🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ
اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ سرکش وہ ہے جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8221
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب النَّسائي بمصر وعبد الله بن زَيْدان البَجَلي بالكوفة، قالا: حدثنا عبد الله بن سعيد الكِنْدي، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا سفيان، عن أبي الزُّبير، عن جابر، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"إذا استَهلَّ الصبيُّ وُرِّثَ وصُلِّيَ عليه" (3) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولم أجده من حديث الثَّوْري عن أبي الزُّبير موقوفًا فكنت أحكُمُ به. آخر كتاب الفرائض [كتاب الحدود]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8023 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بچہ روئے تو وہ وارثت بھی پائے گا اور اس کا جنازہ بھی پڑھا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ میں نے اس کو ثوری کی ابوالزبیر سے روایت میں موقوف پایا تو اس پر موقوف ہونے کا حکم لگا دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8221]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8222
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق ببغداد، حدثنا عبد الكريم بن الهيثم، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، أخبرنا (1) عبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوْهَب قال: سمعتُ مالك بن محمد بن عبد الرحمن يُحدِّث عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة قالت: وُجِدَ في قائم سيف رسول الله ﷺ كتابان:"إِنَّ أَشدَّ الناس عُتوًّا: رجلٌ ضربَ غيرَ ضاربِه، ورجلٌ قتلَ غيرَ قاتلِه، ورجلٌ تولَّى غيرَ أهل نِعمَتِه، فمن فعلَ ذلك فقد كفَرَ بالله ورسولِه، ولا يُقبل منه صَرْفٌ ولا عَدْلٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهدُه حديثُ أبي شريح العَدَوي الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8024 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضے میں دو خط لکھے ہوئے ملے۔ ٭ سب سے زیادہ نافرمان، وہ شخص ہے جس نے ناحق کسی کو مارا۔ ٭ سب سے زیادہ نافرمان، وہ شخص ہے جس نے کسی کو ناحق قتل کیا۔ ٭ سب سے زیادہ نافرمان، وہ شخص ہے جس نے کسی نااہل کو نعمت سپرد کر دی۔ جس نے ایسا کیا، اس نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا، اس کے فرائض و نوافل کچھ قبول نہیں کیے جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ابوشریح عدوی کی روایت کردہ حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8222]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8223
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشر بن المُفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن عطاء بن يزيد اللَّيثي، عن أبي شُرَيح العدوي قال: قال رسول الله ﷺ:"مِن أعتَى الناس على الله تعالى: مَن قتلَ غير قاتلِه، أو طَلَبَ بدم في الجاهلية من أهل الإسلام، ومَن بَصَّرَ عينيهِ في النوم ما لم تُبصِرْ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، إلَّا أنَّ يونس بن يزيد رواه عن الزُّهْري بإسناد آخر:
ابوشریح العدوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کا سب سے زیادہ سرکش وہ شخص ہے جس نے ناحق قتل کیا، یا زمانہ جاہلیت کا بدلہ اہل اسلام سے طلب کیا، اور وہ شخص جو خواب میں خود کو نابینا دیکھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم یونس بن یزید نے اس حدیث کو زہری سے ایک دوسری اسناد کے ہمراہ نقل کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8223]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8224
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا يونس بن يزيد، عن الزُّهْري، عن مسلم بن يزيد، عن أبي شُريح الكَعْبي، عن رسول الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8025 - صحيح
یونس نے زہری کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ مسلم بن یزید نے ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ حدیث کے موافق ارشاد بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8224]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ
کسی مسلمان کا خون حلال نہیں سوائے تین وجوہات کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8225
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُريب ونصر بن علي، قالا حدثنا أبو أحمد الزُّبَيري (2) ، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن، عن أبي موسى الأشعَري، عن النبيَّ ﷺ قال:"إذا أصبحَ إبليسُ بثَّ جنودَه، فيقول: مَن أضلَّ اليوم مسلمًا ألبستُه التاجَ، فيجيءُ أحدهم فيقول: لم أزَلْ به حتى عقَّ والدَه، فقال: يُوشِكُ أَن يَبَرَّه، ويجيءُ أحدُهم فيقول: لم أزَلْ به حتى........ (3) ، ويجيءُ أحدهم فيقول: لم أزَلْ به حتى طَلَّقَ امرأتَه، فيقول: يُوشِكُ أن يتزوَّج، ويجيء أحدهم فيقول: لم أَزْل به حتى أشرَكَ، فيقول: أنتَ أنتَ، ويجيءُ أحدُهم فيقول: لم أَزْل به حتى قَتَل، فيقول: أنتَ أنتَ، ويُلبِسُه التاجَ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8027 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب صبح ہوتی ہے تو شیطان اپنے چیلوں کو یہ کہہ کر روانہ کرتا ہے کہ آج جو کسی مسلمان کو گمراہ کرے گا میں اس کو تاج پہناؤں گا، (شام کو جب یہ سب واپس آتے ہیں تو) ایک شیطان کہتا ہے، میں نے ایک مسلمان پر بہت محنت کی اور بالآخر اس کو باپ کا نافرمان بنا دیا، شیطان کہتا ہے: ممکن ہے کہ وہ بعد میں ان کا فرمانبردار بن جائے۔ (تو نے کوئی بہت بڑا کام نہیں کیا) ایک اور شیطان کہتا ہے: میں ایک مسلمان کے پیچھے لگا رہا حتیٰ کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، شیطان کہتا ہے: وہ دوبارہ شادی کروا لے گا (تو نے بھی کوئی بہت بڑا کام نہیں کیا) پھر ایک شیطان آتا ہے، وہ کہتا ہے: میں ایک مسلمان کے پیچھے لگا رہا، حتیٰ کہ میں نے اس کو شرک میں مبتلا کر دیا ہے، شیطان کہتا ہے تو نے بھی اچھا کام کیا ہے، پھر ایک اور شیطان کہتا ہے: میں ایک مسلمان کے پیچھے لگا اور اس سے قتل کروا دیا، شیطان کہتا ہے: واہ واہ تو نے سب سے اچھا کام کیا ہے، اور وعدے کے مطابق وہ تاج اس کو پہنا دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8225]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. الْمَرْءُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا
آدمی اپنے دین کے معاملے میں اس وقت تک وسعت میں رہتا ہے جب تک وہ ناحق خون نہ بہائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8226
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حمّاد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف: أنَّ عثمان بن عفّان أشرَفَ يومَ الدار، فقال: أَنشَدتُكم بالله، أتعلمون أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يَحِلُّ دمُ امرئ مسلم إلَّا بإحدى ثلاثٍ: زَنَى بعد إحصان، أو ارتدَّ بعد إسلام، أو قَتَل نفسًا بغير حقٍّ يُقتَلُ به"؟ فوالله ما زَنَيتُ في جاهلية ولا إسلام، ولا ارتَدَدتُ منذ بايعتُ رسولَ الله ﷺ، ولا قتلتُ النفسَ التي حرَّم اللهُ، فبِمَ تقتلوني؟! (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8028 - على شرط البخاري ومسلم
ابوامامہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس دن سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا گھیراؤ کیا گیا، آپ اپنے گھر کی دیوار پر چڑھ کر بولے: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد نہیں فرمایا تھا کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے سوائے تین جرموں کے۔ ٭ شادی شدہ شخص زنا کرے۔ ٭ کوئی مسلمان (معاذاللہ) مرتد ہو جائے۔ ٭ یا کوئی کسی کو ناحق قتل کرے۔ اللہ کی قسم! میں نے زمانہ اسلام سے پہلے اور نہ زمانہ اسلام میں کھبی زنا نہیں کیا اور میں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اس کے بعد سے آج تک کبھی بھی اسلام سے پھرا نہیں ہوں۔ اور نہ ہی میں نے کسی کو ناحق قتل کیا ہے، پھر تم مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہو؟ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8226]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8227
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم الرازي، أخبرنا [محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا] (1) أبو غسّان محمد بن يحيى بن علي بن عبد الحميد الكِنَاني، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَرْدي، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع عن ابن عمر أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يزالُ المرء في فُسْحةٍ من دِينِه ما لم يُصب دمًا حرامًا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه، وإنما يُعَدُّ في أفراد محمد بن يحيى الذُّهلي (1) عن محمد بن يحيى الكِنَاني. وله إسناد آخر صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8029 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندہ ہمیشہ اپنے دین میں ہی رہتا ہے جب تک کہ وہ ناحق قتل کا مرتکب نہ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کو محمد بن یحیی ذہلی کے متفردات میں شمار کیا جاتا ہے جو کہ انہوں نے محمد بن یحیی کنانی سے روایت کی ہے۔ اور اس حدیث کی اور دوسری صحیح اسناد بھی ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8227]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8228
حدَّثَناه أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا أبو النَّضر، حدثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن أبيه، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"لن يزالَ المرءُ فِي فُسحةٍ من دِينِه ما لم يُصِبْ دمًا حرامًا" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8030 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندہ مسلسل اپنے دین کی گنجائش میں رہتا ہے جب تک کہ وہ ناحق قتل کا ارتکاب نہ کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8228]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8229
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتَيبة القاضي [حدثنا صفوان بن عيسى] (3) حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن أبي عَوْن، عن أبي إدريس الخَوْلاني، قال: سمعتُ معاوية بن أبي سفيان، وكان قليلَ الحديث عن رسول الله ﷺ، فسمعتُه يقول: قال رسول الله ﷺ:"كلُّ ذَنْبٍ عسى الله أن يَغْفِرَه إِلَّا الرجل يموتُ كافرًا، أو الرجلُ يقتُلُ مؤمنًا متعمدًا" (4) . صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8031 - صحيح
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما آپ کی روایت کردہ احادیث کی تعداد بہت کم ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر گناہ بخش دے گا، سوائے اس شخص کے جس کی موت کفر پر ہوئی، اور جو شخص جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8229]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. النَّهْيُ عَنِ الْأَرْبَعِ الْمُوبِقَاتِ
چار ہلاک کر دینے والے گناہوں کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8230
أخبرني عُبيد الله (1) بن أحمد بن البَلْخي التاجر ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل (2) ، حدثنا محمد بن المبارك الدَّمشقي، حدثنا صَدَقة، حدثنا خالد بن دِهْقان، حدثنا ابن أبي زكريا، قال: سمعتُ أمَّ الدرداء تقول: سمعتُ أبا الدَّرداء يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"كلُّ ذنبٍ عسى الله أَن يَغْفِرَه إِلَّا الرجلَ يموتُ مُشركًا، أو يقتل مؤمنًا متعمدًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8032 - صحيح
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف فرما دے گا سوائے اس شخص کے جس کی موت شرک پر ہوئی اور جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8230]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں