🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
520. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح الله جل وعلا الأموال على المسلمين في هذه الأمة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے اس امت میں مسلمانوں پر اموال کی فتح عطا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6678
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَصَدَّقُوا، فَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ يَوْمٌ يَمُرُّ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ، فَلا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا، يَقُولُ: فَهَلا قَبْلَ الْيَوْمِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ، فَلا حَاجَةَ لِي فِيهَا" .
سیدنا حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ صدقہ کرو، عنقریب تم پر ایسا دن آئے گا جب کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر جائے گا تو اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو اس سے صدقے کو قبول کر لے، وہ شخص کہے گا: تم آج سے پہلے کیوں نہیں آئے؟ آج تو مجھے اس صدقے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6678]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1411، 1424، 7120، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1011، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6678، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2554،، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19028» «رقم طبعة با وزير 6643»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج مشكلة الفقر» (128): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
521. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح الله جل وعلا على المسلمين كثرة الأموال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے مسلمانوں پر اموال کی کثرت کی فتح عطا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6679
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَهُوَ إِِلَى جَنْبِي لا آتِيهِ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ بُعِثَ، فَكَرِهْتُهُ أَشَدَّ مَا كَرِهْتُ شَيْئًا قَطُّ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَقْصَى الأَرْضِ مِمَّا يَلِيَ الرُّومَ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ، فَإِِنْ كَانَ كَاذِبًا لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ، وَإِِنْ كَانَ صَادِقًا اتَّبَعْتُهُ، فَأَقْبَلْتُ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَ لِي النَّاسُ، وَقَالُوا: جَاءَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، جَاءَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي: يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، قَالَ: قُلْتُ: إِِنَّ لِي دِينًا، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِدِينِكَ مِنْكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، أَلَسْتَ تَرْأَسُ قَوْمَكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَسْتَ تَأْكُلُ الْمِرْبَاعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِِنَّ ذَلِكَ لا يَحِلُّ لَكَ فِي دِينِكَ، قَالَ: فَتَضَعْضَعْتُ لِذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، فَإِِنِّي قَدْ أَظُنُّ، أَوْ قَدْ أَرَى، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُسْلِمَ خَصَاصَةٌ تَرَاهَا مِنْ حَوْلِي،" وَتُوشِكُ الظَّعِينَةُ أَنْ تَرْحَلَ مِنَ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ، وَلَتُفْتَحَنَّ عَلَيْنَا كُنُوزُ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَلَيَفِيضَنَّ الْمَالُ أَوْ لَيَفِيضُ، حَتَّى يُهِمَّ الرَّجُلَ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ مَالَهُ صَدَقَةً" ، قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: فَقَدْ رَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْحَلُ مِنَ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ، وَكُنْتُ فِي أَوَّلِ خَيْلٍ أَغَارَتْ عَلَى الْمَدَائِنِ عَلَى كُنُوزِ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَتَجِيئَنَّ الثَّالِثَةُ، إِِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي.
ابو عبیدہ بن حذیفہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں دریافت کر رہا تھا، وہ میرے پہلو میں موجود تھے، میں نے ان کے پاس جا کر ان سے دریافت نہیں کیا، پھر میں ان کے پاس گیا اور ان سے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا تھا، پھر میں روانہ ہوا یہاں تک کہ میں زمین کے دور دراز کے حصے میں چلا گیا جو اہل روم (کے علاقے) کے قریب تھا، میں نے سوچا: اگر میں ان صاحب کے پاس جاؤں، تو اگر یہ جھوٹے ہوئے تو یہ بات مجھ سے مخفی نہیں رہے گی اور اگر یہ سچے ہوئے تو میں ان کی پیروی کر لوں گا، تو میں آ گیا۔ جب میں مدینہ منورہ آیا تو لوگ میری طرف جھانک کر دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: عدی بن حاتم آئے ہیں، عدی بن حاتم آئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! تم اسلام قبول کر لو، تم سلامت رہو گے۔“ میں نے عرض کی: میرا اپنا دین ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے دین کے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم مالِ غنیمت میں سے چوتھائی حصہ نہیں کھاتے ہو؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہارے دین میں تو یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔“ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس بات پر میں شرمندہ ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! تم اسلام قبول کر لو، تم سلامت رہو گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا یہ گمان ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میں یہ سمجھتا ہوں — یا جیسا بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا — تم اس لیے اسلام قبول نہیں کر رہے کہ تم میرے اردگرد ایسے لوگوں کو دیکھ رہے ہو جو ضرورت مند ہیں۔ عنقریب کوئی عورت حیرہ سے کسی کی پناہ لیے بغیر سوار ہو کر جائے گی یہاں تک کہ بیت اللہ کا طواف کرے گی اور ہمارے لیے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیے جائیں گے اور مال عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ ایک شخص یہ آرزو کرے گا کہ کوئی شخص اس سے اس کا مال صدقہ کے طور پر قبول کر لے۔“ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ حیرہ سے کسی کی پناہ کے بغیر سوار ہوئی، یہاں تک کہ اس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور میں اس پہلے لشکر میں شامل تھا جس نے مدائن میں کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں پر حملہ کیا تھا اور میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ وہ تیسری بات بھی ضرور درست ثابت ہو گی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6679]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1413، 1417، 3595، 6023، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1016، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2428، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 473، 666، 2804، 3311، 6246، 6679، 7206، 7365، 7373، 7374، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8677، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2551، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2415 م، 2953 م 2، 2954، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 185، 1843، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 179، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2437، 2438، 2439، 2463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18535» «رقم طبعة با وزير 6644»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر التعليق. * [أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ] قال الشيخ: لم يُوَثِّقْهُ غير المؤلِّف، ولكن روى عنه جمع غير محمد - وهو ابنُ سيرين -؛ منهم: حصين ابن عبد الرحمن السُّلَميُّ، وهو ثقه؛ فحديثه حسن - إن شاء الله -. وقد صحَّحه الحاكم (4/ 519) على شرط الشيخين! ووافقه الذهبي! ولقوله: «أسلم تَسْلَم» طريق أخرى: عند ابن أبي عاصم (135). وقوله: «توشك الظعينة ... » إلخ له شاهد مِنْ طريق أُخرى لعديّ: في «البخاري» (3594). ثُمَّ تَبَيَّنَ لِي أَنَّ ذكر الشَّعْبِي بين المعقوفتين خطأ لا أصل له في شيء من المصادر، وأنَّهُ منقطع بين أبي عُبَيدة بن حُذيفةَ وعدي، بينهما رجل مجهولٌ في أكثر الطرق، عن مُحَمَّدٍ - وهو ابن سيرين -. قد خرَّجتها بأسلوب يَكْشِفُ عَن عِلَّةِ الحديث الَّتِي تجاهل المعلِّقُون على هذا الحديث هنا في «الموارد»، وفي «الضعيفة» (6488). * قال الناشر: ساقطة من الطبعتين واستدركها الشيخ - رحمه الله - من بعض مصادر التخريج؛ فانظر تعليقه على «ضعيف موارد الظمآن» (ص 187). * قال الناشر: انظر التعليق السابق. تنبيه!! ما بين المعقوفتين من «طبعة باوزير» وليس موجودا في «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
522. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن عرض الناس صدقة الأموال على الناس في آخر الزمان وعدم من يقبلها منهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں لوگ اموال کی صدقہ پیش کریں گے اور کوئی اسے قبول نہیں کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6680
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكْثُرَ فِيكُمُ الأَمْوَالُ وَتَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ، وَحَتَّى يَعْرِضَهُ، وَيَقُولُ الَّذِي يُعْرَضُ عَلَيْهِ: لا أَرَبَ لِي فِيهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تمہارے درمیان مال کی کثرت نہیں ہو جائے گی۔ وہ مال عام ہو جائے گا یہاں تک کہ مال کا مالک اس بات کا خواہش مند ہو گا کہ کوئی شخص اس سے اس کا صدقہ قبول کر لے، یہاں تک کہ وہ کسی کے سامنے اسے پیش کرے گا تو جس کے سامنے پیش کیا گیا ہو گا وہ یہ کہے گا: اب مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6680]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 85، 1036، 1412، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 157، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6651، 6680، 6681، 6700، 6711، 6717، 6718، 6734، 6838، 6845، 6846، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8506، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4255، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2218، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4047، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16806، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7282» «رقم طبعة با وزير 6645»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مشكلة الفقر» (129). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
523. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم صدقته أراد به الصدقة الفريضة دون التطوع-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "صدقہ" سے مراد فرض صدقہ ہے نہ کہ نفلی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6681
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ، حَتَّى يُخْرِجَ الرَّجُلُ زَكَاةَ مَالِهِ، فَلا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مال کی کثرت اور زیادتی نہیں ہو گی، یہاں تک کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا تو اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو اس سے اسے قبول کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6681]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 85، 1036، 1412، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 157، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6651، 6680، 6681، 6700، 6711، 6717، 6718، 6734، 6838، 6845، 6846، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8506، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4255، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2218، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4047، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16806، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7282» «رقم طبعة با وزير 6646»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (5440). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
524. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف الوقت الذي يكون فيه ما وصفنا من سعة الأموال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس وقت کی وصف جب ہمارے بیان کردہ اموال کی وسعت ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6682
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لا يُجْبَى إِِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلا دِرْهَمٌ، قُلْنَا: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لا يُجْبَى إِِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلا مُدْيٌ، قُلْنَا: مِنْ أَيٍّ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الرُّومِ، ثُمَّ أُسْكِتَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا، لا يَعُدُّهُ عَدًّا" .
ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے، انہوں نے فرمایا: عنقریب عراق کی یہ صورت حال ہو گی کہ ان کی طرف (اناج کا) ایک قفیز یا ایک درہم بھی نہیں آئے گا۔ ہم نے دریافت کیا: ایسا کس وجہ سے ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: یہ عجمیوں کی طرف سے ہو گا، وہ اسے نہیں آنے دیں گے۔ پھر انہوں نے فرمایا: عنقریب اہل شام کی یہ صورت حال ہو گی کہ ان کی طرف ایک دینار اور ایک مد بھی نہیں آئے گا۔ ہم نے دریافت کیا: یہ کس کی طرف سے ہو گا؟ انہوں نے جواب دیا: یہ اہل روم کی طرف سے ہو گا۔ پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”میری امت کے آخر میں ایسا خلیفہ ہو گا، گنتی کے بغیر مٹھیاں بھر بھر کے مال دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6682]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2913، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6682، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8494، 8495، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11514» «رقم طبعة با وزير 6647»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3072): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
525. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف بعض سعة الدنيا على المسلمين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دنیا کی بعض وسعت کی وصف جو مسلمانوں پر ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6683
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا جَابِرُ، " أَنَكَحْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا؟ قُلْتُ: أَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ؟ قَالَ: أَمَا إِِنَّهَا سَتَكُونُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے قالین استعمال کیا؟“ میں نے عرض کی: ہمارے پاس قالین کہاں سے آئے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب آ جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6683]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3631، 5161، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2083، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6683، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3386، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4145، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2774، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14446، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1262» «رقم طبعة با وزير 6648»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
526. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف البعض الآخر من سعة الدنيا على المسلمين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دنیا کی دوسری بعض وسعت کی وصف جو مسلمانوں پر ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6684
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ لَهُ بِهَا يَعْنِي عَرِيفٌ، نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ، فَإِِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ نَزَلَ الصُّفَّةَ، قَالَ: فَرَافَقْتُ رَجُلا، فَكَانَ يُجْرَى عَلَيْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الصَّلاةِ، فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَحْرَقَ التَّمْرُ بُطُونَنَا، قَالَ: فَمَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى مِنْبَرِهِ، فَصَعِدَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: " حَتَّى مَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا لَنَا طَعَامٌ إِِلا الْبَرِيرُ وَالْبَرِيرُ ثَمَرُ الأَرَاكِ، فَقَدِمْنَا عَلَى إِِخْوَانِنَا مِنَ الأَنْصَارِ وَعُظْمُ طَعَامِهِمُ التَّمْرُ، فَوَاسَوْنَا فِيهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَجِدُ لَكُمُ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ لأَطْعَمْتُكُمُوهُ، وَلَكِنْ لَعَلَّكُمْ تُدْرِكُونَ زَمَانًا أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ يَلْبَسُونَ فِيهِ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، وَيُغْدَى عَلَيْهِمْ، وَيُرَاحُ بِالْجِفَانِ" .
سیدنا طلحہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے جب کوئی شخص مدینہ منورہ آتا، اگر اس کا وہاں کوئی دوست ہوتا تو وہ اپنے دوست کے ہاں پڑاؤ کرتا تھا اور اگر اس کا کوئی دوست نہ ہوتا تو وہ صفہ کے چبوترے پر پڑاؤ کرتا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے صفہ کے چبوترے پر پڑاؤ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روزانہ کھجوروں کا ایک مد ہماری طرف آیا کرتا تھا۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیرا تو ہم میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف تشریف لے گئے، آپ اس پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ نے اپنی قوم کی طرف سے پیش آنے والی (مشکلات) کا ذکر کیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے اور میرے ساتھی پر دس سے زیادہ دن ایسے بھی گزرے کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے صرف «البَرِيرُ» ہوتا تھا“ (راوی کہتے ہیں کہ «البَرِيرُ» سے مراد پیلو کا پھل ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے تو ان کی زیادہ تر خوراک کھجور ہوتی تھی، انہوں نے اس بارے میں ہمارا ساتھ دیا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے تمہارے لیے روٹی اور گوشت ملے تو میں وہ بھی کھلاؤں گا اور عنقریب تمہیں ایک ایسا زمانہ ملے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم میں سے جو شخص اس زمانے تک پہنچے گا تو لوگ اس میں کعبہ کے پردوں جیسا (عمدہ لباس) پہنیں گے اور صبح شام ان کے پاس پیالوں میں (مختلف قسم کی کھانے کی چیزیں) آئیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6684]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6684،، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4313، 8744، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4406، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16235» «رقم طبعة با وزير 6649»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2486). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
527. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن فتح الله جل وعلا الدنيا على المسلمين إنما يكون ذلك بعقب جدب يلحقهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ اللہ جل وعلا کی دنیا کی فتح مسلمانوں پر قحط کے بعد ہوگی جو انہیں پہنچے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6685
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، " أَرَأَيْتَ إِِنْ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى لا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِِلَى مَسْجِدِكَ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: تَعَفَّفْ"، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ،" أَرَأَيْتَ إِِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ شَدِيدٌ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: اصْبِرْ"، يَا أَبَا ذَرٍّ،" أَرَأَيْتَ إِِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مَوْضِعٌ بِالْمَدِينَةِ مِنَ الدِّمَاءِ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ، وَأَغْلِقْ عَلَيْكَ بَابَكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِِنْ لَمْ أُتْرَكْ؟ قَالَ: فَائْتِ مَنْ أَنْتَ مِنْهُ، فَكُنْ فِيهِمْ، قَالَ: فَآخُذُ سِلاحِي؟ قَالَ: إِِذًا تُشَارِكُهُمْ فِيهِ، وَلَكِنْ إِِنْ خَشِيتَ أَنْ يَرُوعَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِِثْمِكَ وَإِِثْمِهِ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے مجھے بٹھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر لوگوں کو اتنی شدید بھوک لاحق ہو جائے کہ تم اس بات کی بھی استطاعت نہ رکھو کہ اپنے بستر سے اٹھ کر مسجد تک جا سکو، تو پھر تم کیا کرو گے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بچ کے رہنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر لوگوں کو ایسی زبردست موت لاحق ہو، یہاں تک کہ گھر بندے کے ساتھ ہو، تو پھر تم کیا کرو گے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبر سے کام لینا۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہاں تک کہ احجارِ زیت کی جگہ (خون سے) بھر جائے؟“ (راوی کہتے ہیں: یہ مدینہ منورہ میں ایک جگہ ہے)، ”تو پھر تم کیا کرو گے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر میں بیٹھے رہنا اور اپنا دروازہ بند کر لینا۔“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے، اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس چلے جانا جن کے ساتھ تمہارا تعلق ہے (یعنی اپنے قبیلے چلے جانا) اور ان کے درمیان رہنا۔“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا میں اپنا ہتھیار سنبھال لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس صورت میں تم اس بارے میں ان لوگوں کے حصے دار بن جاؤ گے، اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں خوف زدہ کر دے گی تو تم اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر رکھ لینا، تو وہ شخص تمہارے اور اپنے گناہ کا وبال اٹھائے گا (جو تمہیں قتل کرے گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6685]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5960، 6685، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2681، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4261، 4409، 5226، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3958، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21720» «رقم طبعة با وزير 6650»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (8/ 100 / 2451)، مضى (5929). تنبيه!! رقم (5929) = (5960) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
528. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن أداء العجم الجزية إلى العرب-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ عجم عربوں کو جزيہ دیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6686
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الأَعْمَشُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ وَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ، فَشَكَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى أَبِي طَالِبٍ، فَقَالُوا: إِِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: يَا عَمِّ،" إِِنَّمَا أَرَدْتُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ"، فَقَامُوا، فَقَالُوا: أَجْعَلَ الآلِهَةَ إِِلَهًا وَاحِدًا؟ قَالَ: وَنَزَلَتْ: ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ سورة ص آية 1، إِِلَى قَوْلِهِ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ سورة ص آية 5 .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جناب ابوطالب بیمار ہو گئے تو قریش ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے۔ ان کے سرہانے کے قریب ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا اور وہاں بیٹھ گیا۔ ان لوگوں نے جناب ابوطالب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کی اور بولے کہ آپ کے بھتیجے ہمارے معبودوں پر تنقید کرتے ہیں۔ جناب ابوطالب نے کہا: اے میرے بھتیجے! کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم کے افراد آپ کی شکایتیں کر رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا جان! میں انہیں ایک کلمے پر اکٹھا کرنا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے عرب ان کے ماتحت ہوں گے اور عجمی انہیں جزیہ ادا کریں گے۔“ انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کون سا کلمہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“۔ تو وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ کیا تم مختلف معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنانا چاہتے ہو؟ راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ [سورة ص: 1] ”ص، قرآن کی قسم ہے، جو نصیحت کرنے والا ہے“، یہ آیت یہاں تک ہے ﴿إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ [سورة ص: 5] ”بے شک یہ بہت حیران کن چیز ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6686]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6686، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3638، 3639، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8716، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3232، 3232 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18720، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2035» «رقم طبعة با وزير 6651»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» تحت الحديث (6042)، وهو في «مسلم» عن أبي هريرة مختصراً. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
529. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح الله جل وعلا كنوز آل كسرى على المسلمين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے آل کسریٰ کے خزانوں کی فتح مسلمانوں پر عطا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6687
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ حَدَّثَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَفْتَحَنَّ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الأَبْيَضَ أَوْ قَالَ: فِي الأَبْيَضِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”مسلمانوں کا ایک گروہ کسریٰ کے خاندان والوں کے خزانے کو ضرور فتح کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6687]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7222، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6661، 6662، 6663، 6687، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6649، 8668، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4279، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2223، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21137» «رقم طبعة با وزير 6652»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 187). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں