🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. يَجِيءُ الرَّحِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَتَكَلَّمُ
قیامت کے دن "رحم" (رشتہ داری) حاضر ہو کر کلام کرے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7475
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسين القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عفّان وحجَّاج بن مِنهال، قالا: حدثنا حماد سَلَمة، عن قَتَادةَ، عن بن أبي ثُمَامة (1) الثَّقفي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبيِّ ﷺ قال:"تَجيءُ الرَّحِمُ يوم القيامة لها حُجْنةٌ كحُجْنةِ المِعْزَل، فتتكلَّمُ بلسانٍ ذَلْقٍ طَلْقٍ، فَتَصِلُ من وَصَلَها وتقطعُ من قَطَعَها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7288 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن رحم آئے گا اور تکلے کے سرے پر مڑے ہوئے لوہے کی طرح اس میں گھاؤ ہو گا اور یہ فصیح و بلیغ زبان میں گفتگو کرے گا، چنانچہ جس نے اس کو ملایا ہو گا، اس کو ملا دیا جائے گا اور جس نے اس کو کاٹا ہو گا اس کو کاٹ دیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7475]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7476
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا موسى بن سهل بن كثير، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، حدثنا عيينة بن عبد الرحمن بن جَوْشَن الغَطَفاني، حدثني أبي، عن أبي بَكْرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن ذنبٍ أجدَرُ أن يُعجِّلَ الله لصاحبه العقوبةَ في الدنيا، مع ما يَدَّخِرُ له في الآخرة، من البَغْي وقطيعةِ الرَّحِم" (3) . وقد رواه شُعبة عن عُيَينة بن عبد الرحمن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7289 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بغاوت اور قطع رحمی کے علاوہ اور کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے مرتکب کے لئے اخروی عذاب کے ساتھ ساتھ دنیاوی سزا بھی رکھی گئی ہو۔ ٭٭ شعبہ نے اس حدیث کو عیینہ بن عبدالرحمن سے روایت کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7476]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. لَا تَحِلُّ الْهِجْرَةُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَوْقَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7477
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، حدّثنا عَبْدان الأهوازيّ، حدّثنا معمر بن سهل، حدّثنا عيسى بن يونس، حدّثنا شُعبة، عن عُيَينة بن عبد الرحمن، قال: سمعتُ أبي يحدّث عن أبي بَكْرة الثقفيّ، أن النبيّ ﷺ قال:"ما مِن ذنبٍ أَحْرى وأجدرُ أن يُعجِّلَ الله تعالى لصاحبه فيه العقوبةَ في الدنيا، مع ما يَدَّخِرُ له في الآخرة، من قَطيعةِ الرَّحِم والبَغْي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7290 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بغاوت اور قطع رحمی کے علاوہ اور کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے مرتکب کے لئے اخروی عذاب کے ساتھ ساتھ دنیاوی سزا بھی رکھی گئی ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7477]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ
جس نے اپنے بھائی سے سال بھر قطع تعلقی رکھی، یہ ایسا ہی ہے جیسے اس کا خون بہایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7478
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا الربيع بن سليمان، حدّثنا أَسد بن موسى، حدّثنا سعيد بن سالم، عن ابن جُريج، عن شُرَحبيل (2) - يعني ابن مسلم - أنه سمع ابن عباس يقول: قال رسول الله ﷺ:"لا تَحِلُّ الهجرةُ فوقَ ثلاثة أيام، فإن الْتَقَيا فسلَّم أحدُهما على الآخر، فرَدَّ عليه الآخرُ السلامَ، اشتَرَكا في الأجر، وإن أبى الآخرُ أن يرُدَّ السلامَ، بَرِئَ هذا من الإثم وباءَ به الآخر"، وأحسبه قال: وإن ماتا وهما مُتهاجِرانِ، لا يَجتمِعانِ في الجنَّة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7291 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین دن سے زیادہ قطع تعلقی جائز نہیں ہے۔ اگر (روٹھے ہوئے) دونوں افراد کا آمنا سامنا ہو، اور ان میں سے ایک فرد سلام میں پہل کرے اور دوسرا جواب دے، تو دونوں کو برابر ثواب ملے گا، اور اگر سامنے والا سلام کا جواب نہ دے تو یہ پہل کرنے والا گناہ سے بری ہو گیا اور دوسرا گنہگار ٹھہرا۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس کے بعد یہ بھی فرمایا کہ: اگر وہ دونوں ناراضگی کے عالم میں فوت ہو جائیں تو وہ دونوں جنت میں جمع نہیں ہو سکتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7478]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7479
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدّثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدّثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدّثنا حَيْوة، حدَّثني أبو عثمان بن أبي الوليد، أنَّ عِمران بن أبي أنس حدَّثه عن أبي خِراش السُّلمي، أنه سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن هَجَرَ أخاه سَنةً، فهو كسَفكِ دِمه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7292 - صحيح
سیدنا ابوخراش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلقی رکھی، گویا کہ اس نے اس کو قتل کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7479]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. إِكْرَامُ الْمُرْضِعَةِ
دودھ پلانے والی ماں کی عزت و تکریم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7480
أخبرنا إسحاق بن سعد بن الحسن بن سفيان بنَسَا، حدّثنا جدِّي، حدّثنا إبراهيم بن سعيد الجوهريّ، حدّثنا سعيد بن محمد، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: مَن سيِّدُكم يا بني عُبيدٍ؟" قالوا: الجَدُّ بن قيس على أنَّ فيه بخلًا، قال: وأي داءٍ أدْوَى من البخل؟ بل سيِّدكُم وابنُ سيِّدُكم بِشرُ بن البَرَاءِ بن مَعرُور" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وسعيد بن محمد: هو الوراق، ثقةٌ مأمون، وقد كَتَبناه من حديث عمرو بن دينار عن أبي سَلَمة (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بنی عبید! تمہارا سردار کون ہے؟ انہوں نے کہا: جد بن قیس ہے اور اس میں بخل کی عادت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخل سے بڑی بیماری اور کون سی ہے؟ تمہارا سردار اور تمہارے سردار کا بیٹا بشر بن البراء بن معرور ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7480]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ
اللہ کے نزدیک بہترین دوست وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7481
حدّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدّثنا إبراهيم بن عبد الله، حدّثنا أبو عاصم، أخبرنا جعفر بن يحيى بن ثَوْبان، عن عمِّه عُمَارة بن ثَوْبان، عن أبي الطُّفيل قال: رأيتُ رسول الله ﷺ بالجِعْرانة، فجاءته امْرأةٌ وأنا يومئذٍ غلامٌ، فلما دَنَتْ من النبيّ ﷺ بَسَطَ لها رِداءَه، فجلست عليه، فقلت: مَن هذه؟ فقالوا: هذه أُمُّه التي أرضَعَتْه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7294 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جعرانہ میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خاتون آئی، میں ان دنوں چھوٹا بچہ تھا، وہ خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے چادر بچھا دی، اور وہ اس پر تشریف فرما ہوئی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی والدہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7481]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7482
أخبرني الحسن بن حَليم (1) المَروَزيّ، حدّثنا أبو الموجَّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا حَيْوة بن شُريح، حدَّثني شُرَحبيل بن شَريك، عن أبي عبد الرحمن الحُبُليّ، عن عبد الله بن عَمرو (2) قال: قال رسول الله ﷺ:"خيرُ الأصحاب عند الله خيرُهم لصاحبِه، وخيرُ الجِيران عند الله خيرُهم لجارِه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7295 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے اچھا وہ شخص ہے جو اپنے دوستوں کے حق میں اچھا ہو، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے اچھا پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں اچھا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7482]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7483
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا مالك بن أنس. وأخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدّثنا إسحاق بن أحمد بن مِهْران، حدّثنا إسحاق بن سليمان قال: سمعتُ مالكَ بن أنس يحدِّث عن سعيد المَقبُريّ، عن أبي شُريح الكَعْبيّ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن كان يؤمنُ بالله واليوم الآخر فليُكرِمْ ضَيْفَه، جائزتُه يومٌ وليلةٌ، والضِّيافة ثلاثةُ أيام، وما بعدَها فهو صَدَقَةٌ، ولا يَحِلُّ له أن يَنوِيَ عندَه حتى يُحرِجَه" (4) . زاد ابنُ وهب في حديثه:"وجائزته أن يُتحِفَه في اليوم أفضلَ ما يَجِدُ"، وقال: يَثْوي: يُقيم عنده.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! وقد صحَّت الرواية فيه أيضًا عن أبي هريرة، وأظنُّهما قد خرَّجاه، والذي عندي أن الشيخين ﵄ أهمَلا حديثَ أبي شُريح لرواية عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبُري عن أبي هريرة ﵁ (1) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7296 - وصح من طريق أبي هريرة وأظن أخرجاه
ابوشریح الکعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، ایک دن، رات تو انعام کے طور پر خدمت کرے، تین دن رات مہمانی ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے۔ اور مہمان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے کہ مہمان تنگ آ کر خود ہی گھر سے چلا جائے۔ ابن وہب نے اپنی حدیث میں یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ جائزہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک دن اس کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق اچھے سے اچھا کھانا کھلائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس موضوع پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث بھی صحیح ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل کیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابوشریح والی حدیث کو اس لئے چھوڑا ہے کہ اس کو عبدالرحمن بن اسحاق نے سعید المقبری کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7483]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7484
كما أخبرَناه أبو عبد الله الشَّيبانيّ، حدّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدّثنا مُسدَّد، حدّثنا بِشر بن مُفضَّل، حدّثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُريّ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"من كان يُؤْمِنُ بالله واليوم الآخرِ، فليُكرِمْ جارَه"، وذكر الحديث إلى آخره (2) . قال الحاكم ﵀: فسمعت عليَّ بن عيسى يقول: سمعت أبا بكر محمد بن إسحاق (1) يقول: مالكُ بن أنس أحفظُ في هذا الإسناد مِن عَدَدٍ مثلِ عبد الرحمن بن إسحاق، وقد تابع عبدُ الحميد بن جعفر مالكَ بن أنس في روايته:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اس کے بعد آخر تک حدیث بیان کی۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: علی بن عیسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر محمد بن اسحاق فرماتے ہیں: سیدنا مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے اس اسناد میں متعدد راویوں کا ذکر کیا ہے مثلاً عبدالرحمن بن اسحاق۔ اور اس حدیث کو روایت کرنے میں عبدالحمید بن جعفر نے مالک بن انس کی متابعت کی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7484]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں