🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. لَا يُتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ
صرف چلنے پھرنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 490
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أحمد بن مَنِيع، حدثنا عبد الله بن إدريسَ، عن الأعمش، فذكره نحوَه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 485 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 490]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. خَلْعُ النِّعَالِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں جوتے اتارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 491
حدثنا محمد بن صالح وإبراهيم بن عِصْمة قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا إبراهيم بن الحجَّاج؛ قالا: حدثنا عبد الله بن المثنَّى الأنصاري، عن ثُمَامة، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ لم يَخلَعْ نَعلَيه في الصلاة قطُّ إلّا مرَّةً واحدةً خلع فخَلَعَ الناسُ، فقال:"ما لكم؟" قالوا: خلعتَ فخلعنا، فقال:"إنَّ جبريلَ أخبرني أنَّ فيهما قَذَرًا - أو أذًى -" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ بعبد الله بن المثنَّى، ولم يُخرجاه. وشاهده الحديث المشهور عن ميمون الأعور:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 486 - على شرط البخاري
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اپنے جوتے کبھی نہیں اتارے سوائے ایک مرتبہ کے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتارے تو لوگوں نے بھی اتار دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا (جوتے کیوں اتارے)؟ انہوں نے عرض کیا: آپ نے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی کہ ان میں گندگی (یا اذیت دہ چیز) لگی ہوئی ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے عبداللہ بن مثنیٰ سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا شاہد میمون الاعور کی مشہور حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 491]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 492
حدَّثَناه محمد بن صالح وإبراهيم بن عِصْمة قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة. وحدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا علي بن عبد العزيز؛ قالا: حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا أبو حمزة، عن إبراهيم، عن علقمة، عن ابن مسعود قال: خَلَع النبيُّ ﷺ نعلَه [وهو يصلي، فخلعَ مَن خلفَه نعالَهم، فقال:"ما حَمَلَكم على خلع نعالِكم؟" قالوا: رأيناك خلعتَ فخلعنا] فقال:"إنَّ جبريلَ أخبرني أنَّ [في أحدهما قَذَرًا، فخلعتُهما لذلك، فلا تَخلَعوا نعالَكم] (1) " (2) .
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران اپنے جوتے اتار دیے تو آپ کے پیچھے موجود لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں جوتے اتارنے پر کس چیز نے ابھارا؟ انہوں نے عرض کیا: ہم نے آپ کو اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک جبرائیل نے مجھے بتایا کہ ان میں سے ایک میں گندگی لگی ہے، اس لیے میں نے انہیں اتارا، پس تم (بغیر وجہ کے) اپنے جوتے نہ اتارا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 492]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ
رسولِ خدا ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو زیادہ دور تشریف لے جاتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 493
....... (3) حدثنا قيس بن أُنَيف، حدثنا قُتيبة بن سعيد. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدَلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا إبراهيم بن موسى؛ قالا: حدثنا إسماعيل بن جعفر، أخبرني محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن المغيرة بن شُعْبة قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذَهَبَ المَذهبَ أبعَدَ (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث إسماعيل بن عبد الملك عن أبي الزُّبير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 488 - على شرط مسلم
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو بہت دور چلے جاتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا شاہد جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 493]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 494
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا يحيى بن مَعِين حدثنا عبد الحميد الحِمَّاني، حدثنا إسماعيل بن عبد الملك، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: كان رسول الله ﷺ إذا أراد أن يقضيَ حاجَتَه، أبعدَ حتى لا يراه أحدٌ (1) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو اتنی دور تشریف لے جاتے کہ کوئی آپ کو دیکھ نہ پاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 494]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. الْبَحْرُ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 495
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي التَّيّاح، عن موسى بن سَلَمة، عن ابن عباس قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ عن ماء البحر، فقال:"ماءُ البحرِ طَهُورٌ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وشواهده كثيرة، ولم يُخرجاه، فأوَّلُ شواهده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 490 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک (کرنے والا) ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے شواہد کثیر ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 495]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 496
ما حدَّثَناه أبو العباس، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم وبَحْر بن نصر قالا: حدثنا ابن وهب. وأخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء. وأخبرني أبو بكر بن نصر، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا القَعنَبي، كلهم عن مالك، عن صفوان بن سُلَيم، عن سعيد بن سَلَمة مولى لآل الأزرق، أنَّ المغيرة ابن أبي بُرْدة - رجلٌ من بني عبد الدار- أخبره أنه سمع أبا هريرة يقول: سأل رجلٌ رسولَ الله ﷺ فقال: يا رسول الله، إنا نَركَبُ البحرَ ونَحمِلُ معنا القليلَ من الماء، فإن توضَّأْنا به عَطِشْنا، أفنتوضَّأُ بماءِ البحر؟ فقال رسول الله ﷺ:"هو الطَّهُورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتتُه" (1) . وقد تابع مالكَ بنَ أنس على روايته عن صفوان بن سُلَيم عبدُ الرحمن بنُ إسحاق وإسحاقُ بنُ إبراهيم المُزَني. أما حديث عبد الرحمن بن إسحاق:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی رکھتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
امام مالک نے اس کی روایت کی ہے اور دیگر راویوں نے بھی اس میں ان کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 496]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 497
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أيوب بن زاذانَ، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن صفوان بن سُلَيم. قال: وأخبرنا يوسف (2) بن يعقوب، حدثنا محمد بن أبي بكر، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، حدثنا صفوان بن سُلَيم، عن سعيد بن سَلَمة، عن المغيرة بن أبي بُرْدة، عن أبي هريرة، ولا عن النبي ﷺ، نحوَه (3) . [وأما حديث إسحاق بن إبراهيم] :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے سمندر کے پانی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح (سابقہ حدیث کے مانند) مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 497]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 498
[فحدَّثَناه أبو علي الحسن بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن صالح] (1) الكِيلِيني بالرَّيّ، حدثنا سعيد بن كَثِير بن يحيى بن حُمَيد بن نافع الأنصاري، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، عن صفوان بن سُلَيم، عن سعيد بن سَلَمة، عن المغيرة بن أبي بُرْدة - وهو من بني عبد الدار - عن أبي هريرة قال: أَتى رسولَ الله ﷺ نَفَرٌ ممَّن يَركَبُ البحرَ، فقالوا: يا رسول الله، إنا نركبُ البحرَ ونتزوَّد شيئًا من الماء، فإن توضَّأْنا به عَطِشْنا، فهل يَصلُحُ لنا أن نتوضَّأَ من ماءِ البحر؟ فقال رسول الله ﷺ:"هو الطَّهُورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتَتُه" (2) . وقد تابع الجُلَاحُ أبو كَثيرٍ صفوانَ بنَ سُلَيم على رواية هذا الحديث عن سعيد بن سَلَمة:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سمندری سفر کرنے والے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور کچھ پانی ساتھ رکھتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ہمارے لیے سمندر کے پانی سے وضو کرنا درست ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 498]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 499
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، أخبرنا عبيد بن عبد الواحد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث، عن يزيد بن أبي حَبِيب، حدثني الجُلَاح أبو كَثير، أنَّ ابن سلمة المخزومي حدَّثه، أنَّ المغيرة بن أبي بُرْدة أخبره، أنه سمع أبا هريرة يقول: كنا عند رسول الله ﷺ يومًا فجاءه صيَّاد فقال: يا رسول الله، إنا ننطلقُ في البحر نريد الصيدَ فيَحمِلُ معه أحدُنا الإداوَةَ وهو يرجو أن يَأخُذَ الصيدَ قريبًا، فربما وَجَدَه كذلك، وربما لم يَجِدِ الصيدَ حتى يَبلُغَ من البحر مكانًا لم يَظُنَّ أن يَبلُغَه، فلعلَّه يَحتلِمُ أو يتوضَّأُ، فإن اغتسل أو توضَّأَ بهذا الماء فلعلَّ أحدَنا يُهلِكُه العطشُ، فهل ترى في ماء البحر أن نغتسل به أو نتوضأَ به إِذا خِفْنا ذلك؟ فَزَعَمَ أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اغتسِلُوا منه وتوضؤوا به، فإنه الطَّهُورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتتُه" (3) . قد احتَجَّ مسلمٌ بالجُلَاح أبي كثير. وقد تابع يحيى بنُ سعيد الأنصاريُّ ويزيدُ بنُ محمد القرشي سعيدَ بنَ سلمة المخزوميَّ على رواية هذا الحديث. واختُلف عليه فيه (1) :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شکاری آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم مچھلیوں کے شکار کے لیے سمندر میں جاتے ہیں، ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ پانی کا برتن لے جاتا ہے اس امید پر کہ شکار جلد مل جائے گا، لیکن بسا اوقات وہ سمندر میں ایسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں پہنچنے کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا، وہاں اسے احتلام ہو جاتا ہے یا وضو کی ضرورت پڑتی ہے، اب اگر وہ اس پانی (پینے والے) سے غسل یا وضو کرے تو پیاس سے ہلاکت کا ڈر ہے، تو کیا آپ کی رائے میں ہم سمندر کے پانی سے غسل یا وضو کر سکتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی سے غسل اور وضو کرو، کیونکہ اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
امام مسلم نے جلاح ابو کثیر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 499]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں