🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ
قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 370
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه من أصل كتابه، أخبرنا عُبيد بن محمد بن حاتم الحافظ - المعروف بالعِجْل - حدثنا إبراهيم بن زياد سَبَلان، حدثنا عبَّاد ابن عبَّاد، حدثنا يونس - وهو ابن عُبيد - عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ثلاثةٌ يَهلِكون عند الحساب: جوادٌ، وشجاعٌ، وعالمٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرطهما، وهو غريبٌ شاذٌّ إلّا أنه مختصر من الحديث الأول شاهدٌ له.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 365 - على شرطيهما وهو غريب شاذ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ حساب کے وقت ہلاک ہوں گے: سخی، بہادر اور عالم (جو ریاکار ہوں)۔
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اگرچہ یہ غریب اور شاذ ہے مگر یہ پہلی حدیث کا مختصر حصہ ہے جو اس کے لیے بطورِ شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 370]
تخریج الحدیث: «صحيح بما قبله، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه مظنّة الانقطاع بين يونس بن عبيد وسعيد المقبري، فيونس بن عبيد لا يعرف له سماع من سعيد، وقد كان يُدخل بينهما في بعض الأحاديث واسطة مجهولة، ولعلَّ النسائي لهذا رماه بالتدليس، والله تعالى أعلم-» [ترقيم الرساله 370] [ترقيم الشركة 364] [ترقيم العلميه 365]

الحكم على الحديث: صحيح بما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 371
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أبي رافع قال: قال أبو هريرة: لولا ما أَخَذَ اللهُ على أهل الكتاب، ما حدَّثتُكم بشيءٍ، ثم تَلَا: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ﴾ [آل عمران: 187] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولا أعلمُ له علَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 366 - لا أعلم له علة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب سے لیا ہے تو میں تمہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) کوئی بات نہ بتاتا، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ﴾ اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنہیں کتاب دی گئی تھی کہ تم اسے لوگوں کے لیے ضرور واضح کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے۔ [سورة آل عمران: 187]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 371]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، ثابت: هو ابن أسلم البُناني، وأبو رافع: هو نُفيع الصائغ» [ترقيم الرساله 371] [ترقيم الشركة 365] [ترقيم العلميه 366]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 372
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا عاصم بن محمد بن زيد، عن أبيه قال: كان أبو هريرة يقوم يومَ الجمعة إلى جانب المنبر فيَطرَحُ أعقابَ نعليه في ذراعَيهِ، ثم يَقبِضُ على رُمَّانة المنبر، يقول: قال أبو القاسم ﷺ …، قال محمدٌ ﷺ …، قال رسولُ الله ﷺ.... قال الصادقُ المصدوق ﷺ.... ثم يقول في بعض ذلك:"ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقتَرَب"، فإذا سمع حركةَ باب المقصورة بخروج الإمام جَلَس (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، وليس الغَرَضُ في تصحيح حديث:"ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقترب"، فقد أخرجاه (2) ، إنما الغرضُ فيه استحبابُ رواية الحديث على المنبر قبل خروج الإمام.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 367 - فيه انقطاع
عاصم بن محمد بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر کے پہلو میں کھڑے ہوتے، اپنے جوتوں کے تسمے اپنی کلائیوں میں ڈال لیتے اور منبر کے دستی (ہینڈل) کو تھام کر کہتے: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا... محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا... صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا... پھر اس دوران وہ یہ بھی کہتے: عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آ چکا ہے، پھر جب وہ امام کے نکلنے پر مقصورہ کے دروازے کی حرکت محسوس کرتے تو بیٹھ جاتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، اور یہاں مقصد ویل للعرب والی حدیث کی تصحیح نہیں کیونکہ وہ شیخین کے ہاں موجود ہے، بلکہ مقصد امام کے نکلنے سے پہلے منبر پر حدیث بیان کرنے کے مستحب ہونے کو واضح کرنا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 372]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأعلَّه الذهبي بالانقطاع، مع أنَّ سماع محمد بن زيد - وهو ابن عبد الله بن عمر - من أبي هريرة محتمل جدًّا، فقد روى عمَّن هو أقدم وفاةً من أبي هريرة، ومحمد بن زيد مدنيٌّ وهو بَلَديُّ أبي هريرة، وقد وقع التصريح برؤيته وسماعه لأبي هريرة وهو يفعل ...» [ترقيم الرساله 372] [ترقيم الشركة 366] [ترقيم العلميه 367]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى جَانِبِ الْمِنْبَرِ فَيُحَدِّثُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر کے قریب کھڑے ہو کر احادیث بیان فرمایا کرتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 373
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثني أبو النَّضْر سالم مولى عمر بن عبيد الله بن مَعمَر، عن عبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال:"لا أُلفِيَنَّ (1) أحدكم متَّكِئًا على أَريكتِه، يأتيه الأمرُ من أمري ممّا أمرتُ به أو نَهيتُ عنه، فيقول: ما أدري، ما وَجَدْنا في كتاب الله اتَّبعناه" (2) . قد أقام سفيانُ بن عُيينة هذا الإسنادَ وهو صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما تَرَكاه لخلافٍ للمصريين في هذا الإسناد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 368 - على شرطهما وتركاه
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو اس حال میں ہرگز نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت (صوفے) پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی ایسا حکم پہنچے جس کا میں نے حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے، تو وہ (آگے سے) کہے: میں نہیں جانتا، ہمیں اللہ کی کتاب میں جو (حکم) ملا ہم نے اسی کی پیروی کی (اور باقی کو چھوڑ دیا)۔
سفیان بن عیینہ نے اس اسناد کو قائم رکھا ہے اور یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میرے نزدیک انہوں نے اس اسناد میں مصریوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے چھوڑا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 373]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، سفيان: هو ابن عيينة» [ترقيم الرساله 373] [ترقيم الشركة 367] [ترقيم العلميه 368]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 374
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني مالك، عن أبي النَّضْر، عن عبيد الله بن أبي رافع، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا أعرِفنَّ الرجلَ متَّكئًا، يأتيه الأمرُ من أمري ممّا أمرت به أو نهيتُ عنه، فيقول: ما نَدْري، هذا هو كتابُ الله، وليس هذا فيه" (3) .
عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کسی شخص کو اس حال میں ہرگز نہ پہچانوں کہ وہ ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی حکم یا ممانعت پہنچے تو وہ کہے: ہم نہیں جانتے، یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں یہ (حکم) موجود نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 374]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح رجاله ثقات، وقد خولف ابن وهب عن مالك في إرساله، فرواه أبو إسحاق الفزاري عن مالك موصولًا بذِكْر أبي رافع فيه أخرجه من طريقه ابن حبان في "صحيحه" (13)» [ترقيم الرساله 374] [ترقيم الشركة 368]

الحكم على الحديث: حديث صحيح رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 375
قال (4) : وأخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي النضر، عن عبيد الله بن أبي رافع، عن النبي ﷺ. قال: وأخبرني الليث بن سعد، عن أبي النضر، عن موسى بن عبد الله بن قيس، عن أبي رافع، عن رسول الله ﷺ أنه قال والناسُ حولَه:"لا أعرفَنَّ أحدَكم يأتيه الأمرُ من أمري قد أمرتُ به أو نهيتُ عنه، وهو متَّكئٌ على أَريكتِه، فيقول: ما وَجَدْنا في كتاب الله عَمِلْنا به، وإلَّا فلا" (1) . قال الحاكم: أنا على أصلي الذي أصَّلتُه في خُطْبة هذا الكتاب: أنَّ الزيادة من الثِّقة مقبولة، وسفيان بن عُيَينة حافظ ثقة ثبت، وقد مَيَّز وحَفِظَ واعْتَمَدْنا حفظَه بعد أن وجدنا للحديث شاهدين بإسنادين صحيحين، أمّا أحدهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 370 - سفيان حافظ ثبت فاعتمدناه
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ لوگ آپ کے گرد جمع تھے: میں تم میں سے کسی کو اس حال میں ہرگز نہ پہچانوں کہ اس کے پاس میرا کوئی حکم یا ممانعت پہنچے اور وہ اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوا کہے: ہمیں اللہ کی کتاب میں جو ملے گا ہم اسی پر عمل کریں گے، ورنہ نہیں۔
میں اپنے اس اصول پر قائم ہوں کہ ثقہ راوی کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، اور سفیان بن عیینہ ثقہ ثبت حافظ ہیں، ہم نے ان کے حفظ پر اعتماد کیا ہے کیونکہ اس حدیث کے دو مزید صحیح شاہد موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسى بن عبد الله بن قيس» [ترقيم الرساله 375] [ترقيم الشركة 369] [ترقيم العلميه 370]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. إِنَّمَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَرَّمَ اللَّهُ
جس چیز کو رسولُ اللہ ﷺ نے حرام کیا وہ اسی طرح حرام ہے جیسے اللہ نے حرام کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 376
فأخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد بن عَبْدُوس، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، أن معاوية بن صالح أخبره. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنْبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن - وهو ابن مَهْدي - حدثنا معاوية بن صالح، حدثني الحسن بن جابر، أنه سمع المِقدامَ بن مَعْدِي كَرِبَ الكِنْدي صاحب النبي ﷺ يقول: حَرَّم النبيُّ ﷺ أشياءَ يومَ خَيبر منها الحمارُ الأهلي وغيره، فقال رسول الله ﷺ:"يُوشِكُ أن يَقعُدَ الرجلُ منكم على أَريكتِه يحدَّثُ بحديثي فيقول: بيني وبينَكم كتابُ الله، فما وَجَدْنا فيه حلالًا استَحَلْلناه، وما وَجَدْنا فيه حرامًا حرَّمناه، وإنَّ ما حرَّمَ رسولُ الله ﷺ كما حَرَّمَ اللهُ" (2) . وأما الحديث الثاني:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 371 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن چند چیزیں حرام قرار دیں جن میں گھریلو گدھا اور دیگر چیزیں شامل تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا ہوگا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا، اسے میری کوئی حدیث سنائی جائے گی تو وہ کہے گا: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب (کافی) ہے، پس ہم اس میں جو حلال پائیں گے اسے حلال سمجھیں گے اور جو اس میں حرام پائیں گے اسے حرام مانیں گے؛ (سن لو!) بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ حرام کیا وہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 376]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،إن شاء الله، الحسن بن جابر روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"» [ترقيم الرساله 376] [ترقيم الشركة 370] [ترقيم العلميه 371]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 377
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا محمد بن خَليفة العاقُولي عَنبَرٌ، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا عُقْبة بن خالد الشَّنِّي، حدثنا الحسن قال: بينما عِمرانُ بن حصين يحدِّث عن سُنَّة نبيِّنا ﷺ، إذ قال له رجل: يا أبا نُجَيد، حدِّثنا بالقرآن، فقال له عمران: أنت وأصحابُك تقرؤون القرآن، أكنتَ محدِّثِي عن الصلاة وما فيها وحدودِها؟ أكنتَ محدِّثي عن الزكاة في الذهب والإبل والبقر وأصناف المال؟ ولكن قد شَهِدتُ وغِبتَ أنت، ثم قال: فَرَضَ علينا رسولُ الله ﷺ في الزكاة كذا وكذا، وقال الرجل: أحييتني أحْياكَ الله. قال الحسن: فما مات ذلك الرجل حتى صارَ من فقهاءِ المسلمين (1) . عُقْبة بن خالد الشَّنِّي من ثقات البصريين وعُبّادهم، وهو عزيز الحديث، يُجمَع حديثه فلا يَبلُغ تمام العشرة. وصلَّى الله على محمد وآله أجمعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 372 - عقبة ثقة عابد
امام حسن بصری سے روایت ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابو نجید! ہمیں قرآن سنائیے (یعنی صرف قرآن کی بات کریں)؛ عمران رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تم اور تمہارے ساتھی قرآن پڑھتے ہو، کیا تم مجھے نماز اور اس کے احکامات و حدود کے بارے میں (صرف قرآن سے) بتا سکتے ہو؟ کیا تم مجھے سونے، اونٹ، گائے اور مال کی دیگر اقسام پر زکوٰۃ کی تفصیلات بتا سکتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) موجود تھا اور تم غائب تھے، پھر انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر زکوٰۃ میں اس اس طرح (تفصیلات) فرض کی ہیں، تو اس شخص نے کہا: آپ نے مجھے زندگی عطا کر دی، اللہ آپ کو جیتے جی خوش رکھے۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ وہ شخص مرنے سے پہلے مسلمانوں کے فقہاء میں شمار ہونے لگا۔
عقبہ بن خالد شنی ثقہ بصریوں میں سے ہیں، ان کی احادیث کم ہیں اور پوری دس بھی نہیں بنتیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: «حسن إن شاء الله، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عقبة بن خالد الشَّنِّي، فقد انفرد بالرواية عنه مسلم ابن إبراهيم الفراهيدي، ومع ذلك فقد ذكره ابن حبان في "الثقات"، ووثقه المصنف كما سيأتي لاحقًا، وهما من المتساهلين في إطلاق التوثيق، والحسن - وهو البصري - في سماعه من عمران بن حصين ...» [ترقيم الرساله 377] [ترقيم الشركة 371] [ترقيم العلميه 372]

الحكم على الحديث: حسن إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 378
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سفيان، عن هشام بن حُجَير قال: كان طاووسٌ يصلي ركعتين بعد العصر، فقال له ابن عباس: اترُكْها، فقال: إنما يُنهَى عنهما أن تُتَّخَذَ سُلَّمًا أن يُوصِلَ ذلك إلى غروب الشمس، قال ابن عباس: فإنَّ النبي ﷺ وقد نهى عن صلاةٍ بعد العصر، وما أدري أيُعذَّب عليه أم يُؤجَر، لأنَّ الله يقول: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ﴾ [الأحزاب: 36] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين موافقٌ لما قدَّمنا ذِكرَه من الحثِّ على اتباع السُّنة، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 373 - على شرطهما
ہشام بن حجیر سے روایت ہے کہ طاؤس عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو؛ انہوں نے کہا: ان سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ انہیں غروبِ آفتاب تک پہنچنے کا ذریعہ نہ بنا لیا جائے؛ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد (ہر قسم کی) نماز سے منع فرمایا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ تمہیں اس پر عذاب ہوگا یا ثواب، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ﴾ اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے یہ گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ [سورة الأحزاب: 36]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور سنت کی اتباع کی ترغیب کے موافق ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 378]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،إن شاء الله من أجل هشام بن حجير سفيان: هو ابن عيينة» [ترقيم الرساله 378] [ترقيم الشركة 372] [ترقيم العلميه 373]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. حَبْسُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَغَيْرَهُ عَلَى كَثْرَةِ الرِّوَايَةِ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کو کثرتِ روایت پر روک دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 379
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان، حدثنا شُعْبة. وأخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو عمر الحَوْضي، حدثنا شعبة، عن سعد بن إبراهيم، عن أبيه: أنَّ عمر بن الخطَّاب قال لابن مسعود ولأبي الدَّرداء ولأبي ذر: ما هذا الحديثُ عن رسول الله ﷺ؟! وأحسبُه حَبَسَهم بالمدينة حتى أُصيب (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 374 - رواه عفان وغيره عنه يعني عن شعبة
سعد بن ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود، ابو الدرداء اور ابو ذر رضی اللہ عنہم سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بیان کی جانے والی) یہ کثرتِ حدیث کیا ہے؟! اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے ان حضرات کو مدینہ میں مقید رکھا یہاں تک کہ آپ (عمر رضی اللہ عنہ) شہید ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 379]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو عمر الحوضي: هو حفص بن عمر، وإبراهيم: هو ابن عبد الرحمن بن عوف» [ترقيم الرساله 379] [ترقيم الشركة 373] [ترقيم العلميه 374]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں