🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. اسْتِعْمَالُ آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ
اہلِ کتاب اور مشرکین کے برتنوں کے استعمال کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسين بن مُكرَم، حدثنا نصر بن علي، حدثنا أبو أحمد، حدثنا سفيان، عن خالدٍ، عن أبي قِلَابة، عن أبي ثعلبة الخُشَني قال: سألت النبيَّ ﷺ عن آنيةِ المشركين، فقال:"اغسِلُوها ثم اطبُخوا فيها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فإن علَّلاه بحديث حمَّاد بن سَلَمة وهُشَيم عن خالد حيث زاد أبا أسماءَ الرَّحَبي في الإسناد، فإنه أيضًا صحيح يلزم إخراجه في"الصحيح"، على أنَّ أبا قِلابةَ قد سمع من أبي ثَعْلبة. أما حديث حمَّاد بن سَلَمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 504 - على شرطهما أَمَّا حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے برتنوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں دھو لو پھر ان میں پکاؤ۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اگر اس کی علت حماد بن سلمہ اور ہشیم کی روایت کو قرار دیا جائے جس میں خالد نے سند میں ابواسماء رحبی کا اضافہ کیا ہے، تب بھی یہ صحیح ہے اور اسے صحیح میں نقل کرنا لازم ہے، مزید یہ کہ ابوقلابہ نے ابوثعلبہ سے سماع کیا ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 510]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
فأخبرَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا أبو سَلَمة وحجَّاج بن مِنْهال قالا: حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أبي أسماءَ الرَّحَبي، عن أبي ثعلبة الخُشَني أنه قال: يا رسول الله، إنا بأرضِ أهل الكتاب، فنَطَبُخُ في قُدورِهم، ونَشرَبُ في آنيتِهم؟ قال:"فإن لم تَجِدُوا غيرَها فارحَضُوها" (1) . وأما حديث هُشَيم:
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں پکائیں اور ان کے برتنوں میں پییں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ان کے سوا دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں دھو لو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 511]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هُشَيم، عن خالد الحذّاء، عن أبي قِلَابة، عن أبي أسماء [عن أبي ثعلبة الخُشَني قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: إنّا نَغزو ونسير في أرض] (2) المشركين، فنحتاجُ إلى آنيةٍ من آنيتهم فنطبخُ فيها، فقال:"اغسِلُوها بالماء ثم اطبُخوا فيها، وانتفِعُوا بها" (3) . كلا الإسنادين صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ہم مشرکین کے علاقے میں جنگ و سفر کی حالت میں ہوتے ہیں اور ہمیں ان کے برتنوں کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا ہم ان میں پکائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں پانی سے دھو لو پھر ان میں پکاؤ اور ان سے فائدہ اٹھاؤ۔
یہ دونوں سندیں امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 512]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. النَّهْيُ عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ
درندوں کی کھالوں کے استعمال سے ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 513
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة عن قَتَادة، عن أبي المَلِيح، عن أبيه قال: نهى رسول الله ﷺ عن جُلود السِّبَاع (4) .
سیدنا ابوملیح رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا اسامہ بن عمیر) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں (کے استعمال) سے منع فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 513]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 514
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب ويوسف بن يعقوب قالوا: حدثنا محمد بن المِنهال، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا سعيد، فذكره بنحوه (1) . رواه شيخ من أهل البصرة عن محمد بن المِنهال فقال فيه: عن شُعْبة، وهو وهمٌ منه. وهذا الإسناد صحيح، فإنَّ أبا المَلِيح اسمه عامر بن أسامة، وأبوه أسامة بن عُمَير صحابي من بني لِحْيان مخرَّجٌ حديثُه في المسانيد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 507 - صحيح
اسی طرح کی روایت سیدنا ابوملیح کے والد سے مروی ہے۔
یہ سند صحیح ہے، ابو ملیح کا نام عامر بن اسامہ ہے اور ان کے والد اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ صحابی ہیں جن کی احادیث مسانید میں موجود ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 514]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. الْوُضُوءُ بِثُلُثَيْ مُدٍّ مِنْ مَاءٍ
وضو تین تہائی مُد پانی سے کیا جا سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 515
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا الحسن بن علي بن زياد. وأخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب؛ قالا: حدثنا إبراهيم بن موسى الرازيُّ، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، حدثنا شُعْبة، عن حَبِيب بن زيد، عن عبَّاد بن تميم، عن عبد الله بن زيد: أنَّ النبي ﷺ أُتِيَ بثُلُثي مُدٍّ من ماء فتوضَّأَ، فجعل يَدلُك ذراعَيهِ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 509 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مد کا دو تہائی (تقریباً آدھا کلو) پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں بازوؤں کو ملنے لگے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 515]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 516
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا علي بن المَدِيني. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي؛ قالا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري قال: وأخبرني عُرْوة، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ في مرضه الذي مات فيه:"صُبُّوا عليَّ من سبعِ قِرَبٍ لم تُحلَلْ أَوكِيَتُهنَّ، لعلِّي أَعهَدُ إلى الناس" قالت عائشة: فأجلسناه في مِخضَب لحفصة من نحاس، وسَكَبْنا عليه الماءَ، فطَفِقَ يشير إلينا: أن قد فَعَلتُنَّ، ثم خرج (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لأنَّ هشام بن يوسف الصَّنعاني ومحمد بن حُميد المَعمَري لم يذكرا عَمْرة في إسناده. أما حديث هشام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 510 - على شرطهما أَمَّا حَدِيثُ هِشَامٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ کی وفات ہوئی، فرمایا: مجھ پر سات ایسے مشکیزوں سے پانی بہاؤ جن کے بندھن نہ کھولے گئے ہوں، تاکہ میں لوگوں کو وصیت کر سکوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پیتل کے ٹب میں بٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اشارہ کرنے لگے کہ بس تم نے اپنا کام کر دیا (یعنی اب کافی ہے)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ ہشام بن یوسف اور محمد بن حمید نے اس کی سند میں سیدہ عمرہ کا ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 516]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 517
فأخبرَناه أبو النضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا........ (2) عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ في مرضه الذي قُبِضَ فيه:"صُبُّوا عليَّ من سبع قِرَبٍ" (1) . وأما حديث أبي سفيان المَعْمري:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ کی روح قبض کی گئی، فرمایا: مجھ پر سات مشکیزوں سے پانی بہاؤ۔
یہ سند امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 517]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 518
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا محمد بن حُميد، عن مَعمَر، عن الزُّهري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ في مرضه الذي مات فيه:"صُبُّوا عليَّ من سبع قِرَبٍ" (2) . كلا الإسنادين صحيح على شرط الشيخين.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ کی وفات ہوئی، فرمایا: مجھ پر سات مشکیزوں سے پانی بہاؤ۔
یہ دونوں سندیں امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 518]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. اسْتِنَانُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي مَرَضِ مَوْتِهِ
رسولُ اللہ ﷺ کا اپنی وفات کے مرض میں مسواک کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 519
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي. وأخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب؛ قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا سليمان بن بلال، حدثنا هشام بن عُروة، أخبرني أَبي، عن عائشة قالت: دخل عبدُ الرحمن بن أبي بكر ومعه سِواكٌ يَستَنُّ به، فقلت له: أعطني هذا السِّواكَ يا عبد الرحمن، فأعطانِيهِ، فَقَضَمتُه ثم مَضَغتُه فأعطيتُه رسولَ الله ﷺ، فاستَنَّ به وهو مُستنِدٌ إلى صدري (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 513 - على شرطهما
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور ان کے پاس مسواک تھی جس سے وہ مسواک کر رہے تھے، میں نے ان سے کہا: اے عبدالرحمن! یہ مسواک مجھے دے دو۔ انہوں نے وہ مجھے دے دی، میں نے اسے (دانتوں سے درست کر کے) چبایا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مسواک کی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 519]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں