صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
510. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن إخراج الناس أبا ذر الغفاري من المدينة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ لوگوں نے ابو ذر غفاری کو مدینہ سے نکالا
حدیث نمبر: 6668
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: أَلا أَرَاكَ نَائِمًا فِيهِ؟ قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَبَتْنِي عَيْنِي، قَالَ: " فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهُ؟ قُلْتُ: مَا أَصْنَعُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَضْرِبُ بِسَيْفِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ ذَلِكَ وَأَقْرَبُ رُشْدًا، تَسْمَعُ وَتُطِيعُ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت مسجد نبوی میں سویا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کے ذریعے مجھے مارا اور ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں یہاں سویا ہوا دیکھ رہا ہوں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری آنکھ لگ گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تمہیں اس میں سے نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں اپنی تلوار کے ذریعے لڑائی کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو اور ہدایت کے زیادہ قریب ہو؟ تم اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو اور وہ تمہیں جہاں جانے کے لیے کہیں، تم وہاں چلے جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6668]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6668، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1439، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21778» «رقم طبعة با وزير 6633»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن بما بعده - «الظلال» (1074). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
511. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6669
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتْلُو هَذِهِ الآيَةَ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ سورة الطلاق آية 3 - 3، قَالَ: فَجَعَلَ يُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ"، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ،" كَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ؟ قُلْتُ: إِِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ أَكُونُ حَمَامًا مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ، قَالَ: كَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ؟ قُلْتُ: إِِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ، إِِلَى أَرْضِ الشَّامِ وَالأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، قَالَ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا؟ قُلْتُ: إِِذًا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، آخُذُ سَيْفِي فَأَضَعُهُ عَلَى عَاتِقِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ، تَسْمَعُ وَتُطِيعُ، لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعٍ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [سورة الطلاق: 2-3] تلاوت کرنا شروع کی: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے اونگھ آگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! اگر تمام لوگ اسی کو اختیار کر لیں تو یہی ان کے لیے کافی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: میں اپنی گنجائش کے مطابق یہ کوشش کروں گا کہ میں مکہ کا کبوتر بن جاؤں (یعنی مکہ منتقل ہو جاؤں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں مکہ سے بھی نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: میں اپنی گنجائش اور حیثیت کے مطابق کوشش کروں گا کہ میں شام کی سرزمین کی طرف چلا جاؤں اور ارض مقدس کی طرف چلا جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: اس صورت میں اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور اسے اپنی گردن میں لٹکا لوں گا (اور ان لوگوں سے لڑنا شروع کر دوں گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس سے زیادہ صحیح یہ نہیں ہے کہ تم ناک کان کٹے ہوئے اس حبشی غلام کی اطاعت و فرمانبرداری کرو (جو حاکم وقت ہوگا)؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6669]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6669، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3840، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11539، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2767، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4220، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21952، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2474» «رقم طبعة با وزير 6634»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف لانقطاعه - «المشكاة» (5306). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف لانقطاعه
512. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف موت أبي ذر الغفاري رحمة الله عليه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ابو ذر غفاری رحمة اللہ علیہ کی موت کی وصف
حدیث نمبر: 6670
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ الأَشْتَرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ ، قَالَتْ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ بَكَيْتُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقُلْتُ: مَالِي لا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا، قَالَ: فَلا تَبْكِي وَأَبْشِرِي، فإني سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ: " لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" ، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا وَقَدْ هَلَكَ فِي قَرْيَةِ جَمَاعَةٍ، وَأَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلاةٍ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ، فَأَبْصِرِي الطَّرِيقَ، قَالَتْ: وَأَنَّى وَقَدْ ذَهَبَ الْحَاجُّ وَانْقَطَعَتِ الطُّرُقُ، قَالَ: اذْهَبِي فَتَبَصَّرِي، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَجِيءُ إِِلَى كَثِيبٍ فَأَتَبَصَّرُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِِلَيْهِ فَأُمَرِّضُهُ، فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ، إِِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَى رِحَالِهِمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى وَقَفُوا عَلَيَّ، وَقَالُوا: مَا لَكِ أَمَةَ اللَّهِ؟ قُلْتُ لَهُمُ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمُوتُ، تُكَفِّنُونَهُ؟ قَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَقُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ، قَالُوا: صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَفَدَّوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَأَسْرَعُوا إِِلَيْهِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَرَحَّبَ بِهِمْ، وَقَالَ: إِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ:" لَيَمُوتَنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ"، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا هَلَكَ فِي قَرْيَةٍ وَجَمَاعَةٍ، وَأَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلاةٍ، أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِِنَّهُ لَوْ كَانَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُنِي كَفَنًَا لِي أَوْ لامْرَأَتِي، لَمْ أُكَفَّنْ إِِلا فِي ثَوْبٍ لِي أَوْ لَهَا، أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنْ يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا أَوْ نَقِيبًا، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِِلا قَارَفَ بَعْضَ ذَلِكَ إِِلا فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا عَمِّ، أَنَا أُكَفِّنُكَ، لَمْ أُصِبْ مِمَّا ذَكَرْتَ شَيْئًا، أُكَفِّنُكَ فِي رِدَائِي هَذَا، وَفِي ثَوْبَيْنِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي حَاكَتْهُمَا لِي، فَكَفَّنَهُ الأَنْصَارِيُّ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ شَهِدُوهُ مِنْهُمْ حُجْرُ بْنُ الأَدْبَرِ، وَمَالِكُ بْنُ الأَشْتَرِ فِي نَفَرٍ كُلُّهُمْ يَمَانٍ.
سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی، انہوں نے دریافت کیا: ”تم کیوں رو رہی ہو؟“ میں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں؟ جبکہ آپ ایک ویرانے میں فوت ہونے لگے ہیں اور میرے پاس اتنا کپڑا نہیں ہے جو آپ کے کفن کے لیے کافی ہو، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نہ روؤ، تمہارے لیے خوشخبری ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا، جن میں، میں بھی موجود تھا: ”تم لوگوں میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ویرانے میں ہو گا لیکن اس کی نمازِ جنازہ میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔““ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ”ان لوگوں میں سے ہر ایک شخص کا انتقال آبادی میں ہوا، صرف میں ویرانے میں مرنے لگا ہوں۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے، تم راستے کا جائزہ لیتی رہو۔“ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں اور راستے منقطع ہو چکے ہیں، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم جاؤ اور جا کر جائزہ لو۔“ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں ٹیلے کی طرف آئی، میں نے جائزہ لیا، پھر میں ان کے پاس واپس آئی اور ان کی تیمارداری کرنے لگی۔ ابھی میں ان کی تیمارداری کر رہی تھی کہ اسی دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر وہاں آ گئے، یوں لگتا تھا جیسے وہ پرندے ہوں، وہ لوگ آئے اور میرے پاس آ کر ٹھہر گئے، انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کی کنیز! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ میں نے ان سے کہا: ایک مسلمان شخص فوت ہونے لگا ہے، کیا تم لوگ اسے کفن دو گے؟ ان لوگوں نے دریافت کیا: وہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا: سیدنا ابوذر، انہوں نے دریافت کیا: وہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تو ان لوگوں نے یہ کہا: ہمارے ماں باپ ان پر قربان ہوں، پھر وہ تیزی سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور یہ بات بتائی: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، ان لوگوں میں، میں بھی موجود تھا: ”تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ویرانے میں ہو گا لیکن اس کے جنازے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔““ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا:) ”ان تمام لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی میں یا لوگوں کے اجتماع میں ہوا، صرف میں ویرانے میں مرنے لگا ہوں۔ تم لوگ یہ بات سن لو کہ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوا جو میرے کفن کے لیے کافی ہو یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہوا تو مجھے صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں کفن دیا جائے۔ تم لوگ یہ بات سن لو کہ میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ بات کہہ رہا ہوں کہ تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی کسی نہ کسی عہدے یا مرتبے پر فائز ہو)۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں تھا جو کسی نہ کسی عہدے پر نہ رہا ہو، صرف ایک انصاری نوجوان تھا، اس نے کہا: ”اے چچا جان! میں آپ کو وہ کفن دوں گا اور وہ چیز شامل نہیں کروں گا جس کا آپ نے ذکر کیا ہے، میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور ان دو کپڑوں میں دوں گا جو میں نے نیچے پہنے ہوئے ہیں جنہیں میری امی نے میرے لیے اپنے ہاتھوں سے کات کر دیا تھا۔“ تو اس انصاری نے ان لوگوں کی موجودگی میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو کفنایا، جو لوگ وہاں موجود تھے ان میں سیدنا حجر بن ادبر اور مالک بن اشتر شامل تھے، یہ تمام لوگ یمن سے تعلق رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6670]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6670، 6671، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5495، 5513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21769، 21867، والبزار فى (مسنده) برقم: 4060» «رقم طبعة با وزير 6635»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «تيسير الانتفاع» / ترجمة أم ذر. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث قوي
513. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر إخبار المصطفى صلى الله عليه وسلم عن موت أبي ذر-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ذر کی موت کی خبر دی
حدیث نمبر: 6671
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ الأَشْتَرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ ، قَالَتْ: ثُمَّ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ بَكَيْتُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقُلْتُ: وَمَا لِيَ لا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا، وَلا يَدَانِ لِي فِي تَغْيِيبِكَ، قَالَ: أَبْشِرِي وَلا تَبْكِي، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَمُوتُ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ وَلَدَانِ أَوْ ثَلاثٌ، فَيَصْبِرَانِ وَيَحْتَسِبَانِ فَيَرَيَانِ النَّارَ أَبَدًا"، وَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ:" لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" ، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا وَقَدْ مَاتَ فِي قَرْيَةٍ وَجَمَاعَةٍ، فَأَنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ، فَأَبْصِرِي الطَّرِيقَ، فَقُلْتُ: أَنَّى وَقَدْ ذَهَبَتِ الْحَاجُّ وَتَقَطَّعَتِ الطُّرُقُ، فَقَالَ: اذْهَبِي فَتَبَصَّرِي، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَشْتَدُّ إِِلَى الْكَثِيبِ أَتَبَصَّرُ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَأُمَرِّضُهُ، فَبَيْنَمَا هُوَ وَأَنَا كَذَلِكَ، إِِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَى رَحْلِهِمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ تَخُبُّ بِهِمْ رَوَاحِلُهُمْ، قَالَتْ: فَأَسْرَعُوا إِِلَيَّ حِينَ وَقَفُوا عَلَيَّ، فَقَالُوا: يَا أَمَةَ اللَّهِ، مَا لَكِ؟ قُلْتُ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمُوتُ، فَتُكَفِّنُونَهُ؟ قَالُوا: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَتْ: أَبُو ذَرٍّ، قَالُوا: صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَفَدَّوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَأَسْرَعُوا إِِلَيْهِ حَتَّى دَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: أَبْشِرُوا، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ:" لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ"، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ رَجُلٌ إِِلا وَقَدْ هَلَكَ فِي جَمَاعَةٍ، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ، إِِنَّهُ لَوْ كَانَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُنِي كَفَنًا لِي أَوْ لامْرَأَتِي، لَمْ أُكَفَّنْ إِِلا فِي ثَوْبٍ هُوَ لِي أَوْ لَهَا، إِِنِّي أُنْشِدُكُمُ اللَّهَ أَنْ لا يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا أَوْ نَقِيبًا، فَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا وَقَدْ قَارَفَ بَعْضَ مَا قَالَ، إِِلا فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: أَنَا أُكَفِّنُكَ يَا عَمِّ، أُكَفِّنُكَ فِي رِدَائِي هَذَا، وَفِي ثَوْبَيْنِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي، قَالَ: أَنْتَ فَكَفِّنْنِي، فَكَفَّنَهُ الأَنْصَارِيُّ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ حَضَرُوا، وَقَامُوا عَلَيْهِ وَدَفَنُوهُ فِي نَفَرٍ كُلُّهُمْ يَمَانٍ.
سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی، انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ آپ ایک ویرانے میں وفات پانے لگے ہیں، میرے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں ہے جو آپ کے کفن کے لیے کافی ہو اور آپ کی عدم موجودگی میں میرے لیے رہنا ممکن نہیں ہے، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے لیے خوشخبری ہے، تم نہ روؤ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس بھی دو مسلمان (میاں بیوی) کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ دونوں صبر سے کام لیں اور ثواب کی امید رکھیں تو وہ کبھی بھی آگ کو نہیں دیکھیں گے (یعنی جہنم میں نہیں جائیں گے)۔“ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین آدمیوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا، جن میں میں بھی موجود تھا: ”تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ضرور ویرانے میں ہوگا لیکن اس کی نمازِ جنازہ میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہوگا۔“ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ان لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی یا لوگوں کے درمیان ہوا، میں ان میں سے ایک شخص باقی رہ گیا ہوں۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے، تم اس کا جائزہ لیتی رہو۔ (سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) میں نے کہا: اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں، راستے منقطع ہو چکے ہیں، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور جا کے جائزہ لو۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں تیزی سے چلتی ہوئی ٹیلے کی طرف گئی اور اس بات کا جائزہ لیا اور واپس آکر ان کی تیمارداری کرنے لگی۔ ابھی میں اور وہ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر آئے، یوں جیسے وہ پرندے ہوں، ان کی سواریاں انہیں لے کر آئی تھیں۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب وہ لوگ میرے پاس ٹھہرے تو تیزی سے میری طرف آئے، انہوں نے کہا: اے اللہ کی کنیز! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا: ایک مسلمان شخص کا انتقال ہونے لگا ہے، کیا آپ لوگ اسے کفن دیں گے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ کون شخص ہے؟ اس خاتون نے جواب دیا: سیدنا ابوذر۔ ان لوگوں نے کہا: وہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں! پھر وہ تیزی سے چلتے ہوئے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم لوگوں کے لیے خوشخبری ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا جن میں میں بھی موجود تھا: ”تم میں سے ایک شخص ویرانے میں انتقال کرے گا اور اس کے جنازے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہوگا۔“ پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (میرے علاوہ) ان میں سے ہر ایک شخص کا انتقال لوگوں کے درمیان ہوا (اب صرف میں باقی رہ گیا ہوں)۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی۔ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوتا جو میرے کفن کے لیے کافی ہوتا یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہوتا تو صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں مجھے کفن دیا جاتا، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی سرکاری اہل کار ہو)۔ تو وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو ان میں سے کسی عہدے پر فائز نہ ہو، البتہ ایک انصاری نوجوان تھا، اس نے کہا: اے چچا جان! میں آپ کو کفن دوں گا، میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور اپنے ان دو کپڑوں میں دوں گا جو میری والدہ نے میرے لیے تیار کیے تھے، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے کفن دینا۔ تو اس انصاری نے وہاں موجود حاضرین کی موجودگی میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو کفن دیا اور ان کے (غسل وغیرہ) کے معاملات کی دیکھ بھال کی اور انہی لوگوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دفن کیا۔ ان سب کا تعلق یمن سے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6671]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6670، 6671، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5495، 5513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21769، 21867، والبزار فى (مسنده) برقم: 4060» «رقم طبعة با وزير 6636»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
514. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن أول فتح يكون للمسلمين بعده فتح جزيرة العرب-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ ان کے بعد سب سے پہلے مسلمانوں کی فتح جزیرہ عرب کی ہوگی
حدیث نمبر: 6672
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ نَافِعَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الدَّجَّالَ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَغْرِبِ أَتَوْهُ لِيُسْلِمُوا عَلَيْهِ، وَعَلَيْهِمُ الصُّوفُ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ تَغْزُونَ فَارِسَ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ، فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، میں نے کہا: آپ مجھے یہ بات بتائیں کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت اہل مغرب میں سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر تھے، وہ اسلام قبول کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے تھے، انہوں نے اونی لباس پہنا ہوا تھا، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ جزیرہ عرب کے ساتھ لڑائی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لیے فتح کر دے گا، تم اہل فارس کے ساتھ لڑائی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لیے فتح کر دے گا، پھر تم اہل روم کے ساتھ لڑائی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لیے فتح کر دے گا، پھر تم لوگ دجال کے ساتھ لڑائی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر فتح عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6672]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2900، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6672، 6809، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5738، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4091، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1559» «رقم طبعة با وزير 6637»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3246). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
515. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح اليمن والشام والعراق بعده صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ان کے بعد یمن، شام اور عراق کی فتح ہوگی صلی اللہ علیہ وسلم
حدیث نمبر: 6673
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَتُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ فَيَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ فَيَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ" ، قَالَ الشَّيْخُ: يَبُسُّونَ: أَيْ يَنْسِلُونَ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، سیدنا سفیان بن ابوزہیر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یمن فتح ہو جائے گا، کچھ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے، وہ اپنے بال بچوں اور اپنے فرمانبرداروں (یعنی غلاموں) کو سوار کر کے ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ اگر وہ علم رکھتے تو مدینہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا۔ شام فتح ہو گا تو کچھ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے اور وہ اپنے بال بچوں اور اپنے پیروکاروں (یعنی غلاموں اور کنیزوں) کو سوار کر کے لے جائیں گے، حالانکہ اگر وہ علم رکھتے ہوں تو مدینہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے، پھر عراق فتح ہو گا تو کچھ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے، وہ اپنے بال بچوں اور اپنے فرمانبرداروں (یعنی غلاموں اور کنیزوں) کو سوار کر کے ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ اگر وہ علم رکھتے ہوں تو مدینہ منورہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔“ شیخ فرماتے ہیں: لفظ «يُبِسُّونَ» کا مطلب تیزی سے چلتے ہوئے آنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6673]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1875، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1388، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3309، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6673، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4249، 4250، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22332» «رقم طبعة با وزير 6638»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (1875)، م (4/ 122). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
516. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح المسلمين الحيرة بعده-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ان کے بعد مسلمانوں کی حیرہ کی فتح ہوگی
حدیث نمبر: 6674
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُثِّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلابِ، وَإِِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةَ بُقَيْلَةَ، فَقَالَ: هِيَ لَكَ، فَأَعْطُوهُ إِِيَّاهَا ، فَجَاءَ أَبُوهَا، فَقَالَ: أَتَبِيعُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بِكُمْ؟ احْتَكِمْ مَا شِئْتَ، قَالَ: بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، قَالَ: قَدْ أَخَذْتَهَا، فَقِيلَ لَهُ: لَوْ قُلْتَ: ثَلاثِينَ أَلْفًا؟ قَالَ: وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”حیرہ میرے سامنے کتے کے دانتوں کی طرح کی شکل میں پیش کیا گیا، تم لوگ عنقریب اسے فتح کر لو گے۔“ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بقیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کر دیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہاری ہوئی۔“ لوگوں نے وہ لڑکی اس شخص کو دے دی، پھر اس لڑکی کا باپ آیا اور بولا: کیا تم اسے فروخت کرو گے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس لڑکی کے باپ نے دریافت کیا: کتنے کے عوض؟ میں نے اس سے کہا: تم جو چاہو فیصلہ کر دو۔ لڑکی کے باپ نے کہا: ایک ہزار درہم کے عوض میں۔ اس شخص نے کہا: ٹھیک ہے۔ (بعد میں) اس شخص سے کہا گیا: اگر تم تیس ہزار درہم کہہ دیتے (تو یہ مناسب تھا)، اس نے کہا: کیا ایک ہزار سے زیادہ بھی کوئی عدد ہوتا ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6674]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6674، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18449، والطبراني فى(الكبير) برقم: 183» «رقم طبعة با وزير 6639»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2825). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
517. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح المسلمين بيت المقدس بعده-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ان کے بعد مسلمانوں کی بیت المقدس کی فتح ہوگی
حدیث نمبر: 6675
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي إِِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي خِبَاءٍ مِنْ أَدَمٍ، فَجَلَسْتُ فِي فَنَاءِ الْخِبَاءِ، فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ، فَقَالَ: ادْخُلْ يَا عَوْفُ، فَقُلْتُ: كُلِّي؟ فَقَالَ: كُلُّكَ، فَدَخَلْتُ فَوَافَقْتُهُ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَوْفُ، " احْفَظْ خِلالا سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: إِِحْدَاهُنَّ مَوْتِي، قَالَ عَوْفٌ: فَوَجَمْتُ عِنْدَهَا وَجْمَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ: إِِحْدَى، فَقُلْتُ: إِِحْدَى، ثُمَّ قَالَ: فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ يَظْهَرُ فِيكُمْ دَاءٌ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ فِيكُمْ، حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِنْكُمْ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ حَتَّى لا يَبْقَى بَيْتٌ مُؤْمِنٌ إِِلا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ صُلْحٌ يَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الأَصْفَرِ، فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ، فَيَسِيرُونَ إِِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةٍ تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ چمڑے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھے۔ میں اس کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اے عوف! اندر آ جاؤ۔“ میں نے عرض کی: سارے کا سارا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارے کا سارا۔“ میں اندر داخل ہوا تو میں نے آپ کو ٹھہر ٹھہر کر وضو کرتے ہوئے پایا، پھر آپ نے فرمایا: ”اے عوف! چھ چیزوں کے بارے میں یاد رکھنا کہ جو قیامت سے پہلے ہوں گی۔ ان میں سے ایک میری موت ہے۔“ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ سن کر مجھے جھٹکا سا لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: ایک۔“ میں نے کہا: ایک۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المقدس فتح ہو گا، پھر تمہارے درمیان ایک بیماری پھوٹ پڑے گی، پھر تمہارے درمیان مال زیادہ ہو جائے گا، یہاں تک کہ تم میں سے کسی ایک شخص کو ایک سو درہم دیے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا، پھر تمہارے درمیان ایسا فتنہ نمودار ہو گا کہ کسی بھی مومن کا گھر باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ فتنہ اس میں داخل ہو جائے گا، پھر تمہارے اور بنو اصفر (یعنی اہل روم) کے درمیان صلح ہو گی تو وہ تمہارے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے، پھر وہ 80 جھنڈوں کے نیچے اکٹھے ہو کر تمہاری طرف (جنگ کرنے کے لیے) چل پڑیں گے، جن کے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6675]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3176، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6382، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5000، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4042، 4095، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18884، 21232، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24604» «رقم طبعة با وزير 6640»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فضائل الشام» (30): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
518. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح الله جل وعلا على المسلمين أرض بربر-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے مسلمانوں پر بربر کی زمین کی فتح عطا کی
حدیث نمبر: 6676
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ، فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا، فَإِِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا" ، قَالَ حَرْمَلَةُ: يَعْنِي بِالْقِيرَاطِ: أَنَّ قِبْطَ مِصْرَ يُسَمُّونَ أَعْيَادَهُمْ وَكُلَّ مَجْمَعٍ لَهُمُ: الْقِيرَاطَ، يَقُولُونَ: نَشْهَدُ الْقِيرَاطَ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب تم ایسی سرزمین کو فتح کرو گے جہاں «الْقِيرَاطِ» ”قیراط“ کا ذکر کیا جائے گا تو تم لوگ وہاں کے رہنے والوں کے ساتھ بھلائی کی تلقین قبول کرو کیونکہ وہ ذمی بھی ہوں گے اور ان کے ساتھ رشتہ داری کا تعلق بھی ہو گا۔“ حرملہ نامی راوی کہتے ہیں: قیراط سے مراد یہ ہے: مصر کے رہنے والے قبطی اپنی اینٹ کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے تھے اور اپنے ہر اجتماع کے لیے لفظ قیراط استعمال کرتے تھے، وہ یہ کہتے تھے ہم لوگ قیراط میں شریک ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6676]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2543، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6676، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18807، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21921» «رقم طبعة با وزير 6641»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 190). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
519. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن تقوي المسلمين بأهل المغرب على أعداء الله الكفرة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مغرب کے لوگوں کے ذریعے مسلمانوں کی اللہ کے کافر دشمنوں پر تقویٰ
حدیث نمبر: 6677
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، وَعَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ، يَقُولانِ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّكُمْ سَتَقْدِمُونَ عَلَى قَوْمٍ جَعْدٍ رُءُوسُهُمْ، فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ، فَإِِنَّهُ قُوَّةٌ لَكُمْ وَبَلاغٌ إِِلَى عَدُوِّكُمْ بِإِِذْنِ اللَّهِ" ، يَعْنِي قِبْطَ مِصْرَ.
سیدنا ابوعبدالرحمن حبلی رحمہ اللہ اور سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب تم ایسی قوم کے پاس جاؤ گے جن کے بال گھنگھریالے ہوں گے، تو تم ان کے بارے میں تلقین کو قبول کرو کیونکہ وہ تمہارے لیے قوت ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے اذن کے تحت تمہیں دشمن تک پہنچائیں گے۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد مصر کے قبطی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6677]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6677، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1473» «رقم طبعة با وزير 6642»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (4437). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الصحيح إلا أنه مرسل