المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ذِكْرُ اخْتِلَافِ الرُّوَاةِ وَالْأَلْفَاظِ فِي حَدِيثِ الْقُلَّتَيْنِ
حدیثِ قلتین میں روایات اور الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 471
فأخبرَناه محمد بن أحمد بن حَمدُون، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا سَلْم ابن جُنَادة، حدثنا يزيد بن زُرَيع، عن علي بن المبارَك، عن يحيى بن أبي كَثير، عن عِيَاض، فذكر بنحوه (1) . وأما حديث مَعمَر:
عیاض (بن عبداللہ) سے سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت مروی ہے۔ (جس میں نماز میں شک اور وسوسوں کا ذکر ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 471]
حدیث نمبر: 472
فأخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن يحيى، عن عِيَاض، فذكر نحوه (2) . قد اتفق البخاري ومسلم على إخراج أحاديث متفرِّقة في المسندَين الصحيحين يُستدَلُّ بها على أن اللمس ما دونَ الجِماع، منها حديث أبي هريرة:"فاليد زناها اللمس" (3) ، وحديث ابن عباس"لعلك مَسِستَ" (4) ، وحديث ابن مسعود: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ﴾ [هود: 114] (5) ، وقد بقي عليهما أحاديثُ صحيحة في التفسير وغيره منها:
یحییٰ بن ابی کثیر نے عیاض سے اسی طرح (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کیا ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام بخاری اور امام مسلم نے ایسی مختلف احادیث پر اتفاق کیا ہے جن سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ ”لمس“ (چھونے) سے مراد جماع (ہمبستری) کے علاوہ دیگر جسمانی تعلق ہے۔ ان میں ابوہریرہ کی حدیث ”ہاتھ کا زنا چھونا ہے“، ابن عباس کی حدیث ”شاید تم نے اسے چھوا ہوگا“ اور ابن مسعود کی آیت ”نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں میں“ والی تفسیری روایات شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی کچھ صحیح احادیث ہیں جو ان دونوں (بخاری و مسلم) نے روایت نہیں کیں، جو درج ذیل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 472]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام بخاری اور امام مسلم نے ایسی مختلف احادیث پر اتفاق کیا ہے جن سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ ”لمس“ (چھونے) سے مراد جماع (ہمبستری) کے علاوہ دیگر جسمانی تعلق ہے۔ ان میں ابوہریرہ کی حدیث ”ہاتھ کا زنا چھونا ہے“، ابن عباس کی حدیث ”شاید تم نے اسے چھوا ہوگا“ اور ابن مسعود کی آیت ”نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں میں“ والی تفسیری روایات شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی کچھ صحیح احادیث ہیں جو ان دونوں (بخاری و مسلم) نے روایت نہیں کیں، جو درج ذیل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 472]
7. الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ اللَّمْسَ مَا دُونَ الْجِمَاعِ وَالْوُضُوءُ مِنْهُ
دلیل کہ جماع کے بغیر محض لمس سے وضو لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 473
ما حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ وأبو عبدِ الرحمن محمد ابن عبد الله التاجر قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا القَعْنبي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: ما كان يومٌ - أو قَلَّ يومٌ - إلّا وكان رسول الله ﷺ يَطُوفُ علينا جميعًا فيُقبِّل ويَلمَسُ ما دون الوِقَاع، فإذا جاء إلى التي هي يومُها ثَبَتَ عندها (1) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایسا کوئی دن ہی ہوتا تھا (یا بہت کم ایسا ہوتا تھا) کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تمام ازواج کے پاس تشریف نہ لاتے ہوں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ دیتے اور جماع کے علاوہ چھوتے (پیار کرتے) تھے، پھر جس زوجہ کی باری ہوتی اسی کے ہاں قیام فرماتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 473]
حدیث نمبر: 474
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ [النساء: 43] ، قال: هو ما دونَ الجِمَاع، وفيه الوضوء (2) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ عزوجل کے ارشاد: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ ”یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو“ [سورة النساء: 43] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: اس سے مراد جماع سے کم تر عمل ہے، اور اس (ایسے چھونے) سے وضو لازم آتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 474]
حدیث نمبر: 475
ما أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن عبد الله، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، أنَّ عمر بن الخطاب قال: إنَّ القُبْلة من اللَّمْس، فتوضؤوا منها (3) .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بوسہ دینا بھی ”لمس“ (چھونے) میں شامل ہے، لہٰذا اس سے وضو کیا کرو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 475]
حدیث نمبر: 476
ما أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا إبراهيم بن موسى ويحيى بن المغيرة قالا: حدثنا جَرِير، عن عبد الملك بن عُمَير، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن معاذ بن جَبَل: أنه كان قاعدًا عند النبي ﷺ، فجاءَه رجل فقال: يا رسول الله، ما تقول في رجلٍ أصابَ من امرأةٍ لا تَحِلُّ له، فلم يَدَعْ شيئًا [يصيبه الرجلُ من امرأته إلّا وقد أصابه منها، إلّا أنه لم يُجامِعْها، فقال:"توضَّأْ] (1) وضوءًا حَسَنًا، ثمَّ قُمْ فَصَلِّ"، قال: وأنزل الله ﷿: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ﴾ الآية [هود: 114] قال: فقال: هي لي خاصةً أم للمسلمين عامةً؟ قال:"بل هي للمسلمين عامّةً" (2) . هذه الأحاديث والتي ذكرتها أنَّ الشيخين اتفقا عليها غيرَ أنها مخرَّجة في الكتابين بالتفاريق وكلُّها صحيحة، دالَّةٌ على أنَّ اللَّمسَ الذي يُوجِبُ الوضوءَ دون الجِماع.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جس نے ایک ایسی عورت سے (جسمانی طور پر) وہ سب کچھ کیا جو ایک مرد اپنی بیوی سے کرتا ہے سوائے جماع (ہمبستری) کے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی طرح وضو کرو اور پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو“؛ راوی کہتے ہیں کہ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ﴾ [سورة هود: 114] ۔ اس شخص نے پوچھا: کیا یہ حکم خاص میرے لیے ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔“
یہ تمام احادیث صحیح ہیں اور اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ”لمس“ جو وضو کو واجب کرتا ہے، وہ جماع کے علاوہ جسمانی لمس ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 476]
یہ تمام احادیث صحیح ہیں اور اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ”لمس“ جو وضو کو واجب کرتا ہے، وہ جماع کے علاوہ جسمانی لمس ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 476]
8. الْوُضُوءُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ وَتَحْقِيقُ حَدِيثِ بُسْرَةَ
عضوِ خاص کو چھونے پر وضو کے وجوب اور حدیثِ سیدہ بُسرہ رضی اللہ عنہا کی تحقیق۔
حدیث نمبر: 477
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب ومحمد بن الفضل عارِمٌ. وحدثني علي بن عمر الحافظ - واللفظ له - أخبرنا عبدُ الله بن محمد (3) بن عبد العزيز، حدثنا خَلَف بن هشام، قالوا: حدثنا حمّاد بن زيد، عن هشام بن عُرْوة: أنَّ عروةَ كان عند مروان بن الحَكَم فسُئِلَ عن مسِّ الذَّكَر، فلم يَرَ به بأسًا، فقال عروةُ: إِنَّ بُسْرةَ بنت صفوان حدثتني أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا أفضَى أحدُكم إلى ذَكَرِه، فلا يُصَلِّ حتى يتوضَّأَ"، فبَعَثَ مروانُ حَرَسيًّا إلى بُسْرة، فرجع الرسولُ، فقال: نعم؛ قد كان أبي يقول: إذا مَسَّ رُفْغَه (1) أو أُنثييه أو فرجَه، فلا يصلي حتى يتوضأ (2) . هكذا ساق حماد بن زيد هذا الحديث وذكر فيه سماعَ عروة من بُسْرة، وخلفُ بن هشام ثقة، وهو أحد أئمة القرّاء، ومما يدلُّ على صحته روايةُ الجمهور من أصحاب هشام بن عُرْوة عن هشام عن أبيه عن بُسْرة، منهم أيوب بن أبي تَمِيمة السَّختِياني وقيس بن سعد المكِّي وابن جُرَيج وابن عُيَينة وعبد العزيز بن أبي حازم ويحيى بن سعيد وحماد بن سَلَمة ومعمر بن راشد وهشام بن حسّان وعبد الله بن محمد أبو علقمة وعاصم بن هلال البارِقي ويحيى بن ثَعْلبة المازِني وسعيد بن عبد الرحمن الجُمَحي وعلي بن المبارَك الهُنَائي وأبان بن يزيد العطَّار ومحمد بن عبد الرحمن الطُّفَاوي وعبد الحميد بن جعفر الأنصاري.... (1) وعبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَرْدي ويزيد بن سِنَان الجَزَري وعبد الرحمن بن أبي الزِّناد وعبد الرحمن بن عبد العزيز وجارية بن هَرِم الفُقَيمي وأبو مَعشَر وعبَّاد بن صُهيب وغيرهم. وقد خالفهم فيه جماعةٌ فروَوْه عن هشام بن عُرْوة عن أبيه عن مروان عن بُسْرة، منهم سفيان بن سعيد الثَّوْري، وروايةٌ عن هشام بن حسّان، وروايةٌ عن حمادِ بن سَلَمة، ومالكُ بن أنس ووُهَيبُ بن خالد وسَلَّامُ بن أبي مُطِيع وعمرُ بن علي المقدَّمي وعبدُ الله بن إدريس وعليُّ بن مُسهِر وأبو أسامة وغيرُهم. وقد ظَهَرَ الخلافُ فيه على هشام بن عُرْوة بين أصحابه، فنَظَرْنا فإذا القومُ الذين أَثبتوا سماع عروة من بسرة أكثر، وبعضهم أحفظُ من الذين جعلوه عن مروان، إلّا أنَّ جماعةً من الأئمة الحفاظ أيضًا ذكروا فيه مروانَ، منهم مالك بن أنس والثوري ونظراؤُهما، فظَنَّ جماعة ممَّن لم يُنعِمِ النظرَ في هذا الاختلاف أنَّ الخبر واهٍ لطَعْن أئمة الحديث على مروان، فنظرنا فوَجَدْنا جماعةً من الثقات الحفاظ رَوَوْا هذا عن هشام بن عروة عن أبيه عن مروان عن بُسْرة، ثم ذكروا في رواياتهم أنَّ عروة قال: ثم لقيتُ بعد ذلك بسرةَ فحدثتني بالحديث عن رسول الله ﷺ كما حدثني مروانُ عنها، فدلَّنا ذلك على صحة الحديث وثبوته على شرط الشيخين، وزال عنه الخلافُ والشُّبْهة، وثَبَتَ سماعُ عروة من بُسْرة. فممَّن بيَّن ما ذكرنا من سماع عروة من بُسْرة شعيبُ بن إسحاق الدمشقي:
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر، مروان بن حکم کے پاس تھے کہ وہاں شرمگاہ کو چھونے (مسِّ ذکر) کے بارے میں سوال ہوا، مروان نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا (یعنی وضو نہیں ٹوٹتا)؛ عروہ نے کہا کہ مجھ سے بسرہ بنت صفوان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کیے بغیر نماز نہ پڑھے“؛ مروان نے (تصدیق کے لیے) ایک سپاہی بسرہ کی طرف بھیجا، اس نے واپس آ کر بتایا کہ ہاں (بسرہ یہی کہتی ہے)؛ میرے والد (صفوان) کہا کرتے تھے کہ جب کوئی اپنے پیڑو، یا فرج کو چھوئے تو وضو کیے بغیر نماز نہ پڑھے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں عروہ کا بسرہ سے سماع ثابت ہے، اگرچہ کچھ راویوں نے مروان کا واسطہ ذکر کیا ہے، لیکن تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ عروہ نے مروان سے سننے کے بعد خود بسرہ سے مل کر اس کی تصدیق کی تھی، لہٰذا یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ثابت ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 477]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں عروہ کا بسرہ سے سماع ثابت ہے، اگرچہ کچھ راویوں نے مروان کا واسطہ ذکر کیا ہے، لیکن تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ عروہ نے مروان سے سننے کے بعد خود بسرہ سے مل کر اس کی تصدیق کی تھی، لہٰذا یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ثابت ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 477]
حدیث نمبر: 478
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البُوشَنْجي، حدثنا الحَكَم بن موسى، حدثنا شعيب بن إسحاق، حدثني هشام بن عُرْوة، عن أبيه، أنَّ مروان حدَّثه عن بُسْرة بنت صفوان - وكانت قد صَحِبَت النبيَّ ﷺ أنَّ النبي ﷺ قال:"إذا [مسَّ أحدُكم ذكرَه، فلا يصلِّ حتى يتوضَّأ"، فأنكر ذلك] (1) عروةُ، فسأل بُسرةَ فصدَّقَته بما قال (2) . ومنهم ربيعة بن عثمان التَّيْمي:
ہشام بن عروہ اپنے والد (عروہ) سے روایت کرتے ہیں کہ مروان نے انہیں بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وضو کرے“؛ عروہ نے (پہلے) اس کا انکار کیا، پھر بسرہ سے خود جا کر پوچھا تو انہوں نے مروان کی بات کی تصدیق کر دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 478]
حدیث نمبر: 479
حدثنا أبو الوليد حسان بن محمد الفقيه في آخرين قالوا: حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابن أبي فُديك، حدثنا ربيعة بن عثمان، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن مروان بن الحَكَم، عن بُسْرة بنت صفوان قالت: قال رسول الله ﷺ:"من مَسَّ ذكرَه فليتوضَّأ"، قال عروة: فسألتُ بسرةَ فصدَّقَتْه (3) . ومنهم المنذر بن عبد الله الحِزَامِي المَدِيني:
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی شرمگاہ کو چھوا وہ وضو کرے۔“ عروہ فرماتے ہیں کہ میں نے بسرہ سے (براہِ راست) پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 479]
حدیث نمبر: 480
أخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطَّة الأصبهاني، حدثنا محمد بن أَصبَغ بن الفَرَج، حدثنا أَبي، حدثنا المنذر بن عبد الله الحِزَامي، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن مروان، عن بُسْرة بنت صفوان، عن النبي ﷺ قال:"من مسَّ ذكرَه فليتوضَّأْ". فأنكر، عروةُ، فسأل بسرةَ فصدَّقَته (4) . ومنهم عَنبَسة بن عبد الواحد القرشي:
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ وضو کرے۔“ عروہ نے (مروان کی بات پر) تعجب کیا پھر بسرہ سے پوچھا تو انہوں نے تصدیق کر دی۔
ان تمام طرق سے ثابت ہوا کہ عروہ نے یہ حدیث بسرہ سے خود بھی سنی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 480]
ان تمام طرق سے ثابت ہوا کہ عروہ نے یہ حدیث بسرہ سے خود بھی سنی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 480]