🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
549. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف مصالحة المسلمين الروم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسلمانوں اور روم کی مصالحت کی وصف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6708
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ذِي مِخْبَرِ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًَا حَتَّى تَغْزُوا أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ، فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الرُّومِ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، وَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: بَلِ اللَّهُ غَلَبَ، فَيَثُورُ الْمُسْلِمُ إِِلَى صَلِيبِهِمْ وَهُوَ مِنْهُ غَيْرُ بَعِيدٍ فَيَدُقُّهُ، وَتَثُورُ الرُّومُ إِِلَى كَاسِرِ صَلِيبِهِمْ، فَيَضْرِبُونَ عُنُقَهُ، وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِِلَى أَسْلِحَتِهِمْ فَيَقْتَتِلُونَ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِالشَّهَادَةِ، فَتَقُولُ الرُّومُ لِصَاحِبِ الرُّومِ: كَفَيْنَاكَ الْعَرَبَ، فَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ، فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ، جو نجاشی کے بھتیجے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ اہل روم کے ساتھ صلح کرو گے جو امن والی ہو گی، یہاں تک کہ تم اور وہ لوگ مل کر ایک ایسے دشمن کے ساتھ جنگ کرو گے جو ان کے علاوہ ہو گا، تو تم لوگوں کی مدد کی جائے گی، تم لوگ مال غنیمت حاصل کرو گے، پھر تم لوگ واپس آؤ گے یہاں تک کہ تم ٹیلوں والی چراگاہ میں پڑاؤ کرو گے، تو اہل روم میں سے ایک شخص کہے گا: صلیب غالب آئی ہے، اور مسلمانوں میں سے ایک شخص کہے گا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا ہے، تو وہ مسلمان ان کی صلیب کی طرف بڑھے گا جو اس سے زیادہ دور نہیں ہو گی اور وہ اسے توڑ دے گا، تو رومی اپنے صلیب کو توڑنے والے شخص کی طرف بڑھیں گے اور اس کی گردن اڑا دیں گے، مسلمان اپنے اسلحے کی طرف جائیں گے اور لڑائی شروع کر دیں گے، تو مسلمانوں کے گروہ کو اللہ تعالیٰ شہادت کے ذریعے عزت عطا کرے گا۔ اہل روم رومیوں کے بادشاہ سے کہیں گے ہم عربوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں، پھر وہ زبردست جنگ کے لیے اکٹھے ہوں گے اور 80 جھنڈوں کے نیچے اکٹھے ہو کر تمہاری طرف آئیں گے، جن میں سے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6708]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6708، 6709، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8392، 8393، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2767، 4292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4089، 4089 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18885، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17100» «رقم طبعة با وزير 6673»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2472). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
550. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر خبر قد يوهم بعض المستمعين أن حسان بن عطية سمع هذا الخبر من مكحول-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو بعض سننے والوں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ حسان بن عطیہ نے یہ خبر مکحول سے سنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6709
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، قَالَ: مَالَ مَكْحُولٌ إِِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، وَمِلْنَا مَعَهُ، فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّ ذَا مِخْبَرِ ابْنَ أَخِي النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًَا، حَتَّى تَغْزُوا أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ، فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ، فَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الرُّومِ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، وَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: بَلِ اللَّهُ غَلَبَ، وَيَتَدَاوَلُونَهَا وَصَلِيبُهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غَيْرُ بَعِيدٍ، فَيَثُورُ إِِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَدُقُّهُ، وَيَثُورُونَ إِِلَى كَاسِرِ صَلِيبِهِمْ فَيَضْرِبُونَ عُنُقَهُ، وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِِلَى أَسْلِحَتِهِمْ فَيَقْتَتِلُونَ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ بِالشَّهَادَةِ، فَيَأْتُونَ مَلِكَهُمْ، فَيَقُولُونَ: كَفَيْنَاكَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ، فَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ، فَيَأْتُونَ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ جو نجاشی کے بھتیجے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ عنقریب اہل روم کے ساتھ امن والی صلح کرو گے، یہاں تک کہ تم اور وہ مل کر ایسے دشمن کے ساتھ جنگ کریں گے جو ان سے پرے ہوگا، تو تم لوگوں کی مدد کی جائے گی، تم لوگ سلامت رہو گے اور مالِ غنیمت حاصل کرو گے، یہاں تک کہ تم لوگ ایک چراگاہ میں پڑاؤ کرو گے، تو اہل روم میں سے ایک شخص یہ کہے گا: صلیب غالب آئی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص کہے گا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا ہے، تو وہ لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے۔ ان لوگوں کی صلیب مسلمانوں سے زیادہ دور نہیں ہوگی۔ مسلمانوں کا ایک شخص اس کی طرف بڑھے گا اور اسے توڑ دے گا، تو وہ لوگ صلیب کو توڑنے والے شخص کی طرف بڑھیں گے اور اس کی گردن اڑا دیں گے، تو مسلمان اپنے اسلحے کی طرف آئیں گے اور پھر لڑائی شروع کردیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو شہادت سے سرفراز کرے گا، وہ رومی اپنے بادشاہ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: جزیرۂ عرب پر (حملہ کرنے کے لیے) ہم آپ کا ساتھ دینے کے لیے کافی ہیں۔ پھر وہ جنگ کے لیے اکٹھے ہوں گے اور جھنڈوں تلے (اکٹھے ہو کر) آئیں گے، جن میں سے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6709]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6708، 6709، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8392، 8393، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2767، 4292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4089، 4089 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18885، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17100» «رقم طبعة با وزير 6674»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
551. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن الله جل وعلا ينزع صحة عقول الناس عند وقوع الفتن-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ اللہ جل وعلا فتنوں کے وقوع پر لوگوں کی عقل کی صحت سلب کر لے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6710
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ الْهَرْجُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ"، قَالُوا: أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ؟ قَالَ:" إِِنَّهُ لَيْسَ مِنْ قَتْلِكُمُ الْمُشْرِكِينَ، وَلَكِنْ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا"، قَالَ: وَمَعَنَا عُقُولُنَا؟ قَالَ:" إِِنَّهُ لَتُنْزَعُ عُقُولُ أَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت سے پہلے ہرج ہوگا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل و غارت کرنا۔“ لوگوں نے عرض کی: اس سے زیادہ ہوگا، جو ہم نے قتل کیے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارا مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا ہوگا۔“ لوگوں نے دریافت کیا: (اس وقت) کیا ہماری عقلیں ہمارے پاس ہوں گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں الگ کر لی جائیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6710]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6710، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8486، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3959، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19801، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38539» «رقم طبعة با وزير 6675»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1682). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
552. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عما يظهر في الناس من الشح عند وقوع الفتن بهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ فتنوں کے وقوع پر لوگوں میں بخل ظاہر ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6711
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ"، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ، الْقَتْلُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمانہ سمٹ جائے گا، علم کم ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے، بخل عام ہو گا اور «الْهَرْجُ» ”ہرج“ کثرت سے ہو گا۔“ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! «الْهَرْجُ» ”ہرج“ سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل، قتل۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6711]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 85، 1036، 1412، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 157، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6651، 6680، 6681، 6700، 6711، 6717، 6718، 6734، 6838، 6845، 6846، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8506، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4255، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2218، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4047، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16806، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7282» «رقم طبعة با وزير 6676»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
553. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عمن يكون هلاك أكثر هذه الأمة على أيديهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت کے زیادہ تر لوگوں کی ہلاکت کس کے ہاتھوں ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6712
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَانٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ" ، قَالَ: فَقَالَ مَرْوَانُ: وَالْغِلْمَانُ هَؤُلاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کی ہلاکت قریش کے بے وقوف لڑکوں کے ذریعے ہو گی۔“ (راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سن کر) مروان نے کہا: لڑکے تو پھر یہی لوگ ہیں (جو آج کل کے حکمران ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6712]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6712، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8420» «رقم طبعة با وزير 6677»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3191). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
554. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف أقوام يكون فساد هذه الأمة على أيديهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ کچھ اقوام کی وصف جن کے ہاتھوں اس امت کا فساد ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6713
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ لِمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَنِي حَبِيبِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ:" إِِنَّ فَسَادَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ" .
مالک بن ظالم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مروان بن حکم سے یہ کہتے ہوئے سنا: میرے محبوب سیدنا ابوالقاسم صادق مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے: ”میری امت میں فساد قریش کے بے وقوف لڑکوں کے ذریعے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6713]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3604، 3605، 7058، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2917، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4483، 6713، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7107، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20282، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7986» «رقم طبعة با وزير 6678»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» -أيضا-. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
555. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن حدوث وقع السيف في هذه الأمة بين المسلمين يبقى إلى قيام الساعة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ اس امت میں تلوار کا واقع ہونا قیامت تک جاری رہے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6714
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّ اللَّهَ زَوَى لِي الأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَأَعْطَانِي الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ، وَإِِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا، وَإِِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي أَنْ لا يُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيُهْلِكَهُمْ، وَلا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِِنِّي إِِذَا أَعْطَيْتُ عَطَاءً فَلا مَرَدَّ لَهُ، إِِنِّي أَعْطَيْتُكَ لأُمَّتِكَ أَنْ لا يُهْلَكُوا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ، وَلَكِنْ أُلْبِسُهُمْ شِيَعًا، وَلَوِ اجْتُمِعَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يَهْلِكُ بَعْضًا، وَبَعْضُهُمْ يُفْنِي بَعْضًا، وَبَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا، وَإِِنَّهُ سَيَرْجِعُ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي إِِلَى التُّرْكِ وَعِبَادَةِ الأَوْثَانِ، وَإِِنَّ مِنْ أَخْوَفِ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِِنَّهُمْ إِِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِيهِمْ لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي كَذَّابُونَ دَجَّالُونَ قَرِيبًا مِنْ ثَلاثِينَ، وَإِِنِّي خَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ، لا نَبِيَّ بَعْدِي، وَلا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورَةٌ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الصَّوَابُ: الشِّرْكُ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا، یہاں تک کہ میں نے زمین کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا، اس نے مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے (اور یہ چیز عطا کی) کہ میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی، جہاں تک میرے لیے زمین کو لپیٹا گیا ہے، میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے دعا مانگی کہ وہ انہیں عمومی قحط کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے اور ان پر ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو کہ وہ دشمن انہیں ہلاکت کا شکار کر دے اور وہ انہیں گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگیں، تو پروردگار نے فرمایا: اے محمد! جب میں کسی کو کچھ عطا کر دوں، تو اسے روکنے والا کوئی نہیں ہے، میں نے تمہاری امت کو یہ چیز عطا کی کہ وہ عمومی قحط کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہیں ہوں گے اور میں ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا، جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہوگا، جو انہیں ختم کر دے گا، البتہ میں انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دوں گا، یہاں تک کہ زمین سے دور دراز کے لوگ اکٹھے ہوں گے، وہ ایک دوسرے کو ہلاکت کا شکار کریں گے، ایک دوسرے کو فنا کریں گے، ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) میری امت کے کچھ قبائل ترکیوں اور بتوں کی پرستش کرنے والوں کی طرف واپس جائیں گے اور مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ہے، جب ان کے درمیان تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر وہ قیامت تک ان سے اٹھائی نہیں جائے گی اور عنقریب میری امت میں تیس کے قریب جھوٹے کذاب ظاہر ہوں گے، میں خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا اور اس کی مدد کی جاتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت میں صحیح لفظ ”شرک“ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6714]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1920، 2889، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6714، 7238، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8478، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4252، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2176، 2202، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 10، 3952، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2372، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18689، 18892، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22828» «رقم طبعة با وزير 6679»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (4/ 252 و 1957)، «الروض النضير» (61 و 1170): م إلى قوله: «بعضا» مع فقرة الطائفة*. * قال الشيخ: ورواه الحاكم (4/ 450 - 451) بنحوه مطوَّلاً، وفيه زيادة منكرة، ومع ذلك عزاه السيوطي في «الدُّرِّ» (3/ 17) لجمعٍ - منهم مسلم -! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
556. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن أول ما يظهر من نقض عرى الإسلام من جهة الأمراء فساد الحكم والحكام-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت میں سب سے پہلے اسلام کی رسیوں کا ٹوٹنا امراء کی طرف سے حکم اور حاکموں کے فساد سے ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6715
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَتُنْتَقَضَنَّ عُرَى الإِِسْلامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، فَكُلَّمَا انْتُقِضَتْ عُرْوَةٌ تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا، فَأَوَّلُهُنَّ نَقْضًا: الْحُكْمُ، وَآخِرُهُنَّ: الصَّلاةُ" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب اسلام کی رسیوں کو ایک ایک کر کے توڑ دیا جائے گا، جب بھی ان میں سے کوئی ایک رسی ٹوٹے گی لوگ اس کے بعد والی کو مضبوطی سے تھامیں گے، ان میں ٹوٹنے کے اعتبار سے سب سے پہلی حکم (یعنی فیصلہ کرنا) ہو گی اور سب سے آخری نماز ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6715]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6715، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7114، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22590، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7486» «رقم طبعة با وزير 6680»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 197). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
557. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن الأمارة التي إذا ظهرت في هذه الأمة سلط البعض منها على بعض-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت میں علامت جو ظاہر ہوگی تو بعض کو بعض پر مسلط کر دیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6716
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ يَحْيَى الْقُرْقُسَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِِذَا مَشَتْ أُمَّتِي الْمُطَيْطَاءَ، وَخَدَمَتْهُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ، سُلِّطَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ" .
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب میری امت اتراتے ہوئے چلے گی اور اہل فارس اور اہل روم ان کے خدمت گزار بن جائیں گے تو ان میں سے کسی ایک کو دوسروں پر مسلط کر دیا جائے گا (یعنی امت باہمی اختلافات کا شکار ہو جائے گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6716]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 6681»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (956). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
558. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن نقص العلم الذي كان عليه المصطفى صلى الله عليه وسلم عند ظهور الفتن في أمته-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی کمی جب ان کی امت میں فتنے ظاہر ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6717
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيٌّ هُوَ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمانہ سمٹ جائے گا، علم کم ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کثرت سے ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6717]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 85، 1036، 1412، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 157، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6651، 6680، 6681، 6700، 6711، 6717، 6718، 6734، 6838، 6845، 6846، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8506، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4255، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2218، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4047، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16806، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7282» «رقم طبعة با وزير 6682»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (6676). تنبيه!! رقم (6676) = (6711) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں