🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
579. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن الحرورية هم من شرار الخلق عند الله جل وعلا-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ حروریہ اللہ جل وعلا کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6738
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَلاقِمَهُمْ، يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میرے بعد میری امت میں (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، وہ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے اور پھر وہ دین میں واپس نہیں آئیں گے، وہ مخلوق اور کائنات کے بدترین افراد ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6738]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1067، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6738، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5927، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2478، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 170، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20668» «رقم طبعة با وزير 6703»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (921). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
580. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الأمر بقتل الحرورية إذا خرجت تريد شق عصا المسلمين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر حکم کہ حروریہ کو قتل کیا جائے اگر وہ نکل کر مسلمانوں کی جماعت توڑنا چاہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6739
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : إِِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ فَإِِنَّمَا الْحَرْبُ خُدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حَدِيثُوا الأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الأَحْلامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِِسْلامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لا يُجَاوِزُ إِِيمَانُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے لیے آسمان سے نیچے گر جانا، اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کروں اور جب میں اپنے اور تمہارے درمیان کسی بارے میں تمہارے ساتھ بات کروں، تو «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» ”جنگ دھوکہ دہی کا نام ہے۔“ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جن کی عمریں کم ہوں گی، عقل کم ہو گی، وہ لوگ مخلوق میں سب سے بہتر شخص کی احادیث بیان کریں گے، لیکن وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے، ان کا ایمان ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، تمہارا جہاں کہیں ان سے سامنا ہو تو انہیں قتل کرنا، کیونکہ انہیں قتل کرنے کا قیامت کے دن اس شخص کو اجر ملے گا، جو انہیں قتل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6739]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3611، 5057، 6930، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1066، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6739، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4113، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4767، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16795، وأحمد فى (مسنده) برقم: 626» «رقم طبعة با وزير 6704»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (914): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
581. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن خروج أهل النهروان على الإمام وشق عصا المسلمين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ نہروان کے لوگوں کا امام پر خروج اور مسلمانوں کی جماعت توڑنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6740
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَالُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمَ" ذَكَرَ نَاسًا يَكُونُونَ فِي أُمَّتِهِ، يَخْرُجُونَ فِي فِرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ، هُمْ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ أَوْ هُمْ مِنْ شَرِّ الْخَلْقِ، تَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ إِِلَى الْحَقِّ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہوں گے، وہ کچھ لوگوں کے درمیان نکلیں گے، ان کی مخصوص نشانی سر منڈوانا ہو گی اور ”وہ بدترین لوگ ہوں گے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) وہ مخلوق میں بدترین ہوں گے اور انہیں وہ گروہ قتل کرے گا، جو حق کے زیادہ قریب ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6740]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3344، 3610، 4351، 4667، 5058، 6163، 6931، 6933، 7432، 7562، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1064، 1065، ومالك فى (الموطأ) برقم: 694، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2373، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 25، 6735، 6737، 6740، 6741، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2392، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2665، 2674، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2577، 4112، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2370، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4667، 4764، 4765، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 169، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2903، 2904، 2972، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11164، والحميدي فى (مسنده) برقم: 766» «رقم طبعة با وزير 6705»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (3/ 113). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
582. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف الشيء الذي يستدل به على مروق أهل النهروان من الإسلام-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس چیز کی وصف جو نہروان کے لوگوں کے اسلام سے نکلنے کی دلیل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6741
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالضَّحَّاكُ الْمِشْرَقِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقْسِمُ قَسْمًا، إِِذَا جَاءَهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْدِلْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْلَكَ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِِذَا لَمْ أَعْدَلْ؟ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ، فَإِِنَّ لَهُ أَصْحَابًا" يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاتَهُ مَعَ صَلاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِِسْلامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ إِِلَى نَصْلِهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِِلَى رِصَافِهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِِلَى نَضِيِّهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ وَهُوَ الْقِدْحُ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِِلَى قُذَذِهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، وَمَثَلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينَ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ" ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ، فَوُجِدَ، فَأُتِيَ بِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے، اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ذو الخویصرہ آیا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ انصاف سے کام لیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! اگر میں عدل سے کام نہیں لوں گا تو پھر کون عدل کرے گا؟“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس کے بارے میں اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ اس کے کچھ ایسے ساتھی بھی ہوں گے کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا، وہ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے، جب اس کے پھل کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا، جب اس کے کونے کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا، جب اس کے رصاف (تیر کے پھل کو تانت باندھنے کی جگہ) کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا، جب اس کے نضی (تیر کے پیکان اور پر کے درمیان کا حصہ) کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا جو گوبر اور خون پر سبقت لے گیا ہو۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”ان لوگوں کی مخصوص نشانی ایک سیاہ فام شخص ہے جس کا ایک بازو عورت کی چھاتی کی مانند ہوگا یا وہ تھرتھراتے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کی مانند ہوگا، وہ لوگ لوگوں کے درمیان اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے۔“ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ہم نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تھی اور میں اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں حکم دیا تو اسے تلاش کیا گیا، وہ شخص مل گیا، جب اسے لایا گیا اور میں نے اس کا جائزہ لیا تو وہ بالکل ویسا ہی تھا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حلیہ بیان کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6741]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3344، 3610، 4351، 4667، 5058، 6163، 6931، 6933، 7432، 7562، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1064، 1065، ومالك فى (الموطأ) برقم: 694، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2373، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 25، 6735، 6737، 6740، 6741، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2392، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2665، 2674، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2577، 4112، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2370، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4667، 4764، 4765، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 169، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2903، 2904، 2972، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11164، والحميدي فى (مسنده) برقم: 766» «رقم طبعة با وزير 6706»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (924 و 925). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
583. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن قتل هذه الأمة ابن ابنة المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت کا مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کا قتل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6742
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ رَبَّهُ أَنْ يَزُورَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَكَانَ فِي يَوْمِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لا يَدْخُلُ عَلَيْنَا أَحَدٌ، فَبَيْنَمَا هِيَ عَلَى الْبَابِ، إِِذْ جَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَطَفِرَ، فَاقْتَحَمَ، فَفَتَحَ الْبَابَ، فَدَخَلَ، فَجَعَلَ يَتَوَثَّبُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ يَتَلَثَّمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: أَتُحِبُّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَمَا إِِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، إِِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، فَأَرَاهُ إِِيَّاهُ، فَجَاءَهُ بِسَهْلَةٍ أَوْ تُرَابٍ أَحْمَرَ" ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلْتُهُ فِي ثَوْبِهَا، قَالَ ثَابِتٌ: كُنَّا نَقُولُ إِِنَّهَا كَرْبَلاءُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ بارش کے فرشتے نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، تو پروردگار نے اسے اجازت دے دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: ”دروازے کا خیال رکھنا، کوئی بھی شخص اندر نہ آئے۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ابھی دروازے پر موجود تھیں کہ اسی دوران سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ (جو بچے تھے) وہ آ گئے، انہوں نے دروازہ کھولا اور اندر آ گئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لپٹانے لگے اور ان کا بوسہ لینے لگے۔ فرشتے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت تو انہیں شہید کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ دکھا سکتا ہوں جہاں انہیں شہید کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“، تو اس فرشتے نے اس جگہ کی مٹھی بھر مٹی لی جہاں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جانا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی، وہ فرشتہ نرم (یعنی باریک) مٹی لے کر آیا تھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سرخ مٹی لایا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے لی اور اسے اپنے کپڑے میں رکھ لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6742]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6742، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13743، 14002، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3402، والبزار فى (مسنده) برقم: 6900، والطبراني فى(الكبير) برقم: 2813» «رقم طبعة با وزير 6707»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (821 - 822). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
584. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن قتال المسلمين العجم من أهل خوز وكرمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسلمانوں کا خوز اور کرمان کے عجم سے قتال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6743
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا خُوزَ وَكِرْمَانَ قَوْمًا مِنَ الأَعَاجِمِ، حُمْرَ الْوجُوهِ، فُطْسَ الأُنُوفِ، صِغَارَ الأَعْيُنِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم عجمیوں سے تعلق رکھنے والی دو قوموں خوز اور کرمان کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے، ان کے چہرے سرخ ہوں گے، ناک چپٹے ہوں گے، آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چمڑے کی ڈھالوں کی مانند ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6743]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2928، 2929، 3587، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6743، 6744، 6745، 6746، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8562، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3177، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4303، 4304، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2215، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4096، 4097، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18664، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7383» «رقم طبعة با وزير 6708»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
585. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن قتال المسلمين أعداء الله الترك-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسلمانوں کا اللہ کے دشمن ترکوں سے قتال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6744
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چمڑے کی بنی ہوئی ڈھالوں کی مانند ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6744]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2928، 2929، 3587، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6743، 6744، 6745، 6746، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8562، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3177، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4303، 4304، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2215، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4096، 4097، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18664، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7383» «رقم طبعة با وزير 6709»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
586. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف لباس القوم الذين وصفنا نعتهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ہمارے بیان کردہ لوگوں کے لباس کی وصف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6745
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمُ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ، قَوْمًا وُجُوهَهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ، يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ، وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمان ترکوں کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے، جو ایک ایسی قوم ہے جن کے چہرے چمڑے کی بنی ہوئی ڈھالوں کی مانند ہیں، وہ لوگ بالوں (سے بنا ہوا) لباس پہنتے ہیں اور بالوں سے بنے ہوئے جوتے پہنتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6745]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2928، 2929، 3587، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6743، 6744، 6745، 6746، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8562، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3177، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4303، 4304، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2215، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4096، 4097، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18664، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7383» «رقم طبعة با وزير 6710»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «النسائي» (3177): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
587. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم يمشون في الشعر يريد به أنهم ينتعلونه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "وہ بالوں میں چلیں گے" سے مراد یہ ہے کہ وہ اسے پہنیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6746
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلَكُمْ أُمَّةٌ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ، وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ" ، وَهِيَ التِّرَسَةُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تمہارے ساتھ ایک ایسا گروہ جنگ نہیں کرے گا جو بالوں کے جوتے پہنتے ہیں اور ان کے چہرے ڈھالوں کی مانند ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6746]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2928، 2929، 3587، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6743، 6744، 6745، 6746، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8562، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3177، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4303، 4304، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2215، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4096، 4097، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18664، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7383» «رقم طبعة با وزير 6711»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
588. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف الموضع الذي يكون ابتداء قتال المسلمين إياهم فيه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس مقام کی وصف جہاں سے مسلمانوں کا ان سے قتال شروع ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6747
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ، عِرَاضَ الْوجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، يَجِيئُونَ حَتَّى يَرْبُطُوا خُيُولَهُمْ بِالنَّخْلِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایسی قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، ان کی آنکھیں ٹڈی کی پتلیوں کی طرح ہوں گی، ان کے چہرے چوڑے ہوں گے یوں جیسے وہ چمڑے سے بنی ہوئی ڈھالیں ہوں، جب وہ لوگ آئیں گے تو اپنے گھوڑوں کو کھجور کے درختوں کے ساتھ باندھ دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6747]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6747، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4099، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11433» «رقم طبعة با وزير 6712»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2429). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں