🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. التَّعَوُّذُ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ
کفر، فقر اور عذاب قبر سے پناہ مانگنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 100
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي (2) ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن إسحاق بن خُزَيمة قالا: حدثنا أبو الخطَّاب زياد بن يحيى الحَسّاني. وحدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد وإبراهيم بن أبي طالب قالا: حدثنا زياد بن يحيى الحَسّاني، أخبرنا مالك بن سُعَير، حدثنا الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أيها الناسُ، إنما أنا رحمةٌ مُهداةٌ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، فقد احتجَّا جميعًا بمالك بن سُعَير، والتفرُّد من الثقات مقبول (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 100 - على شرطهما وتفرد الثقة مقبول
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تو بس (اللہ کی طرف سے) عطا کی گئی ایک رحمت ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، ان دونوں نے مالک بن سعیر سے احتجاج کیا ہے اور ثقہ راوی کا منفرد ہونا مقبول ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 100]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. هُوَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ
وہ ﷺ اللہ کی طرف سے بھیجی گئی رحمت ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا أَبي، حدثنا عُبيد الله بن عَمرو، عن زيد بن أبي أُنَيسة، عن القاسم بن عوف الشَّيباني قال: سمعتُ ابن عمر يقول: لقد عِشْنا بُرْهةً من دَهرِنا وإنَّ أحدَنا يُؤتَى الإيمانَ قبلَ القرآن، وتنزل السورةُ على محمد ﷺ فيَتعلَّم حلالَها وحرامَها، وما ينبغي أن يُوقَفَ عنده فيها، كما تَعلَّمون أنتم القرآن، ثم قال: لقد رأيت رجالًا يُؤتَى أحدُهم القرآنَ فيقرأُ ما بينَ فاتحتِه إلى خاتمته ما يدري ما آمِرُه ولا زاجِرُه، ولا ما ينبغي أن يُوقَفَ عندَه منه، يَنثُرُه نَثْرَ الدَّقَلِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولا أعرفُ له عِلَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 101 - على شرطهما ولا علة له
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ اس حال میں گزارا کہ ہم میں سے ہر ایک کو قرآن (سیکھنے) سے پہلے ایمان عطا کیا جاتا تھا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی سورت نازل ہوتی تو وہ اس کے حلال و حرام اور اس کے احکامات و نواہی کو اسی طرح سیکھتا جیسے تم آج کل قرآن سیکھتے ہو۔ پھر (بعد میں) میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں (ایمان سے پہلے) قرآن دے دیا گیا، وہ اسے آغاز سے انجام تک پڑھ جاتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا امر کیا ہے اور اس کی نہی کیا ہے، اور کن مقامات پر رکنا چاہیے، وہ اسے ردی کھجوروں کی طرح (بغیر سمجھے) بکھیر دیتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کوئی علت میری معلومات میں نہیں، اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 101]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. كَيْفُ يُتَعَلَّمُ الْقُرْآنُ؟
قرآن سیکھنے کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
حدثنا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان الفارسي. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد؛ قالا: حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي المَوَال القرشي. وأخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا ابن أبي المَوَال عبدُ الرحمن، حدثنا عُبيد الله (2) بن مَوْهَب القرشي، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"ستةٌ لعنتُهم، لَعَنَهم الله وكلُّ نبيٍّ مُجابٍ: المكذَّبُ بقَدَر الله، والزائدُ في كتاب الله، والمتسلِّطُ بالجَبَرُوت، يُذِلُّ مَن أعزَّ اللهُ ويُعِزُّ من أذلَّ اللهُ، والمُستحِلُّ لحُرَم الله، والمستحِلُّ من عِتْرتي ما حرَّم الله، والتاركُ لسُنَّتي" (1) . قد احتجَّ البخاري بعبد الرحمن بن أبي المَوَالِ، و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولا أعرف له عِلَّةً (2) ، ولم يُخرجاه. أخبرنا الحاكم أبو عبد الله الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع الآخر سنة ثلاث وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 102 - صحيح ولا أعرف له علة
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی ہے اور اللہ نے بھی ان پر لعنت فرمائی ہے، اور ہر اس نبی نے بھی جس کی دعا قبول ہوتی ہے: (1) اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا، (2) اللہ کی کتاب میں اپنی طرف سے اضافہ کرنے والا، (3) اپنی طاقت و جبروت کے ذریعے مسلط ہونے والا حکمران تاکہ وہ اسے ذلیل کرے جسے اللہ نے عزت دی اور اسے عزت دے جسے اللہ نے ذلیل کیا، (4) اللہ کی حرام کردہ چیزوں (حرمات) کو حلال کرنے والا، (5) میری عترت (آل) کے بارے میں ان چیزوں کو حلال کرنے والا جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے، (6) اور میری سنت کو ترک کرنے والا۔
امام بخاری نے عبدالرحمن بن ابی الموال سے احتجاج کیا ہے، اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اس کی کوئی علت میرے علم میں نہیں، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 102]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ
چھ لوگ جن پر اللہ نے لعنت فرمائی اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرُو، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدثنا عبد الواحد بن زياد. وأخبرني محمد بن عبد الله الجوهري - واللفظ له - حدثنا محمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن مَعمَر بن رِبْعيٍّ القَيْسي، حدثنا أبو هشام المغيرة بن سَلَمة المخزومي، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عبد الله بن عبد الله بن الأصمِّ، حدثنا يزيد بن الأصم، عن أبي هريرة قال: جاء رجلٌ إلى النبي ﷺ، فقال: يا محمدُ، أرأيتَ جنةً عرضُها السماوات والأرض، فأين النارُ؟ قال:"أرأيتَ الليلَ الذي التَبَسَ كلَّ شيءٍ، فأين جُعِلَ النهار؟" قال: اللهُ أعلم، قال:"كذلك اللهُ يفعلُ ما يشاءُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولا أعلم له عِلَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 103 - على شرطهما ولا أعلم له علة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر جنت کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، تو پھر آگ (دوزخ) کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ جب رات ہر چیز پر چھا جاتی ہے، تو پھر دن کہاں چلا جاتا ہے؟ اس نے عرض کیا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے (یعنی وہ ہر چیز پر قادر ہے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس کی کوئی علت میرے علم میں نہیں، اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 103]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. جَوَابُ مَنْ سَأَلَ أَيْنَ النَّارُ
اس شخص کا جواب جس نے پوچھا جہنم کہاں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن رافع ومحمد بن يحيى؛ قالوا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن أبي ذِئْب عن سعيد المَقْبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما أَدري تُبَّعٌ ألَعِينًا (2) كان أم لا، وما أدري ذا القَرْنَينِ أنبيًّا كان أم لا، وما أدري الحدودُ كفَّاراتٌ لأهلِها أم لا؟" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولا أعلم له علّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 104 - على شرطهما ولا أعلم له علة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ تبع (شاہِ یمن) ملعون تھا یا نہیں، اور میں نہیں جانتا کہ ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں، اور میں نہیں جانتا کہ (شرعی) حدود ان کے مرتکب ہونے والوں کے لیے کفارہ ہیں یا نہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کوئی علت معلوم نہیں، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 104]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. تُبَّعٌ وَذُو الْقَرْنَيْنِ أَكَانَا نَبِيَّيْنِ أَمْ لَا؟
تُبّع اور ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا بَهْز بن أسد، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، عن رسول الله ﷺ قال:"لما خَلَقَ اللهُ آدمَ صَوَّره وتَرَكَه في الجنة ما شاء اللهُ أن يتركَه، فجعل إبليسُ يُطِيفُ به، فلما رآه أجوَفَ عَرَفَ أنه خَلْقٌ لا يَتمالَكُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وقد بلغني أنه أخرجه في آخر الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 105 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے (جنت میں) آدم کی صورت گری کی تو انہیں اتنی مدت چھوڑے رکھا جتنی مدت اللہ نے چاہا، چنانچہ ابلیس ان کے گرد چکر کاٹنے لگا، جب اس نے دیکھا کہ وہ اندر سے کھوکھلے (اجوف) ہیں تو وہ سمجھ گیا کہ یہ ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکے گی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ انہوں نے اسے کتاب کے آخر میں روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 105]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. مَقُولَةُ إِبْلِيسَ حِينَ رَأَى آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
ابلیس کا قول جب اس نے آدمؑ کی صورت دیکھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 106
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السَّمّاك ببغداد، قال: قُرِئَ على عبد الملك بن محمد وأنا أسمع، حدثنا قُريش بن أنس، حدثنا محمد بن عمرو. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المعتمِر، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَن قبلَكم باعًا فباعًا، وذراعًا فذراعًا، وشِبرًا فشِبرًا، حتى لو دخلوا جُحْرَ ضَبٍّ لدخلتموه معهم" قال: قيل: يا رسول الله، اليهودُ والنصارى؟ قال:"فمَن إذًا؟" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 106 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے نقشِ قدم پر بالشت بہ بالشت، ہاتھ بہ ہاتھ اور گز بہ گز ضرور چلو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہو جاؤ گے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اور کون؟
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 106]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. اتِّبَاعُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سُنَنَ مَنْ قَبْلَهُمْ
اس امت کا پچھلی امتوں کے طریقوں کی پیروی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 107
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمَير، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن الأعمش، حدثنا المِنهال بن عمرو عن زاذانَ أبي عمر قال: سمعت البَرَاءَ بن عازِبٍ يقول: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازِة رجلٍ من الأنصار فانتهينا إلى القبر ولمَّا يُلحَدْ بعدُ، قال: فقَعَدْنا حولَ النبي ﷺ فجعل يَنظُر إلى السماء ويَنظُر إلى الأرض، وجعل يَرفَعُ بصرَه ويَخفِضُه ثلاثًا، ثم قال:"اللهمَّ إني أعوذُ بك من عذابِ القبر" ثم قال:"إنَّ الرجلَ المسلمَ إذا كان في قُبُلٍ من الآخرة وانقطاعٍ من الدنيا، جاء مَلَكُ الموت فقَعَدَ عند رأسه، ويَنزِلُ ملائكةٌ من السماء كأنَّ وجوههم الشمس، معهم أكفانٌ من أكفان الجنة، وحَنُوطٌ من حَنُوط الجنة، فيقعدون منه مَدَّ البصر" قال:"فيقول مَلَكُ الموت: أيتها النفسُ الطيِّبةُ، اخرُجي إلى مَغفِرةٍ من الله ورِضْوان" قال:"فتخرجُ تَسِيلُ كما تسيلُ القَطْرةُ من السِّقاء، فلا يتركونها في يده طَرْفةَ عين، فيَصعَدُون بها إلى السماء، فلا يَمرُّون بها على جُندٍ من ملائكة إلَّا قالوا: ما هذه الريحُ (1) الطيِّبة؟ فيقولون: فلانٌ؛ بأحسنِ أسمائه، فإذا انتهى إلى السماء فُتِحَت له أبوابُ السماء، ثم يُشيِّعه من كل سماءٍ مُقرَّبوها إلى السماء التي تليها، حتى ينتهيَ إلى السماء السابعة، ثم يقال: اكتُبوا كتابَه في عِلِّيِّينَ، ثم يقال: ارجِعُوا عبدي إلى الأرض، فإني وعدتُهم أني منها خلقتُهم، وفيها أُعِيدُهم، ومنها أُخرِجُهم تارةً أُخرى، فتُرَدُّ روحُه إلى جسده، فتأتيه الملائكةُ فيقولون: مَن ربُّك؟" قال:"فيقول: الله، فيقولون: ما دِينُك؟ فيقول: الإسلام، فيقولون: ما هذا الرجلُ الذي خَرَجَ فيكم؟" قال:"فيقول: رسولُ الله" قال:"فيقولون: وما يُدرِيكَ؟" قال:"فيقول: قرأتُ كتابَ الله فآمنتُ به وصَدَّقتُ" قال:"فينادي منادٍ من السماء: أنْ صَدَقَ، فأَفرِشُوه من الجنة، وأَلبِسُوه من الجنة، وأَرُوه منزلَه من الجنة" قال:"ويُمَدُّ له في قبرِه، ويأتيه رَوْحُ الجنة (1) وريحها" قال:"فيُفعَل ذلك به، ويُمثَّل له رجلٌ حَسَنُ الوجه حسنُ الثياب طيِّبُ الريح، فيقول له: أبِشْر بالذي يسرُّك، هذا يومُك الذي كنت تُوعَد، فيقول: من أنت؟ فوجهُك وجهٌ يُبشِّر بالخير" قال:"فيقول: أنا عملُك الصالحُ" قال:"فهو يقول: ربِّ أقِمِ الساعةَ كي أرجِعَ إلى أهلي ومالي"، ثم قرأ ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [إبراهيم: 27] ."وأما الفاجرُ، فإذا كان في قُبُلٍ من الآخرة وانقطاعٍ من الدنيا، أتاه مَلَكُ الموت، فيَقعُدُ عند رأسه، ويَنزِلُ الملائكةُ سُودُ الوجوه معهم المُسُوح (2) ، فيقعدون منه مَدَّ البصر، فيقول مَلَكُ الموت: اخرجي أيتها النفسُ الخبيثة إلى سَخَطٍ من الله وغضب" قال:"فتَفرَّقُ في جسده فينقطعُ معها العُروقُ والعَصَبُ كما يُستخرَجُ الصوفُ لمبلول بالسَّفُّود (3) ذي الشُّعَب" قال:"فيقومون إليه فلا يَدَعُونها في يده طَرْفَةَ عَيْنٍ، فيصعدون بها إلى السماء فلا يَمرُّون على جُندٍ من الملائكة إلَّا قالوا: ما هذه الروحُ الخبيثة؟" قال:"فيقولون: فلانٌ؛ بأقبحِ أسمائه" قال:"فإذا انتُهِيَ به إلى السماء غُلِّقَت دونَه أبوابُ السماوات" قال:"ويقال: اكتبوا كتابَه في سِجِّينٍ" قال:"ثم يقال: أَعِيدوا عبدي إلى الأرض، فإني وعدتهم أنِّي منها خلقتُهم، وفيها أُعِيدُهم، ومنها أُخرِجُهم تارةً أُخرى" قال:"فيُرمَى بروحه حتى تقعَ في جسده"، قال: ثم قرأ ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ [الحج: 31] ، قال:"فتأتيه الملائكةُ فيقولون: مَن ربُّك؟" قال:"فيقول: لا أدري، فينادي مُنادٍ من السماء: أن قد كَذَبَ، فأَفرِشُوه من النار، وأَلبِسُوه من النار، وأَرُوه منزلَه من النار" قال:"ويَضِيق عليه قبرُه حتى تختلفَ فيه أضلاعُه" قال: ويأتيه ريحُها وحرُّها" قال:"فيُفعَل به ذلك، ويُمثَّلُ له رجلٌ قبيحُ الوجه، قبيح الثياب، مُنتِنُ الريح، فيقول: أبشِرْ بالذي يَسُوؤُك، هذا يومك الذي كنت تُوعَد" قال:"فيقول: من أنت؟ فوجهُك الوجهُ يُبشِّر بالشرِّ" قال:"فيقول: أنا عملُك الخبيثُ" قال:"وهو يقول: ربِّ لا تُقِمِ الساعةَ" (1) .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں نکلے، جب ہم قبر پر پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی، چنانچہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد (خاموشی سے) بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی آسمان کی طرف دیکھتے اور کبھی زمین کی طرف، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اپنی نظر اوپر اٹھائی اور نیچے جھکائی، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مومن بندہ جب دنیا سے کٹ کر آخرت کی طرف مائل ہوتا ہے تو ملک الموت اس کے سرہانے آ بیٹھتا ہے، اور آسمان سے فرشتے اترتے ہیں جن کے چہرے سورج کی طرح (چمکدار) ہوتے ہیں، ان کے پاس جنت کے کفنوں میں سے کفن اور جنت کی خوشبوؤں میں سے خوشبو ہوتی ہے، وہ اس سے حدِ نگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت کہتا ہے: اے پاکیزہ نفس! اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی کی طرف نکل آ، پس وہ روح اس طرح (آسانی سے) نکلتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے قطرہ ٹپکتا ہے، فرشتے اسے پلک جھپکنے کی دیر بھی ملک الموت کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے اور اسے لے کر آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں، وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں: یہ کیسی پاکیزہ خوشبو ہے؟ وہ بتاتے ہیں کہ یہ فلاں شخص ہے اور اس کا بہترین نام لیتے ہیں، جب وہ آسمانِ دنیا پر پہنچتے ہیں تو اس کے لیے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ہر آسمان کے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اس کی مشایعت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے، پھر اللہ فرماتا ہے: اس کا نامہ اعمال ’علیین‘ میں لکھ دو، پھر حکم ہوتا ہے: میرے بندے کو زمین کی طرف واپس لے جاؤ کیونکہ میں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا، اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا، چنانچہ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، پھر اس کے پاس فرشتے آ کر پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: اللہ، وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: اسلام، وہ پوچھتے ہیں: یہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، وہ پوچھتے ہیں: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی، تب آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھاؤ، اسے جنت کا لباس پہناؤ اور اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھاؤ، اس کی قبر کو حدِ نگاہ تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور جنت کی ہوا اور خوشبو اس کے پاس آتی رہتی ہے، پھر اس کے سامنے ایک خوبصورت چہرے، نفیس لباس اور بہترین خوشبو والا شخص آتا ہے اور کہتا ہے: اس چیز کی خوشخبری لو جو تمہیں خوش کر دے، یہ وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ تو خیر کی خوشخبری دینے والا معلوم ہوتا ہے، وہ کہتا ہے: میں تمہارا نیک عمل ہوں، تو وہ بندہ کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل و عیال اور مال کی طرف لوٹ سکوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [إبراهيم: 27] ۔ اور رہا فاجر (گناہگار) شخص، تو جب وہ دنیا سے منقطع ہو کر آخرت کی طرف جاتا ہے تو ملک الموت اس کے سرہانے آ بیٹھتا ہے، اور سیاہ چہروں والے فرشتے ٹاٹ کے کپڑے لے کر اترتے ہیں اور حدِ نگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں، ملک الموت کہتا ہے: اے خبیث نفس! اللہ کی ناراضگی اور غصے کی طرف نکل آ، تو وہ روح اس کے پورے جسم میں بکھر جاتی ہے (نکلنے سے انکار کرتی ہے) تو ملک الموت اسے جسم سے اس طرح کھینچ کر نکالتا ہے جیسے بہت سی شاخوں والی لوہے کی سیخ کو گیلے اون سے کھینچا جائے جس سے رگیں اور پٹھے ٹوٹ جاتے ہیں، فرشتے اسے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے، جب وہ اسے لے کر اوپر جاتے ہیں تو فرشتے پوچھتے ہیں: یہ کیسی خبیث روح ہے؟ وہ اس کا برے سے برا نام لے کر بتاتے ہیں، جب اسے لے کر آسمان پر پہنچتے ہیں تو اس کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے، اللہ فرماتا ہے: اس کا نامہ اعمال ’سجین‘ میں لکھ دو، پھر حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف لوٹا دو، اس کی روح کو اوپر سے پھینک دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے جسم میں آ پڑتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ [الحج: 31] ، پھر اس کے پاس فرشتے آ کر پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے افسوس! میں نہیں جانتا، تب آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا، اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھاؤ، اسے آگ کا لباس پہناؤ اور اسے دوزخ میں اس کا ٹھکانہ دکھاؤ، اس پر اس کی قبر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں، اور دوزخ کی تپش اور گرم ہوا اس تک پہنچتی ہے، پھر اس کے پاس ایک قبیح چہرے، بدبودار اور گندے لباس والا شخص آتا ہے اور کہتا ہے: اس بری خبر کو سنو جو تمہیں غمزدہ کر دے گی، یہ وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ تو برائی کی علامت ہے، وہ کہتا ہے: میں تمہارا برا عمل ہوں، تو وہ شخص کہتا ہے: اے رب! قیامت قائم نہ کرنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 107]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ عِنْدَ قَبْضِ الرُّوحِ، وَذِكْرُ مَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْقَبْرِ لِلْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ
روح قبض کرنے کے وقت فرشتۂ موت کی آمد اور قبر میں مومن و کافر کے حالات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 108
حدثني محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا الأعمش، فذكره بإسناده نحوه، وقال في آخره: وحدثنا علي بن المنذر في عَقِبِ خبره، حدثنا ابن فضيل، حدثني أَبي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة نحوًا من هذا الحديث؛ يريد حديث البراءِ، إلَّا أنه قال:"ارقُدْ رِقْدةَ المتَّقين" للمؤمن الأول، ويقال للفاجر:"ارقُدْ منهوشًا، فما من دابَّةٍ في الأرض إلَّا ولها في جسدِه نصيبٌ" (2) . وقد رواه سفيان بن سعيد وشُعْبة بن الحَجَّاج وزائدة بن قُدَامة - وهم الأئمة الحفّاظ - عن الأعمش. أما حديث الثَّوري:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے براء بن عازب کی سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، مگر اس کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ (مومن سے کہا جاتا ہے): ایسے سو جاؤ جیسے متقی لوگ سوتے ہیں، اور فاجر کے بارے میں کہا جاتا ہے: ایسے سو جاؤ جیسے وہ سوتا ہے جسے ڈسا گیا ہو، کیونکہ زمین کا کوئی بھی جانور ایسا نہیں ہوگا جس کا اس کے جسم میں حصہ (یعنی اسے ڈسنے کا عمل) نہ ہو۔
اس حدیث کو سفیان ثوری، شعبہ بن حجاج اور زائدہ بن قدامہ جیسے ائمہ حفاظ نے اعمش سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 108]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 109
فحدَّثَناه أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجَلّاب بهَمَذان - وأنا سألته - حدثنا محمد بن إبراهيم الصُّوري، حدثنا مؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو عن زاذانَ، عن البراء قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازةٍ، فأتينا القبرَ ولمَّا يُلحَدْ … وذكر الحديث (1) . وأما حديث شعبة:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، ہم قبر پر پہنچے اور ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی... (پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 109]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں