🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. اسْتِنَانُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي مَرَضِ مَوْتِهِ
رسولُ اللہ ﷺ کا اپنی وفات کے مرض میں مسواک کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 520
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد الصمد عَلَّان، حدثنا أبو الأحوص محمد بن حَيَّان، حدثنا عَثّام بن علي، عن الأعمش، عن حَبِيب بن أبي ثابت، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباس قال: كان رسول الله ﷺ يُصلِّي ركعتين من الليل، ثم ينصرفُ فيَستاكُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 514 - على شرطهما
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو رکعتیں پڑھتے، پھر فارغ ہو کر مسواک کرتے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 520]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. فَضِيلَةُ السِّوَاكِ
مسواک کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 521
أخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي. وأخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن يحيى؛ قالا: حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق قال: ذَكَرَ محمدُ بن مسلم الزُّهْري عن عروة عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"فضلُ الصلاة التي يُستاكُ لها على الصلاة التي لا يُستاكُ لها سبعينَ ضعْفًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 515 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نماز کی فضیلت جس کے لیے مسواک کی گئی ہو، اس نماز کے مقابلے میں ستّر گنا زیادہ ہے جس کے لیے مسواک نہ کی گئی ہو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 521]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ
اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت مسواک کو ان پر فرض کر دیتا جیسے وضو فرض کیا گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 522
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عارِمُ بن الفضل. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي؛ قالا: حدثنا حماد بن زيد حدثنا عبد الرحمن السَّرّاج، عن سعيد بن أبي سعيد المَقْبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لولا أن أشُقَّ على أمَّتي، لَفَرضتُ عليهم السِّواكَ مع الوضوء، ولَأخَّرتُ صلاةَ العشاء إلى نصف الليل" (1) ....... (2) عن أبي هريرة في هذا الباب ولم يُخرجا لفظ الفَرْض فيه، وهو صحيح على شرطهما جميعًا، وليس له عِلَّة. وله شاهد بهذا اللفظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 516 - لم يخرجا لفظ فرضت وهو على شرطهما وليس له علة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں ان پر وضو کے ساتھ مسواک کرنا فرض کر دیتا اور عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کر دیتا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ شیخین نے اس باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایات لی ہیں لیکن انہوں نے اس میں لفظِ فرض کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 522]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 523
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا خَلِيفة بن خيَّاط، حدثنا إسحاق بن إدريس البصري، حدثنا عمر بن عبد الرحمن الأبَّار، حدثني منصور، عن جعفر بن تمَّام، عن أبيه، عن العباس بن عبد المطلب، أنَّ النبي ﷺ قال:"لولا أن أشُقَّ على أمَّتي، لفَرَضتُ عليهم السواكَ عند كل صلاةٍ كما فرضتُ عليهم الوضوءَ" (1) .
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان پر ہر نماز کے وقت مسواک کرنا اسی طرح فرض کر دیتا جیسے ان پر وضو فرض کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 523]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. التَّسْمِيَةُ عِنْدَ الْوُضُوءِ
وضو کے آغاز میں بسم اللہ کہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن نُعَيم ومحمد بن شاذانَ، قالا: حدثنا قتيبة بن سعيد. وأخبرني أبو بكر بن عبد الله، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا محمد بن موسى المخزومي، حدثنا يعقوب بن أبي سَلَمة، عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا صلاةَ لمن لا وضوءَ له، ولا وضوءَ لمن لم يَذكُرِ اسمَ الله عليه" (2) . رواه محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك عن محمد بن موسى المخزومي:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس کا وضو نہیں جس نے (اس کے آغاز میں) اللہ کا نام نہ لیا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 524]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد بن عَبدُوس، حدثنا عثمان بن سعيد، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن أبي فُدَيك، حدثنا محمد بن موسى، عن يعقوب بن أبي سَلَمة، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لا صلاةَ لمن لا وضوءَ له، ولا وضوءَ لمن لم يَذكُرِ اسمَ الله عليه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد احتجَّ مسلم بيعقوب بن أبي سلمة الماجشون، واسم أبي سلمة دينار (1) ، ولم يُخرجاه. وله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 519 - وهو صحيح الإسناد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس کا وضو نہیں جس نے اللہ کا نام نہ لیا ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام مسلم نے یعقوب بن ابی سلمہ سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا اور اس کا شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 525]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا كَثِير بن زيد عن رُبَيح بن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخُدْري عن أبيه، عن جدِّه قال: قال رسول الله ﷺ:"لا صلاة لمن لا وضوءَ له، ولا وضوءَ لمن لم يَذكُرِ اسمَ الله عليه" (2) .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس کا وضو نہیں جس نے (وضو کے آغاز میں) اللہ کا نام نہ لیا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 526]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
فأخبرني علي بن بُندارٍ الزاهد، حدثنا عمر بن محمد بن جُبير، حدثنا أبو بكر الأَثرَم قال: سمعتُ أحمد بن حنبل وسُئِلَ عمَّن يتوضَّأ ولا يُسمِّي، فقال أحمد: أحسنُ ما يُروَى في هذا الحديث كثيرُ بن زيد.
علی بن بندار زاہد بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا، ان سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو وضو کرے اور اللہ کا نام (بسم اللہ) نہ پڑھے، تو امام احمد نے فرمایا: اس بارے میں کثیر بن زید کی روایت سب سے بہتر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 527]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. صِفَةُ وُضُوئِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
رسولُ اللہ ﷺ کے وضو کی کیفیت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن عَبدُوس العَنَزي (3) ، حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا بِشْر بن موسى الأَسَدي؛ قالا: حدثنا خلَّاد بن يحيى السُّلَمي، حدثنا هشام بن سعد، حدثنا زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار [قال: قال ابن عباس: ألا أُريكم كيف كان رسول الله ﷺ يتوضأ؟] (1) فدعا بإناءٍ فيه ماءٌ فاغترف غُرفةً فمَضمَضَ واستنشق، ثم أخذ أخرى فجَمَعَ بها يديه فغَسَلَ وجهَه، ثم أخذ أخرى فغسل يدَه اليمنى، ثم أخذ غُرفةً أخرى فغسل يدَه اليسرى، ثم قَبَضَ قَبْضةً من الماء فنَفَضَ يدَه، فمسح بها رأسَه وأُذنيه، ثم اغترف غُرفةً أخرى فرَشَّ على رجلِه اليمنى وفيها النعلُ، واليسرى مثل ذلك، ومسح بأسفل النَّعلَينِ، ثم قال: هكذا وضوءُ رسول الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا (3) على حديث زيد بن أسلم عن عطاء عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ توضأ مرةً مرةً، وهو مُجمَل، وحديث هشام بن سعد هذا مفسَّر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 521 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرمایا کرتے تھے؟ پھر انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا، ایک چلو پانی لیا، اس سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر دوسرا چلو لے کر دونوں ہاتھوں کو ملایا اور اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک اور چلو لے کر اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک اور چلو لے کر بایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک مٹھی پانی لے کر اسے جھٹکا اور اس سے اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر ایک اور چلو لیا اور اسے اپنے دائیں پاؤں پر چھڑکا جبکہ وہ جوتے پہنے ہوئے تھے، اور بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا اور جوتوں کے نچلے حصے کا مسح کیا، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان دونوں نے اس بات پر تو اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار اعضاء دھوئے لیکن وہ روایت مختصر ہے جبکہ ہشام بن سعد کی یہ روایت اس کی مکمل تفصیل بیان کرتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 528]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. الْأَمْرُ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَتَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ
وضو کو اچھی طرح مکمل کرنے اور انگلیوں کے خلال کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 529
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أحمد بن سَيّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرَة، عن أبيه: أنه أتى النبيَّ ﷺ فَذَكَرَ أشياء، فقال له النبي ﷺ:"أَسبغِ الوضوءَ وخَلِّلِ الأصابعَ، وإذا استنشقتَ فبالِغْ، إلّا أن تكون صائمًا" (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وهو في جُمْلة ما قلنا: إنهما أَعرضا عن الصحابي الذي لا يروي عنه غيرُ الواحد (2) ، وقد احتجَّا جميعًا ببعض، هذا النوع، فأما أبو هاشم إسماعيل بن كثير القارئ، فإنه من كبار المكيين، روى عنه هذا الحديث بعينه غيرُ الثَّوريِّ جماعةٌ منهم ابن جُرَيج وداود بن عبد الرحمن العطَّار ويحيى بن سُلَيم وغيرهم. أما حديث ابن جريج:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 522 - صحيح أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر انہوں نے کچھ باتوں کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو، اور جب ناک میں پانی ڈالو تو مبالغہ کیا کرو الا یہ کہ تم روزے سے ہو۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، یہ ان روایات میں سے ہے جنہیں انہوں نے اس لیے چھوڑ دیا کہ اس صحابی سے صرف ایک ہی راوی روایت کرنے والا ہے، حالانکہ انہوں نے اس نوع کی بعض دیگر روایات سے احتجاج کیا ہے، جبکہ اسماعیل بن کثیر مکہ کے بڑے علماء میں سے ہیں اور ان سے ثوری کے علاوہ ابن جریج اور داؤد بن عبدالرحمن وغیرہ نے بھی روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 529]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں