🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ
رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7435
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابةَ (ح) وحدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا الحسن بن سهل المُجَوَّز، حدثنا أبو عاصم، عن ابن جُريج، حدثني محمد بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن معاوية بن جاهِمةَ: أنَّ جاهمةَ أَتى النبيَّ ﷺ، فقال: إني أردتُ أن أغزوَ، وجئتُ أَستشيرُك، فقال:"ألك والدةٌ"؟ قال: نعم، قال:"اذْهَبْ فَالزَمْها، فإنَّ الجنةَ عند رِجلَيها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7248 - صحيح
سیدنا جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں، میں آپ کے پاس اس بابت مشورہ لینے کے لئے آیا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری والدہ حیات ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا، جا کر ان کی خدمت میں لگ جا، کیونکہ جنت ماں کے قدموں میں ملتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7435]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7436
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا شُعبة، عن يعلى بن عطاء، أبيه، عن عبد الله (2) عن بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:"رِضا الرَّبِّ فِي رِضا الوالد، وسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الوالد" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7249 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رضا، والد کی رضا میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی، والد کی ناراضگی میں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7436]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ
والد جنت کے دروازوں میں سے بہترین (درمیان والا) دروازہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7437
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد القَنطَري، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، عن سفيان. وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ ﷺ فقال: إنِّي جئتُ أبايعُك على الهجرة وتركتُ أبوَيَّ يبكيان، قال:"فارجعْ إليهما، فأَضحِكْهما كما أبكَيتَهما" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7250 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: میں آپ کے پاس ہجرت پر بیعت کرنے کے لئے آیا ہوں اور میں اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑ کر آ گیا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو واپس لوٹ جا، اور جیسے تو نے ان کو رلایا ہے اسی طرح ان کو خوش کر۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7437]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7438
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن قال: تزوَّج رجلٌ، فكَرِهَت أُمُّه ذلك، فجاء يسأل أبا الدرداء، فقال: أطِعِ المرأة، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الوالدةُ أوسَطُ أبوابِ الجنَّة"، فأضِعْ ذلك أو احفَظْ (1) . رواه شُعْبةُ عن عطاء بن السائب مفسَّرًا بالشرح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7251 - صحيح
ابوعبدالرحمن فرماتے ہیں: ایک آدمی کی شادی ہوئی، لیکن اس کی والدہ کو یہ شادی پسند نہ تھی، وہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لئے گیا، سیدنا ابوالدرداء نے فرمایا: اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اپنی ماں کی فرمانبرداری کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرمائے ہوئے سنا ہے کہ والدہ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تو اس کو ضائع کر لے اور چاہے تو اس کی حفاظت کر لے ۔ ٭٭ شعبہ نے عطاء بن سائب سے یہ حدیث تفصیل کے ساتھ روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7438]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7439
أخبَرناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن: أنَّ رجلًا أمَرَه أبَوَاه - أو أحدُهما - أن يُطلِّقَ امرأتَه، فجعل ألفَ محرَّر - أو قال: مئة محرَّر (2) - وماله هَدْيًا إن فَعَلَ، فأتى أبا الدرداء، فذكر أنه صلَّى الضُّحى ثم سأله فقال: أَوْفِ بنَذْرك، وبِرَّ والدَيكَ، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الوالدُ أوسَطُ أبواب الجنَّة"، فإن شئتَ فحافِظْ على الباب أو اترُكْ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7252 - صحيح
ابوعبدالرحمن کہتے ہیں: ایک آدمی کو اس کے ماں باپ نے یا ان میں سے کسی ایک نے حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے، اور کہا کہ اگر وہ اس کو طلاق دے گا تو اس کو ایک ہزار یا ایک سو غلام اور بہت سارا مال ہدیہ دیا جائے گا۔ وہ شخص سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا، انہوں نے کہا: انہوں نے چاشت کی نماز پڑھ کر ان سے مسئلہ پوچھا: سیدنا ابولدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی قسم کو پورا کر اور اپنے ماں باپ کی بات مان۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے چاہے تو اس کی حفاظت کر لے یا چھوڑ دے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7439]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. لَعَنَ اللَّهُ الْعَاقَّ لِوَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مُنْتَقِصَ مَنَارِ الْأَرْضِ
اللہ نے والدین کے نافرمان پر اور زمین کی حدود مٹانے والے پر لعنت فرمائی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7440
أخبرني الحسن بن حَليم (4) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرني ابن أبي ذئب، حدثني خالي الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: كانت تحتي امرأةٌ تُعجبني، وكان عمرُ يكرهُها، فقال لي: طلِّقْها، فأَبيتُ، فأتى عمرُ رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، إنَّ عند عبد الله بن عمر امرأةً قد كرهتُها، فأمرتُه أن يُطلِّقَها فأَبى، فقال لي رسول الله ﷺ:"يا عبدَ الله بنَ عمر، طلِّقِ امرأتَك، وأطِعْ أباك"، قال عبدُ الله: فطلَّقتُها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7253 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے نکاح میں تھی، مجھے اس سے بہت پیار تھا، جبکہ میرے والد محترم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو بہت ناپسند کرتے تھے، والد صاحب نے مجھے فرمایا: تو اس کو طلاق دے دے۔ میں نے انکار کر دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن عمر کے پاس ایک عورت ہے (جو کہ اس کی بیوی ہے) وہ مجھے اچھی نہیں لگتی، میں نے اسے طلاق دینے کو کہا تو عبداللہ نے انکار کر دیا۔ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اپنے والد کی اطاعت کر۔ سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں: میں نے اس کو طلاق دے دی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7440]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7441
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أحمد بن يحيى بن إسحاق الحُلْواني، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن العلاء، عن أبيه، عن هانئ مولى عليِّ بن أبي طالب، أنَّ عليًّا قال: يا هانئ، ماذا يقول الناسُ؟ قال: يَزعمون أنَّ عندك علمًا من رسول الله ﷺ لا تُظهِرُه، قال: دون الناس؟ قال: نعم، قال: أَرِني السيفَ، فأعطيتُه (2) السيفَ، فاستخرج منه صحيفةً فيها كتابٌ، قال: هذا ما سمعتُ من رسول الله ﷺ قال: قال رسول الله ﷺ:"لَعَنَ اللهُ مَن ذَبَحَ لغير الله، ومن تولَّى غير مَواليهِ ولعنَ اللهُ العاقَّ لوالديه، ولعنَ الله مُنتقِصَ مَنارِ الأرض" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7254 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ہانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ہانی! لوگ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا علم ہے جس کو آپ ظاہر نہیں کرتے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبھی لوگ کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے میری تلوار دو، میں نے ان کو تلوار دی، آپ نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا جس کے اندر کوئی تحریر موجود تھی۔ پھر فرمایا: یہ ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اس شخص پر جو ذبح کے وقت جانور پر غیراللہ کا نام لے، اور جو اپنے موالی کو چھوڑ کر دوسروں کو والی بنائے، اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ماں باپ کے نافرمان پر اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اس پر جو زمین کی حدود کو توڑے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7441]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7442
أخبرني أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا شُعبة، عن عطاء عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ ﷺ يُبايعُه على الهجرة [فقال: إنِّي جئت أبايعُك على الهجرة] (1) وتركتُ أبويَّ يبكيانِ، فقال:"ارجِعْ إليهما، فأضحِكْهما كما أبكيتَهما" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لئے آیا اور کہا: میں آپ کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لئے آیا ہوں۔ اور اپنے ماں باپ کو روتا ہوا چھوڑ آیا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلا جا، اور جیسے ان کو رلایا ہے ویسے ہی ان کو ہنسا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7442]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ زَادَ اللَّهُ فِي عُمُرِهِ
جس نے والدین کے ساتھ نیکی کی، اللہ اس کی عمر میں اضافہ فرما دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7443
حدثنا محمد بن صالح وإبراهيم بن عصمة، قالا: حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا سعيد بن أبي مريم حدثنا محمد بن هلال، حدثني سعد بن إسحاق كَعب بن عُجْرة، عن [أبيه] عن (3) كعب بن عُجْرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"احْضُرُوا المنبرَ"، فحضرنا، فلمَّا ارتقى درجةً قال:"آمِين"، فلمَّا ارتقى الدرجةَ الثانية قال"آمِين"، فلمَّا ارتقى الدرجةَ الثالثة قال:"آمِين"، فلما نزل، قلنا: يا رسول الله، لقد سمعنا منكَ اليوم شيئًا ما كنَّا نسمعُه؟! قال:"إنَّ جبريلَ ﵇ عَرَضَ لي، فقال: بَعُدَ مَن أدرَكَ رمضانَ فلم يُغفَرْ له، قلتُ: آمِين، فلما رَقِيتُ الثانيةَ قال: بَعُدَ مَن ذُكِرتَ عنده فلم يُصلِّ عليك، قلتُ: آمين، فلما رَقِيتُ الثالثة قال: بَعُدَ مَن أدرك أبَويهِ الكبرُ عنده أو أحدَهما، فلم يُدخِلاه الجنَّةَ، قلتُ: آمِين" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7256 - صحيح
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: منبر کے پاس جمع ہو جاؤ، ہم لوگ جمع ہو گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی ایک سیڑھی پر چڑھے تو کہا: آمین۔ جب دوسری سیڑھی پر چڑھے تو کہا: آمین۔ اور جب تیسری سیڑھی پر چڑھے پھر کہا: آمین۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف سے نیچے اترے تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آج آپ سے ایسی بات سنی ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں سنی، (اس کی کیا وجہ ہے؟) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جبریل امین علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا: اللہ کرے کہ (جنت سے) دور رہے ایسا شخص جو رمضان کا مہینہ پائے اور اپنی مغفرت نہ کروا سکے، میں نے کہا: آمین۔ جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل نے کہا: اللہ کرے کہ (وہ شخص جنت سے) دور رہے جس کے پاس آپ کا نام لیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ پڑھے، میں نے کہا: آمین۔ جب میں تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل نے کہا: اللہ کرے کہ وہ شخص (جنت سے) دور رہے جس نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کے عالم میں پایا اور وہ ان کو جنت میں داخل نہ کروا سکیں۔ (یعنی یہ شخص ان کی خدمت کر کے جنت کا مستحق نہ ہوا) میں نے کہا: آمین۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7443]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بِرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرَّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ
تم اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7444
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر (2) بن نصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن زَبّان (3) بن فائد، عن سهل بن معاذ عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن برَّ والديه، طُوبَى له، زادَ الله في عُمُرِه" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7257 - صحيح
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا اس کو خوشخبری ہو، اللہ تعالیٰ اس کی عمر لمبی فرمائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7444]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں