المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. بِرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرَّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ
تم اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرے گی
حدیث نمبر: 7445
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا يحيى بن حَكيم وإسحاق بن إبراهيم الصَّوّاف (1) ، قالا: حدثنا سُوَيد أبو حاتم، عن قَتَادةَ، عن أبي رافع، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"عِفُّوا عن نساءِ الناس، تَعِفَّ نساؤكم، وبرُّوا آباءكم تَبَرَّكم أبناؤُكم، ومَن أتاه أخوه متنصِّلًا، فليَقبَلْ ذلك منه، مُحِقًّا كان أو مُبطِلًا، فإن لم يفعل لم يَرِدْ عليَّ الحوضَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7258 - بل سويد ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7258 - بل سويد ضعيف
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کی عورتوں کو پاکدامن رکھو، (بدلے میں) تمہاری عورتوں کو پاکدامن رکھا جائے گا، تم اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو، تمہاری اولادیں تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں گی، جس شخص کے پاس اس کا بھائی لاچار ہو کر آئے، اس کو چاہیے کہ اپنے بھائی کی بات کو مانے خواہ حق پر ہو یا ناحق ہو۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو میرے حوض کوثر پر مجھ سے نہیں مل سکے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7445]
حدیث نمبر: 7446
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ الأسَدي الحافظ وعَبْدان بن يزيد الدقّاق الهَمَذانيّان بهَمَذان، قالا: حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا علي بن قُتيبة الرِّفاعي، حدثنا مالك بن أنس، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"برُّوا آباءكم تَبَرَّكم أبناؤُكم، وعِفُّوا تَعِفَّ نساؤُكم، ومن تُنُصِّل إليه فلم يَقبَلْ، لم يَرِدْ عليَّ الحوض" (1) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو تمہاری اولادیں تمہاری خدمت کریں گی، لوگوں کی عورتوں کو پاکدامن رکھو، تمہاری عورتوں کو پاکدامن رکھا جائے گا اور جس شخص کے پاس کوئی شخص معذرت کرتے ہوئے آیا، لیکن اس نے قبول نہ کیا۔ وہ میرے پاس میرے حوض پر نہیں آئے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7446]
حدیث نمبر: 7447
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، وأبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد (1) ، قالا: حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا عبد الرحمن بن سليمان بن الغَسيل (ح) وأخبرني الحسن بن حَليم (2) المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الرحمن بن سليمان، عن أَسِيد بن علي بن (3) عُبيد الساعدي، عن أبيه، أنه سمع أبا أُسيد مالك بن رَبيعة الساعدي يقول: بينما نحن عندَ رسول الله ﷺ إذ جاءه [رجل] (4) من بني سَلِمة، فقال: يا رسولَ الله، هل بقي من بِرِّ أبويَّ شيءٌ أَبَرُّهما به من بعد موتهما؟ قال:"نعم، الصلاةُ عليهما، والاستغفارُ لهما، وإنفاذُ عُهودِهما، وإكرامُ صديقِهما، وصلةُ الرَّحِم الذي لا رحمَ لك إلَّا من قِبَلِهما" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7260 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7260 - صحيح
ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھے کہ بنی سلمہ کا ایک آدمی آیا اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ماں باپ کی وفات کے بعد بھی کسی طریقے سے میں ان کی خدمت کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ ان کی نماز جنازہ پڑھو، ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو، ان کے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرو، اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7447]
10. حِكَايَةُ امْرَأَةٍ فَزِعَتْ مِنْ عَمَلِ السِّحْرِ
جادو کے عمل سے خوفزدہ ہونے والی ایک عورت کا قصہ
حدیث نمبر: 7448
حدثنا أبو بكر محمد بن داود الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن جُنَيد، حدثنا سهل بن عثمان العَسكَري، حدثنا أبو معاوية، حدثنا محمد بن سُوقَة، عن أبي بكر بن حفص، عن ابن عمر قال: أتى النبيَّ ﷺ رجلٌ فقال: يا رسولَ الله، إِنِّي أذنبتُ ذنبًا كثيرًا، فهل لي من توبة؟ قال:"ألكَ والدانِ؟" قال: لا، قال:"فلك خالةٌ؟" قال: نعم، فقال رسول الله ﷺ:"فبِرَّها إذًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7261 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7261 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے بہت گناہ کئے ہیں، کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے ماں باپ حیات ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری خالہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا اپنی خالہ کی خدمت کر۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7448]
11. كُلُّ الذُّنُوبِ يُؤَخِّرُ اللَّهُ مَا شَاءَ مِنْهَا إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ
اللہ تمام گناہوں کی سزا میں جس قدر چاہے تاخیر فرما دیتا ہے سوائے والدین کی نافرمانی کے
حدیث نمبر: 7449
[حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني] (2) عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه عن عائشة أنها قالت: قدمت امرأةٌ من أهل دُومةِ الجَندَل عليَّ، جاءت تبتغي رسولَ الله ﷺ بعد موته حَدَاثَةَ ذلك، تسألُه عن شيء دخلَتْ فيه من أمر السَّحَرة لم تَعمَلْ به. قالت عائشة لعُرْوة: يا ابنَ أختي، فرأيتُها تبكي حين لم تَجِدْ رسولَ الله ﷺ فيَشفِيها، تَبْكي حتى إنِّي لأَرحمُها وتقول: إني لأخافُ أن أكون قد هلكتُ، كان لي زوجٌ فغاب عنِّي فدخلَتْ عليَّ عجوزٌ فشكوتُ إليها، فقالت: إن فعلتِ ما آمرُكِ، فأجعلُه يأتيك، فلمّا كان الليلُ جاءتني بكلبينِ أسودين، فركبتُ أحدُهما وركبَتِ الآخرَ، فلم يكن لُبْثي حتى وقفنا ببابلُ، فإذا أنا برجلين مُعلَّقَين بأرجلهما، فقالا: ما جاء بكِ؟ فقلتُ: أتعلَّمُ السِّحر؟ فقالا: إنما نحن فتنةٌ، فلا تَكفُري وارجعي، فأبيتُ وقلتُ: لا، قالا: فاذهبي إلى ذلك التَّنُّور فبُولِي فيه، فذهبت وفزعتُ، فلم أفعل، فرجعتُ إليهما فقالا لي فعلتِ؟ قلتُ: نعم، قالا: هل رأيتِ شيئًا؟ قلتُ: لم أَرَ شيئًا، فقالا: لم تفعلي ارجِعي إلى بلادِك ولا تَكفُري، فأبَيتُ، فقالا: اذهبي إلى ذلك التَّنُّور فبُولِي فيه، فذهبتُ فاقشعرَّ جلدي وخفتُ، ثم رجعتُ إليهما فقلتُ: قد فعلتُ، فقالا: فما رأيتِ؟ فقلتُ: لم أرَ شيئًا، فقالا: كذبتِ، لم تفعلي، ارجِعي إلى بلادك ولا تَكفُري، فإنَّكِ على رأسِ أمرِك فأبَيتُ، فقالا: اذهبي إلى ذلك التَّنُّور فبُولِي فيه، فذهبتُ فبُلْتُ فيه، فرأيتُ فارسًا متقنِّعًا بحديد، خرج منِّي حتى ذهب في السماء، فغابَ عني حتى ما أَراه فأتيتُهما، فقلتُ: قد فعلتُ، فقالا: فما رأيتِ؟ قلتُ: رأيتُ فارسًا متقنِّعًا بحديد خرج مني فذهب في السماء، فغاب عني حتى ما أَرى شيئًا، قالا: صدقتِ، ذلك إيمانُك خرج منكِ، اذهبي. فقلتُ للمرأة: والله ما أعلمُ شيئًا، وما قالا لي شيئًا، فقالا (1) : بلى إن تريديَن شيئًا إلَّا كان، خُذي هذا القمحَ فابذُري، فبَذَرتُ، فقلتُ: اطلَعِي، فَطَلَعَتْ، وقلتُ: أَحقِلي، فأحقَلَتْ (2) ، ثم قلتُ: أفرِخي، فأفرَخَتْ، ثم قلتُ: أيبِسي، فأيبسَتْ (3) ، ثم قلتُ: اطَّحِني، فاطَّحَنَتْ، ثم قلتُ: أَخبِزي، فأخبَزَت. فلمَّا رأيتُ أَنِّي لا أريدُ شيئًا إلَّا كان، سُقِطَ في يدي ونَدِمتُ واللهِ يا أمَّ المؤمنين ما فعلتُ شيئًا قطُّ، ولا أفعلُه أبدًا. فسألتُ أصحابَ رسولِ الله ﷺ حداثة وفاةِ رسولِ الله ﷺ، وهم يومئذ متوافرون، فما دَرَوْا ما يقولون لها، وكلُّهم هابَ وخاف أن يُفتيَها بما لا يعلم، إلَّا أنهم قالوا لها: لو كان أبواكِ حيَّيْن أو أحدُهما، لكانا يكفيانِكِ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والغرضُ في إخراجه في هذا الموضع إجماعُ الصحابة حِدثْانَ وفاةِ رسول الله ﷺ أن الأبوين يَكفِيانِها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7262 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والغرضُ في إخراجه في هذا الموضع إجماعُ الصحابة حِدثْانَ وفاةِ رسول الله ﷺ أن الأبوين يَكفِيانِها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7262 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے کہ دومۃ الجندل کی ایک خاتون حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے میرے پاس آئی، اس پر جادو کے کچھ اثرات تھے اور وہ اسی بارے میں آپ سے پوچھنے آئی تھی، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ سے کہا: اے میرے بھانجے! جب اس کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو حیات نہیں ہیں جہاں سے اس کو شفا ملنا تھی، اس وقت اس کے رونے کی کیفیت کو میں نے دیکھا ہے، مجھے اس پر بہت رحم آ رہا تھا، وہ کہہ رہی تھی: مجھے خدشہ ہے کہ میں ہلاک ہو گئی ہوں، میرا شوہر کافی عرصہ سے غائب تھا، ایک بوڑھی خاتون میرے پاس آئی تو میں نے اس کو اپنی پریشانی بتائی، اس نے کہا: اگر تم میری بات مانو گی تو تیرا شوہر واپس آ جائے گا۔ (اس وقت تو وہ خاتون چلی گئی) اور رات کے وقت دوبارہ آ گئی وہ اپنے ساتھ کالے رنگ کے دو کتے لے کر آئی، ایک پر میں سوار ہو گئی اور دوسرے پر وہ۔ یہ کتے چلتے چلتے بابل میں پہنچ گئے، وہاں دو آدمی الٹے لٹکائے ہوئے تھے: وہ پوچھنے لگے: تم کیا کرنے آئی ہو؟ میں نے کہا: جادو سیکھنے کے لئے، انہوں نے کہا: ہم تو آزمائش ہیں، تم کفر مت کرو اور واپس چلی جاؤ، میں نہ مانی، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اس تنور کے پاس جاؤ اور اس میں پیشاب کر کے آؤ، میں وہاں گئی، مجھے ڈر لگنے لگا، میں گھبرا کر واپس آ گئی، انہوں نے پوچھا: تو نے پیشاب کر دیا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: تجھے کوئی چیز دکھائی دی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تو نے پیشاب ہی نہیں کیا۔ تو واپس اپنے وطن چلی جا اور کفر مت کر۔ لیکن میں پھر نہ مانی، انہوں نے پھر کہا: کہ اس تنور میں پیشاب کر کے آؤ، میں پھر گئی، لیکن خوف کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، (اب بھی میں پیشاب کئے بغیر) واپس چلی گئی۔ انہوں نے پوچھا: تو نے کچھ دیکھا؟ میں نے کہا: میں نے تو کچھ نہیں دیکھا، انہوں نے کہا: تو جھوٹ بول رہی ہے، تو نے پیشاب نہیں کیا، تو اپنے وطن واپس چلی جا اور کفر مت کر۔ یہ تیرے بس کی بات نہیں ہے۔ میں پھر نہ مانی، انہوں نے کہا: جا اس تنور میں پیشاب کر کے آ، میں گئی اور اس کنویں میں پیشاب کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ لوہے میں لپٹا ہوا ایک گھڑ سوار شخص میرے اندر سے نکلا اور آسمانوں کی جانب پرواز کر گیا اور میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، میں لوٹ کر ان لوگوں کے پاس آئی، اور ان کو بتایا کہ میں نے پیشاب کر دیا ہے، انہوں نے پوچھا: تو پھر تو نے کیا دیکھا؟ میں نے کہا: میں نے لوہے میں ڈوبا ہوا، ایک گھڑ سوار دیکھا ہے، جو میرے اندر سے نکلا ہے اور آسمانوں کی طرف جا کر غائب ہو گیا، انہوں نے کہا: اب تو سچ کہہ رہی ہے۔ وہ تیرا ایمان تھا جو تجھ سے روانہ ہو گیا، اب تو چلی جا، میں نے اس عورت سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے کسی چیز کا پتا نہیں چلا اور نہ ہی انہوں نے مجھے کچھ بتایا ہے۔ ان لوگوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اب جو چاہے گی وہی ہو گا، (تجربے کے طور پر) یہ گندم کا دانہ لے اور اس کو کاشت کر دے، میں نے اس کو کاشت کیا اور اس کو کہا: اگ۔ تو وہ اگ آیا۔ میں نے کہا: بالی نکال، اس نے بالی نکال لیا، میں نے کہا: بڑا ہو جا، وہ بڑا ہو گیا، میں نے کہا: پھل نکال، اس نے پھل نکال لئے، میں نے کہا: پھل بڑھا، اس نے پھل بڑھا دیئے، میں نے کہا: پک جا، وہ پک گئے، میں نے کہا: آٹا بن جا، وہ آٹا بن گیا، میں نے کہا: روٹی بن جا، تو وہ روٹی بن گئی۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ میں جس چیز کا ارادہ کرتی ہوں وہ ہو جاتی ہے، تو میں بہت نادم ہوئی۔ اللہ کی قسم! اے ام المومنین! میں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں کیا اور نہ کبھی کروں گی، میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے واقعہ کے بارے میں پوچھا، اس وقت صحابہ کرام کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن کسی کو سمجھ نہ آئی کہ وہ میرے معاملے میں کیا فتویٰ دیں۔ اور وہ لوگ بغیر علم کے فتویٰ دینے سے بہت گھبراتے تھے، البتہ انہوں نے یہ کہا کہ اگر تیرے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک زندہ ہوتا تو تیرا مسئلہ حل ہو جاتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (امام حاکم کہتے ہیں) اس حدیث کو اس مقام پر ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع تھا کہ اس خاتون کو اس کے ماں باپ کافی تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7449]
حدیث نمبر: 7450
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل - رحمه الله تعالى - وعبد الله بن الحسين القاضي، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا محمد بن عيسى بن الطبّاع، حدثنا بكّار بن عبد العزيز بن أبي بَكْرة، قال: سمعتُ أبي يُحدِّث عن أبي بَكْرة قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"كلُّ الذنوب يُؤخِّرُ اللهُ ما شاءَ منها إلى يوم القيامة، إلَّا عُقوق الوالدين، فإنَّ الله تعالى يُعجِّلُه لصاحبِه في الحياة قبلَ المَمَات (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7263 - بكار بن عبد العزيز ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7263 - بكار بن عبد العزيز ضعيف
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر گناہ (کی سزا کو) قیامت تک کے لئے موخر کیا جا سکتا ہے لیکن ماں باپ کے نافرمان کی سزا اس کے مرنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7450]
12. أَحَادِيثُ صِلَةِ الرَّحِمِ
صلہ رحمی (رشتہ داروں سے حسنِ سلوک) کی احادیث
حدیث نمبر: 7451
...... (1) حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: كانوا يكرهون أن يَرْضَخوا لأنسبائهم (2) وهم مشركون، فنزلت: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ﴾ حتى بلغ: ﴿وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴾ [البقرة: 272 - 273] ، فرُخِّص لهم (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7264 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7264 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کو اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک ناگوار گزرتا تھا، تب یہ آیت نازل ہوئی: لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقرہ: 272) ” انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللہ کی مرضی چاہنے کے لئے اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیئے جاؤ گے۔ (ترجمہ: کنزالایمان، امام احمد رضا) چنانچہ اس آیت کی وجہ سے ان کو (اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی) رخصت دے دی گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7451]
حدیث نمبر: 7452
حدثنا أبو بكر أحمد بن....... (4) يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال:"قال الله ﷿: أنا الرحمنُ، وهي الرَّحِم، فمَن وَصَلَها وصلتُه، ومن قَطَعَها قطعتُه" (5) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رُوِيَ بأسانيد واضحة عن عبد الرحمن بن عَوف وسعيد بن زيد بن عمرو ابن نُفيل وعائشة وعبد الله (1) بن عمرو (2) . أما حديثُ سعيد بن زيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7265 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رُوِيَ بأسانيد واضحة عن عبد الرحمن بن عَوف وسعيد بن زيد بن عمرو ابن نُفيل وعائشة وعبد الله (1) بن عمرو (2) . أما حديثُ سعيد بن زيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7265 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں رحمن ہوں، اور اس سے مراد ” رحم “ ہے۔ جس نے اس کو ملایا، میں اس کو ملاؤں گا، اور جس نے اسے توڑا، میں اسے توڑ دوں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو واضح اسانید کے ہمراہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث درج ذیل ہے [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7452]
حدیث نمبر: 7453
فأخبرَناه أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ (3) الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن الحسين. وأخبرني أبو محمد المُزَني، حدثنا علي بن محمد الجَكّاني (4) ؛ قالا: حدثنا أبو اليَمَان، حدثنا شعيب بن أبي حمزة، حدثنا عبد الله بن أبي الحسين، حدثنا نوفل بن مُساحِق، عن سعيد [بن زيد] (5) بن عمرو بن نُفيل، قال: قال رسول الله ﷺ:"الرَّحِمُ شُجْنةٌ من الرحمن، فمن وَصَلَها وصلَه الله، ومن قَطَعَها قطعَه اللهُ ﷿" (6) . أما حديث عبد الرحمن بن عَوف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7266 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7266 - صحيح
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” رحم “ اللہ تعالیٰ کا ” شجنہ “ (ٹہنی) ہے، جس نے اس کو ملایا، اللہ تعالیٰ اس کو ملائے گا اور جس نے اس کو توڑا، اللہ تعالیٰ اس کو توڑے گا۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث درج ذیل ہے [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7453]
حدیث نمبر: 7454
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام الدَّستُوائي، عن يحيى بن أبي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارِظ، أن أباه أخبره أنه دخل على عبد الرحمن بن عَوْف وهو مريضٌ، فقال له عبدُ الرحمن: وَصَلَتْك رَحِمٌ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"قال الله ﷿: أنا الرحمنُ، وهي الرَّحِمُ، شَفَقتُ لها من اسمى، فمن وَصَلَها وصلتُه، ومن قَطَعَها قطعتُه، ومن يَبُتُّها أَبُتُّه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7267 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7267 - صحيح
ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد محترم، سیدنا عبدالرحمن بن عوف کی عیادت کرنے کے لئے گئے، تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں ” رحمن “ ہوں، اور یہ ” رحم “ (رشتہ داریاں) ہیں۔ میں نے اسی سے اپنا نام نکالا ہے، لہٰذا جس نے اس (رشتہ داری) کو ملایا میں اس سے ملوں گا اور جس نے اس (رشتہ داری) کو توڑا میں اس کو (خود سے) دور کر دوں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7454]