🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
108. النَّهْيُ عَنِ الْإِقْعَاءِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں اَقعاء (مخصوص بیٹھک) سے منع کیا گیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1018
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن الإقعاءِ في الصلاة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله رواية في إباحة الإقعاء صحيحٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1005 - على شرط البخاري
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اقعاء (یعنی درندوں کی طرح سرین زمین پر رکھ کر گھٹنے کھڑے کر کے بیٹھنے) سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اقعاء (ایڑیوں پر بیٹھنے) کے مباح ہونے کے بارے میں ایک روایت امام مسلم کی شرط پر صحیح موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1018]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1019
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري وعلي بن عيسى قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبدي، حدثنا يعقوب بن كعب الحَلَبي، حدثنا مَخلَد بن يزيد، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبَير، أنه سمع طاووسًا يقول: قلتُ لابن عباس في الإقعاءِ، قال: هي سُنَّة، قلت: إنا نراه جَفَاءً، فقال ابن عباس: إنها السُّنّة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1006 - وصح في إباحة ذلك على شرط مسلم
طاوس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (نماز میں) اقعاء (یعنی دونوں سجدوں کے درمیان ایڑیوں پر بیٹھنے) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت ہے، میں نے عرض کیا: ہم تو اسے ایک قسم کی سختی یا جفا سمجھتے ہیں، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (ایسا نہیں بلکہ) یہی سنت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1019]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1020
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعبد الله محمد بن موسى قالا: حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام، عن مَعمَر، عن إسماعيل ابن أُمية، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ نَهَى رجلًا وهو جالسٌ مُعتمِدٌ على يده اليسرى في الصلاة فقال:"إنها صلاةُ اليهودِ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1007 - على شرطهما
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا جو اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً یہ یہودیوں کی نماز (کا طریقہ) ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1020]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
109. خُطْوَتَانِ أَحَدُهُمَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ وَالْأُخْرَى أَبْغَضُ الْخُطَا إِلَى اللَّهِ
دو قدم ایسے ہیں: ایک اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور دوسرا اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1021
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتْبة أحمد بن الفَرَج، حدثنا بَقيَّة بن الوليد، حدثنا بَحِير بن سَعْد (1) ، عن خالد بن مَعْدانَ، عن معاذ بن جَبَل، عن النبي ﷺ قال:"خَطْوتانِ إحداهما أحبُّ إلى الله، والأخرى أبغضُ الخُطَا إلى الله، فأما الخَطْوةُ التي يحبُّها، فرجلٌ نَظَرَ إلى خَلَلٍ في الصف فسَدَّه، وأما التي يُبغِضُ اللهُ، فإذا أراد الرجل أن يقومَ مَدَّ رجلَه اليمنى ووَضَعَ يدَه عليها، وأثبَتَ اليسرى ثم قام" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ ببقيَّةَ في الشواهد، ولم يُخرجاه. فأما بقيةُ بن الوليد فإنه إذا روى عن المشهورين، فإنه مأمونٌ مقبول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1008 - لا فإن خالدا عن معاذ منقطع
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو قدم ایسے ہیں جن میں سے ایک اللہ کو بہت پسند ہے اور دوسرا اللہ کے نزدیک قدموں کی سب سے ناپسندیدہ قسم ہے، رہا وہ قدم جسے اللہ پسند فرماتا ہے تو وہ اس شخص کا ہے جو صف میں خالی جگہ دیکھے اور اسے پُر کر دے، اور وہ قدم جس سے اللہ بغض رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص (سجدے سے) کھڑے ہونے کا ارادہ کرے تو اپنا دایاں پاؤں پھیلائے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر (بائیں پاؤں کو جما کر) کھڑا ہو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے بقیہ (بن ولید) سے شواہد میں احتجاج کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور بقیہ بن ولید جب مشہور اساتذہ سے روایت کریں تو وہ قابلِ اعتماد اور مقبول ہوتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1021]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1022
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان وأبو عمرو مسلم بن إبراهيم وعلي بن الجَعْد، قالوا: حدثنا شعبة، عن سَلَمة بن كُهَيل وزُبَيد، عن ابن عبد الرحمن بن أَبْزَى، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ كان إذا سَلَّمَ قال:"سبحانَ الملِكِ القُدُّوس" ثلاثًا، يرفع صوتَه (3) . عبد الرحمن بن أَبزَى ممن صحَّ عندنا أنه صلَّى مع النبي ﷺ، إلّا أنَّ أكثر روايته عن أُبيِّ بن كعب والصحابة، وهذا الإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1009 - والحديث صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو بلند آواز سے تین مرتبہ فرماتے: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» پاک ہے وہ ذات جو بادشاہ ہے اور ہر عیب سے مبرا ہے۔
عبدالرحمن بن ابزی ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں ہمارے نزدیک یہ صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اگرچہ ان کی زیادہ تر روایات سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے ہیں، اور یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1022]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
110. الدُّعَاءُ بَعْدَ الصَّلَاةِ
نماز کے بعد دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1023
أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطُّوسي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُرَيح قال: سمعت عُقْبةَ بن مُسلِم التُّجِيبي يقول: حدثني أبو عبد الرحمن الحُبُلي، عن الصُّنَابِحي، عن معاذ بن جبل أنه قال: إنَّ رسول الله ﷺ أَخَذ بيدي يومًا ثم قال:"يا معاذُ، والله إني لَأحبُّك" فقال معاذ: بأبي وأمي يا رسول الله، وأنا والله أحبُّك، فقال:"أُوصِيكَ يا معاذ، لا تَدَعَنَّ في دُبُرِ كلِّ صلاة أن تقول: اللهمَّ أعِنِّي على ذِكْرِك وشُكرِك وحُسْنِ عبادتِك". قال: وأَوصَى بذلك معاذٌ الصُّنابِحيَّ، وأوصى الصُّنابحيُّ أبا عبد الرحمن الحُبُلي، وأَوصى أبو عبد الرحمن عُقْبةَ بن مسلم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1010 - على شرطهما
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! اللہ کی قسم میں تم سے ضرور محبت کرتا ہوں۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کی قسم میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم ہر نماز کے آخر میں یہ کلمات کہنا کبھی نہ چھوڑنا: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔ پھر معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کی وصیت صنابحی کو کی، صنابحی نے ابو عبدالرحمن حبلی کو اور ابو عبدالرحمن نے عقبہ بن مسلم کو اس کی وصیت فرمائی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1023]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1024
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو مُسلِم، حدثنا حَجَّاج بن مِنهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا هشام بن أبي عبد الله وعلي بن المبارَك قالا: حدثنا يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ يقول في دُبُرِ صلاته:"اللهمَّ إني أعوذُ بك من عذابِ القبر، ومن عذابِ النار، ومن فِتْنة المَحْيا والمَمَات، ومن شرِّ المسيحِ الدَّجّال" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1011 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور آگ کے عذاب سے، اور زندگی و موت کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے شر سے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1024]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
111. الَّذِي يُدْرِكُ الْإِمَامَ فِي الرُّكُوعِ أَوِ السُّجُودِ
وہ شخص جو امام کو رکوع یا سجدے میں پا لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1025
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا ابن أبي مريم، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي سليمان، عن زيدٍ أبي عَتَّاب وسعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا جئتُم إلى الصلاة ونحن سجودٌ فاسجُدُوا ولا تَعدُّوها شيئًا، ومَن أدرَكَ الركعةَ فقد أدركَ الصلاة" (1) .
هذا حديث صحيح، قد احتَجَّ الشيخان برُواتِه عن آخرهم غير يحيى بن أبي سليمان، وهو شيخٌ من أهل المدينة سَكَنَ مصرَ ولم يُذكَر بجرح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1012 - صحيح ويحيى لم يذكر بجرح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرو لیکن اسے (رکعت کے طور پر) شمار نہ کرو، اور جس نے (رکوع کے ساتھ) رکعت پا لی اس نے نماز پا لی۔
یہ حدیث صحیح ہے، شیخین نے یحییٰ بن ابی سلیمان کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور وہ اہل مدینہ کے ایک بزرگ ہیں جو مصر میں مقیم ہوئے اور ان پر کسی قسم کی جرح منقول نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1025]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
112. مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ
جس نے فجر کی ایک رکعت پا لی اس نے پوری نماز پا لی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1026
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب التاجر، حدثنا أبو النَّضْر أحمد بن عَتِيق المروزي، حدثنا محمد بن سِنَان العَوَقي، حدثنا همَّام، حدثنا قَتَادة، عن النَّضْر بن أنس، عن بَشِير بن نَهِيك، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"مَن صلَّى ركعةً من الصبح، ثم طَلَعَت الشمسُ، فليُصلِّ الصبحَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إن كان محفوظًا بهذا الإسناد، فإنَّ أحمد ابن عَتِيق المروَزي هذا ثقةٌ، إلّا أنه حدَّث به مرَّةً أُخرى بإسناد آخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1013 - إن كان ابن عتيق حفظه وهو ثقة لكنا حدثناه على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کی ایک رکعت پڑھ لی اور پھر سورج طلوع ہو گیا تو وہ اپنی صبح کی نماز (مکمل کر کے) پڑھ لے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ وہ اسی سند کے ساتھ محفوظ ہو، کیونکہ احمد بن عتیق مروزی ثقہ ہیں، تاہم انہوں نے اسے ایک دوسری سند کے ساتھ بھی بیان کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1026]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
113. قَضَاءُ سُنَّةِ الْفَجْرِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ
سورج نکل آنے کے بعد فجر کی سنتوں کی قضا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1027
حدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا عمر بن علي الجوهَري، حدثنا أبو النَّضْر أحمد بن عَتِيق العَتِيقي، حدثنا محمد بن سِنَان العَوَقي، حدثنا همَّام، عن قَتَادة، عن خِلَاس، عن أبي رافع، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"من صلَّى ركعةً من صلاة الصبح ثم طَلَعت الشمسُ، فليُتِمَّ صلاتَه" (3) . كلا الإسنادين صحيحان، فقد احتَجَّا جميعًا بخِلَاس بن عمرو شاهدًا (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ صبح کی ایک رکعت پڑھ لی اور پھر سورج طلوع ہو گیا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی نماز مکمل کر لے۔
یہ دونوں سندیں صحیح ہیں، کیونکہ ان دونوں نے ہی خلاص بن عمرو سے بطورِ شاہد احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1027]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں