گھر میں داخل ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہیں ہوئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اپنے گھر میں کہاں یہ چاہتے ہو میں وہاں نماز ادا کروں؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں تکبیر کہی۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خزیرہ کھانے کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2075]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 77، 189، 424، 425، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 33، ومالك فى (الموطأ) برقم: 594، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1653، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 223، 1292، 1612، 2075، 4534، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6560، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 787، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 660، 754، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12579» «رقم طبعة با وزير 2072»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (223). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، حرملة بن يحيى من رجال مسلم، ومن فوقه على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں