🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَجُعِلَتْ عَدْلًا لِلشِّرْكِ
شراب حرام کر دی گئی اور اسے شرک کے برابر قرار دیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7413
أخبرنا جعفر بن محمد بن نصير الخُلْدي، حدثنا أحمد بن بشر المَرْثدي، حدثنا أبو داود سليمان بن محمد المباركي، حدثنا أبو (2) شِهاب الحنّاط، حدثنا الحسن بن عمر و الفُقَيمي، عن طلحة بن مصرِّف، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: لمَّا نزل تحريمُ الخمر، مشى أصحابُ النبيِّ ﷺ بعضُهم إلى بعض، قالوا: حُرِّمت الخمرُ، وجُعِلَت عدلًا للشِّرك (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7227 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام ایک دوسرے کے پاس جا کر کہنے لگے: شراب حرام کر دی گئی ہے اور اس کا گناہ شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7413]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا
بے شک اللہ نے شراب اور اس کے پینے والے پر لعنت فرمائی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7414
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن شُريح [وابن لَهِيعة والليث بن سعد، عن خالد بن يزيد عن ثابت بن يزيد] (4) الخولاني: أنه كان له عَمٌّ يبيعُ الخمرَ، وكان يتصدَّقُ بثمنه، فنهيتُه عنها فلم يَنتَهِ، فقدمت المدينةَ فلقيتُ ابنَ عباس، فسألتُه عن الخمر وثمنها، فقال: هي حرامٌ، وثمنُها حرامٌ، ثم قال: يا معشرَ أمّة محمد ﷺ، إنه لو كان كتابٌ بعدَ كتابِكم، أو نبي بعد نبيِّكم، لأنزِلَ فيكم كما أُنزلَ فيمن كان قبلكم، ولكن أخَّر ذلك من أمركم إلى يوم القيامة، ولعمري لهو أشدُّ عليكم. قال: فأَبيتُ، ثم لقيتُ عبدَ الله بن عمر، فسألتُه عن ثمن الخمر، فقال: سأخبرك عن الخمر، إنِّي كنتُ عندَ رسول الله ﷺ في المسجد، فبينما هو مُحتَبي حلَّ حُبُوتَه، ثم قال:"مَن كان عندَه من هذا الخمر شيءٌ، فلْيُؤذِنِّي به" فجعل الناسُ يأتونه، فيقول أحدُهم: عندي راويةُ خمر، ويقول الآخر: عندي راويةٌ، ويقول الآخر: عندي زِقٌّ، أو ما شاء الله أن يكون عنده، فقال رسول الله ﷺ:"اجمَعُوه ببقيع كذا وكذا، ثم آذِنُوني"، ففعلوا ثم آذَنُوه، قال: فقمتُ فمَشيتُ وهو متّكئٌ عليَّ، فلَحِقَنا أبو بكر، فأخذني رسول الله ﷺ فجعلني عن يسارِه وجعل أبا بكر مكاني، ثم لحقنا عمر، فأخذني وجعلني عن يسارِه، فمشَى بينَهما حتى إذا وقفَ على الخمرِ قال للناس:"أتعرفون هذه؟" قالوا: نعم يا رسولَ الله، هذه الخمر، قال:"صدقتُم" ثم قال:"إنَّ الله تعالى لعنَ الخمرَ وعاصرَها ومُعتصِرَها، وشاربَها وساقِيَها، وحاملَها والمحمولَة إليه، وبائعَها ومُشتريَها، وأكلَ ثمنِها ثم دعا بسكِّين، فقال:"اشحَذُوها" ففعلوا، ثم أخذَها رسول الله ﷺ يُخَرِّقَ بها الزِّقاق، فقال الناسُ: إِنَّ في هذه الزِّقاق منفعةً، فقال:"أجَلْ، ولكن إنما أفعلُ غضبًا لله لما فيها من سَخَطِه"، فقال عمر: أنا أكَفيكَ يا رسولَ الله، قال:"لا". وبعضهم يزيدُ على بعض في الحديث (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7228 - صحيح
عبدالرحمن بن شریح خولانی بیان کرتے ہیں کہ ان کا چچا شراب بیچا کرتا تھا، اور اس کے منافع میں سے کچھ رقم صدقہ بھی کیا کرتا تھا، میں نے اس کو اس کام سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا، میں مدینہ منورہ آیا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا، میں نے ان سے شراب اور اس کی کمائی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: شراب بھی حرام ہے اور اس کی کمائی بھی حرام ہے۔ پھر فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو! اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب ہوتی یا تمہارے نبی کے بعد کوئی نبی ہوتا تو تمہارے اندر بھی اسی طرح احکام نازل ہوتے جیسے تم سے پہلے لوگوں میں نازل ہوئے، لیکن تمہارا معاملہ قیامت تک کے لئے موخر کر دیا گیا ہے (اب قیامت تک نہ کوئی اور کتاب نازل ہو گی اور نہ کوئی نبی آئے گا)، اور یہ تمہارے اوپر زیادہ سخت ہے۔ آپ فرماتے ہیں: پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان سے شراب کی کمائی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا، آپ چادر لپیٹے بیٹھے تھے، آپ نے چادر کو کھولا اور پھر فرمایا، جس کسی کے پاس تھوڑی سی بھی شراب ہو وہ مجھے اطلاع دے، لوگ آ آ کر بتانے لگے، کوئی کہتا: میرے پاس شراب کا ایک مٹکا ہے، دوسرا کہتا ہے: میرے پاس بھی مٹکا ہے، کوئی کہتا: میرے پاس اتنی شراب ہے، الغرض جس کے پاس جو تھا، اس نے آ کر بتا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب اپنی اپنی شراب بقیع میں فلاں جگہ پر جمع کرو اور پھر مجھے بتاؤ، سب نے ایک جگہ پر شراب جمع کی اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ راوی کہتے ہیں: میں اٹھ کر چل دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ٹیک لگائے چل پڑے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ہمراہ ہو لئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے بائیں جانب کر لیا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو میری جگہ کر لیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ آ گئے، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنے بائیں جانب کر لیا اور خود میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہو گئے، ہم چلتے چلتے اس (جمع شدہ) شراب کے پاس جا پہنچے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس چیز کو پہچانتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ شراب ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سچ کہہ رہے ہو، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے شراب پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے بنوانے والے پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر، جس کی طرف اٹھائی گئی اس پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اور اس کی کمائی کھانے والے پر۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری منگوائی اور فرمایا: اس کو چیر ڈالو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو چیز دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑ کر شراب کے برتن توڑ ڈالے، لوگوں نے کہا: یہ برتن تو کام کے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن میں نے اللہ کی رضا مندی کے لئے غصے میں ایسا کیا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی طرف سے یہ کام میں کر دیتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث میں بعض راویوں نے دیگر بعض کی بہ نسبت الفاظ زیادہ بیان کئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7414]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7415
حدثنا أبو العباس، أخبرنا محمد بن عبد الله، أخبرنا ابن وهب، أخبرني مالك بن خَيْر الزَّبَادِي، أَنَّ مالك بن سعد التُّجيبي حدثه، أنه سمع عبدَ الله بن عباس يقول: إنَّ رسول الله ﷺ أتاه جبريلُ ﵇ فقال:"يا محمدُ، إِنَّ الله لعنَ الخمرَ وعاصرَها ومُعتصِرَها، وحاملَها والمحمولةَ إليه، وشاربَها وبائعَها ومُبتاعَها، وساقيَها ومُسقَاها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7229 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبریل امین علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے شراب پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے بنوانے والے پر، اس کے لانے والے پر، منگوانے والے پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر اور خریدنے والے پر لعنت کی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7415]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ
شراب سے بچو کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7416
أخبرنا أبو سهل بن زياد القَطّان، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا بَدَل بن المُحبَّر، حدثنا شُعبة، عن أيوب، عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: من شَرِبَ الخمرَ في الدنيا، لم يَشْربِها في الآخرة (2) .
هذا حديث صحيح غريب من حديث شُعبة، وقد اتفق الشيخانِ ﵄ على حديث عُبيد الله بن عمر وابن جُريج عن نافع في هذا الباب (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7230 - غريب من حديث شعبة
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دنیا میں شراب نوشی کی، وہ آخرت میں شراب سے محروم رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے اور شعبہ کی اسناد کے ہمراہ یہ غریب ہے۔ جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب میں عبیداللہ بن عمرو بن جریج کی نافع سے روایت کردہ حدیث نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7416]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7417
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدَّراوَرْدي، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عِكْرمة عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"اجتنِبُوا الخمرَ، فإنَّها مِفتاحُ كلَّ شَرٍّ" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7231 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شراب سے بچو، کیونکہ یہ ہر گناہ کی چابی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7417]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7418
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا حمّاد بن سَلَمة، عن يعلى بن عطاء، عن نافع بن عاصم، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"من شَرِبَ الخمرَ فسَكِرَ منها، لم تُقبَلْ له صلاةُ أربعين يومًا، ثم إن شَرِبَها حتى يَسكَر، لم تُقبَلْ له صلاةُ أربعينَ يومًا، ثمَّ إن شَرِبَها حتى يَسكَر منها، لم تُقبَلْ له صلاةُ أربعينَ يومًا، ثمَّ إِن شَرِبَها الرابعَة فسَكِرَ منها، كان حقًّا على الله أن يَسقِيَه من عين الخَبَال" قيل: وما الخَبَالُ؟ قال:"صَدِيدُ أهلِ النار" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7232 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے شراب کا نشہ کیا، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی، اگر دوبارہ وہ شراب کا نشہ کرے تو پھر چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، پھر اگر شراب کا نشہ کرے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر پھر چوتھی مرتبہ بھی شراب کا نشہ کرے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کو عین الخبال سے پلائے۔ پوچھا گیا کہ عین الخبال کیا ہے؟ تو فرمایا: دوزخیوں کی پیپ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7418]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. ذِكْرُ ثَلَاثَةٍ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ
ان تین افراد کا تذکرہ جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7419
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، أنَّ عمرو بن شعيب حدثه عن أبيه، عن عبد الله بن عَمرو بن العاص، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"من تركَ الصلاةَ سُكْرًا مرةً واحدةً، فكأنّما كانت له الدنيا وما عليها فسُلِبَها، ومن تركَ الصلاةَ أربعَ مراتٍ سُكْرًا، كان حقًّا على الله تعالى أن يَسقِيَه من طينةِ الخَبَال" قيل: وما طينةُ الخَبَال؟ قال:"عُصَارةُ أهلِ جهنَّم" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7233 - سمعه ابن وهب عنه وهو غريب جدا
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے شراب کے نشے کی وجہ سے ایک نماز چھوڑی، گویا کہ اس کے پاس دنیا و مافیہا سب کچھ تھا جو اس سے چھین لیا گیا ہے۔ اور جس نے شراب کے نشے کی بناء پر چار نمازیں چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کو طینۃ الخبال پلائے۔ پوچھا گیا طینۃ الخبال کیا ہے؟ فرمایا: دوزخیوں کا پسینہ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7419]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7420
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المُعتمر بن سليمان، قال: قرأتُ على الفُضيل، عن أبي حَرِيز، أنَّ أبا بُردة حدّثه عن حديث أبي موسى، أن النبيَّ ﷺ قال:"ثلاثةٌ لا يَدْخلون الجنَّةَ: مُدمِنُ الخمرِ، وقاطعُ الرَّحِم، ومصدِّقٌ بالسِّحر، ومن مات مُدمن الخمرِ، سقاه الله من نهر الغُوطة" قيل: وما نهرُ الغُوطة؟ قال:"نهرٌ يخرجُ من فُروج المُومِسات، يؤذي أهلَ النار رِيحُ فُروجِهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7234 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی جنت میں نہیں جائیں گے۔ شراب نوشی کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا، جادوگر کی تصدیق کرنے والا۔ اور جو شخص شراب نوشی کی حالت میں (توبہ کئے بغیر) مرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو نہر غوطہ سے پلائے گا۔ پوچھا گیا: نہر غوطہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: ایک نہر ہے جو زنا کار عورتوں کی شرمگاہوں سے نکلتی ہے، ان کی شرمگاہوں کی بدبو دوزخیوں کو بھی تکلیف دیتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7420]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. إِنَّ أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ شُرْبُ الْخَمْرِ
بے شک کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7421
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن عبد الله بن يسار الأعرج، أنه سَمِعَ سالمًا يحدّث عن أبيه، عن النبيِّ ﷺ قال:"ثلاثةٌ لا ينظر الله إليهم يومَ القيامة: عاقُّ والديهِ، ومُدمِنُ خَمرٍ، ومنَّانٌ بما أَعطَى" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7235 - صحيح
سیدنا سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان پر نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ ماں باپ کا نافرمان۔ شراب نوشی کرنے والا۔ کچھ دے کر احسان جتانے والا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7421]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7422
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا سعيد بن أبي، مريم، أخبرنا الدَّراوَرْدي، حدثني داود بن صالح، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه: أنَّ أبا بكر الصديق وعمر بن الخطَّاب وناسًا من أصحاب رسول الله ﷺ، جلسوا بعدَ وفاة رسولِ الله ﷺ، فذكروا أعظم الكبائر، فلم يكن عندَهم فيها علم يَنْتهون إليه، فأرسلوني إلى عبد الله بن عمرو أسألُه عن ذلك، فأخبرني أنَّ أعظمَ الكبائر شربُ الخمرِ، فأتيتُهم فأخبرتُهم، فأنكروا ذلك ووَثَبُوا إليه جميعًا حتى أتَوه في دارِه، فأخبَرهم أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ مَلِكًا من ملوك بني إسرائيل أخذَ رجلًا، فخيَّره بين أن يَشربَ الخمر أو يقتلَ نفسًا أو يزنيَ أو يأكلَ لحمَ الخنزير، أو يقتلوه إنْ أَبى، فاختار أن يَشربَ الخمرَ، وإنه لما شَرِبَه لم يمتنِعْ من شيء أرادُوه منه"، وأنَّ رسولَ الله ﷺ قال لنا مُجيبًا:"ما من أحدٍ يشربُها فيَقبلُ الله له صلاةَ أربعين ليلةً، ولا يموت وفي مَثانتِه منه شيء إلَّا حُرِّمَت عليه بها في الجنة، فإن ماتَ في أربعينَ ليلةً، مات مِيتةً جاهليةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7236 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور کچھ دیگر صحابہ کرام بیٹھے تھے اور اس موضوع پر بات کر رہے تھے کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا کونسا ہے۔ ان کے پاس اتنا علم نہ تھا کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچ سکتے، انہوں نے اس بابت دریافت کرنے کے لئے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، انہوں نے بتایا کہ سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے۔ میں واپس ان کے پاس آیا اور بتایا (کہ سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے) وہ لوگ یہ بات نہ مانے اور سب لوگ بھاگتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے گھر آ گئے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے ایک آدمی کو پکڑا اور اس کو اختیار دیا کہ شراب پیے یا قتل کرے، یا زنا کرے، یا خنزیر کا گوشت کھائے، ورنہ وہ اس کو قتل کروا دے گا۔ اس آدمی نے شراب کو اختیار کیا، جب اس نے شراب پی لی تو پھر وہ کسی بھی گناہ سے نہ بچ سکا جس میں وہ لوگ اس کو پھنسانا چاہتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: جو شخص شراب پیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی عبادت قبول نہیں کرتا، اور مرتے وقت جس کے پیٹ میں شراب ہو گی، اس پر جنت حرام ہے۔ اور اگر وہ (شراب پینے کے بعد) چالیس دن کے اندر اندر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7422]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں