المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
ہر نشہ آور چیز حرام ہے
حدیث نمبر: 7425
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا أبي وشعيب بن الليث قالا: حدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حَبيب، أنَّ خالد بن كَثير الهَمْداني حدثه، أنَّ السَّرِيَّ بن إسماعيل الكوفي حدثه، أنَّ الشَّعبي حدثه، أنه سمع النُّعمان بن بَشير يقول: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ من الحِنطة خمرًا، ومن الشَّعير خمرًا، ومن الزّبيب خمرًا، ومن التَّمر خمرًا، ومن العَسَل خمرًا، وأنا أنهاكم عن كلِّ مُسكِرٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الأشربة [كتاب البر والصلة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7239 - السري تركوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الأشربة [كتاب البر والصلة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7239 - السري تركوه
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک گندم سے بھی شراب بنتی ہے، جو سے بھی شراب بنتی ہے، کشمش سے بھی شراب بنتی ہے، کھجور سے بھی شراب بنتی ہے اور شہد سے بھی شراب بنتی ہے، اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7425]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7425]
تخریج الحدیث: «النهي عن كل مسكر مرفوعًا صحيح لغيره، وبقية الخبر صحَّ من قول عمر موقوفًا عليه، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر الشعبي، فرواه جمع من الضعفاء والمتروكين عنه عن النعمان بن بشير، وخالفهم جمعٌ من رجال الصحيح، فرووه عن الشعبي عن ابن عمر عن عمر موقوفًا كما سيأتي، قال الترمذي ...» [ترقيم الرساله 7425] [ترقيم الشركة 7335] [ترقيم العلميه 7239]
الحكم على الحديث: النهي عن كل مسكر مرفوعًا صحيح لغيره، وبقية الخبر صحَّ من قول عمر موقوفًا عليه
1. باب:
باب:
حدیث نمبر: 7426
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن دَرَستوَيهِ الفارسي، حدثنا أبو يوسف يعقوب بن سفيان، حدثنا أبو توبة الربيع بن نافع الحلبي، حدثنا محمد بن المهاجر، عن العباس بن سالم، عن أبي سلَّام (1) ، عن أبي أُمامة، عن عمرو بن عَبَسة قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ في أول ما بُعِث وهو بمكة، وهو حينئذٍ مُستخفٍ، فقلتُ: ما أنت؟ قال:"أنا نبيٌّ" قلت: وما النبيُّ؟ قال:"رسولُ الله" قلتُ: بما أرسلَك؟ قال:"بأن يُعبَدَ اللهُ، وتُكسَرَ الأوثانُ، وتُوصَلَ الأرحامُ بالبِرِّ والصِّلَة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7240 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7240 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمرو بن عبثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ابتدائی دور میں مکہ مکرمہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مشرکین سے) پوشیدہ تھے، میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نبی ہوں۔“ میں نے پوچھا: نبی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”اللہ کا رسول۔“ میں نے پوچھا: اللہ نے آپ کو کیا دے کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس لیے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے، بتوں کو توڑ دیا جائے اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی کی جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7426]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7426]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وهو قطعة من الحديث السالف برقم (593) بالإسناد نفسه.» [ترقيم الرساله 7426] [ترقيم الشركة 7336] [ترقيم العلميه 7240]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
2. حِكَايَةُ إِسْلَامِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا قصہ
حدیث نمبر: 7427
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا إبراهيم بن يحيى بن محمد المدني الشَّجري، حدثني أبي، عن عُبيد بن يحيى، عن مُعاذ بن رِفاعة بن رافع الزُّرَقي، عن أبيه رِفاعة بن رافع - وكان قد شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ: أنه خرج (3) وابنَ خالتِه معاذَ بنَ عفراءَ حتى قَدِما مكة، فلمّا هبطا من الثَّنِيَّة رأَيا رجلًا تحت شجرة قال: وهذا قبل خروج الستة الأنصاريين - قال: فلمّا رأيناه كلَّمناه فقلنا: نأتي هذا الرجلَ نستودعُه حتى نطوفَ بالبيت، فسلَّمنا عليه تسليمَ الجاهلية، فردَّ علينا بسلامِ أهل الإسلام، وقد سمعنا بالنبيِّ ﷺ، فأنكَرْنا، فقلنا: من أنت؟ قال:"انزِلُوا" فنزلنا، فقلنا: أين الرجلُ الذي يَدَّعي ويقولُ ما يقول؟ فقال:"أنا" فقلت: فاعرِضْ عليَّ، فعَرَضَ علينا الإسلامَ، وقال:"مَن خَلَقَ السماواتِ والأرض والجبالَ؟ قلنا: خلقَهنَّ الله، قال:"فمن خَلَقَكم؟ قلنا اللهُ، قال:"فمَن عَمِلَ هذه الأصنامَ التي تعبُدونَها؟ قلنا: نحن، قال:"فالخالقُ أحقُّ بالعبادة أم المخلوقُ؟ فأنتم أحقُّ أن يَعبُدوكم وأنتم عَمِلتُموها، واللهُ أحقُّ أن تَعبُدوه من شيء عَمِلتُموه، وأنا أدعو إلى عبادة الله، وشهادِة أن لا إله إلَّا الله، وأنِّي رسولُ الله، وصِلَةِ الرَّحِم، وتَركِ العُدوان بغَضب الناس"، قلنا: لا والله لو كان الذي تدعو إليه باطلًا، لكان من معالي الأمور ومَحَاسن الأخلاق، فأمسِكْ راحلتنا حتى نأتيَ البيتَ، فجلس عنده معاذُ بن عَفراءَ. قال: فجئتُ البيت فطُفتُ، وأخرجتُ سبعةَ أقداحٍ، فجعلتُ له منها قِدْحًا، فاستقبلتُ البيتَ فقلت: اللهمَّ إن كان ما يدعو إليه محمدٌ حقًّا، فأخرجْ قِدْحَه سبعَ مرَّات، فضربتُ بها، فخرج سبعَ مرَّاتٍ، فصحتُ: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأنَّ محمدًا رسولُ الله، فاجتمع الناسُ عليَّ وقالوا: مجنونٌ، رجلٌ صَبَأَ، قلت: بل رجلٌ مؤمنٌ، ثم جئتُ إلى أعلى مكةَ، فلما رآني معاذٌ قال: لقد جاء رافع بوجهٍ ما ذهب بمثله، فجئتُ وآمنتُ وعلَّمَنا رسولُ الله ﷺ سورةَ يوسف و ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾، ثم خرَجْنا راجعينَ إلى المدينة، فلما كُنَّا بالعقيق، قال معاذٌ: إنِّي لم أَطرُقْ أهلى ليلًا قطُّ، فبِتْ بنا حتى تُصبحَ، فقلت: أَبِيتُ ومعي ما معي من الخير! ما كنتُ لأفعلَ. وكان رافع إذا خرج سفرًا ثم قَدِمَ، عَرَّضَ قومَه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7241 - يحيى الشجري صاحب مناكير
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7241 - يحيى الشجري صاحب مناكير
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ—جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے—سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے خالہ زاد بھائی معاذ بن عفراء مکہ پہنچے، جب وہ گھاٹی سے اترے تو انہوں نے ایک درخت کے نیچے ایک شخص کو دیکھا—یہ ان چھ انصاریوں کے مکہ آنے سے پہلے کا واقعہ ہے—رفاعہ کہتے ہیں: جب ہم نے انہیں دیکھا تو ہم نے آپس میں کہا کہ ہم اس شخص کے پاس جاتے ہیں اور اپنی سواریاں ان کے پاس بطور امانت رکھ دیتے ہیں یہاں تک کہ ہم بیت اللہ کا طواف کر لیں، پھر ہم نے انہیں جاہلیت کے طریقے پر سلام کیا، تو انہوں نے ہمیں اہل اسلام کے سلام کے ساتھ جواب دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سن رکھا تھا (مگر پہچانتے نہ تھے) لہٰذا ہمیں کچھ اجنبیت محسوس ہوئی، ہم نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”تم سواریوں سے اترو۔“ ہم اتر گئے، پھر ہم نے پوچھا: وہ شخص کہاں ہے جو (نبوت کا) دعویٰ کرتا ہے اور وہ باتیں کہتا ہے جو وہ کہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میں ہی ہوں۔“ میں نے کہا: تو آپ میرے سامنے (اپنا دین) پیش کریں، چنانچہ انہوں نے ہمارے سامنے اسلام پیش کیا اور فرمایا: ”آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا؟“ ہم نے کہا: انہیں اللہ نے پیدا کیا، فرمایا: ”پھر تمہیں کس نے پیدا کیا؟“ ہم نے کہا: اللہ نے، فرمایا: ”پھر یہ بت جن کی تم عبادت کرتے ہو انہیں کس نے بنایا؟“ ہم نے کہا: ہم نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر کیا خالق عبادت کا زیادہ حق دار ہے یا مخلوق؟ تم تو اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ یہ بت تمہاری عبادت کریں کیونکہ تم نے انہیں بنایا ہے، جبکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس کی عبادت کرو بہ نسبت اس چیز کے جسے تم نے خود بنایا ہے، اور میں اللہ کی عبادت کرنے، اس بات کی گواہی دینے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، نیز صلہ رحمی کرنے اور لوگوں پر غصے کی وجہ سے ظلم و زیادتی ترک کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔“ ہم نے کہا: اللہ کی قسم! اگر وہ بات جس کی آپ دعوت دے رہے ہیں باطل بھی ہوتی، تب بھی یہ بلند پایہ امور اور محاسنِ اخلاق میں سے ہوتی، اب آپ ہماری سواریوں کی نگرانی فرمائیں یہاں تک کہ ہم بیت اللہ ہو آئیں، معاذ بن عفراء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی بیٹھ گئے، رافع کہتے ہیں: میں بیت اللہ آیا، طواف کیا اور میں نے سات تیر (فال کے لیے) نکالے، ان میں سے ایک تیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام منسوب کر دیا، پھر میں بیت اللہ کے سامنے کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ! اگر وہ سچ ہے جس کی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) دعوت دیتے ہیں، تو ان کا تیر سات بار نکلے، میں نے فال نکالی تو وہ تیر ساتوں بار نکل آیا، تب میں پکار اٹھا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، لوگ میرے گرد جمع ہو گئے اور کہنے لگے: یہ مجنون ہے، یہ شخص بے دین ہو گیا ہے، میں نے کہا: بلکہ میں تو مومن ہوں، پھر میں مکہ کے بالائی حصے میں واپس آیا، جب معاذ نے مجھے دیکھا تو کہا: رافع جس چہرے کے ساتھ گئے تھے، اب اس سے مختلف (نورانی) چہرہ لے کر آئے ہیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ایمان لے آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سورۃ یوسف اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] سکھائی، پھر ہم مدینہ واپس روانہ ہوئے، جب ہم عقیق کے مقام پر پہنچے تو معاذ نے کہا: میں نے کبھی اپنے گھر والوں کے پاس رات کے وقت اچانک جا کر دستک نہیں دی، لہٰذا ہمارے ساتھ رات یہاں گزاریں یہاں تک کہ صبح ہو جائے، میں نے کہا: میں اپنے پاس موجود اس خیر و برکت کے ہوتے ہوئے رات (باہر) گزاروں! میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا، اور رافع جب بھی سفر سے واپس آتے تو اپنی قوم کے سامنے (دین) پیش کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7427]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7427]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن يحيى الشجري وأبيه، وقال الذهبي في "تلخيصه": يحيى الشجري صاحب مناكير. قلنا: وعبيد بن يحيى لا يكاد يعرف، وذكره ابن حبان في "ثقاته".» [ترقيم الرساله 7427] [ترقيم الشركة 7337] [ترقيم العلميه 7241]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن يحيى الشجري وأبيه
3. بِرَّ أُمَّكَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ
اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، پھر باپ کے ساتھ، پھر جو زیادہ قریبی ہو
حدیث نمبر: 7428
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن هشام بن مَلّاس النُّميري، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري. وحدثنا أبو عبد الله الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن، حدثنا أبو عاصم ومكّي بن إبراهيم؛ قالوا: حدثنا بَهْزَ بنَ حَكيم، عن أبيه، عن جده قال: قلتُ: يا رسولَ الله، من أبَرُّ؟ قال:"أُمَّكَ" قلتُ: يا رسول الله، ثم من؟ قال:"أُمَّك"، قلتُ: يا رسول الله، ثم من؟ قال:"أُمَّك" قلت: يا رسول الله، ثم مَن؟ قال:"ثم أباك" قلت: يا رسولَ الله، ثم مَن؟ قال:"ثم الأقربَ فالأقربَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه على شرطهما في حكيم بن معاوية أنه ليس له راو غير بَهْز. وقد روى عنه أبو قَزَعة الباهلي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7242 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه على شرطهما في حكيم بن معاوية أنه ليس له راو غير بَهْز. وقد روى عنه أبو قَزَعة الباهلي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7242 - صحيح
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اپنی شرط پر روایت نہیں کیا کیونکہ حکیم بن معاویہ سے بہز کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی، حالانکہ ان سے ابو قزعہ باہلی نے بھی روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7428]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اپنی شرط پر روایت نہیں کیا کیونکہ حکیم بن معاویہ سے بہز کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی، حالانکہ ان سے ابو قزعہ باہلی نے بھی روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7428]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن وسلف برقم (6852).» [ترقيم الرساله 7428] [ترقيم الشركة 7338] [ترقيم العلميه 7242]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7429
حدَّثَناه دَعلَج بن أحمد السِّجزيُّ، حدثنا عبد العزيز بن معاوية، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثني عبيد الله بن الوازِع وحمّاد بن سَلَمة، عن أبي قَزْعَة سُوَيد بن حُجَير الباهلي، عن حَكيم بن معاوية (2) ، عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله، من أبَرُّ؟ قال:"أُمَّك" قلت: ثم من؟ قال:"ثم أُمَّك" قلت: ثم مَن؟ قال:"ثم أُمَّك" قلت: ثم من؟ قال:"ثم أباك، ثم الأقربَ فالأقربَ (3) . قال الحاكم رحمه الله تعالى: ثم وَجَدنا لهذا الحديث شواهدَ: فمنها:
سیدنا حکیم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو“۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر ہمیں اس حدیث کے شواہد ملے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7429]
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر ہمیں اس حدیث کے شواہد ملے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7429]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. ولم نقف عليه من هذا الطريق.» [ترقيم الرساله 7429]
الحكم على الحديث: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7430
ما حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا، زائدة عن منصور، عن عُبيد بن علي، عن خِدَاش أبي سَلَامة، رجل من الصحابة، قال: قال رسول الله ﷺ:"أُوصِي امْرَأً بأُمِّه، أُوصِي امْرَأً بأُمِّه، أُوصِي امْرَأً بأبيه، أُوصِي امْرَأً بمولاه الذي يَليِه، وإن كان عليه فيه أذًى يُؤذيه" (1) . ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7243 - له شواهد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7243 - له شواهد
سیدنا خداش ابو سلامہ رضی اللہ عنہ جو کہ ایک صحابی ہیں، سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، اور میں آدمی کو اس کے اس قریبی رشتہ دار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں جو اس کے معاملات کا ذمہ دار ہو، اگرچہ وہ اسے کوئی تکلیف ہی کیوں نہ پہنچاتا ہو“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7430]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة عبيد بن علي - ويقال: عبيد الله بن علي، فقد تفرَّد بالرواية عنه منصور وهو ابن المعتمر - كما قد اختلف عليه فيه، وقد بينّا ذلك في التعليق على "مسند أحمد". وأما خِداش، فقد قال البخاري في "تاريخه" 3/ 220: لم يتبين سماعه من النبي ﷺ.» [ترقيم الرساله 7430] [ترقيم الشركة 7339] [ترقيم العلميه 7243]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة عبيد بن علي - ويقال: عبيد الله بن علي
حدیث نمبر: 7431
ما حدّثني أبو القاسم الحسن بن محمد بن السَّكُوني بالكوفة، حدثنا عبد الله بن غَنّام، حدثني أبي، حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا مِسعَر بن كِدام، عن أبي عُتبة، عن عائشة قالت: قلت: يا رسولَ الله، أيُّ الناسِ أعظمُ حقًّا [على المرأة؟ قال:"زوجُها"، قلت: فأيُّ الناس أعظم حقًّا] (2) على الرَّجل؟ قال:"أُمُّه" (3) . ومنها:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے شوہر کا“، میں نے عرض کیا: تو مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ماں کا“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7431]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة أبي عتبة، قال أبو حاتم الرازي: لا يُدرى من هو ولا يُعرف، وغنام بن حفص والد عبد الله لم نعرف حاله. أبو أحمد الزبيري: هو محمد بن عبد الله بن الزبير.» [ترقيم الرساله 7431] [ترقيم الشركة 7340]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة أبي عتبة
حدیث نمبر: 7432
ما أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا المسعودي، عن إياد بن لَقِيط، عن أبي رِمْثة، قال: انتهيتُ إلى رسول الله ﷺ فسمعتُه يقول:"أُمَّكَ وأباك، وأُختَك وأخاك، ثم أدْناكَ أدْناكَ" (1) . ومنها:
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اپنی ماں اور اپنے باپ کے ساتھ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ (حسنِ سلوک کرو)، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7432]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وسماع جعفر بن عون من المسعودي» [ترقيم الرساله 7432] [ترقيم الشركة 7341]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
4. إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ
بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں قریبی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرماتا ہے
حدیث نمبر: 7433
ما حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرّبيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى حدثنا إسماعيل بن عيّاش عن بَحِير بن سعد، عن خالد بن مَعْدان عن المِقْدام بن مَعْدي كَرِبَ، عن النبيِّ ﷺ قال:"إنَّ الله تعالى يُوصِيكم الأَقرَب فالأقربَ" (2) . إسماعيل بن عياش أحدُ أئمّة أهلِ الشام إنما نُقِمَ عليه سوءُ الحفظ فقط. ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7246 - إنما نقم على إسماعيل سوء الحفظ فقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7246 - إنما نقم على إسماعيل سوء الحفظ فقط
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں قریبی رشتہ داروں، پھر ان کے بعد قریبی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرماتا ہے“۔
اسماعیل بن عیاش اہل شام کے ائمہ میں سے ایک ہیں، ان پر صرف حافظے کی خرابی کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7433]
اسماعیل بن عیاش اہل شام کے ائمہ میں سے ایک ہیں، ان پر صرف حافظے کی خرابی کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7433]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، إسماعيل بن عياش صدوق في روايته عن أهل بلده، وهذه منها.» [ترقيم الرساله 7433] [ترقيم الشركة 7342] [ترقيم العلميه 7246]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 7434
ما أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"نِمتُ فرأيتُني في الجنَّة، فسمعتُ صوتَ قارئٍ يقرأُ، فقلت: مَن هذا؟ قالوا: حارثةُ بن النُّعمان، فقال رسول الله ﷺ:"كذلك البِرُّ"؛ وكان أبرَّ الناسِ بأُمِّه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. قال ابن عيينة (2) وغيرُه، قالوا فيه: دخل رسولُ الله ﷺ الجنةَ، ولم يذكروا فيه النومَ ولا بِرَّ أُمِّه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7247 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. قال ابن عيينة (2) وغيرُه، قالوا فيه: دخل رسولُ الله ﷺ الجنةَ، ولم يذكروا فيه النومَ ولا بِرَّ أُمِّه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7247 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا تو میں نے خود کو جنت میں دیکھا، وہاں میں نے ایک قاری کی آواز سنی جو قرآن پڑھ رہا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: یہ حارثہ بن نعمان ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے“؛ اور وہ اپنی ماں کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے والے تھے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، ابن عیینہ اور دیگر راویوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنت میں داخل ہونے کے تذکرے کے ساتھ بیان کیا ہے مگر اس میں نیند یا ماں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7434]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، ابن عیینہ اور دیگر راویوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنت میں داخل ہونے کے تذکرے کے ساتھ بیان کیا ہے مگر اس میں نیند یا ماں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7434]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو في "جامع معمر" (20119). كذا جاء في رواية "جامع" معمر، وهو الموافق لما نصَّ عليه أحمد بن منصور الرمادي كما أسنده عنه البيهقي في "البعث والنشور" (198).» [ترقيم الرساله 7434] [ترقيم الشركة 7343] [ترقيم العلميه 7247]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح