المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً
بے شک اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا نازل نہ کی ہو
حدیث نمبر: 7610
حدثنا أبو عليٍّ الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازي، حدثنا إبراهيم بن مُسلم (3) بن رُشَيد إمامُ الجامع بالبصرة، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الله بن الزُّبَير الزُّبيري، حدثنا خالد بن طَهْمان عن حُصين قال: كنتُ عند ابن عباس، فجاء سائلٌ فسألَ فقال له ابنُ عباس: أتشهدُ أن لا إله إلَّا الله؟ قال: نعم، قال: وتشهدُ أنَّ محمدًا رسول الله؟ قال: نعم، قال: وتُصلِّي الخَمس؟ قال: نعم، قال وتصومُ رمضان؟ قال: نعم، قال: أَمَا إِنَّ لك علينا حقًّا، يا غلامُ، اكْسُه ثوبًا، فإِنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن كَسَا مسلمًا ثوبًا، لم يَزَلْ في سَتْرِ الله ما دام عليه منه خَيطٌ أو سِلْكٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب اللباس كتاب الطب (1) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7422 - خالد بن طهمان ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب اللباس كتاب الطب (1) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7422 - خالد بن طهمان ضعيف
سیدنا حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا، ایک سائل آیا، اس نے کوئی سوال پوچھا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم یہ بھی گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم ماہ رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں: آپ نے فرمایا: بے شک تمہارا ہم پر حق ہے، اے لڑکے، اس کو لباس پہناؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا، جب تک اس کے جسم پر اس کپڑے کا ایک دھاگہ بھی رہے گا، اللہ تعالیٰ اس کے پہنانے والے کی پردہ پوشی کرتا رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7610]
حدیث نمبر: 7611
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلمان (2) الفقيه ببغداد وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، قالا: حدثنا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أبو زيد سعيدُ بن الربيع، حدثنا شُعبة، عن الرُّكَين بن الربيع، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شِهاب، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال:"ما نَزَّل الله مِن داءٍ إِلَّا وقد أَنزَلَ له شفاءً، وفي ألبانِ البَقَرِ شِفاءٌ من كلِّ داء" (3)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه أبو عبد الرحمن السُّلَمي وطارقُ بن شِهاب عن عبد الله بن مسعود. أما حديثُ أبي عبد الرحمن السُّلَمي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7423 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه أبو عبد الرحمن السُّلَمي وطارقُ بن شِهاب عن عبد الله بن مسعود. أما حديثُ أبي عبد الرحمن السُّلَمي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7423 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے، اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے، گائے کے دودھ میں ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو ابوعبدالرحمن سلمی نے اور طارق بن شہاب نے بھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ابوعبدالرحمن سلمی کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7611]
حدیث نمبر: 7612
فحدَّثَناه أبو أحمد الحسين بن علي التَّميمي، أخبرنا عبد عبد الله بن محمد البَغَوي، حدثني جَدِّي أحمدُ بن مَنِيع، حدثنا عَبيدة بن حُميد، حدثنا عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن، عن ابن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"ما أَنزَلَ الله من داءٍ إِلَّا وقد أنزلَ معه شِفاءً، عَلِمَه مَن عَلِمَهِ، وَجَهِلَهُ مَن جَهِلَهُ" (1) . وأما حديث طارق بن شِهاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7424 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7424 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوعبدالرحمن، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ” اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل کیا ہے، جو جانتا ہے، اس کو معلوم ہے اور جو جاہل ہے، اس کو کچھ پتہ نہیں۔ طارق بن شہاب کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7612]
حدیث نمبر: 7613
فأخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفرَّاء، أخبرنا جعفر بن عَون، أخبرنا المسعودي، عن قيس بن مسلم الجَدَلي، عن طارق ابن شِهاب، عن عبد الله يرفعُه إلى النبيِّ ﷺ قال:"إنَّ الله تعالى لم يُنزِلْ داءً إِلَّا أَنزَلَ له شِفاءً إلَّا الهَرَمَ، فعليكم بألبانِ البقر، فإنها تَرُمُّ من كلِّ شجره" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7425 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7425 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
طارق بن شہاب، روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل فرمایا ہے سوائے موت کے۔ تم گائے کا دودھ پیا کرو، کیونکہ یہ ہر قسم کے درخت کے پتے کھاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7613]
حدیث نمبر: 7614
حدثنا إسحاق بن محمد بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق القاضي، حدثنا عُبيد الله بن موسى أخبرنا إسرائيل، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: قلتُ لعائشةَ: قد أخذْتِ السُّننَ عن رسول الله ﷺ، والشِّعَر والعربيةَ عن العرب، فعمّن أخذْتِ الطَّبَّ؟ قالت: إنَّ رسول الله ﷺ كان رجلًا مِسْقامًا، وكان أطباءُ العرب يأتونه فأتعلَّمُ منهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7426 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7426 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عروہ فرماتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: آپ نے شریعت کا علم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ہے، شعر اور عربی ادب، اہل عرب سے سیکھا ہے، آپ نے طب کا علم کس سے حاصل کیا ہے؟ ام المومنین نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں بیمار ہو گئے تھے، اور عرب کے بڑے بڑے طبیب آپ کے پاس آیا کرتے تھے، میں نے (ان کی باتیں سن سن کر) ان سے طب کا علم حاصل کر لیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7614]
2. إِنَّ الْجِنَّ لَا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ
بے شک جنات غیب کا علم نہیں جانتے
حدیث نمبر: 7615
حدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسن بن قُتيبة، حدثنا محمد ابن هاشم، حدثنا سُوَيد بن عبد العزيز، حدثني عيسى بن عبد الرحمن قال: سمعت زِرَّ بن حُبيش يحدِّث عن صفوان بن عسَّال المُرادي قال: قالوا: يا رسولَ الله، أنتداوَى؟ قال:"تَعَلَّمُنَّ (1) أنَّ الله تعالى لم يُنزِلْ داءً إلَّا أنزلَ له دواء غير داءً واحد" قالوا: وما هو؟ قال:"الهَرَمُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7427 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7427 - صحيح
سیدنا صفوان بن عسال المرادی فرماتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم علاج کروا لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج نازل کیا ہے۔ سوائے ایک بیماری کے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7615]
3. كَلَامُ النَّبَاتِ مَعَ سُلَيْمَانَ لِأَيِّ شَيْءٍ طَلَعْتِ
سیدنا سلیمان علیہ السلام کے ساتھ پودوں کا کلام کہ وہ کس مقصد کے لیے اگے ہیں
حدیث نمبر: 7616
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا يحيى بن سليمان الجُعْفي، حدثني ابن وهب، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النبيِّ ﷺ قال:"كان سليمان بن داود ﵇ إذا قام في رمضانَ، رأى شجرةً نابتةً بين يديه، فقال: ما اسمُكِ؟ فتقول: كذا، فيقول: لأيِّ شيء أنتِ؟ فتقول: لكذا، فإن كانت لدواءٍ كُتِبَ، وإن كانت لغَرْسِ غُرِسَت، فبينما هو يُصلِّي ذاتَ يوم إذا شجرةٌ نابتةٌ بين يديه، فقال لها: ما اسمُكِ؟ قالت: الخُرْنُوب، قال: لأيِّ شيء أنتِ؟ قالت: لِخَراب أهلِ هذا البيت، فقال سليمان: اللهمَّ عَمَّ على الجنِّ موتي، حتى تعلم الإنسُ أنَّ الجنَّ لا تعلمُ الغيبَ. قال: فنَحَتَها عصًا، فتوكَّأ عليها حَوْلًا مَيْتًا والجنُّ تعمل، فلمَّا خَرَّ تبيَّنت الإنسُ أَنَّ الجنَّ لا يعلمون الغيبَ، قال: فشَكَرتِ الجِنُّ الأرضَةَ فكانت تأتيها الماءَ". وكان ابن عباس يقرؤُها هكذا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهو غريب بمرَّة من رواية عبد الله (1) بن وهب عن إبراهيم بن طَهْمان، فإني لم أجدْ عنه غير رواية هذا الحديث الواحد. وقد رواه سَلَمة بن كُهيل عن سعيد بن جبير، فأوقفَه على ابن عباس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7428 - صحيح غريب بمرة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهو غريب بمرَّة من رواية عبد الله (1) بن وهب عن إبراهيم بن طَهْمان، فإني لم أجدْ عنه غير رواية هذا الحديث الواحد. وقد رواه سَلَمة بن كُهيل عن سعيد بن جبير، فأوقفَه على ابن عباس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7428 - صحيح غريب بمرة
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سیدنا سلیمان علیہ السلام رمضان میں قیام کرتے، تو اپنے سامنے کوئی درخت اگتا ہوا دیکھتے، آپ اس سے پوچھتے کہ تیرا نام کیا ہے؟ وہ اپنا نام بتا دیتا، آپ پوچھتے کہ تمہارا فائدہ کیا ہے؟ وہ اپنے فوائد بتا دیتا، اگر وہ کسی دوائی کے کام آتا تو لکھ لیا جاتا، اگر وہ بونے کا ہوتا تو اسے بو دیا جاتا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے، آپ نماز پڑھ رہے تھے، آپ کے سامنے ایک درخت اگا، آپ نے اس کا نام پوچھا، اس نے بتایا کہ میرا نام ” خرنوب “ ہے، آپ نے پوچھا: تمہارا فائدہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میں جس گھر میں اگتا ہوں، وہ گھر برباد ہو جاتا ہے، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دعا مانگی ” یا اللہ! جنات سے میری موت کو پوشیدہ رکھنا، تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ جنات غیب نہیں جانتے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر گاڑا اور اس پر ٹیک لگا لی، اسی دوران آپ کی روح پرواز کر گئی اور پورا ایک سال آپ اسی کیفیت میں اس پر ٹیک لگا کر کھڑے رہے، اور جنات مسلسل کام کرتے رہے، جب زمین نے اس عصا کو کھا لیا، تو عصا گر گیا، (اس وجہ سے سیدنا سلیمان علیہ السلام بھی گر گئے) جب آپ گرے تو تمام انسانوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ جنات کو غیب کا علم نہیں ہے (کیونکہ اگر ان کو غیب کا علم ہوتا تو سیدنا سلیمان علیہ السلام کی وفات سے بے خبر نہ رہتے) راوی کہتے ہیں: جنات نے زمین کا شکریہ ادا کیا، اور شکرانے کے طور پر اس پر پانی لے کر آئے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ حدیث اسی طرح روایت کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7616]
4. خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ خُلُقٌ حَسَنٌ
مسلمان بندے کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
حدیث نمبر: 7617
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2) ، حدثنا أبو الجَوَّاب، حدثنا عبد الجبَّار بن العباس الشِّبَامي (3) ، عن سَلَمة بن كُهيل، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: كان سليمانُ بن داود إذا صلَّى الصلاة طَلَعَتْ بين عينيه شجرةٌ، فيقول لها ما أنتِ؟ ولأيِّ شيء طلعتِ؟ فتقول: أنا شجرةُ كذا وكذا، طلعتُ لداءِ كذا وكذا، فلما صلَّى ذاتَ يوم الغداةَ، طلعَتْ بين عينيه شجرةٌ، فقال لها: ما أنتِ؟ ولأيِّ شيء طلعتِ؟ قالت أنا الخُرْنوب، طلعتُ لِخَراب هذا المسجد، فعَلِمَ سليمانُ أنَّ أجلَه قد اقترب، وأنَّ بيت المَقدِس لا يَحْرَبُ وهو حيٌّ، فدعا الله تعالى أن يُعمِّي على الشيطان موتَه، وكانت الجنُّ تزعُمُ أَنَّ الشياطين يعلمون الغيبَ، فمات على عصاه، فسَلَّط الأَرضَةَ على عصاه فأكلَتْها فسقط، فحَقَّ على الشياطين أن تأتيَ الأَرضَةَ بالماء حيث كانت تُثْني عليها شُكرًا بما صنعَتْ بعصا سليمان (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا سلیمان بن داؤد علیہ السلام جب نماز پڑھتے تو آپ کے سامنے ایک درخت نمودار ہوتا، آپ اس سے اس کا نام اور فائدہ پوچھتے، وہ اپنا نام بھی بتاتا اور جس کام میں وہ استعمال ہوتا ہے وہ مقصد بھی بتاتا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کے سامنے ایک درخت نمودار ہوا، آپ نے اس سے اس کا نام اور فائدہ پوچھا، اس نے بتایا کہ میرا نام ” خرنوب “ ہے، اور میں اس مسجد کو برباد کرنے کے لئے آیا ہوں، سیدنا سلیمان علیہ السلام سمجھ گئے کہ اب ان کی وفات کا دن قریب ہے کیونکہ میری حیات میں بیت المقدس اجڑ نہیں سکتا۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ جنات سے ان کی موت کو مخفی رکھا جائے، جنات یہ سمجھتے تھے کہ وہ غیب جانتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا سلیمان علیہ السلام عصا کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے انتقال کر گئے، جب زمین نے عصا کو کھا لیا اور سلیمان علیہ السلام زمین پر گر گئے، (تب جنات کو پتہ چلا کہ سلیمان علیہ السلام تو وفات پا چکے ہیں، اس سے ثابت ہو گیا کہ جنات غیب کا علم نہیں رکھتے) جنات نے اپنے اوپر زمین کا یہ حق سمجھا کہ وہ زمین پر پانی لائیں۔ کیونکہ وہ سلیمان علیہ السلام کا عصا کھانے پر زمین کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7617]
حدیث نمبر: 7618
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا علي بن محمد الطَّنَافسي، حدثنا مِسعَر، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي (2) ، حدثنا إسحاق وعثمان بن أبي شَيْبة، قالا: حدثنا جَرير، عن الأعمش، عن زياد بن عِلاقة. وحدثنا عبد الله بن عمر الجَوهَري بمَرْو، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا إبراهيم بن الحجَّاج، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثنا الأعمش، عن زياد ابن عِلاقة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو خَيثمة زهير بن معاوية الجُعفي، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أبو الحسن محمد بن عبد الله السُّنِّي بمَرُو، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا أبو حمزة، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرني أبو بكر الشافعي، حدثني إسحاق بن الحسن، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، أخبرنا إسرائيل، حدثنا زياد بن عِلاقة. وأخبرني أبو بكر الشافعي، حدثنا محمد بن بشر أخو خطّاب، حدثنا محمد بن الصَّبَّاح، حدثنا أسباط بن نصر، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مهرا إن الأصبهاني، حدثنا عبيد الله ابن موسى، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا المطَّلِب بن زياد، حدثنا زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أحمد بن عثمان الأَدَمي ببغداد، حدثنا محمد بن مَسْلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا المسعودي، عن زياد بن عِلاقة. وحدثنا أبي العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عيسى المَدَائني، حدثنا سلَّام بن سليمان، حدثنا وَرْقاء بن عمر، عن زياد بن عِلاقة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العدل وأبو بكر الشافعي، قالوا -واللفظ لهم-: حدثنا بشر بن موسى حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثني زياد بن عِلاقة، قال: سمعتُ أُسامة بن شَرِيك العامريَّ يقول: شهدتُ الأعاريبَ يسألون رسولَ الله ﷺ: هل علينا حَرَجٌ في كذا وفي كذا؟ فقال:"عبادَ الله، وَضَعَ الله الحَرَجَ إلَّا مَن اقترض من عِرْض أخيه شيئًا، فذلك الذي حَرِجَ وهَلَكَ" قالوا: يا رسولَ الله، نَتَداوى؟ قال:"تَداوَوْا عبادَ الله، فإنَّ الله تعالى لم يُنزِلْ دَاءً إِلَّا وقد أنزلَ له شِفاءً إِلَّا هذا الهَرَمَ" قالوا: يا رسولَ الله، ما خيرُ ما أُعطيَ العبدُ المسلم؟ قال:"خُلُقُ حَسَنٌ (1) . هذه أسانيد صحيحة، كلُّها على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والعلة عندهم فيه أنَّ أُسامة بن شريك ليس له راو غير زياد بن عِلاقة (2) ، وقد ثَبَتَ في أول هذا الكتاب بالحُجَج والبراهين والشواهد عنهما، أنَّ هذا ليس بعلّة، وقد بقي من طرق هذا الحديث عن زياد بن عِلاقة أكثرُ مما ذكرتُه، إذ لم تكن الروايةُ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7430 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7430 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اسامہ بن شریک عامری فرماتے ہیں: میں اس بات کا گواہ ہوں کہ دیہاتی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہمیں فلاں فلاں کام میں کوئی حرج ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو، اللہ تعالیٰ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو اپنے بھائی کی عزت کے ساتھ کھیلے، یہ حرج ہے، اور یہ باعث ہلاکت ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم علاج کروا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو، علاج کرواؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موت کے سوا ہر بیماری کا علاج نازل کیا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمان کو جو کچھ عطا کیا گیا اس میں سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ ٭٭ اس حدیث کی تمام اسانید امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہیں لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور محدثین کے نزدیک اس میں علت یہ ہے کہ اسامہ بن شریک کا زیاد بن علاقہ کے علاوہ دوسرا کوئی راوی نہیں ہے۔ جبکہ اس کتاب کے آغاز میں دلائل اور براہین کے ساتھ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ علت نہیں ہے۔ اس حدیث کے زیاد بن علاقہ کے حوالے سے اور بہت سارے طرق ہیں جن کو صحیحین کے معیار پر نہ ہونے کی وجہ سے میں نے یہاں ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7618]
حدیث نمبر: 7619
حدثنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهمذان، حدثنا إسحاق بن إبراهيم (1) الخزَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان، حدثنا صالح بن [أبيٍ] (2) الأخضر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن حَكيم بن حِزام، قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أرأيتَ أدويةً نتداوى بها، ورُقًى نَسترقي بها، أتردُّ من قَدَر الله؟ قال:"إنها من قَدَرِ الله" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه يونس بن يزيد وعمرو بن الحارث بإسناد آخر، وهو المحفوظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7431 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه يونس بن يزيد وعمرو بن الحارث بإسناد آخر، وهو المحفوظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7431 - صحيح
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم جو دوائی لیتے ہیں، یا دم کرواتے ہیں، کیا یہ تقدیر کو بدل دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا تعلق بھی تقدیر سے ہی ہے (یعنی دوائی لینا یا دم کروانا بھی تقدیر میں لکھا ہو تو انسان لیتا ہے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو یونس بن یزید اور عمر بن حارث نے دوسری اسناد کے ہمراہ نقل کیا ہے، وہ محفوظ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7619]