المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. إِذَا زَنَا الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ
جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے
حدیث نمبر: 70
أخبرنا أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا عُبَيد بن شَرِيك البزَّار، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث بن سعد، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلَمَ، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله بن عمرو قال: قلت: يا رسول الله، أمِنَ الكِبْر أن أَلبَسَ الحُلَّةَ الحسنةَ؟ قال:"إنَّ الله جميلٌ يحبُّ الجَمَال" (2) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ بھی تکبر میں شامل ہے کہ میں عمدہ جوڑا پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 70]
30. اللَّهُ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالُ
اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے
حدیث نمبر: 71
حدثنا أبو بكر بن إسحاق إملاءً، حدثنا يوسف بن يعقوب، حدثنا أبو الرَّبيع الزَّهْراني، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"دَعَا اللهُ جبريلَ فأرسلَه إلى الجنة، فقال: انظُرْ إليها وما أَعددتُ فيها لأهلِها، فقال: وعِزَّتِكَ لا يسمعُ بها أحدٌ إلّا دخلها، فحُفَّتْ بالمَكارِه، قال: ارجِعْ إليها فانظُرْ إليها، فرجعَ، فقال: وعزَّتِكَ لقد خَشِيتُ أن لا يدخلَها أحدٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه حماد بن سلمة عن محمد بن عمرو بزيادة ألفاظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 71 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه حماد بن سلمة عن محمد بن عمرو بزيادة ألفاظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 71 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو پکارا اور انہیں جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: اس کی طرف دیکھو اور ان انعامات کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مکینوں کے لیے تیار کیے ہیں، انہوں نے (دیکھ کر) عرض کیا: (اے اللہ!) تیری عزت کی قسم! جو بھی اس کے بارے میں سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو جائے گا، پھر اللہ نے اسے ناگوار چیزوں (مشقتوں) سے ڈھانپ دیا، پھر فرمایا: اس کی طرف دوبارہ جاؤ اور دیکھو، وہ واپس آئے تو عرض کیا: تیری عزت کی قسم! اب تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔ حماد بن سلمہ نے محمد بن عمرو کے واسطے سے زائد الفاظ کے ساتھ بھی اسے روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 71]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔ حماد بن سلمہ نے محمد بن عمرو کے واسطے سے زائد الفاظ کے ساتھ بھی اسے روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 71]
31. حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ
جنت کو مشقتوں سے گھیر دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 72
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا محمد بن عُبيد الله (2) بن مرزوق، حدثنا عفَّان، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لما خَلَقَ اللهُ الجنةَ قال: يا جبريلُ، اذهَبْ فانظُرْ إليها، قال: فذهب فنَظَرَ إليها، فقال: لا يَسمَعُ بها أحدٌ إِلّا دخلها، ثم حَفَّها بالمَكارِه، ثم قال: اذهَبْ فانظُرْ إليها (1) ، فقال: وعِزَّتِك لقد خَشِيتُ أن لا يدخلَها أحد، ثم خَلَقَ النارَ، فقال: يا جبريل، اذهبْ فانظُرْ إليها، قال: فنظرَ إليها، فقال: لا يسمعُ بها أحد فيَدخُلَها، قال: فحَفَّها بالشَّهوات، ثم قال: اذهبْ فانظُرْ إليها، قال: فذهب فنظرَ إليها، فقال: يا ربِّ، وعزِّتِك لقد خَشِيتُ أن لا يبقى أحدٌ إلَّا دخلها" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 72 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 72 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، پس وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر عرض کیا: جو بھی اس کے بارے میں سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو جائے گا، پھر اللہ نے اسے ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا، پھر فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، تو انہوں نے عرض کیا: تیری عزت کی قسم! مجھے اندیشہ ہے کہ اب اس میں کوئی داخل نہیں ہو پائے گا، پھر اللہ نے آگ (دوزخ) کو پیدا کیا اور فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، پس انہوں نے اسے دیکھا اور عرض کیا: جو اس کے بارے میں سن لے گا وہ اس میں (کبھی) داخل نہیں ہوگا، پھر اللہ نے اسے شہوات (نفسانی خواہشات) سے ڈھانپ دیا اور فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، پس وہ گئے اور اسے دیکھا تو عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! اب مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو جائے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 72]
حدیث نمبر: 73
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن عِصْمة العَدْل قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا يحيى بن يَمَانٍ، حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن سليمان الأحول، عن طاووس، عن ابن عباس: ﴿فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا﴾ [فصلت: 11] ، قال للسماء: أَخرِجي شمسَكِ وقمرَكِ ونجومَكِ، وقال للأرض: شَقِّقي أنهارَكِ وأَخرِجي ثمارَكِ، فقالتا: أتيناكَ طائعين (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وتفسيرُ الصحابي عندهما مُسنَد (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 73 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وتفسيرُ الصحابي عندهما مُسنَد (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 73 - على شرطهما
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا﴾ ”اللہ نے آسمان اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں آ جاؤ خوشی سے یا ناپسندیدگی سے“ [سورة فصلت: 11] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: اللہ نے آسمان سے فرمایا کہ اپنا سورج، چاند اور ستارے نکالو، اور زمین سے فرمایا کہ اپنی نہریں جاری کرو اور اپنے پھل نکالو، تو ان دونوں نے عرض کیا: ہم فرمانبردار بن کر حاضر ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی، اور ان کے نزدیک صحابی کی تفسیر مسند (مرفوع) حدیث کے حکم میں ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 73]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی، اور ان کے نزدیک صحابی کی تفسیر مسند (مرفوع) حدیث کے حکم میں ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 73]
حدیث نمبر: 74
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان الصَّيْرفي بمرو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا مالك بن أنس. وأخبرني أبو بكر بن أبي نصر الدارَبردي (1) بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي. وأخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي؛ قالا: حدثنا القَعْنبي فيما قرأ على مالك، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطّاب، عن مسلم بن يسار الجُهَني: أنَّ عمر بن الخطاب سُئِل عن هذه الآية ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ [الأعراف: 172] ، قال عمر بن الخطَّاب: سمعت رسول الله ﷺ يُسأل عنها، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله خلقَ آدمَ، ثم مَسَحَ ظهرَه بيمينه فاستَخرَجَ منه ذُرِّيَّةً، فقال: خلقتُ هؤلاء للجنَّة، وبعملِ أهل الجنة يعملون، ثم مَسَحَ ظهرَه فاستخرجَ ذُرِّيةً، فقال: خلقتُ هؤلاء للنار، وبعملِ أهل النار يعملون" (2) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 74 - فيه إرسال
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 74 - فيه إرسال
سیدنا مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ ”اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی“ [سورة الأعراف: 172] کے بارے میں پوچھا گیا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے آدم کو پیدا کیا، پھر اپنی دائیں قدرت سے ان کی پشت پر مسح کیا تو اس سے ان کی اولاد نکالی اور فرمایا: میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جنت والے عمل کریں گے، پھر ان کی پشت پر مسح کیا اور اس سے (باقی) اولاد نکالی اور فرمایا: میں نے ان کو آگ کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل دوزخ والے عمل کریں گے۔“
یہ حدیث ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 74]
یہ حدیث ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 74]
32. تَفْسِيرُ آيَةِ (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ)
اس آیت کی تفسیر: جب تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا
حدیث نمبر: 75
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البصري بمِصر، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، عن كُلْثوم بن جَبْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قال:"أَخَذَ اللهُ الميثاقَ من ظَهْر آدم، فأَخرج من صُلْبه ذُرِّيةً ذَرَأَها فنَثَرَهم نَثْرًا بين يديه كالذَّرِّ، ثم كلَّمهم، فقال: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (172) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ [الأعراف] " (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلم بكُلْثوم بن جَبْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 75 - احتج مسلم بكلثوم
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلم بكُلْثوم بن جَبْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 75 - احتج مسلم بكلثوم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کی پشت سے (وادی نعمان میں) عہد و میثاق لیا، پس ان کی صلب سے ان کی وہ تمام نسل نکالی جو وہ پیدا کرنے والا تھا اور انہیں اپنے سامنے چیونٹیوں کی طرح پھیلا دیا، پھر ان سے کلام کرتے ہوئے فرمایا: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (172) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں! ہم گواہی دیتے ہیں، تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے، یا یہ کہو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد کی نسل تھے، کیا تو ہمیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو باطل پرست تھے؟“ [سورة الأعراف: 172-173] “
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ امام مسلم نے کلثوم بن جبر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 75]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ امام مسلم نے کلثوم بن جبر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 75]
حدیث نمبر: 76
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا خَلَف بن خَليفة، عن حُميد الأعرج، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"يومَ كَلَّمَ اللهُ موسى كان عليه جُبَّةُ صوفٍ، وسراويلُ صوفٍ، وكُمَّةُ صوفٍ، وكِساءُ صوفٍ، ونَعلانِ من جلدِ حمارٍ غيرِ ذكيٍّ" (1) . قد اتفقا جميعًا على الاحتجاج بحديث سعيد بن منصور، وحُميدٌ هذا ليس بابن قيس الأعرج، قال البخاري في"التاريخ": حميد بن علي الأعرج الكوفي مُنكَر الحديث، وعبد الله بن الحارث النَّجْراني مُحتَجٌّ به (2) ، واحتجَّ مسلم وحده بخلف بن خليفة، و
هذا حديث كبير في التصوف والتكليم (3) ، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث إسماعيل بن عيَّاش:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 76 - حميد هذا ليس بابن قيس
هذا حديث كبير في التصوف والتكليم (3) ، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث إسماعيل بن عيَّاش:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 76 - حميد هذا ليس بابن قيس
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا، اس وقت وہ اون کا جبہ، اون کی شلوار، اون کی ٹوپی، اون کی چادر پہنے ہوئے تھے اور ان کے جوتے گدھے کی ایسی کھال کے تھے جو (شرعی طریقے سے) دباغت شدہ نہیں تھی۔“
امام بخاری و مسلم دونوں نے سعید بن منصور کی حدیث سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہاں حمید نامی راوی حمید بن قیس الاعرج نہیں ہیں بلکہ امام بخاری نے ”التاريخ“ میں کہا ہے کہ حمید بن علی الاعرج الکوفی منکر الحدیث ہے، جبکہ عبداللہ بن حارث نجرانی سے احتجاج کیا جاتا ہے، اور امام مسلم نے اکیلے خلف بن خلیفہ سے احتجاج کیا ہے، اور یہ تصوف اور کلامِ الٰہی کے موضوع پر ایک اہم حدیث ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کے لیے اسماعیل بن عیاش کی حدیث سے ایک شاہد بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 76]
امام بخاری و مسلم دونوں نے سعید بن منصور کی حدیث سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہاں حمید نامی راوی حمید بن قیس الاعرج نہیں ہیں بلکہ امام بخاری نے ”التاريخ“ میں کہا ہے کہ حمید بن علی الاعرج الکوفی منکر الحدیث ہے، جبکہ عبداللہ بن حارث نجرانی سے احتجاج کیا جاتا ہے، اور امام مسلم نے اکیلے خلف بن خلیفہ سے احتجاج کیا ہے، اور یہ تصوف اور کلامِ الٰہی کے موضوع پر ایک اہم حدیث ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کے لیے اسماعیل بن عیاش کی حدیث سے ایک شاہد بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 76]
33. فَضِيلَةُ لِبَاسِ الصُّوفِ
اون کے لباس کی فضیلت
حدیث نمبر: 77
حدَّثناه علي بن حَمْشَاذَ وأبو بكر بن بالَوَيهِ قالا: حدثنا محمد بن يونس، حدثنا عبد الله بن [داود، حدثنا إسماعيل بن عيّاش، عن ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان] (4) عن أبي أُمامة الباهلي قال: قال رسول الله ﷺ:"عليكم بلِباسِ الصُّوف تَجِدُون حلاوةَ الإيمان في قلوبكم" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 77 - ساقه من طريق ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 77 - ساقه من طريق ضعيف
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اون کے لباس کو اختیار کرو، تم اپنے دلوں میں ایمان کی مٹھاس پاؤ گے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 77]
حدیث نمبر: 78
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شَيْبان. وأخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا الحسن بن موسى الأشيَبُ، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عمران بن حُصَين: أنَّ رسول الله ﷺ قال وهو في بعض أسفاره، وقد قارَبَ بين أصحابه السَّيرُ، فرفع بهاتين الآيتين صوتَه: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [الحج: 1 - 2] ، فلما سمع أصحابُه ذلك، حَثُّوا المَطِيَّ وعرفوا أنَّه عند قولٍ يقوله، فلما تأشَّبُوا عنده حولَه، قال:"هل تدرون أيُّ يومٍ ذاكُم؟" قالوا: الله ورسوله أعلم، قال:"ذاك يوم يُنادَى آدمُ فيناديه ربُّه فيقول: يا آدمُ، ابعَثْ بَعْثَ النارِ، فيقول: وما بعثُ النار؟ فيقول: من كلِّ ألفٍ تسعُ مئةٍ وتسعةٌ وتسعون إلى النار وواحدٌ إلى الجنة" قال: فأُبلِسُوا حتى ما أَوضَحُوا بضاحكةٍ، فلما رأى رسول الله ﷺ ذاك قال:"اعمَلوا وأَبشِروا، فوالذي نفسُ محمدٍ بيده، إنكم مع خَلِيقتَينِ ما كانتا مع شيءٍ إِلَّا كَثَّرَتاهُ، يأجوجَ ومأجوجَ، ومَن هَلَكَ من بني آدم وبني إبليسَ" قال: فسَرَّى ذلك عن القوم، قال:"اعمَلوا وأَبشِروا، فوالذي نفسُ محمد بيده، ما أنتم في الناس إلَّا كالرَّقْمةِ في ذراع الدابَّة، أو كالشَّامَة في جَنْبِ البعير" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بطوله، والذي عندي أنهما قد تَحرَّجا ذلك خَشْيةَ الإرسال، وقد سمع الحسنُ من عِمْران بن حُصَين، وهذه الزيادات التي في هذا المتن أكثرُها عند مَعمَر عن قتادة عن أنس، وهو صحيح على شرطهما جميعًا، ولم يُخرجاه ولا واحدٌ منهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 78 - صحيح الإسناد سمع الحسن من عمران
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بطوله، والذي عندي أنهما قد تَحرَّجا ذلك خَشْيةَ الإرسال، وقد سمع الحسنُ من عِمْران بن حُصَين، وهذه الزيادات التي في هذا المتن أكثرُها عند مَعمَر عن قتادة عن أنس، وهو صحيح على شرطهما جميعًا، ولم يُخرجاه ولا واحدٌ منهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 78 - صحيح الإسناد سمع الحسن من عمران
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھکاوٹ کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیات کے ساتھ اپنی آواز بلند فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [الحج: 1-2] ، جب صحابہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنی سواریوں کو تیز کر دیا اور وہ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اہم بات ارشاد فرمانے والے ہیں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون سا دن ہوگا؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جب آدم کو پکارا جائے گا اور ان کا رب انہیں پکار کر کہے گا: اے آدم! دوزخ کا لشکر نکالو، وہ عرض کریں گے: دوزخ کا لشکر کتنا ہے؟ اللہ فرمائے گا: ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے آگ میں اور ایک جنت میں“، راوی کہتے ہیں: (یہ سن کر) صحابہ مایوس ہو گئے یہاں تک کہ ان کے چہروں پر مسکراہٹ تک نہ رہی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: ”عمل کرو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے! تم دو ایسی مخلوقات کے ساتھ ہو کہ وہ جس چیز کے ساتھ ہوں اسے کثرت میں بدل دیتے ہیں، یعنی یاجوج و ماجوج، اور بنی آدم و بنی ابلیس میں سے جو ہلاک ہو چکے ہیں“، راوی کہتے ہیں: اس سے لوگوں کا غم دور ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرو اور خوشخبری پاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم لوگوں میں ایسے ہو جیسے کسی چوپائے کے بازو پر ایک نشان ہوتا ہے یا جیسے اونٹ کے پہلو پر ایک تل کا نشان ہوتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن ان دونوں نے اسے پوری تفصیل کے ساتھ روایت نہیں کیا، میرے نزدیک انہوں نے مرسل ہونے کے اندیشے کی وجہ سے اسے چھوڑا ہے، حالانکہ حسن بصری نے عمران بن حصین سے سماع کیا ہے، اور اس متن میں موجود زیادہ تر زیادات معمر عن قتادہ عن انس کی روایت میں بھی ہیں، اور یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 78]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن ان دونوں نے اسے پوری تفصیل کے ساتھ روایت نہیں کیا، میرے نزدیک انہوں نے مرسل ہونے کے اندیشے کی وجہ سے اسے چھوڑا ہے، حالانکہ حسن بصری نے عمران بن حصین سے سماع کیا ہے، اور اس متن میں موجود زیادہ تر زیادات معمر عن قتادہ عن انس کی روایت میں بھی ہیں، اور یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 78]
34. بَعْثُ الْجَنَّةِ وَبَعْثُ النَّارِ
جنت اور جہنم کے بھیجے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 79
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن قَتَادة عن أنس قال: لما نزلت ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ إلى قوله: ﴿وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ على النبي ﷺ، وهو في مَسِيرٍ له … فذكر الحديث بنحوه (1) . قد اتفقا جميعًا على إخراج حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد بعضَ هذا المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 79 - وقد أخرجا حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 79 - وقد أخرجا حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر (ایک سفر کے دوران) یہ آیات ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ سے لے کر ﴿وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ تک نازل ہوئیں... پھر راوی نے اسی طرح حدیث ذکر کی۔
ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اعمش عن ابی صالح عن ابی سعید کی روایت سے اس متن کا کچھ حصہ روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 79]
ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اعمش عن ابی صالح عن ابی سعید کی روایت سے اس متن کا کچھ حصہ روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 79]