🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. النَّهْيُ عَنِ الْأَرْبَعِ الْمُوبِقَاتِ
چار ہلاک کر دینے والے گناہوں کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8231
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن منصور، عن هِلال بن يِسَاف، عن سَلَمة بن قيس الأشجعي، قال: ألا إنما هو أربعٌ، فما أنا اليومِ بَأشحَّ من يومَ سمعتُهنَّ من رسول الله ﷺ، سمعت رسول الله ﷺ يقول في حَجَّة الوَدَاع:"لا تُشرِكوا بالله شيئًا، ولا تَقتُلوا النفسَ التي حرَّم الله، ولا تَسرِقوا، ولا تَزْنُوا" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8033 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ، کسی کو ناحق قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8231]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8232
أنبأنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا الحسين بن أبي مَعشَر، حدثنا وكيع بن الجّراح، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن عبد الرحمن ابن عائذ، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني قال: قال رسول الله ﷺ:"من لَقِيَ الله تعالى لا يُشرِكُ به شيئًا لم يَتَندَّ بدمٍ، حرامٍ، أُدخلَ من أي أبوابِ الجنة شاءَ" (1) . وقد قيل: عن إسماعيل عن قيس بن أبي حازم عن جَرير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8034 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اس نے کسی کو ناحق قتل نہ کیا ہو، وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8232]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. لَا يُبْغِضُ أَهْلَ الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا أَكَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ
اہل بیت سے کوئی بغض نہیں رکھتا مگر یہ کہ اللہ اسے اوندھے منہ آگ میں جھونک دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8233
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمَير، حدثنا القاسم بن الوليد (2) الهَمْداني، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن جَرير بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن ماتَ لا يُشرِكُ بالله شيئًا ولم يَتَندَّ بدمٍ حرامٍ، دخلَ من أيِّ أبواب الجنَّة شاء" (3) . وقد رُوي في هذا الباب عن عطيّة العَوْفي حديثٌ لم أر من إخراجه بُدًّا، وقد عَلَوتُ فيه أيضًا:
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس حالت میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اس نے کسی کو ناحق قتل نہ کیا ہو، وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں چلا جائے۔ ٭٭ اس موضوع پر عطیہ عوفی سے ایک حدیث مروی ہے، میں اس کو نقل کرنا ضروری سمجھتا ہوں، اور اس کی اسناد بھی عالی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8233]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ
ایمان دھوکے سے قتل کرنے کے خلاف رکاوٹ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8234
أخبرناه أبو بكر أحمد بن إسحاق الإمام، أخبرنا عُبيد بن حاتم الحافظ المعروف بالعِجْل، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبد الرحمن البَغَوي، حدثنا داود بن عبد الحميد - أصلُه من الكوفة وانتقل إلى الموصل - حدثنا عمرو بن قيس المُلَائي، عن عطية العَوْفي، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قُتِلَ قتيلٌ على عهد النبيِّ ﷺ بالمدينة، فصَعِدَ المنبر خطيبًا، فقال:"ما تَدْرُونَ مَن قَتَلَ هذا القتيلَ بين أظهُرِكم؟" ثلاثًا، قالوا: والله ما علمنا له قاتلًا، فقال ﷺ:"والذي نفسي بيدِه لو اجتمعَ على قتلِ مؤمنٍ أهلُ السماء وأهلُ الأرض ورَضُوا به، لأدخَلَهم الله جميعًا جهنم. والذي نفسي بيده، لا يُبغِضُنا أهل البيت أحدٌ إلَّا أكبَّه الله في النار" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8036 - خبر واه
عطیہ عوفی سے مروی ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں ایک قتل ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر شریف پر چڑھ کر خطبہ دیا اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اس کو کس نے قتل کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: تینوں بار لوگوں نے کہا: ہمیں اس کے قاتل کا پتہ نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات کسی ایک مومن کو قتل کریں اور اس پر راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ ان تمام مخلوقات کو دوزخ میں ڈال دے گا۔ اور فرمایا: جو شخص ہمارے اہل بیت سے بغض رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8234]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8235
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا أسباط بن نصر الهَمْداني، حدثنا إسماعيل بن عبد الرحمن السُّدِّي، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: لا يَفتِكُ (1) المؤمنُ، الإيمانُ قَيَّدَ الفَتْكَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8037 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کسی کو اچانک حملہ کر کے قتل نہیں کرتا۔ ایمان اچانک حملے سے روکتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8235]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8236
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيّب، عن مروان بن الحَكَم، قال: دخلتُ مع معاوية على أمَّ المؤمنين عائشةَ، فقالت: يا معاويةُ، قتلتَ حُجْرًا وأصحابَه، وفعلتَ الذي فعلتَ، أمَا تَخشَى أن أَخبَأَ لك رجلًا فيقتلَك؟ قال: لا، إني في بيتَ أمانٍ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الإيمانُ قَيَّدَ الفَتْكَ، لا يَفْتِكُ مُؤمنٌ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8038 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مروان بن حکم کا بیان ہے کہ میں سیدنا معاویہ کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے معاویہ! تم نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا اور تم نے کیا کیا کچھ نہیں کیا، تجھے اس بات سے ذرا خوف نہیں آیا کہ ایک آدمی کو میں نے تمہارے لیے سنبھال کر رکھا ہوا ہے، وہ تجھے قتل کر دے گا؟ سیدنا معاویہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان اچانک حملہ کر کے قتل کرنے سے روکتا ہے، مومن اچانک حملہ نہیں کرتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8236]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. مَنْ قَتَلَ رَجُلًا بَعْدَمَا اطْمَأَنَّ إِلَيْهِ نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِوَاءُ غَدْرٍ
جس نے کسی شخص کو امان دینے کے بعد قتل کیا، قیامت کے دن اس کے لیے غداری کا جھنڈا نصب ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8237
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن غالب، قال: دخل عمّارٌ على عائشة يومَ الجَمَل، فقال: السلامُ عليك يا أُمَّاه، قالت: لستُ لك بأمٍّ، قال: بلى إنك أُمِّي وإن كرهتِ قالت: مَن ذا الذي أسمع صوتَه معك؟ قال: الأشتَرُ، قالت: يا أشتَرُ، أنت الذي أردتَ أن تقتل ابنَ أختي؟ قال: لقد حَرَصتُ على قتلِه وحَرَصَ على قتلي، فلم نَقدِرْ، فقالت: أمَا والله لو قتلتَه ما أفلحتَ، فأما أنت يا عمارُ، فقد علمتَ أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يُقتَلُ إلَّا أحدُ ثلاثةٍ: رجلٌ قتلَ رجلًا فقُتِلَ به، ورجلٌ زَنَى بعدما أَحْصَنَ، ورجلٌ ارتَدَّ عن الإسلام" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8039 - صحيح
عمرو بن غالب بیان کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے موقع پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور یوں سلام کیا السلام علیکم یا اماہ (اے امی جان آپ پر سلامتی ہو) ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں تیری ماں نہیں ہوں۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو یہ اچھا نہ لگے، ام المومنین نے فرمایا: تیرے ساتھ جس کی آواز آ رہی ہے، وہ کون ہے؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اشتر ہے۔ ام المومنین نے فرمایا: اے اشتر! تو وہی ہے نا جو میرے بھانجے کو قتل کرنا چاہتا تھا؟ اشتر نے کہا: میں اس کو قتل کرنا چاہتا تھا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ یہ نہ کر سکا۔ ام المومنین نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تو اس کو قتل کرتا تو کبھی فلاح نہ پاتا، اور اے عمار! تم۔۔۔۔۔ تم تو جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تین لوگوں کے سوا کسی کو بھی قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ وہ تین آدمی یہ ہیں۔ ٭ جس نے کسی کو ناحق قتل کیا، بدلے میں اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ شادی شدہ شخص زنا کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے۔ ٭ جو شخص اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا دین اختیار کر لے، اس کو قتل کر دیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8237]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8238
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهدي بن رُستُم الأصبهاني، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا قُرَّة بن خالد، عن عبد الملك بن عُمَير، قال حدثنا عامر بن شدَّاد، قال: كنتُ أبطَنَ (1) شيءٍ بالكذَّاب، أَدخلُ عليه بسيفي، فدخلتُ عليه ذاتَ يومٍ فقال: جئتَني واللهِ وقد قامَ جبريلُ عن هذا الكرسيَّ، فأهوَيتُ إلى قائمِ سيفي، فقلتُ: ما أنتظر أن أمشي بين رأسِه وجسدِه حتى ذكرتُ حديثًا حدَّثَناه عمرُو بن الحَمِق قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إذا اطمأنَّ الرجلُ إلى الرجل، ثم قَتَلَه بعدَما اطمأنَّ إليه، نصب له يومَ القيامة لِواءُ غَدْرٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8040 - صحيح
عامر بن شداد بیان کرتے ہیں کہ میں کذاب کے بارے میں یہ خواہش رکھتا تھا کہ کسی طرح میں اس کے پاس تلوار لے کر پہنچ جاؤں، ایک دن میں اس مقصد میں کامیاب ہو گیا، اس نے کہا: تم میرے پاس ائے ہو اور تمہارے آتے ہی یہ جبریل اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے ہیں، میں نے اپنی تلوار کا دستہ تھاما اور کہا: میں اس کے سر کو تن سے جدا کرنا ہی چاہتا تھا کہ مجھے عمرو بن الحمق کی سنائی ہوئی حدیث یاد آ گئی، انہوں نے بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی بندہ کو کسی پر اعتماد ہو جائے پھر اس پر اعتماد ہونے کے بعد اس کو قتل کر ڈالے، قیامت کے دن اس کو غداروں میں اٹھایا جائے گا۔ (اس لیے میں نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8238]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8239
حدثنا أحمد بن كامل بن خلف القاضي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حذيفة (1) ، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان عن عبد العزيز بن رُفيع، عن عُبيد بن عُمير، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يَحِلُّ دمُ امريءٍ من أهلِ القِبْلة إلَّا بإحدى ثلاث: قَتَلَ فيُقتَل، والثيِّبُ الزاني، والمُفارِقُ للجماعة" أو قال:"الخارجُ من الجماعة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8041 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کا بھی قتل جائز نہیں ہے سوائے تین صورتوں کے ٭ ناحق قتل کیا ہو، تو بدلے میں اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ شادی شدہ زنا کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ جماعت کو چھوڑنے والا (یعنی جو شخص اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لے) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8239]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8240
وقد أخبرَناه محمد بن محمد بن عبد الله (1) ، حدثنا مَحْمِش (2) بن عِصام، حدثنا حفص بن عبد الله. وحدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلَوَي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ، حدثنا أحمد بن حفص، حدثني أبي، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان، عن منصور بن المُعتمِر، عن إبراهيم، عن أبي مَعْمَر، عن مسروق، عن عائشة أمِّ المؤمنين أنها قالت: لا يَحِلُّ دمُ أحدٍ من أهل القبلة إلَّا بإحدى ثلاث: رجلٌ قَتَلَ فيُقتَلُ به، والثيِّبُ الزاني، والمُفارِقُ للجماعة (3) .
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ اہل قبلہ میں سے کسی کو قتل کرنا جائز نہیں ہے سوائے تین صورتوں کے۔ ٭ ناحق قتل کیا ہو، تو بدلے میں اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ شادی شدہ زنا کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ جماعت کو چھوڑنے والا (یعنی جو شخص اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8240]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں