صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
165. فصل ذكر الخصال التي تقوم لمعدم المال مقام الصدقة لباذلها - ذكر كتبة الله جل وعلا الصدقة بكل معروف يفعله قولا وفعلا
ان اوصاف کا بیان جن کے ذریعے تنگدست شخص صدقہ دینے والے کے برابر اجر پا سکتا ہے - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا ہر معروف عمل سے صدقہ لکھتا ہے جو قولاً اور فعلاً کیا جائے
حدیث نمبر: 3379
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر نیکی صدقہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3379]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6021، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3379، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2324، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1970، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21194، 21195، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2895، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14936» «رقم طبعة با وزير 3370»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
166. فصل ذكر الخصال التي تقوم لمعدم المال مقام الصدقة لباذلها - ذكر تفاصيل المعروف الذي يكون صدقة المسلم
ان اوصاف کا بیان جن کے ذریعے تنگدست شخص صدقہ دینے والے کے برابر اجر پا سکتا ہے - اس معروف کی تفصیلات کا ذکر جو مسلمان کے لیے صدقہ ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3380
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ، وَحَمِدَهُ، وَهَلَّلَ اللَّهَ، وَسَبِّحَ اللَّهَ، وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ، وَعَزَلَ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِهِمْ، وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ، وَنَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلاثِ مِائَةٍ، فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ بنائے ہیں، تو جو شخص تین سو ساٹھ کی تعداد میں (درج ذیل کام کرتا ہے) وہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھتا ہے، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ پڑھتا ہے، «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“ پڑھتا ہے، «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ پڑھتا ہے، «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ» ”استغفر اللہ“ پڑھتا ہے، لوگوں کے راستے سے ہڈی کو ہٹا دیتا ہے، ان کے راستے سے پتھر کو ہٹا دیتا ہے، نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے (وہ یہ سب کام تین سو ساٹھ مرتبہ کر لیتا ہے)، تو وہ شام کے وقت ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم سے بچا لیا ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3380]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1007، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3380، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10605، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7916، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4589، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 19838، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 97، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 405» «رقم طبعة با وزير 3371»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
167. فصل ذكر الخصال التي تقوم لمعدم المال مقام الصدقة لباذلها - ذكر الأشياء التي يكتب لمستعملها بها الصدقة
ان اوصاف کا بیان جن کے ذریعے تنگدست شخص صدقہ دینے والے کے برابر اجر پا سکتا ہے - اس چیزوں کا ذکر جن کے استعمال سے اس کے لیے صدقہ لکھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 3381
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ سُلامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ: كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ، وَيَحْمِلُهُ عَلَيْهَا، وَيَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ، وَيُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ کرنا لازم ہے ہر اس دن میں جس میں سورج طلوع ہوتا ہے (یعنی روزانہ ایسا کرنا لازم ہے)؛ آدمی کا دو آدمیوں کے درمیان انصاف کروا دینا، اور آدمی کا کسی دوسرے شخص کے جانور پر سوار ہونے میں اس کی مدد کرنا اور اس کا وزن اس پر لدوا دینا اور اس کا سامان اس کے لیے اٹھوا دینا، اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا (یہ سب کام) صدقہ ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3381]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2707، 2891، 2989، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1009، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1493، 1494، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 472، 3381، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5956، 7914، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8226» «رقم طبعة با وزير 3372»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1025). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط صحيح
168. باب ذكر الإخبار عن إباحة تعداد النعم للمنعم على المنعم عليه في الدنيا
اس بیان کا باب جس میں منعم کے لیے دنیا میں منعم علیہ پر اپنی نعمتوں کا ذکر کرنا جائز بتایا گیا ہے - اس بات کی اطلاع کہ دنیا میں نعمت دینے والے کے لیے نعمتوں کی گنتی کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 3382
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ رَبِّي وَرَبَّكَ يَقُولُ لَكَ: " كَيْفَ رَفَعْتُ ذِكْرَكَ؟"، قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" إِذَا ذُكِرْتُ ذُكِرْتَ مَعِي" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بتایا کہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا ہے: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو کیسا بلند کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے، تو انہوں نے بتایا: (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:) جب میرا ذکر کیا جائے گا، تو میرے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3382]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3382، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1380» «رقم طبعة با وزير 3373»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (1746). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
169. باب ذكر الإخبار عن إباحة تعداد النعم للمنعم على المنعم عليه في الدنيا - ذكر الإخبار عن نفي دخول الجنة عن المنان بما أعطى في ذات الله
اس بیان کا باب جس میں منعم کے لیے دنیا میں منعم علیہ پر اپنی نعمتوں کا ذکر کرنا جائز بتایا گیا ہے - اس بات کی اطلاع کہ جو شخص اللہ کی راہ میں دیے ہوئے پر احسان جتاتا ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا
حدیث نمبر: 3383
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالْمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ زِنِيَةٍ، وَلا مَنَّانٌ، وَلا عَاقٌّ، وَلا مُدْمِنُ خَمْرٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَى نَفِيِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنِيَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ، وَوَلَدُ الزِّنِيَةِ لَيْسَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَوْزَارِ آبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ شَيْءٌ، أَنَّ وَلَدَ الزِّنِيَةِ عَلَى الأَغْلَبِ يَكُونُ أَجْسَرَ عَلَى ارْتِكَابِ الْمَزْجُورَاتِ، أَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ وَلَدَ الزِّنِيَةِ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ جَنَّةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ ذِي الزِّنِيَةِ مِمَّنْ لَمْ تَكْثُرْ جَسَارَتُهُ عَلَى ارْتِكَابِ الْمَزْجُورَاتِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ، احسان جتانے والا شخص، (والدین کا) نافرمان اور باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے جنت میں داخل ہونے کی نفی کرنا، حالانکہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پر اس کے ماں باپ کے گناہ کا بوجھ نہیں ہونا چاہیے؛ اس کا مفہوم یہ ہے کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے عام طور پر ممنوعہ چیزوں کا زیادہ ارتکاب کرتے ہیں، اس لیے اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہو گی کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ جنت کے اس حصے میں داخل نہیں ہو گا جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو زنا کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئے تھے اور ممنوعہ کاموں کا زیادہ ارتکاب نہیں کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3383]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3383، 3384، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5688، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4894، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2138، 2139، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20047، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6648» «رقم طبعة با وزير 3374»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الصحيحة» (673). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
170. باب ذكر الإخبار عن إباحة تعداد النعم للمنعم على المنعم عليه في الدنيا - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أن هذا الإسناد منقطع
اس بیان کا باب جس میں منعم کے لیے دنیا میں منعم علیہ پر اپنی نعمتوں کا ذکر کرنا جائز بتایا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ اسناد منقطع ہے
حدیث نمبر: 3384
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ، وَلا مَنَّانٌ، وَلا مُدْمِنُ خَمْرٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: اخْتَلَفَ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْخَبَرِ، فَقَالَ الثَّوْرِيُّ: عَنْ سَالِمِ، عَنْ جَابَانَ، وَهُمَا ثِقَتَانِ حَافِظَانِ إِلا أَنَّ الثَّوْرِيَّ كَانَ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ أَهْلِ بَلَدِهِ مِنْ شُعْبَةَ، وَأَحْفَظُ لَهَا مِنْهُ، وَلا سِيَّمَا حَدِيثَ الأَعْمَشِ، وَأَبِي إِسْحَاقَ، وَمَنْصُورٍ، فَالْخَبَرُ مُتَّصِلٌ، عَنْ سَالِمِ، عَنْ جَابَانَ، فَمَرَّةٌ رُوِيَ كَمَا قَالَ شُعْبَةُ، وَأُخْرَى كَمَا قَالَ سُفِيَانُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(والدین کا) نافرمان شخص، احسان جتلانے والا شخص اور باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شعبہ اور ثوری نے اس روایت کی سند میں اختلاف کیا ہے، ثوری یہ کہتے ہیں کہ یہ سالم کے حوالے سے جابان کے حوالے سے منقول ہے اور یہ دونوں ثقہ اور حافظ ہیں۔ البتہ ثوری اپنے شہر کے افراد کی احادیث کے بارے میں شعبہ سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور ان روایات کے بارے میں شعبہ سے زیادہ بڑے حافظ ہیں، بطور خاص وہ روایات جو اعمش، ابواسحاق اور منصور سے منقول ہیں۔ اس لیے سالم کے حوالے سے جابان سے منقول یہ روایت متصل ہو گی، تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے اس طرح روایت کر دیا جس طرح شعبہ نے بیان کیا ہے اور ایک مرتبہ اس طرح روایت کر دیا جس طرح سفیان نے بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3384]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3383، 3384، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5688، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4894، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2138، 2139، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20047، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6648» «رقم طبعة با وزير 3375»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
171. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان -
حدیث نمبر: 3385
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لأَصْحَابِهِ:" أَلا تُبَايعُونِي؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ بَايَعْنَاكَ مَرَّةً، فَعَلَى مَاذَا نُبَايعُكَ؟ قَالَ: " تُبَايعُونِي عَلَى أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ"، ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ كَلَمَةً خَفِيفَةً" عَلَى أَنْ لا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا"، أَرَادَ بِهِ الأَمْرَ بِتَرْكِ الشِّرْكِ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى أَنْ لا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا"، أَرَادَ بِهِ الأَمْرَ بِتَرْكِ الْمَسْأَلَةِ.
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کیا تم لوگ میری بیعت نہیں کرو گے؟“ تو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر چکے ہیں، ہم کس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گے، تم نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے“، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں یہ الفاظ کہے: ”اور اس بات پر کہ تم لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اس بات پر کہ تم اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گے“، اس سے آپ کی مراد شرک نہ کرنے کا حکم دینا ہے۔ اسی طرح کا یہ فرمان: ”اس بات پر کہ تم لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے“، اس سے آپ کی مراد نہ مانگنے کا حکم دینا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3385]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1043، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3385، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 459، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1642، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2867، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7969، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24626» «رقم طبعة با وزير 3376»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1449): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
172. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر البيان بأن الأمر بترك المسألة بلفظ العموم الذي تقدم ذكرنا له إنما هو أمر ندب لا حتم
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کا بیان کہ مانگنے سے منع کرنے کا حکم جو ہم نے پہلے عام الفاظ میں ذکر کیا، وہ استحباب کا ہے نہ کہ وجوب کا
حدیث نمبر: 3386
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ: قَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْأَلَنِي؟ فَقَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ يَنْزِلَ بِهِ أَمْرٌ لا يَجِدُ مِنْهُ بَدًّا" .
زید بن عقبہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ حجاج نے ان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ مجھ سے کچھ مانگتے نہیں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ مانگنا ایک خراش ڈالنا ہے، جو آدمی اپنے چہرے پر ڈال لیتا ہے، تو جو شخص چاہے وہ اسے اپنے چہرے پر باقی رہنے دے اور جو شخص چاہے وہ ایسا نہ کرے، مگر یہ کہ جو شخص حاکمِ وقت (یا متعلقہ سرکاری اہل کار) سے مانگے یا وہ شخص جسے کوئی ایسی صورتِ حال پیش ہو کہ مانگنا اس کی مجبوری ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3386]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3386، 3397، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2598، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1639، والترمذي فى (جامعه) برقم: 681، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7971، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20423» «رقم طبعة با وزير 3377»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1447). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
173. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الزجر عن فتح المرء على نفسه باب المسألة بعد أن أغناه الله جل وعلا عنها
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنے آپ پر مانگنے کا دروازہ کھولے جب اللہ جل وعلا نے اسے اس سے مستغنی کر دیا ہو
حدیث نمبر: 3387
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يُفْتَحُ إِنْسَانٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، لأَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ حَبْلا إِلَى جَبَلٍ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، وَيَأْكُلَ مِنْهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ مُعْطًى أَوْ مَمْنُوعًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مانگنے کا دروازہ جب بھی آدمی اپنے لیے کھولتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے، آدمی ایک رسی لے کر اس کے ذریعے لکڑیوں کا گٹھا بنا کر اپنی پشت پر رکھ کر (اسے بازار میں جا کر فروخت کر کے) اس کو کھائے، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے اور اسے کچھ دیا جائے یا نہ دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3387]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1470، 1480، 2074، 2374، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1042، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3661، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1040، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3387، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2583، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3994، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7607، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1087» «رقم طبعة با وزير 3378»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2543). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
174. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من مجانبة الإكثار من السؤال
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کی اطلاع جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ زیادہ مانگنے سے بچے
حدیث نمبر: 3388
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلاثًا، وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلاثًا، يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا، وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلاهُ اللَّهُ أَمَرَكُمْ، وَيَسْخَطُ لَكُمْ قِيلَ، وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتوں سے راضی ہے اور تمہارے لیے تین باتوں کو ناپسند کرتا ہے؛ تمہارے لیے اس بات سے راضی ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور تم سب لوگ اس (حکمران) کی خیر خواہی کرو جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے امور کا نگران بنایا ہے، اور وہ تمہارے لیے ان باتوں کو ناپسند کرتا ہے: قیل و قال کرنا، مال کو ضائع کرنا اور بکثرت مانگنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3388]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1715،، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3632، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3388، 4560، 5720، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16753، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8449، 8839، 8921، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6591، والبزار فى (مسنده) برقم: 8463» «رقم طبعة با وزير 3379»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (685): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما