صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
107. صدقة التطوع - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به سعيد المقبري
نفلی صدقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر سعید المقبری نے منفرد طور پر روایت کی
حدیث نمبر: 3319
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَصَدَّقَ بِعِدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلا يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلا الطَّيِّبُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص پاکیزہ کمائی میں سے ایک کھجور جتنا صدقہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو صرف پاکیزہ چیز ہی پیش ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دستِ قدرت میں لیتا ہے، پھر وہ اسے صدقہ کرنے والے کے لیے بڑھاتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ وہ (ایک کھجور) پہاڑ کی مانند ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3319]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1410، 7430، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1014، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3651، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2425، 2426، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 270، 3316، 3318، 3319، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3302، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2524، والترمذي فى (جامعه) برقم: 661، 662، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1842، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7749، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1188» «رقم طبعة با وزير 3308»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
حدیث نمبر: 3320
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِتَقُوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لأَزُوَاجِهِنَّ، وَقَالَ:" إِنَّ مِنْكُنَّ مَنْ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَجَمَعَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَمِنْكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ"، فَقَالَتِ الْمَارِدَةُ أَوِ الْمُرَادِيَّةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَمْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" تَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَتُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ" .
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور شوہر کی فرمانبرداری کی ہدایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کچھ خواتین جنت میں داخل ہوں گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جمع کر کے فرمایا: ”اور تم میں سے کچھ جہنم کا ایندھن بنیں گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کر لیا، تو مادریہ (شاید مراد قبیلے سے تعلق رکھنے والی) ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شوہر کی ناشکری کرتی ہو، تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور بھلائی کی ناشکری کرتی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3320، 7479، والطبراني فى(الكبير) برقم: 3109» «رقم طبعة با وزير 3310»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: إِسنادُه ضعيفٌ؛ حزامُ بن حكِيم لم يُوَثِّقة غيرُ ابن حبان، ولم يرو عنه إلاَّ زيد بن رُفيع، وعطاء بن أبي رباح، لحديثه الآتي برقم (4964). ولذلك قال الحافظ فيه: «مقبول»، أي: عند المتابعة، ولم أجد له مُتابعاً فالحديثُ ضعيف. نعم، قد صَحَّ الحديث مِنْ رِوَايَة جَابرٍ عند مسلمٍ وغيره، لكن ليس فيه ذِكر للأصابع، ولا للتسويف؛ فهي زيادة منكرة. وزيدُ بنُ نَافِع - الراوي لهذا - مُختلفٌ فِيهِ. ومِنْ طريقه رواه الطبراني - أيضا - (3/ 220 / 3109)، وغفلَ المُعَلِّقُ على الكتاب (8/ 114) عن علَّتِه - حزام بن حكيم - فَبَيَّضَ لَهُ، فلم يُتَرجم له بشيء، بينما تَرجَم للراوي عنه: زيد بن رفيع، وعبيد بن جناد. تنبيه!! قال الألباني في التعليق: ... وزيدُ بنُ نَافِع - الراوي لهذا - مُختلفٌ فِيهِ .. الخطأ: كلمة «نافع» والصواب: «رفيع» كما في الإسناد وكذلك عند الطبراني. ملحوظة رقم (4964) = (4985) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
108. صدقة التطوع - ذكر الأمر للرجال بالإكثار من الصدقة
نفلی صدقہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ مردوں کو زیادہ سے زیادہ صدقہ دینے کی ترغیب دی جائے
حدیث نمبر: 3321
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ، فَيَنْصَرِفُ إِلَى النَّاسِ قَائِمًا فِي مُصَلاهُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُقْبِلُ عَلَيْهِمْ، وَيَقُولُ لِلنَّاسِ:" تَصَدَّقُوا" ، فَكَانَ أَكْثَرُ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالتِّبْرِ، فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ وَإِلا انْصَرَفَ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن تشریف لے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کرتے تھے، پھر سلام پھیرتے تھے، پھر عید گاہ میں لوگوں کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے اور لوگوں کی طرف رخ کرتے تھے اور لوگوں سے فرماتے: ”تم صدقہ و خیرات کرو۔“ تو زیادہ تر خواتین اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ کرتی تھیں۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مہم (روانہ کرنی ہوتی) تو اس کے بارے میں بات چیت کر لیتے، ورنہ واپس تشریف لے جاتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3321]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 304، 956، 1462، 1951، 2658، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 49، 80، 889، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1430، 1449، 2045، 2462، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 306، 307، 3321، 5744، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1105، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1140، 4340، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2172، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1275، 1288، 4013، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11216» «رقم طبعة با وزير 3311»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2968)، «الإرواء» (1/ 205). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
109. صدقة التطوع - ذكر الأمر للنساء بالإكثار من الصدقة
نفلی صدقہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ صدقہ دینے کی ترغیب دی جائے
حدیث نمبر: 3322
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الُوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ صَلَّى فِي يَوْمِ عِيدٍ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ" .
عطاء بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کی ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عید کے دن نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3322]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 98، 863، 960، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 884، وابن الجارود فى "المنتقى"، 285، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1436، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2818، 2823، 2824، 3322، 3325، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1100، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1142، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1273، 1274، 1291، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1927» «رقم طبعة با وزير 3312»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ، وهو مختصر (2812). تنبيه!! رقم (2812) = (2823) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
110. صدقة التطوع - ذكر العلة التي من أجلها حث النساء على الإكثار من الصدقة
نفلی صدقہ کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر عورتوں کو زیادہ صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی
حدیث نمبر: 3323
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا ، يُحَدِّثُ عَنْ وَائِلِ بْنِ مُهَانَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِلنِّسَاءِ: " تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ"، قَالَتِ امْرَأَةٌ: لَيْسَتْ مِنْ عِلِيَةِ النِّسَاءِ: بِمَ، أَوْ لِمَ؟ قَالَ:" إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ" ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا مِنْ نَاقِصَاتِ الْعَقْلِ وَالدَّيْنِ أَغْلَبُ عَلَى الرِّجَالِ ذَوِي الأَمْرِ عَلَى أَمْرِهِمْ مِنَ النِّسَاءِ، قِيلَ: وَمَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا وَدِينِهَا؟ قَالَ: أَمَّا نُقْصَانُ عَقْلِهَا، فَإِنَّ شَهَادَةَ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ، وَأَمَّا نُقْصَانُ دِينِهَا، فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَى إِحْدَاهِنَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ يَوْمٍ لا تُصَلِّي فِيهِ صَلاةً وَاحِدَةً".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے فرمایا: ”تم صدقہ و خیرات کیا کرو، کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے۔“ ایک خاتون نے، جو کسی بڑے خاندان کی نہیں تھی، اس نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے؟ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص خواتین لوگوں کے معاملات میں سمجھدار لوگوں پر غالب آ جاتی ہیں۔“ دریافت کیا گیا: ان خواتین کی عقل اور دین میں کیا کمی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”جہاں تک ان کی عقل کا تعلق ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ دو خواتین کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوتی ہے؛ جہاں تک ان کے دین کی کمی کا تعلق ہے، تو اس کی صورت یہ ہے کہ ہر عورت پر کچھ ایسے دن آتے ہیں جن میں وہ ایک بھی نماز ادا نہیں کر سکتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3323]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3323، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2788، 8881، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9212، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1047، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3639، والحميدي فى (مسنده) برقم: 92» «رقم طبعة با وزير 3313»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (6106)، «الظلال» (2/ 463 - 464): م - عن أبي هريرة وابن عمر مرفوعاً كله. * [وَائِلِ بْنِ مُهَانَةَ] قال الشيخ: لم يذكروا له راوياً غير ذرّ - وهو ابن عبد الله المرهبي -، ولذلك قال الذهبيُّ: «لا يُعرَفُ»، ولم يُوَثِّقه غير المؤلِّف (5/ 495) على القاعدةِ. وقال الحافظ «مقبولٌ» - يعني: عند المتابعة -. قلت: وقد تَفَرَّد بِقول عَبد الله فيه: «ما مِنْ ناقصات العقل ... مِنَ النساء» على أنَّهُ قد صحَّ نَحوه في بعض الأحاديث، لحديث زينب امرأة ابن مسعود (4234). تنبيه!! رقم (4234) = (4248) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
111. صدقة التطوع - ذكر الأمر للمرء بإطعام الجياع وفك الأسارى من أيدي أعداء الله الكفرة
نفلی صدقہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی بھوکوں کو کھانا کھلائے اور اللہ کے کافر دشمنوں کے ہاتھوں سے قیدیوں کو آزاد کرائے
حدیث نمبر: 3324
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفِيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ" ، قَالَ سُفِيَانُ: الْعَانِي الأَسِيرُ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بھوکے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو رہا کرواؤ۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: (روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ) «الْعَانِي» سے مراد قیدی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3324]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3046، 5174، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3324، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7450، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3105، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2508، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6671، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19826» «رقم طبعة با وزير 3314»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج مشكلة الفقر» (112): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
112. صدقة التطوع - ذكر ما يستحب للإمام سؤال رعيته الصدقة على الفقراء إذا علم الحاجة بهم
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر جو امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی رعایا سے فقراء کی ضرورت معلوم ہونے پر ان کے لیے صدقہ مانگے
حدیث نمبر: 3325
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، يوم فطر، وخرج رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ خَطَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَوْمُ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا"، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْزِعُ خَاتَمَهُ، وَالرَّجُلُ يَنْزِعُ ثَوْبَهُ، وَبِلالٌ يَقْبِضُ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ أَحَدًا يُعْطِي شَيْئًا، تَقَدَّمَ إِلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِنَّ هَذَا يَوْمُ صَدَقَةٍ، فَتَصَدَّقْنَ"، فَجَعَلْتِ الْمَرْأَةُ تَنْزِعُ خُرْصَهَا وَخَاتَمَهَا، وَجَعَلْتِ الْمَرْأَةُ تَنْزِعُ خُلْخَالَهَا، وَبِلالٌ يَقْبِضُ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ أَحَدًا يُعْطِي شَيْئًا أَقْبَلَ بِلالٌ وَأَقْبَلْنَا .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما عیدالفطر کے دن نکلے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی عیدگاہ کی طرف تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! یہ صدقہ کرنے کا دن ہے، تو تم لوگ صدقہ و خیرات کرو۔“ راوی کہتے ہیں: تو کسی نے اپنی انگوٹھی اتاری، کسی نے اپنا کپڑا اتارا (یعنی اضافی چادر اتاری)، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ انہیں وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کوئی شخص ایسا نہیں رہا جس نے کچھ دینا ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی طرف بڑھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خواتین کے گروہ! یہ صدقہ کرنے کا دن ہے، تو تم صدقہ کرو۔“ تو کسی عورت نے اپنا ہار اتارا، کسی نے انگوٹھی اتاری، کسی نے اپنی پازیبیں اتاریں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ انہیں وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ کیا کہ کوئی دینے والا باقی نہیں رہا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ واپس آ گئے اور ہم بھی واپس آ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3325]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 98، 863، 960، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 884، وابن الجارود فى "المنتقى"، 285، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1436، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2818، 2823، 2824، 3322، 3325، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1100، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1142، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1273، 1274، 1291، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1927» «رقم طبعة با وزير 3315»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح إسناده ضعيف
113. صدقة التطوع - ذكر الخبر الدال على أن المتصدقين في الدنيا هم الأفضلون في العقبى
نفلی صدقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا میں صدقہ دینے والے آخرت میں افضل ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 3326
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَسَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَرَّةِ الْمَدِينَةِ مُمْسِيًا، فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا"، يَعْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، ثُمَّ قَالَ لِي:" لا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ"، فَانْطَلَقَ، ثُمَّ جَاءَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ ضِرَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ، فَجَلَسْتُ حَتَّى جَاءَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ آتِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ لِي، وَسَمِعْتُ صَوْتًا، قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَنِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَقُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ فَقَالَ:" وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ" ، قَالَ جَرِيرٌ : قَالَ الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ شَرْطَانِ: أَحَدُهُمَا: أَنَّ مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ تَفَضَّلُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِ بِالْعَفُوِ عَنْ جِنَايَاتِهِ الَّتِي لَهُ فِي دَارِ الدُّنِيَا، لأَنَّ الْمَرْءَ لا يَخْلُو مِنَ ارْتِكَابِ بَعْضِ مَا حُظِرَ عَلَيْهِ فِي الدُّنِيَا، أُضْمِرَ فِي الْخَبَرِ هَذَا الشَّرْطُ، وَالشَّرْطُ الثَّانِي: مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، يُرِيدُ بَعْدَ تَعْذِيبِهِ إِيَّاهُ فِي النَّارِ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهَا، إِنْ لَمْ يَتَفَضَّلْ عَلَيْهِ بِالْعَفُوِ قَبْلَ ذَلِكَ، لِئَلا يَبْقَى فِي النَّارِ مَعَ مَنْ أَشْرَكَ بِهِ فِي الدُّنِيَا، فَهَذَانِ الشَّرْطَانِ مُضْمَرَانِ فِي هَذَا الْخَبَرِ، لا أَنَّ كُلَّ مَنْ مَاتَ وَلا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ لا مَحَالَةَ.
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: اللہ کے نام کی گواہی دے کر میں یہ بات بیان کرتا ہوں، میں نے ربذہ میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ میں شام کے وقت مدینہ منورہ کے پتھریلے علاقے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، ہمارے سامنے احد پہاڑ آ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور پھر اس سے تیسرے دن شام کے وقت میرے پاس ان میں سے ایک بھی دینار باقی ہو، ماسوائے اس دینار کے، جسے میں نے قرض کی واپسی کے لیے سنبھال کے رکھا ہو، میں اس سونے کے بارے میں اللہ کے بندوں کے بارے میں یہی کہتا رہوں گا کہ اسے اتنا دے دو، اسے اتنا دے دو، یعنی اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں خرچ کرتا رہوں گا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن (اجر و ثواب کے حوالے سے) کمی رکھنے والے ہوں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی جگہ پر رہنا، جب تک میں تمہارے پاس آتا نہیں ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی پھیل جانے کے بعد تشریف لائے۔ میں نے ایک آواز سنی، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو، میں روانہ ہونے لگا، پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یاد آئی، تو میں اپنی جگہ بیٹھا رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی تشریف لے آئے؛ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے پہلے یہ ارادہ کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہوں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مجھے یاد آ گیا، میں نے ایک آواز سنی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، وہ میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت کا جو بھی شخص ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے دریافت کیا: اگرچہ وہ زنا کرے یا وہ چوری کرے؟ انہوں نے کہا: ”اگرچہ وہ زنا کرے یا چوری کرے۔“ جریر نامی راوی کہتے ہیں: یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں دو وضاحتیں پوشیدہ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے: جو شخص ایسی حالت میں مر جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اس کے ان گناہوں کو معاف کر دے جن کا ارتکاب اس نے دنیا میں کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں کسی نہ کسی ممنوعہ چیز کا ارتکاب کر ہی لیتا ہے، تو اس روایت میں یہ شرط پوشیدہ ہو گی؛ اور دوسری شرط یہ ہے: کوئی شخص ایسی حالت میں انتقال کرتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں کچھ عرصہ کے لیے عذاب دے گا۔ ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یہ اس وقت ہو گا جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اسے معاف نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے تاکہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں جو دنیا میں کسی کو اس کا شریک ٹھہراتے تھے، تو یہ دونوں شرطیں اس روایت میں پوشیدہ ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جو ایسی حالت میں انتقال کر جائے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ لامحالہ طور پر جنت میں داخل ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3326]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) 1/395، بدون ترقيم، 3326، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10897، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28137» «رقم طبعة با وزير 3316»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (826): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
114. صدقة التطوع - ذكر البيان بأن المرء لا بقاء له من ماله إلا ما قدم لنفسه لينتفع به يوم فقره وفاقته بارك الله لنا في ذلك اليوم
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کے مال سے وہی باقی رہتا ہے جو اس نے اپنے لیے آگے بھیجا تاکہ وہ اپنی فقر اور حاجت کے دن اس سے نفع اٹھائے، اللہ ہمیں اس دن میں برکت دے
حدیث نمبر: 3327
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ:" أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ سورة التكاثر آية 1"، قَالَ: " يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ" .
مطرف بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت یہ آیت ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر: 1] ”کثرت تمہیں غافل کر دے گی“ تلاوت کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم کا بیٹا کہتا ہے: میرا مال میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے، جسے تم کھا کر فنا کر دو یا، جسے تم پہن کر پرانا کر دو، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3327]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2958، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 701، 3327، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3991، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3615، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2342، 3354، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7201، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16563» «رقم طبعة با وزير 3317»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (699). تنبيه!! رقم (699) = (701) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
115. صدقة التطوع - ذكر الإخبار عما يكون للمرء من ماله في أولاده وعقباه
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے مال سے اس کے بچوں اور نسلوں کے لیے کیا ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3328
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي، وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ تَصَدَّقَ فَأَمْضَى، وَمَا سِوَاهُ، فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بندہ کہتا ہے: میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں سے اس کا حصہ صرف وہ ہے جسے وہ کھا کر فنا کر دے یا پہن کر پرانا کر دے یا صدقہ کر کے آگے بھیج دے، اس کے علاوہ جو بھی ہے، تو آدمی چلا جائے گا اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3328]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2959، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3244، 3328، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6606، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8935، 9463» «رقم طبعة با وزير 3318»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 210). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم