🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. الْعِلْمُ وَالْإِيمَانُ مَكَانَهُمَا مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا
علم اور ایمان اپنی جگہ مقرر رکھتے ہیں، جو انہیں تلاش کرے وہ انہیں پالیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 341
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا عُبيد بن شَرِيكَ البزَّار، حدثنا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حدثني الليث بن سعد، عن إبراهيم بن أبي عَبْلة، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن جُبير بن نُفَير، أنه قال: حدثني عوفُ بن مالك الأشجعي: أنَّ رسول الله ﷺ نَظَرَ إلى السماء يومًا فقال:"هذا أوانُ أن يُرفَعَ العِلمُ"، فقال له رجل من الأنصار - يقال له: ابن لَبِيد -: يا رسول الله، كيف يُرفَعُ العلمُ وقد أُثبِتَ في الكتب، ووَعَتْه القلوب؟ فقال رسول الله ﷺ:"إن كنتُ لأحسَبُك من أفقَهِ أهل المدينة"، ثم ذكر ضلالةَ اليهود والنصارى على ما في أيديهم من كتاب الله. قال: فلَقِيتُ شَدَّادَ بن أَوْس فحدَّثتُه بحديث عوف بن مالك، فقال: صَدَقَ عوفٌ، ألا أُخبرُك بأوَّل ذلك يُرفَع؟ قلت: بلى، قال: الخشوعُ، حتى لا تَرى خاشعًا (1) .
هذا حديث صحيح، وقد احتَجَّ الشيخان بجميع رُواتِه (2) ، والشاهد لذلك فيه شدَّاد بن أَوْس، فقد سمع جبيرُ بنُ نُفير الحديثَ منهما جميعًا، ومن ثالثٍ من الصحابة وهو أبو الدَّرداء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 337 - صحيح احتجا برواته
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ وہ وقت ہے جب علم اٹھا لیا جائے گا، تو انصار کے ایک صاحب (جنہیں ابن لبید کہا جاتا ہے) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ وہ کتابوں میں درج ہے اور اسے دلوں نے محفوظ کر رکھا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا تو یہ خیال تھا کہ تم اہل مدینہ کے سب سے بڑے فقیہ ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی کا تذکرہ فرمایا کہ ان کے پاس اللہ کی کتاب موجود ہونے کے باوجود وہ گمراہ ہوئے۔ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں عوف بن مالک کی حدیث سنائی، انہوں نے کہا: عوف نے سچ کہا، کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے پہلے اٹھائی جائے گی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؛ انہوں نے کہا: وہ ’خشوع‘ ہے، یہاں تک کہ (ایک وقت آئے گا کہ) تم کوئی ایک خاشع (عاجزی کرنے والا) بھی نہیں دیکھو گے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور اس کے لیے شداد بن اوس والا شاہد موجود ہے، اور جبیر بن نفیر نے ان دونوں اور ایک تیسرے صحابی یعنی ابو الدرداء سے یہ حدیث سنی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 341]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبيد بن شريك» [ترقيم الرساله 341] [ترقيم الشركة 336] [ترقيم العلميه 337]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ، أَوَّلُ عِلْمٍ يُرْفَعُ مِنَ النَّاسِ الْخُشُوعُ
یہ وہ زمانہ ہے جب علم لوگوں سے چھن جائے گا، سب سے پہلے خشوع اٹھا لیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 342
حدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ وأبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه جُبير، عن أبي الدَّرداء قال: كنا مع رسول الله ﷺ فشَخَصَ ببصرِه إلى السماء، ثم قال:"هذا أوانُ يُختَلَسُ العلمُ من الناس، حتى لا يَقدِرُوا منه على شيءٍ"، قال: فقال زياد بن لَبِيد الأنصاري: يا رسول الله، وكيف يُختلَسُ منا وقد قرأْنا القرآن؟ فوالله لنَقرَأنَّه ولنُقرِئنَّه نساءَنا وأبناءَنا، فقال:"ثَكِلَتكَ أمُّك يا زياد، إني كنت لَأعدُّك من فقهاءِ أهل المدينة، هذا التوراةُ والإنجيلُ عند اليهود والنصارى، فماذا يُغْني عنهم؟!". قال جُبير: فَلِقيتُ عُبادةَ بن الصَّامت، فقلت له: ألا تَسمَعُ ما يقول أخوك أبو الدرداء؟ وأخبرتُه بالذي قال، قال: صَدَقَ أبو الدرداء، إن شئتَ لأحدِّثُك بأول علم يُرفَعُ من الناس: الخشوعُ، يُوشِكُ أن تَدخُلَ مسجدَ الجماعة فلا ترى فيه رجلًا خاشعًا (1) . هذا إسناد صحيح من حديث المِصريِّين. وفيه شاهدٌ رابع على صحة الحديث وهو عُبادة بن الصامت، ولعلَّ متوهمًا يتوهَّم أنَّ جبير بن نفير رواه مرةً عن عوف بن مالك الأشجعي، ومرةً عن أبي الدرداء، فيصيرُ به الحديث معلولًا، وليس كذلك، فإنَّ رواة الإسنادين جميعًا ثقات، وجُبير بن نُفير الحضرمي من أكابر تابعي الشام، فإذا صحَّ الحديث عنه بالإسنادين جميعًا، فقد ظَهَرَ أنه سمعه من الصحابيَّينِ جميعًا، والدليل الواضح على ما ذكرتُه أنَّ الحديث قد رُوِيَ بإسناد صحيح عن زياد بن لَبِيد الأنصاري الذي ذَكَرَ مراجعةَ رسول الله ﷺ في الحديثين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 338 - إسناده صحيح
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر فرمایا: یہ وہ وقت ہے جب لوگوں سے علم چھین لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھیں گے، تو سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سے علم کیسے چھین لیا جائے گا جبکہ ہم نے قرآن پڑھ لیا ہے؟ اللہ کی قسم! ہم اسے ضرور پڑھیں گے اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی پڑھائیں گے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے (عربوں کا ایک محاورہ)، میں تو تجھے اہل مدینہ کے فقہاء میں شمار کرتا تھا، یہ دیکھو تورات اور انجیل یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود ہے، تو ان کتابوں نے انہیں کیا فائدہ پہنچایا (جب انہوں نے ان پر عمل چھوڑ دیا)؟ جبیر کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ آپ کے بھائی ابو الدرداء کیا کہہ رہے ہیں؟ اور میں نے انہیں وہ بات بتائی جو انہوں نے کہی تھی؛ عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابو الدرداء نے سچ کہا، اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس پہلے علم کے بارے میں بتا دوں جو لوگوں سے اٹھا لیا جائے گا اور وہ ’خشوع‘ ہے، قریب ہے کہ تم جامع مسجد میں داخل ہو اور تمہیں وہاں کوئی ایک شخص بھی خاشع نظر نہ آئے۔
یہ مصریوں کی روایت سے ایک صحیح سند ہے، اور اس میں حدیث کی صحت پر چوتھا شاہد سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہیں، اور شاید کسی کو یہ وہم ہو کہ جبیر بن نفیر نے اسے کبھی عوف بن مالک سے اور کبھی ابو الدرداء سے روایت کیا ہے جس سے یہ حدیث معلول ہو جائے گی، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ دونوں اسناد کے راوی ثقہ ہیں اور جبیر بن نفیر شامی تابعین کے اکابر میں سے ہیں، پس جب ان سے دونوں اسناد کے ساتھ یہ حدیث صحیح ثابت ہے تو واضح ہے کہ انہوں نے اسے دونوں صحابہ سے سنا ہے، اور اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ یہی حدیث صحیح سند کے ساتھ زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جن کا ذکر دونوں حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکالمے کے حوالے سے آیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 342]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 342] [ترقيم الشركة 337] [ترقيم العلميه 338]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 343
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن عَمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ابن لَبِيد الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ:"هذا أوانُ ذهابِ العِلْم" - قال شعبة: أو قال:"أوانُ انقطاع العِلْم" - قالوا: كَيفَهْ وفينا كتابُ الله نعلِّمُه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤُنا أبناءَهم؟ قال:"ثَكِلَتكَ أمُّك ابنَ لَبيدٍ، ما كنتُ أحسَبُك إلَّا من أعقلِ أهلِ المدينة، أليس اليهودُ والنصارى فيهم كتابُ الله التوراةُ والإنجيلُ لم يَنتفِعوا منه بشيءٍ" (1) . قد ثَبَتَ الحديثُ بلا ريبٍ فيه برواية زياد بن لَبِيد بمثل هذا الإسناد الواضح.
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ علم کے چلے جانے کا وقت ہے (شعبہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم کے منقطع ہونے کا وقت ہے) صحابہ نے عرض کیا: وہ کیسے؟ جبکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے، ہم اسے اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن لبید! تمہاری ماں تم پر روئے، میرا تو یہ خیال تھا کہ تم اہل مدینہ کے سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے ہو، کیا یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس اللہ کی کتاب تورات اور انجیل موجود نہیں؟ لیکن انہوں نے اس سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔
زیاد بن لبید کی اس واضح سند کے ساتھ یہ حدیث بلاشبہ ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 343]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بما قبله، وهذا إسناد رجاله ثقات، وسالم بن أبي الجعد قال فيه البخاري في "التاريخ الكبير" 3/ 344: لا أُراه سمع من زياد، وجزم الحافظ ابن حجر في "الإصابة" بأنه لم يلقه-» [ترقيم الرساله 343] [ترقيم الشركة 338]

الحكم على الحديث: حديث صحيح بما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. مَا مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا بَسَطَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًى بِمَا يَفْعَلُ حَتَّى يَرْجِعَ
جو شخص علم کے حصول کے لیے نکلتا ہے، فرشتے خوشی سے اپنے پر اس کے لیے بچھا دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 344
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني معاوية بن صالح، أخبرني عبد الوهاب بن بُخْت، عن زِرِّ بن حُبَيش، عن صفوان بن عَسَّال المُرادِي: أنه جاء يسأله عن شيء، فقال: ما أعمَلَكَ إليَّ إلّا ذلك؟ قال: ما أَعمَلتُ إليك إلّا لذلك، قال: فأَبشِرْ، فإنه ما من رجلٍ يخرُج في طلبِ العلم إلّا بَسَطَت له الملائكةُ أجنحتَها، رِضًى بما يفعلُ، حتى يَرجِعَ (2) . هذا إسناد صحيح، فإنَّ عبد الوهاب بن بُخْت من ثِقاتِ المصريِّين (1) وأثباتهم ممَّن يُجمَع حديثُه، وقد احتجَّا به، ولم يُخرجا هذا الحديث، ومَدَارُ هذا الحديث على حديث عاصم بن بَهْدلَة عن زِرٍّ، وقد أعرضا عنه بالكُلِّيّة، وله عن زر بن حُبيش شهودٌ ثقاتٌ غيرُ عاصم بن بَهْدلة. فمنهم المِنْهال بن عمرو، وقد اتَّفقا عليه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 340 - إسناده صحيح
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے آئے، تو ان سے پوچھا گیا کہ کیا تم صرف اسی مقصد کے لیے اتنی دور سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں صرف اسی کے لیے حاضر ہوا ہوں؛ تو انہوں نے (بشارت دیتے ہوئے) کہا: تمہیں خوشخبری ہو، کیونکہ جو شخص بھی علم کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے، فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ جائے۔
یہ سند صحیح ہے، عبدالوہاب بن بخت ثقہ مصری راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث جمع کی جاتی ہے، شیخین نے ان سے احتجاج کیا ہے لیکن اس حدیث کو روایت نہیں کیا، اس حدیث کا مدار عاصم بن بہدلہ عن زر کی روایت پر ہے جسے شیخین نے مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے، لیکن زر بن حبیش سے عاصم کے علاوہ دیگر ثقہ شاہد موجود ہیں جن میں منحال بن عمرو بھی شامل ہیں جن پر شیخین کا اتفاق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 344]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 344] [ترقيم الشركة 339] [ترقيم العلميه 340]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 345
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عارِمٌ، حدثنا الصَّعْق بن حَزْن، عن علي بن الحَكَم، عن المِنهال بن عمرو، عن زِرِّ بن حُبيش قال: جاء رجل من مُراد إلى رسول الله ﷺ يقال له: صفوان بن عسَّال، وهو في المسجد، فقال له رسول الله ﷺ:"ما جاء بك؟" قال: ابتغاءُ العلم، قال:"فإنَّ الملائكة تَضَعُ أجنحتَها لطالب العلم رِضًى بما يَصنَعُ"، وذكر الحديث (2) . عارِمٌ هذا: هو أبو النُّعمان محمد بن الفضل البصري، حافظٌ ثقةٌ، اعتمَدَه البخاريُّ في جملة من الحديث رواها عنه في"الصحيح"، وقد خالفه شيبانُ بن فَرُّوخَ في هذا الحديث، فرواه عن الصَّعْق بن حَزْن:
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں علم حاصل کرنے آیا ہوں؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک فرشتے طالبِ علم کے لیے اس کے اس کام پر خوش ہو کر اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔
عارم (ابو النعمان محمد بن الفضل البصری) ثقہ حافظ ہیں، امام بخاری نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے ان سے صحیح میں احادیث لی ہیں، اگرچہ شیبان بن فروخ نے اس حدیث میں ان کی مخالفت کی ہے اور اسے ابن مسعود سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن» [ترقيم الرساله 345] [ترقيم الشركة 340]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 346
أخبرَناه أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا إسماعيل بن إسحاق والحسن بن علي المَعْمَري ومحمد بن عبد الله بن سليمان، قالوا: حدثنا شَيْبانُ، حدثنا الصَّعْق بن حَزْن، حدثنا علي بن الحَكَم، عن المِنهال بن عمرو، عن زِرِّ بن حُبيش، عن عبد الله بن مسعود قال: حدَّث صفوانُ بن عسَّال المُراديُّ قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ، فذكر الحديث (1) . وقد أوقفَه أبو جَنَابٍ الكَلْبي عن طَلْحة بن مُصرّف عن زر بن حُبيش، وأبو جناب ممَّن لا يحتَجُّ بروايته في هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 341 - خالفه شيبان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، پھر انہوں نے سابقہ حدیث کے مثل ذکر کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 346]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، إلّا أنَّ المحفوظ فيه أنه من رواية زر بن حبيش عن صفوان بن عسال بلا واسطة» [ترقيم الرساله 346] [ترقيم الشركة 341] [ترقيم العلميه 341]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 347
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا يحيى بن فَصِيل (2) ، حدثنا الحسن بن صالح، حدثني أبو جَنَابٍ، حدثني طلحةُ بن مُصرِّف: أن زِرَّ بن حُبيش أتى صفوانَ بن عسّال فقال: ما غَدَا بك إليَّ؟ قال: غَدًا بيَ الْتماسُ العلم، قال: أما إنه ليس يَصنَعُ ما صنعت أحدٌ، إِلَّا وَضَعَت له الملائكةُ أجنحتَها رِضًى بما يَصنَع، وذكر باقي الحديث (3) . هذا مما لا يُوهِنُ هذا الحديث، فقد أسنَدَه جماعةٌ وأوقَفَه جماعة، والذي أسنده أحفظُ، والزِّيادة منهم مقبولة.
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زر بن حبیش ان کے پاس آئے، صفوان نے پوچھا: آج صبح تم کس لیے میرے پاس آئے ہو؟ انہوں نے کہا: میں علم کی تلاش میں آیا ہوں؛ صفوان نے کہا: سنو! جو شخص بھی تمہاری طرح علم کی تلاش میں نکلتا ہے، فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔
ابو جناب کلبی نے اسے موقوفاً بیان کیا ہے لیکن وہ اس کتاب کی شرائط پر پورا نہیں اترتے؛ تاہم اس سے حدیث کمزور نہیں ہوتی کیونکہ ایک جماعت نے اسے مرفوعاً (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے طور پر) بیان کیا ہے اور مرفوع روایت بیان کرنے والے زیادہ حافظ ہیں، اور ان کی بیان کردہ زیادتی مقبول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 347]
تخریج الحدیث: «صحيح بما قبله، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي جناب: وهو يحيى بن أبي حية الكلبي» [ترقيم الرساله 347] [ترقيم الشركة 342]

الحكم على الحديث: صحيح بما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَدْ أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ
جس سے علم کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپائے، قیامت کے دن اس کے منہ پر آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 348
حدثنا جعفر بن محمد بن نُصَير إملاءً ببغداد، حدثنا القاسم بن محمد ابن حمَّاد، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثني محمد بن ثَوْر، حدثنا ابن جُرَيج قال: جاء الأعمشُ إلى عطاءٍ فسأله عن حديثٍ فحدَّثه، فقلنا له: تحدِّثُ هذا وهو عراقيٌّ؟ قال: لأني سمعت أبا هريرة يحدِّث عن النبي ﷺ قال:"مَن سُئِلَ عن علمٍ فكَتَمَه، جِيءَ به يومَ القيامة وقد أُلجِمَ بلِجَامٍ من نار" (1) .
هذا حديث تداوَلَه الناسُ بأسانيدَ كثيرة تُجمَعُ ويُذاكَرُ بها، وهذا الإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 344 - على شرطهما
ابن جریج سے روایت ہے کہ امام اعمش، عطاء (بن ابی رباح) کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے وہ حدیث بیان کر دی؛ ہم نے عطاء سے کہا کہ آپ یہ حدیث انہیں بیان کر رہے ہیں حالانکہ وہ عراقی ہیں؟ (اس وقت مکی اور عراقی محدثین میں رقابت تھی)؛ عطاء نے فرمایا: کیونکہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ: جس سے کسی ایسے علم کے بارے میں پوچھا گیا (جس کی لوگوں کو ضرورت ہو) اور اس نے اسے چھپا لیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنا کر لایا جائے گا۔
یہ وہ حدیث ہے جو لوگوں میں کثرت کے ساتھ مختلف اسناد سے مشہور ہے، اور یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 348]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف القاسم بن محمد بن حماد» [ترقيم الرساله 348] [ترقيم الشركة 343] [ترقيم العلميه 344]

الحكم على الحديث: حديث صحيح بطرقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 349
ذاكرتُ شيخَنا أبا علي الحافظ بهذا الباب، ثم سألته: هل يصحُّ شيءٌ من هذه الأسانيد عن عطاء؟ فقال: لا، قلت: لمَ؟ قال: لأنَّ عطاءً لم يسمعه من أبي هريرة؛ أخبرَناه محمد بن أحمد بن سعيد الواسطي، حدثنا أزهَرُ بن مروان، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا علي بن الحَكَم، عن عطاء، عن رجل، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن سُئِلَ عن علمٍ فكَتَمَه، أَلْجَمَه اللهُ يومَ القيامة بلِجامٍ من نار" (2) . فقلت له: قد أخطأ فيه أزهرُ بن مروان أو شيخُكم ابن أحمد الواسطي، وغيرُ مُستبدَعٍ منهما الوهمُ:
میں نے اپنے شیخ ابوعلی الحافظ سے اس باب میں مذاکرہ کیا اور پوچھا: کیا عطاء سے مروی ان اسناد میں سے کوئی صحیح ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے پوچھا: کیوں؟ انہوں نے کہا: کیونکہ عطاء نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا؛ چنانچہ ہمیں یہ حدیث ملی جس میں عطاء اور ابوہریرہ کے درمیان ایک نامعلوم شخص کا واسطہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے علم پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے، اللہ اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائے گا۔ میں نے ان سے کہا: اس میں ازہر بن مروان یا آپ کے شیخ ابن احمد واسطی سے غلطی ہوئی ہے، اور ان دونوں سے وہم ہو جانا بعید نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 349]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا الإسناد ضعيف بوجود الواسطة المبهمة بين عطاء وأبي هريرة، والجادَّة فيه إسقاط هذه الواسطة كما وقع عند حماد بن سلمة عن علي بن الحكم، وحماد أروى الناس عن علي بن الحكم فيما قاله أبو داود-» [ترقيم الرساله 349]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 350
فقد حدَّثنا بالحديث أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ قالا: حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن علي بن الحَكَم، عن رجل، عن عطاء، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"مَن سُئِلَ عن علمٍ عنده فكَتَمَه، ألْجَمَه اللهُ بِلِجَامٍ من نارٍ يومَ القيامة". فاستحسنه أبو عليٍّ واعترف لي به، ثم لمَّا جمعتُ البابَ وجدتُ جماعة ذكروا فيه سماعَ عطاء من أبي هريرة. ووجدنا الحديث بإسناد صحيح لا غبارَ عليه عن عبد الله بن عمرو:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے اس علم کے بارے میں پوچھا گیا جو اس کے پاس تھا اور اس نے اسے چھپا لیا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنا دے گا۔
جب میں نے یہ سند پیش کی تو ابوعلی الحافظ نے اسے پسند کیا اور میری بات تسلیم کر لی، پھر جب میں نے اس باب کی تمام روایات جمع کیں تو مجھے ایک ایسی جماعت ملی جس نے اس میں عطاء کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سماع ذکر کیا ہے، اور ہمیں یہ حدیث عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی ایک ایسی صحیح سند کے ساتھ ملی ہے جس پر کوئی غبار نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 350]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 350] [ترقيم الشركة 344]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں