صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
136. صدقة التطوع - ذكر محبة الله جل وعلا للمتصدق إذا تصدق لله سرا أو تهجد لله سرا
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس متصدق سے محبت کرتا ہے جو اللہ کے لیے خفیہ طور پر صدقہ کرے یا خفیہ طور پر تہجد پڑھے
حدیث نمبر: 3349
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي ظَبِيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ، أَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ، فَأَعْطَاهُ سِرًّا لا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ نَزَلُوا، فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، وَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ يَقْتُلُ أَوْ يُفْتَحُ لَهُ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور تین لوگوں کو ناپسند کرتا ہے؛ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، تو ایک وہ شخص ہے جو کچھ لوگوں کے پاس آئے اور ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگے، وہ ان کے ساتھ اپنی رشتے داری کی وجہ سے کچھ نہ مانگے، پھر ایک شخص ان کے پیچھے رہ جائے اور پوشیدہ طور پر اسے کچھ دے دے، اس عطیے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور جس نے اسے دیا ہے اس کے علاوہ اور کسی کو علم نہ ہو۔ دوسرے وہ لوگ جو رات بھر سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ پڑاؤ کریں تو ان کے نزدیک نیند سب سے زیادہ پیاری ہو اور وہ سر رکھ کر سو جائیں، اور ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر میری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) خوشامد کرے اور میری آیات کی تلاوت کرے۔ اور ایک وہ شخص جو کسی مہم پر روانہ ہو، ان کا دشمنوں سے سامنا ہو تو وہ لوگ پسپا ہو جائیں، لیکن وہ شخص آگے بڑھے اور پھر یا قتل ہو جائے یا اسے فتح نصیب ہو۔ جہاں تک ان تین لوگوں کا تعلق ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو وہ یہ ہیں: ایک بوڑھا زانی، دوسرا غریب متکبر اور تیسرا ظالم خوشحال شخص۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3349]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2456، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3349، 3350، 4771، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1525، 2547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1614، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2567، 2568، 2568 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21751» «رقم طبعة با وزير 3338»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق الرغيب» (2/ 32)، «المشكاة» (1922 / التحقيق الثاني)، وقد صحَّ عن أبي ذر بسياق آخره ليس فيه الأول، والثاني من الثلاثة الأُوَل، وقال في الثلاثة الذين يبغضهم الله: «والفخور المختال، والبخيل المنان، والبَّياع الحلاَّف». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
137. صدقة التطوع - ذكر البيان بأن صدقة المرء سرا إذا سئل بالله مما يحب الله فاعلها
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کا خفیہ صدقہ، جب وہ اللہ کے نام پر مانگا جائے، وہ چیز ہے جو اللہ کو پسند ہے
حدیث نمبر: 3350
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبِيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ: يُحِبُّ رَجُلا كَانَ فِي قَوْمٍ، فَأَتَاهُمْ سَائِلٌ، فَسَأَلَهُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ لا يَسْأَلُهُمْ لَقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَبَخِلُوا، فَخَلَفَهُمْ بِأَعْقَابِهِمْ حَيْثُ لا يَرَاهُ إِلا اللَّهُ وَمَنْ أَعْطَاهُ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي كَتِيبَةٍ، فَانْكَشَفُوا، فَكَبَّرَ فَقَاتَلَ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، أَوْ يُقْتَلَ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي قَوْمٍ فَأَدْلَجُوا، فَطَالَتْ دُلْجَتُهُمْ، فَنَزَلُوا وَالنَّوْمُ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ، فَنَامُوا، وَقَامَ يَتْلُو آيَاتِي وَيَتَمَلَّقُنِي، وَيُبْغِضُ الشَّيْخَ الزَّانِي، وَالْبَخِيلَ الْمُتَكَبِّرَ"، وَذَكَرَ الثَّالِثَ .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور تین لوگوں کو ناپسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند کرتا ہے جو کچھ لوگوں میں موجود ہو، کوئی مانگنے والا ان کے پاس آئے اور اللہ کے نام پر ان سے مانگے، وہ ان لوگوں کے ساتھ اپنی کسی رشتہ داری کی وجہ سے ان سے نہ مانگے، تو وہ لوگ کنجوسی کا مظاہرہ کریں (اور اسے کچھ نہ دیں)، ان میں سے ایک شخص انہیں چھوڑ کر پیچھے رہ جائے اور ایسی جگہ (اس سائل سے ملے) جہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اسے کوئی نہ دیکھ رہا ہو اور وہ شخص اسے کچھ دے دے۔ ایک وہ شخص جو کسی مہم پر ہو اور وہ لوگ بکھر جائیں، تو وہ تکبیر کہتے ہوئے لڑائی میں کود پڑے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب کر دے یا وہ شہید ہو جائے۔ ایک وہ شخص جو کچھ لوگوں کے ہمراہ رات کے وقت سفر کر رہا ہو، جب رات زیادہ ہو جائے اور وہ لوگ کسی جگہ پڑاؤ کریں اور اس وقت نیند ان کے نزدیک سب سے زیادہ پیاری ہو، وہ لوگ سو جائیں اور وہ شخص کھڑا ہو کر آیات کی تلاوت کرے اور میری بارگاہ میں التجا کرے، اور اللہ تعالیٰ بوڑھے زانی، کنجوس اور متکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ راوی نے تیسرے شخص کا بھی ذکر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3350]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2456، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3349، 3350، 4771، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1525، 2547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1614، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2567، 2568، 2568 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21751» «رقم طبعة با وزير 3339»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
138. صدقة التطوع - ذكر استحباب الإيثار بالصدقة من لا يعلم بحاجته ولا غناه عنها
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا استحباب کہ صدقہ اس پر خرچ کیا جائے جس کی حاجت یا استغنا کا علم نہ ہو
حدیث نمبر: 3351
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَالأَكْلَةُ وَالأَكْلَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ، وَلا يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ، فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، فَذَلِكَ الْمَحْرُومُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”غریب وہ نہیں ہے جو ایک یا دو کھجوریں لے کر یا ایک یا دو لقمے لے کر واپس چلا جائے، غریب وہ شخص ہے جس کے پاس وہ چیز نہ ہو جو اس کی ضروریات کو پورا کرے اور اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ بھی نہ چل سکے کہ اسے صدقہ ہی کر دیا جائے، «الْمَحْرُومُ» ﴿وَالْمَحْرُومِ﴾ [سورة الذاريات: 19] سے مراد یہ شخص ہے (جس کا ذکر قرآن میں ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3351]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1476، 1479، 4539، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1039، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2363، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3298، 3351، 3352، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2570، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7655» «رقم طبعة با وزير 3340»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح دون قوله: «فذلك المحروم»؛ فَإِنَّهُ مقطوع من كلام الزُّهْرِيّ - «صحيح أبي داود» (1442): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
139. صدقة التطوع - ذكر استحباب الإيثار بالصدقة من لا يسأل دون من يسأل
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا استحباب کہ صدقہ اس پر خرچ کیا جائے جو مانگتا نہ ہو، نہ کہ اس پر جو مانگتا ہو
حدیث نمبر: 3352
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ"، قَالُوا: فَمَنِ الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الَّذِي لا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”غریب وہ نہیں ہوتا جو لوگوں کے گھر چکر لگاتا ہے، ایک یا دو لقمے لے کر ایک یا دو کھجوریں لے کر واپس چلا جاتا ہے۔“ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر غریب کون ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جس کے پاس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور اس کی حالت کا پتہ بھی نہ چل سکے کہ اسے صدقہ ہی کر دیا جائے اور وہ خود کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا بھی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3352]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1476، 1479، 4539، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1039، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2363، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3298، 3351، 3352، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2570، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7655» «رقم طبعة با وزير 3341»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
140. صدقة التطوع - ذكر الإباحة للمرء أن يتصدق عن حميمه وقرابته إذا مات
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اپنے قریبی یا رشتہ دار کی طرف سے صدقہ کرے اگر وہ فوت ہو جائے
حدیث نمبر: 3353
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأُرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میری والدہ کا اچانک انتقال ہو گیا، میرا خیال ہے، اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا، تو وہ صدقہ کرنے کے لیے کہتیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3353]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1388، 2760، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1004، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2499، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3353، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3651، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2881، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2717، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7203، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24889، والحميدي فى (مسنده) برقم: 245» «رقم طبعة با وزير 3342»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الأحكام» (217)، «صحيح أبي داود» (2565) «التعليق على ابن خزيمة» (2499): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
141. صدقة التطوع - ذكر خبر ثان يصرح بإباحة ما ذكرناه
نفلی صدقہ کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی اجازت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 3354
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الُوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، فَقِيلَ لَهَا: أُوصِي، فَقَالَتْ: فَبِمَ أُوصِي، إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدِمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ، ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" ، فَقَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَلَيْهَا، لِحَائِطٍ سَمَّاهُ.
سعید بن عمرو اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی جنگ میں شرکت کے لیے چلے گئے، مدینہ منورہ میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا، ان سے کہا گیا: آپ کوئی تلقین کیجیے۔ انہوں نے فرمایا: میں کس بات کی وصیت کروں؟ سارا مال تو سعد کا ہے، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے واپس آنے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا، جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں، تو کیا انہیں فائدہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے، انہوں نے اس باغ کا نام بھی لیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3354]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 2812، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2500، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3354، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1535، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3652، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6444، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12756، والطبراني فى(الكبير) برقم: 5523» «رقم طبعة با وزير 3343»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «التعليق على «صحيح ابن خزيمة»» (2500). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
142. صدقة التطوع - ذكر ما يستحب للمرء أن يتصدق بثلث ما يستفضل في كل سنة من أملاكه
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہر سال اپنے اموال سے باقی ماندہ مال کا تہائی حصہ صدقہ کرے
حدیث نمبر: 3355
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ إِذْ رَأَى سَحَابَةً فَسَمِعَ فِيهَا صَوْتًا: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلانٍ، فَجَاءَ ذَلِكَ السَّحَابُ، فَأَفْرَغَ مَا فِيهِ فِي حُرَّةٍ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ، فَإِذَا فِيهَا أَذْنَابُ شِرَاجٍ، وَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشُّرَجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتِ الْمَاءَ فَسَقَتْهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يَحُولُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ فِي حَدِيقَةٍ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا اسْمُكَ؟ فَقَالَ: فُلانٌ، الاسْمُ الَّذِي سَمِعَ فِيَ السَّحَابَةِ، قَالَ: كَيْفَ تَسْأَلُنِي يَا عَبْدَ اللَّهِ عَنِ اسْمِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ فِيَ السَّحَابَةِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهَا يَقُولُ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلانٍ بِاسْمِكَ، فَأَخْبِرْنِي مَا تَصْنَعُ فِيهَا، قَالَ: أَمَا إِذَا قُلْتَ هَذَا، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهَا، فَأَصَّدَقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثَهُ، وَأُعِيدُ فِيهَا ثُلُثَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک شخص ایک ویران جگہ پر موجود تھا، اس نے ایک بادل میں آواز سنی (یعنی کسی فرشتے نے بادل کو حکم دیا): «اِسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ» ”تم فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو“، پھر وہ بادل وہاں سے ہٹا اور اس نے ایک پتھریلی زمین پر اپنا سارا پانی برسا دیا، وہ شخص کہتا ہے کہ جب میں اس جگہ پہنچا تو وہاں سے کچھ نالیاں نکل رہی تھیں، ان میں سے ایک نالی اس تمام پانی کو سمیٹے ہوئے تھی، میں اس پانی کے پیچھے ہولیا یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس پہنچا جو کھڑا ہوا بیلچے کے ذریعے اپنے باغ میں کام کر رہا تھا اور پانی لگا رہا تھا، میں نے اس سے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: فلاں، اور یہ وہی نام تھا جو اس شخص نے بادل میں سنا تھا، اس (باغ والے) شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے! تم مجھ سے میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے بتایا: میں نے بادل میں جس سے یہ پانی آیا ہے، یہ سنا تھا کہ فرشتہ کہہ رہا تھا کہ تم فلاں بندے کے باغ کو سیراب کرو اور اس نے تمہارا نام لیا تھا، تو تم مجھے بتاؤ کہ تم اس باغ میں کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا: اب جب کہ تم نے یہ بات پوچھ ہی لی ہے تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اس کی جتنی بھی پیداوار ہوتی ہے، میں اس کے ایک تہائی حصے کو صدقہ کر دیتا ہوں، ایک تہائی حصہ اپنے اوپر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہوں اور ایک تہائی حصہ دوبارہ اس (کی اصلاح) پر لگا دیتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3355]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2984، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3355، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7606، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8056، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2710، والبزار فى (مسنده) برقم: 9372» «رقم طبعة با وزير 3344»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1197). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
143. صدقة التطوع - ذكر الخبر الدال على إباحة إعطاء المرء صدقته من أخذها وإن كان الآخذ أنفقها في غير طاعة الله جل وعلا ما لم يعلم المعطي ذلك منه في البداية
نفلی صدقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آدمی اپنا صدقہ اسے دے جو اسے لے اور اگر وہ اسے اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرے، جب تک کہ دینے والے کو اس کا ابتداً علم نہ ہو
حدیث نمبر: 3356
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ رَجُلٌ: لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ! لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ، لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ، فَأُتِيَ، فَقِيلَ: أَمَّا صَدَقَتُكَ، فَقَدْ قُبِلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ، فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا، وَأَمَّا السَّارِقُ، فَلَعَلَّهُ يَسْتَعِفُّ عَنْ سَرِقَتِهِ، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ، فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ تَعَالَى" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایک شخص نے طے کیا کہ میں ضرور صدقہ کروں گا، وہ اپنے صدقے کو لے کر نکلا اور (اندھیرے میں لاعلمی کی وجہ سے) کسی زانیہ عورت کے ہاتھ میں رکھ آیا، اگلے دن لوگ آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ گزشتہ رات ایک زانیہ عورت کو کسی نے صدقہ دیا ہے، تو اس شخص نے کہا: اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگرچہ میرا صدقہ) زانیہ عورت کو ملا ہے، میں ضرور پھر صدقہ کروں گا؛ پھر وہ شخص اپنے صدقے کو لے کر نکلا اور اس نے (اندھیرے میں لاعلمی کی وجہ سے) کسی چور کے ہاتھ میں اسے رکھ دیا، اگلے روز لوگ بات چیت کر رہے تھے کہ گزشتہ رات کسی چور کو صدقہ دیا گیا ہے، تو وہ شخص بولا: اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگرچہ میرا صدقہ) ایک چور کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، میں آج بھی ضرور صدقہ کروں گا؛ پھر وہ شخص اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے ایک خوشحال شخص کے ہاتھ پر رکھ دیا، اگلے دن لوگ بات کر رہے تھے کہ گزشتہ رات ایک خوشحال شخص کو صدقہ دے دیا گیا، تو وہ شخص بولا: اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگرچہ میرا صدقہ) ایک خوشحال شخص کو ملا ہے؛ پھر اسے (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) لایا گیا تو اسے بتایا گیا: جہاں تک تمہارے صدقے کا تعلق ہے، تو وہ قبول ہو گیا ہے؛ زانیہ عورت کو ملنے والا اس لیے قبول ہوا کہ شاید وہ اس کے ملنے کی وجہ سے زنا کرنے سے باز آ جائے، چور والا اس لیے قبول ہوا کہ شاید وہ اس کی وجہ سے چوری سے بچ جائے، اور خوشحال شخص والا اس لیے قبول ہوا کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ نے جو اسے عطا کیا ہے وہ اس میں سے کچھ خرچ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3356]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1421، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1022، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3356، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2522، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2314، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7940، 13376، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8398، 8721» «رقم طبعة با وزير 3345»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مشكلة الفقر» (6). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
144. صدقة التطوع - ذكر الإباحة للمرأة أن تتصدق من مال زوجها ما لم يجحف ذلك به
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کہ عورت اپنے شوہر کے مال سے صدقہ کرے جب تک کہ اس سے اسے نقصان نہ ہو
حدیث نمبر: 3357
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَيْسَ لِي شَيْءٌ إِلا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ؟ قَالَ: " ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ، وَلا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، انہوں نے عرض کی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس صرف وہی چیز ہوتی ہے، جو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ مجھے دیتے ہیں، تو وہ مجھے جو دیتے ہیں اگر اس میں سے کچھ خرچ کر لوں، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے جہاں تک ہو سکے تم خرچ کرو اور تم (خرچ کرتے ہوئے) بندش کرنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بندش کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3357]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1433، 1434، 2590، 2591، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1029، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3209، 3357، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2549، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1699، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1960، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7907، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27554» «رقم طبعة با وزير 3346»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1490): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
145. صدقة التطوع - ذكر تفضل الله جل وعلا على المرأة إذا تصدقت من بيت زوجها غير مفسدة فلها أجر كما لزوجها أجر ما اكتسب ولها أجر ما نوت وللخازن كذلك
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا عورت پر اپنے فضل سے اس کے شوہر کے گھر سے غیر مفسدانہ صدقہ کرنے پر اسے اجر دیتا ہے جیسا کہ شوہر کو اس کے کمائی پر اور اسے اس کی نیت پر، اور خازن کو بھی اسی طرح
حدیث نمبر: 3358
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَصَدَّقْتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، فَلَهَا أَجْرُهَا، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُ مَا اكْتَسَبَ، وَلَهَا أَجْرُ مَا نَوَتْ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے، کوئی خرابی پیدا کیے بغیر، صدقہ کرتی ہے تو اس عورت کو اس کا اجر ملتا ہے، اس کے شوہر کو اس کا اجر ملتا ہے، آدمی کو کمانے کا اجر ملتا ہے اور عورت کو اس کی نیت کا اجر ملتا ہے اور خزانچی کی مثال بھی اسی کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3358]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1425، 1437، 1439، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1024، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3358، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2538، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1685، والترمذي فى (جامعه) برقم: 671، 672، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2294، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7942، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24806، والحميدي فى (مسنده) برقم: 278» «رقم طبعة با وزير 3347»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1479): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح