🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
589. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف قتال المسلمين الترك بأرض النخل-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ نخیلی زمین پر ترکوں سے مسلمانوں کے قتال کی وصف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6748
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَنْزِلُونَ بِحَائِطٍ يُسَمُّونَهُ الْبَصْرَةَ، عِنْدَهَا نَهْرٌ يُقَالُ لَهُ دِجْلَةُ، يَكُونُ لَهُمْ عَلَيْهَا جِسْرٌ، وَيَكْثُرُ أَهْلُهَا، وَيَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُهَاجِرِينَ، فَإِِذَا كَانَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جَاءَ بَنُو قَنْطُورَاءَ، أَقْوَامٌ عِرَاضُ الْوجُوهِ، حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى شَاطِئِ النَّهْرِ، فَيَفْتَرِقُ أَهْلُهَا عَلَى ثَلاثِ فِرَقٍ، فَأَمَّا فِرْقَةٌ فَتَأْخُذُ أَذْنَابَ الإِِبِلِ وَالْبَرِّيَّةِ فَيَهْلِكُونَ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَأْخُذُونَ لأَنْفُسِهِمْ وَيَكْفُرُونَ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ، وَيُقَاتِلُونَهُمْ وَهُمُ الشُّهَدَاءُ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری امت کے کچھ لوگ ایک باغ میں پڑاؤ کریں گے جس کا نام بصرہ ہوگا، اس کے پاس ایک دریا ہوگا جس کا نام دجلہ ہوگا، اس پر ایک پل ہوگا، وہاں کے رہنے والے لوگ زیادہ ہوں گے اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہوگا، جب آخری زمانہ آئے گا تو بنو قنطوراء آئیں گے، یہ وہ قوم ہے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ دریا کے ایک کنارے پر پڑاؤ کریں گے، تو وہاں کے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے؛ ایک گروہ اونٹوں کی دم اور جانوروں کی دم پکڑے گا، وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے، ایک گروہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرے گا اور کفر کرے گا، اور ایک گروہ اپنے بال بچوں کو اپنی پشت کے پیچھے رکھے گا اور وہ ان کے ساتھ لڑائی کرے گا، یہ لوگ شہداء ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6748]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6748، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4306، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20741» «رقم طبعة با وزير 6713»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «المشكاة» (5432). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
590. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن ظهور أمارات أهل الجاهلية في المسلمين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسلمانوں میں جاہلیت کی علامات ظاہر ہوں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6749
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلْيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ" ، وَكَانَتْ صَنَمًا تَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ، قَالَ مَعْمَرٌ: إِِنَّ عَلَيْهِ الآنَ بَيْتًا مَبْنِيًّا مُغْلَقًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دوس قبیلے کی عورتوں کی سرین ذوالخلصہ کے اردگرد گھومے گی نہیں۔“ (راوی کہتے ہیں:) یہ ایک بت تھا، زمانہ جاہلیت میں دوس قبیلے کے لوگ اس کی عبادت کرتے تھے، یہ بت تبالہ کے مقام پر تھا۔ معمر نامی راوی کہتے ہیں: اب اس جگہ پر ایک عمارت تعمیر ہوئی ہے جو بند ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6749]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7116، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2906، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6749، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7792» «رقم طبعة با وزير 6714»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (77 - 79). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
591. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن انقطاع الحج إلى البيت العتيق في آخر الزمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں بیت عتیق کے حج کا انقطاع ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6750
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لا يُحَجَّ الْبَيْتُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک حج ختم نہیں ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6750]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3562، 3562 م، 6102، 6119، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2320، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6306، 6307، 6308، 6750، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8491، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20843، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11862» «رقم طبعة با وزير 6715»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2430). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
592. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن الكعبة تخرب في آخر الزمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں کعبہ کو خراب کیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6751
أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ بِمَنْبِجَ، قَالا: حَدَّثَنَا حامد بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ" ، السُّوَيْقَتَيْنِ: الْكِسَاءَيْنِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حبشہ سے تعلق رکھنے والا دو چادروں والا شخص خانہ کعبہ کو ڈھا دے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «السُّوَيْقَتَيْنِ» سے مراد دو چادریں ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6751]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1591، 1596، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2909، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6751، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2904، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8790، 8791، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8209» «رقم طبعة با وزير 6716»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (772): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
593. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف تخريب الحبشة الكعبة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ حبشہ کے ہاتھوں کعبہ کی تخریب کی وصف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6752
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَيْهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ، يَقْلَعُهَا حَجَرًا حَجَرًا يَعْنِي الْكَعْبَةَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گویا کہ میں اس وقت بھی اس سیاہ فام شخص کی طرف دیکھ رہا ہوں جس کے دونوں زانوؤں کے درمیان فاصلہ ہو گا جو خانہ کعبہ کا ایک پتھر اکھاڑ رہا ہے“ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6752]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1595، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6752، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8792، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2038» «رقم طبعة با وزير 6717»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2743). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
594. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف العدد الذي تخرب الكعبة به-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس تعداد کی وصف جس سے کعبہ خراب ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6753
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذَا الْبَيْتِ، فَإِِنَّهُ قَدْ هُدِمَ مَرَّتَيْنِ، وَيُرْفَعُ فِي الثَّالِثَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس گھر سے نفع حاصل کر لو، کیونکہ اسے دو مرتبہ منہدم کیا جائے گا اور تیسری مرتبہ اٹھا لیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6753]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2506، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6753، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1616، والبزار فى (مسنده) برقم: 6157، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14033» «رقم طبعة با وزير 6718»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1451). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
595. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن استحلال المسلمين الخمر والمعازف في آخر الزمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں مسلمان شراب اور موسیقی کو جائز سمجھیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6754
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَأَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيَّانَ، سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَكُونَنَّ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ" .
سیدنا ابوعامر اور سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو ریشم، شراب اور آلاتِ موسیقی کو حلال قرار دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6754]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5590، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6754، 6758، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3688، 4039، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4020، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6183، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23366، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 24227» «رقم طبعة با وزير 6719»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (91): خ تعليقا. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
596. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر المدحض قول من نفى كون الخسف في هذه الأمة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اس امت میں خسف نہیں ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6755
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ، خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِيهِمْ سِوَاهُمْ، وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ؟ قَالَ:" يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، ثُمَّ يَبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک لشکر خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے گا، جب وہ کھلے میدان میں پہنچیں گے تو ان کے آگے والے اور پیچھے والے (لوگوں کو) زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! ان کے درمیان کچھ ایسے لوگ بھی تو ہوں گے جو ان کے علاوہ ہوں گے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان سب کو دھنسا دیا جائے گا، پھر ان کی نیت کے مطابق انہیں (قیامت کے دن) زندہ کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6755]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2118، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2884، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6755، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25377» «رقم طبعة با وزير 6720»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1622): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
597. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به نافع بن جبير بن مطعم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف نافع بن جبیر بن مطعم نے روایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6756
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَالْحَارِثُ بْنُ رَبِيعَةَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالُوا: يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، أَلا تُحَدِّثِينَا عَنِ الْخَسْفِ الَّذِي يُخْسَفُ بِالْقَوْمِ؟ قَالَتْ: بَلَى، قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ، فَيُبْعَثُ إِِلَيْهِ بَعْثٌ، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ كَانَ كَارِهًا؟ قَالَ:" يُخْسَفُ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ" ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: فَقُلْتُ لأَبِي جَعْفَرٍ: إِِنَّهَا قَالَتْ: بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَاللَّهِ إِِنَّهَا لَبَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ.
ابن قبطیہ بیان کرتے ہیں: میں، عبداللہ بن صفوان اور حارث بن ربیعہ رضی اللہ عنہما، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان لوگوں نے کہا: اے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا! آپ ہمیں لوگوں کو زمین میں دھنسائے جانے والی روایت بیان نہیں کریں گی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایک شخص بیت اللہ کی پناہ لے گا پھر اس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کھلے میدان میں پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! جو شخص مجبوری کے عالم میں (ان کے ساتھ آیا ہوگا)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں بھی اس کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں زندہ کیا جائے گا، جو اس کے ذہن میں خیال تھا۔“ عبدالعزیز نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ابوجعفر رحمہ اللہ (شاید اس سے مراد امام محمد الباقر رحمہ اللہ ہیں) سے دریافت کیا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے: زمین کے کھلے حصے میں، تو امام ابوجعفر رحمہ اللہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اس سے مراد مدینہ منورہ کا چٹیل میدان ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6756]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2882، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6756، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8415، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4289، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2171، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4065، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27118» «رقم طبعة با وزير 6721»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (90). تنبيه هام!! وضع الناشر معقوفه من قوله [حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ... ] إلى نهاية الحديث وقال: [ما بين المعقوفين - كله - ساقط من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة»]. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
598. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر المصرح بأن القوم الذين يخسف بهم إنما هم القاصدون إلى المهدي في زوال الأمر عنه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو واضح کرتی ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ خسف ہوگا وہ مہدی کے خلاف امر کے زوال کے ارادہ رکھنے والے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6757
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ اخْتِلافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، فَيَبْعَثُونَ إِِلَيْهِ جَيْشًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، فَإِِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ، فَإِِذَا بَلَغَ النَّاسَ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ أَهْلِ الشَّامِ وَعِصَابَةُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايعُونَهُ، وَيَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ مِنْ كَلْبٍ، فَيَبْعَثُ إِِلَيْهِمْ جَيْشًا، فَيَهْزِمُونَهُمْ وَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، فَيَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ فَيْئَهُمْ، وَيَعْمَلُ فِيهِمْ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُلْقِي الإِِسْلامُ بِجِرَانِهِ إِِلَى الأَرْضِ، يَمْكُثُ سَبْعَ سِنِينَ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خلیفہ کے انتقال کے وقت اختلاف رونما ہوگا، تو اہل مدینہ میں سے قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مکہ کی طرف جائے گا، اہل مکہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ ان کے پاس آئیں گے اور وہ اسے نکلنے پر مجبور کریں گے، حالانکہ اسے یہ بات پسند نہیں ہوگی، پھر وہ رکن اور مقام کے درمیان اس سے بیعت لیں گے، پھر اہل شام سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا، وہ لوگ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، جب لوگوں تک اس بات کی اطلاع پہنچے گی، تو اہل شام کے ابدال اور اہل عراق کا ایک گروہ ان کے پاس آئیں گے اور اس کی بیعت کریں گے، پھر قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نکلے گا، جس کا ننھیال بنو کلب سے ہوگا، وہ ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا، وہ لوگ اسے پسپا کر دیں گے اور اس پر غالب آ جائیں گے، وہ ان کا مال لوگوں کے درمیان تقسیم کرے گا اور ان کے بارے میں اپنے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرے گا۔ وہ شخص سات سال تک زمین میں رہے گا۔ وہ دنیا میں اسلام کو مستحکم کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6757]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6757، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8422، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4286، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27331، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6940، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38378» «رقم طبعة با وزير 6721/م1»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (1965) و (6484). * قال الناشر: هذا الحديث - بتبويبه - ساقطٌ من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں