🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
175. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الزجر عن الإلحاف في المسألة وإن كان المرء مضطرا
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اصرار کے ساتھ مانگے، چاہے وہ مجبور ہی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3389
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، سَمِعَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، فَوَاللَّهِ لا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا، وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ، فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ" .
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مانگتے ہوئے چمٹ نہ جایا کرو، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص جو بھی چیز مانگتا ہے اور اس کے مانگنے کی وجہ سے میں ناپسندیدگی کے عالم میں وہ چیز اسے دے دیتا ہوں، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3389]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1038، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3389، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2377، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2592، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7967، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17167، والحميدي فى (مسنده) برقم: 615» «رقم طبعة با وزير 3380»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
176. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر السبب الذي به يصير السائل ملحفا
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر سائل ملحف بن جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3390
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ فَهُوَ مُلْحِفٌ" ، قَالَ: قُلْتُ: الِيَاقُوتَةُ نَاقَتِي خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، قَالَ: وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص (دوسرے سے کچھ) مانگے، حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چاندی) موجود ہو، تو وہ شخص لپٹ کر سوال کرنے والا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سوچا میری اونٹنی یاقوتہ تو ایک اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3390]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2447، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3390، 3398، 3399، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2594، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2387، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1628، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13333، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1988، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11145» «رقم طبعة با وزير 3381»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (1440). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
177. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الزجر عن سؤال المرء يريد التكثير دون الاستغناء والتقوت
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی کثرت کے ارادے سے مانگے نہ کہ استغنا اور قوت کے لیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3391
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ السَّكَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ مَالَهُ فَإِنَّمَا هُوَ رَضْفٌ مِنَ النَّارِ يَتَلَهَّبُهُ، مَنْ شَاءَ فَلِيُقِلَّ، وَمَنْ شَاءَ فَلِيُكْثِرْ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص لوگوں سے اس لیے مانگتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرے، تو وہ جہنم کے انگارے جمع کر رہا ہے، اب جو چاہے وہ تھوڑے اکٹھے کرے، جو چاہے وہ زیادہ اکٹھے کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3391]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3391، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 282، 283، 284، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 10778» «رقم طبعة با وزير 3382»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 5 - 6). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
178. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الزجر عن أن يسأل المستغني أحدا شيئا من حطام هذه الدنيا الفانية
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مستغنی کوئی چیز اس فانی دنیا کے مال سے مانگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3392
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِينِي مِنْكُمْ لَيَسْأَلَنِي فَأُعْطِيهِ، فَيَنْطَلِقُ وَمَا يَحْمِلُ فِي حِضْنِهِ إِلا النَّارَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کچھ مانگتا ہے، تو میں اسے دے دیتا ہوں، وہ چلا جاتا ہے، حالانکہ اس نے اپنے دامن میں صرف آگ کو اٹھایا ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3392]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3392، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1113، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 928، 938» «رقم طبعة با وزير 3383»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق» -أيضا- (2/ 8). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
179. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الخبر المصرح بصحة ما تأولنا الخبر الذي تقدم ذكرنا له
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے بیان کردہ خبر کی تاویل کی صحت کو واضح کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3393
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ مِنْ أَمُوَالِهِمْ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلِيَسْتَقِلَّ مِنْهُمْ، أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو لوگوں سے ان کے مال میں سے مانگتا ہے وہ انگارہ مانگتا ہے، اب اس کی مرضی ہے کہ وہ تھوڑا مانگے یا زیادہ مانگے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3393]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1041، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3393، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1838، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7966، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7284، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6087، والبزار فى (مسنده) برقم: 9778، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 10776، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3029» «رقم طبعة با وزير 3384»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
180. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر البيان بأن مسألة المستغني بما عنده إنما هي الاستكثار من جمر جهنم نعوذ بالله منها
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کا بیان کہ مستغنی کا اپنی موجود چیز سے مانگنا جہنم کی آگ سے کثرت مانگنا ہے، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3394
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبِرْتِيُّ ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنَ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الأَقْرَعَ وَعُيَيْنَةَ سَأَلا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا، وَخَتَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا، فَأَمَّا عُيَيْنَةَ، فَقَالَ: مَا فِيهِ؟ فَقَالَ: فِيهِ الَّذِي أَمَرْتَ بِهِ، فَقَبَّلَهُ وَعَقْدَهُ فِي عِمَامَتِهِ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ، وَأَمَّا الأَقْرَعُ، فَقَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً لا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ، فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَتِهِ، فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ فِي آخِرِ النَّهَارِ، وَهُوَ فِي مَكَانَهِ، فَقَالَ:" أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟"، فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ: " اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ، ارْكَبُوهَا صِحَاحًا، وَكُلُوهَا سِمَانًا، كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ شَيْئًا وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ:" مَا يُغَدِّيهِ، أَوْ يُعَشِّيهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يُغَدِّيهِ، أَوْ يُعَشِّيهِ"، أَرَادَ بِهِ عَلَى دَائِمِ الأَوْقَاتِ حَتَّى يَكُونَ مُسْتَغْنِيًا بِمَا عِنْدَهُ، أَلا تَرَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ:" لا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ"، فَجَعَلَ الْحَدَّ الَّذِي تَحْرُمُ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِهِ هُوَ الْغِنَى عَنِ النَّاسِ، وَبِيَقِينٍ نَعْلَمُ أَنَّ وَاجِدَ الْغَدَاءِ أَوِ الْعِشَاءِ لَيْسَ مِمَّنِ اسْتَغْنَى عَنْ غَيْرِهِ حَتَّى تَحْرُمَ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، عَلَى أَنَّ الْخِطَابَ وَرَدَ فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ صَدَقَةُ الْفَرِيضَةِ دُونَ التَّطَوُّعِ.
سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ اقرع اور عیینہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان کے لیے ایک تحریر لکھ دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مہر لگا دی اور وہ تحریر ان دونوں کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔ عیینہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اس میں کیا ہے؟ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اس میں وہ چیز ہے، جس کے بارے میں تمہیں دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس نے اسے قبول کیا اور اسے اپنے عمامے میں رکھ لیا، وہ ان دونوں آدمیوں میں زیادہ سمجھدار تھا، لیکن اقرع رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں ایک ایسے صحیفے کو اٹھا لوں جس کے بارے میں مجھے پتہ ہی نہیں کہ اس میں کیا تحریر ہے، یہ تو ایک ایسے صحیفے کی مانند ہو گا جو غلط فہمی کا شکار کر دیتا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے قول کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں باہر تشریف لائے۔ دن کے ابتدائی حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے تھے جو مسجد کے دروازے کے باہر بٹھایا گیا تھا، پھر دن کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے وہ اسی جگہ موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا مالک کہاں ہے؟“ اسے تلاش کیا گیا، لیکن وہ نہیں ملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب یہ تندرست ہوں، انہیں کھلا کر موٹا تازہ رکھو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پہلے کے واقعے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”جو شخص کوئی چیز مانگتا ہے اور اس کے پاس ایسی چیز موجود ہو، جس کی وجہ سے اسے مانگنے کی ضرورت نہ ہو، تو وہ شخص جہنم کے انگارے زیادہ کر رہا ہوتا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کو مانگنے کی ضرورت نہ ہونے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کے پاس صبح اور شام کا کھانا موجود ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جو کچھ وہ صبح کرتا ہے اور شام کو کرتا ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے، جو وہ ہمیشہ کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”صدقہ دینا کسی خوشحال شخص کے لیے اور کام کرنے والے تندرست شخص کے لیے جائز نہیں ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں صدقہ حرام ہونے کی حد اس چیز کو قرار دیا ہے جس کی وجہ سے آدمی لوگوں سے بے نیاز ہو جائے۔ آپ یہ بات یقینی طور پر جانتے ہیں کہ جس شخص کے پاس صبح اور شام کا کھانا موجود ہو وہ ان افراد میں شامل نہیں ہوتا جو دوسروں سے بے نیاز ہو جائیں، یہاں تک کہ اس کے لیے صدقہ لینا حرام ہو جائے۔ اس بنیاد پر کہ ان روایات میں روایت کے الفاظ عمومی طور پر منقول ہوئے ہیں، لیکن اس سے مراد فرض صدقہ ہے، نفلی صدقہ مراد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3394]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2391، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 545، 3394، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1629، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13335، 13336، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17900» «رقم طبعة با وزير 3385»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1441). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
181. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الخصال المعدودة التي أبيح للمرء المسألة من أجلها
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس گنتی خصوصیات کا ذکر جن کی وجہ سے آدمی کے لیے مانگنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3395
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، فَاسْتَعَانَ بِهِ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِهِ فِي نِكَاحِ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهُمْ شَيْئًا، فَانْطَلَقُوا مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ كِنَانَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَيِّدُ قَوْمِكَ، وَأَتَوْكَ يَسْأَلُونَكَ، فَلَمْ تُعْطِهِمْ شَيْئًا، قَالَ: أَمَّا فِي هَذَا، فَلا أُعْطِي شَيْئًا، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ، تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فِي قَوْمِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ وَسَأَلْتُهُ أَنْ يُعِينَنِي، فَقَالَ:" بَلْ نَحْمِلُهَا عَنْكَ يَا قَبِيصَةُ، وَنُؤَدِّيهَا إِلَيْهِمْ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ إِلا لِثَلاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ، حَتَّى يُؤَدِّيَهَا، أَوْ رَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، فَشَهِدَ لَهُ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَالْمَسْأَلَةُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ:" وَالْمَسْأَلَةُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ" أَرَادَ بِهِ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ فِي سِوَى هَذِهِ الأَشِيَاءِ الثَّلاثَةِ مِنَ السُّلْطَانِ عَنْ فَضْلِ حِصَّتِهِ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ سُحْتٌ، لأَنَّ الْمَسْأَلَةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ الْخِصَالِ الثَّلاثَةِ مِنْ غَيْرِ السُّلْطَانِ عَنْ غَيْرِ بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ تَكُونَ سُحْتًا إِذَا كَانَ مُسْتَغْنٍ بِمَا عِنْدَهُ.
کنانہ عدوی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کی قوم کے کچھ افراد نے اپنی قوم کے ایک شخص کی شادی کے بارے میں ان سے مدد مانگی، تو انہوں نے اسے کچھ دینے سے انکار کر دیا، وہ لوگ ان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ کنانہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: آپ اپنی قوم کے سردار ہیں، وہ لوگ آپ کے پاس کچھ مانگنے آئے تھے، آپ نے انہیں کچھ بھی نہیں دیا، تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے، تو میں انہیں کچھ بھی نہیں دوں گا، میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں۔ ایک مرتبہ میں نے اپنی قوم کی کوئی ادائیگی اپنے ذمے لے لی، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ! تمہاری طرف سے ادائیگی ہم اپنے ذمے لیتے ہیں اور صدقے کے اونٹوں میں سے ان لوگوں کو ادائیگی کر دیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہوتا ہے: ایک وہ شخص جس کے ذمے ادائیگی لازم ہو، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس ادائیگی کو کر دے؛ یا جسے کوئی آفت لاحق ہو جائے، اس کے نتیجے میں اس کا مال ضائع ہو جائے، تو جب تک اس کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سامان نہیں ہوتا، اس وقت تک اس کے لیے مانگنا جائز ہے؛ اور ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو جائے، اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس کے بارے میں گواہی دیں کہ اس کے لیے مانگنا جائز ہو گیا ہے، تو اس شخص کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے لیے اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سامان ہو جائے، اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: حاکمِ وقت سے بیت المال میں سے اپنے مخصوص حصے سے اضافی طور پر ان تین چیزوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: ان تین خصوصیات کے علاوہ کی صورت میں حاکمِ وقت کے علاوہ کسی اور سے مانگنا مسلمانوں کے بیت المال میں سے وصولی نہ ہو۔ اس وقت حرام ہو گا جب انسان کے پاس اتنا کچھ موجود نہ ہو جس کی موجودگی میں (کسی سے مانگنے سے) بے نیاز ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3395]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1044، وابن الجارود فى "المنتقى"، 404، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2359، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3291، 3395، 3396، 4830، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2578، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1640، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11518، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1995، 1996، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16161» «رقم طبعة با وزير 3386»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1448): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3396
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلالِيِّ ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ مِنْهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَجِيئَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ:" يَا قَبِيصَةُ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ إِلا لإِحْدَى ثَلاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلانًا فَاقَةٌ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا" .
کنانہ بن نعیم عدوی سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے ایک ادائیگی اپنے ذمے لے لی، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اس کے بارے میں مدد مانگوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے قبیصہ! تم ٹھہرے رہو، جب ہمارے پاس (صدقے کا مال) آئے گا، تو ہم تمہیں دینے کا حکم دے دیں گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے قبیصہ! مانگنا تین میں سے کسی ایک شخص کے لیے جائز ہے: ایک وہ شخص جس کے ذمے کوئی ادائیگی ہو، اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس ادائیگی کو کر دے، تو اس (مانگنے) سے رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے آفت لاحق ہو جس کے نتیجے میں اس کا مال ضائع ہو جائے، اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ اور ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ لاحق ہوا ہے، اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کر سکے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ اے قبیصہ! اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جسے مانگنے والا حرام کے طور پر کھاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3396]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1044، وابن الجارود فى "المنتقى"، 404، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2359، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3291، 3395، 3396، 4830، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2578، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1640، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11518، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1995، 1996، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16161» «رقم طبعة با وزير 3387»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
182. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لخبر قبيصة بن مخارق الذي ذكرناه
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ قبصہ بن مخارق کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3397
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ فِي أَمْرٍ لا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا" .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مانگنا خراش ڈالنا ہے، جس کے ذریعے آدمی اپنے چہرے پر خراش ڈالتا ہے، تو جو شخص چاہے وہ اسے اپنے چہرے پر باقی رہنے دے اور جو شخص چاہے اسے ترک کر دے، البتہ حکمران (یا متعلقہ سرکاری اہل کار سے حکومتی آمدن میں سے) مانگا جا سکتا ہے یا کسی ایسی صورت میں مانگا جا سکتا ہے جو انتہائی مجبوری ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3397]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3386، 3397، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2598، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1639، والترمذي فى (جامعه) برقم: 681، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7971، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20423» «رقم طبعة با وزير 3388»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (3377). تنبيه!! رقم (3377) = (3386) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
183. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الأمر للمرء بالاستغناء بالله جل وعلا عن خلقه إذ فاعله يغنيه الله جل وعلا بتفضله
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اللہ جل وعلا پر بھروسہ کرے اس کی مخلوق سے مستغنی ہو، کیونکہ ایسا کرنے والے کو اللہ اپنے فضل سے غنی کر دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3398
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحِيَى السَّاجِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَمِعْتُهُ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفُّهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَنَا أَعْطَيْنَاهُ" ، قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَأَنَا الِيَوْمَ أَكْثَرُ الأَنْصَارِ مَالا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرا یہ ارادہ تھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگوں گا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبے کے دوران یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص بے نیازی اختیار کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز رکھتا ہے، جو شخص مانگنے سے بچتا ہے اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے گا ہم اسے دے دیں گے۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں واپس آ گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں مانگا اور آج انصار میں میرے پاس سب سے زیادہ مال ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3398]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2447، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3390، 3398، 3399، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2594، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2387، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1628، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13333، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1988، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11145» «رقم طبعة با وزير 3389»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (1451). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں