المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ وَرِثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ
اگر بچہ پیدا ہوتے ہی رو پڑے (زندگی کی علامت دکھائے) تو وہ وارث ہوگا اور اس کا جنازہ پڑھا جائے گا
حدیث نمبر: 8221
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب النَّسائي بمصر وعبد الله بن زَيْدان البَجَلي بالكوفة، قالا: حدثنا عبد الله بن سعيد الكِنْدي، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا سفيان، عن أبي الزُّبير، عن جابر، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"إذا استَهلَّ الصبيُّ وُرِّثَ وصُلِّيَ عليه" (3) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولم أجده من حديث الثَّوْري عن أبي الزُّبير موقوفًا فكنت أحكُمُ به. آخر كتاب الفرائض [كتاب الحدود] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8023 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8023 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بچہ (پیدائش کے وقت) روئے تو وہ وارث بنے گا اور اس کا جنازہ پڑھا جائے گا۔“
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مجھے یہ حدیث سفیان ثوری سے ابوزبیر کے واسطے سے موقوفاً نہیں ملی ورنہ میں اسی کا حکم لگاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8221]
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مجھے یہ حدیث سفیان ثوری سے ابوزبیر کے واسطے سے موقوفاً نہیں ملی ورنہ میں اسی کا حکم لگاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8221]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8221] [ترقيم الشركة 8122] [ترقيم العلميه 8023]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
1. أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ
اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ سرکش وہ ہے جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے
حدیث نمبر: 8222
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق ببغداد، حدثنا عبد الكريم بن الهيثم، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، أخبرنا (1) عبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوْهَب قال: سمعتُ مالك بن محمد بن عبد الرحمن يُحدِّث عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة قالت: وُجِدَ في قائم سيف رسول الله ﷺ كتابان:"إِنَّ أَشدَّ الناس عُتوًّا: رجلٌ ضربَ غيرَ ضاربِه، ورجلٌ قتلَ غيرَ قاتلِه، ورجلٌ تولَّى غيرَ أهل نِعمَتِه، فمن فعلَ ذلك فقد كفَرَ بالله ورسولِه، ولا يُقبل منه صَرْفٌ ولا عَدْلٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهدُه حديثُ أبي شريح العَدَوي الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8024 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهدُه حديثُ أبي شريح العَدَوي الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8024 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے دستے میں دو تحریریں پائی گئیں: ”بے شک لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش وہ ہے جو اسے مارے جس نے اسے نہیں مارا، اور وہ جو اسے قتل کرے جس نے (اس کے کسی عزیز کو) قتل نہیں کیا، اور وہ جو اپنے محسنوں کو چھوڑ کر دوسروں سے وفاداری کا رشتہ جوڑے، تو جس نے ایسا کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، اور اس کا کوئی نفل یا فرض عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8222]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8222]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب، فهو مختلف فيه، ومالك بن محمد» [ترقيم الرساله 8222] [ترقيم الشركة 8123] [ترقيم العلميه 8024]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8223
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشر بن المُفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن عطاء بن يزيد اللَّيثي، عن أبي شُرَيح العدوي قال: قال رسول الله ﷺ:"مِن أعتَى الناس على الله تعالى: مَن قتلَ غير قاتلِه، أو طَلَبَ بدم في الجاهلية من أهل الإسلام، ومَن بَصَّرَ عينيهِ في النوم ما لم تُبصِرْ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، إلَّا أنَّ يونس بن يزيد رواه عن الزُّهْري بإسناد آخر:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، إلَّا أنَّ يونس بن يزيد رواه عن الزُّهْري بإسناد آخر:
سیدنا ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ سرکش وہ شخص ہے جس نے اسے قتل کیا جس نے اسے قتل نہیں کیا تھا، یا جس نے اسلام میں آنے کے بعد جاہلیت کے کسی خون کا مطالبہ کیا، اور وہ شخص جس نے اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھنے کا جھوٹا دعویٰ کیا جو انہوں نے خواب میں نہیں دیکھا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8223]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8223]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبد الرحمن بن إسحاق» [ترقيم الرساله 8223] [ترقيم الشركة 8124]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8224
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا يونس بن يزيد، عن الزُّهْري، عن مسلم بن يزيد، عن أبي شُريح الكَعْبي، عن رسول الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8025 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8025 - صحيح
سیدنا ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا۔ (یہ یونس بن زید کی زہری سے روایت کردہ دوسری سند ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8224]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل مسلم بن يزيد فقد انفرد بالرواية عنه الزهري، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، فهو مجهول» [ترقيم الرساله 8224] [ترقيم الشركة 8125] [ترقيم العلميه 8025]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8225
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُريب ونصر بن علي، قالا حدثنا أبو أحمد الزُّبَيري (2) ، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن، عن أبي موسى الأشعَري، عن النبيَّ ﷺ قال:"إذا أصبحَ إبليسُ بثَّ جنودَه، فيقول: مَن أضلَّ اليوم مسلمًا ألبستُه التاجَ، فيجيءُ أحدهم فيقول: لم أزَلْ به حتى عقَّ والدَه، فقال: يُوشِكُ أَن يَبَرَّه، ويجيءُ أحدُهم فيقول: لم أزَلْ به حتى........ (3) ، ويجيءُ أحدهم فيقول: لم أزَلْ به حتى طَلَّقَ امرأتَه، فيقول: يُوشِكُ أن يتزوَّج، ويجيء أحدهم فيقول: لم أَزْل به حتى أشرَكَ، فيقول: أنتَ أنتَ، ويجيءُ أحدُهم فيقول: لم أَزْل به حتى قَتَل، فيقول: أنتَ أنتَ، ويُلبِسُه التاجَ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8027 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8027 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب صبح ہوتی ہے تو ابلیس اپنے لشکروں کو پھیلا دیتا ہے اور کہتا ہے: جو آج کسی مسلمان کو گمراہ کرے گا میں اسے تاج پہناؤں گا، چنانچہ ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے: میں اس کے پیچھے پڑا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنے والدین کی نافرمانی کی، تو ابلیس کہتا ہے: قریب ہے کہ وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے لگے، پھر ایک اور آتا ہے اور (کسی دوسرے گناہ کا) ذکر کرتا ہے، پھر ایک اور آ کر کہتا ہے: میں اس کے پیچھے لگا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، تو وہ کہتا ہے: ممکن ہے کہ وہ دوبارہ نکاح کر لے، پھر ایک اور آ کر کہتا ہے: میں اس کا پیچھا نہیں چھوڑا یہاں تک کہ اس نے شرک کیا، تو وہ کہتا ہے: ہاں تو ہی ہے (جس نے بڑا کام کیا)، پھر ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے: میں اس وقت تک اس کے پیچھے رہا یہاں تک کہ اس نے قتل کر دیا، تو ابلیس کہتا ہے: ہاں تو ہی ہے، اور وہ اسے تاج پہناتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8225]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8225]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، ورواية الثوري عن عطاء بن السائب قبل اختلاط الأخير، لكن اختلف على سفيان في رفعه ووقفه كما سيأتي، وقد توبع سفيان على رفعه» [ترقيم الرساله 8225] [ترقيم الشركة 8126] [ترقيم العلميه 8027]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
2. لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ
کسی مسلمان کا خون حلال نہیں سوائے تین وجوہات کے
حدیث نمبر: 8226
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حمّاد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف: أنَّ عثمان بن عفّان أشرَفَ يومَ الدار، فقال: أَنشَدتُكم بالله، أتعلمون أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يَحِلُّ دمُ امرئ مسلم إلَّا بإحدى ثلاثٍ: زَنَى بعد إحصان، أو ارتدَّ بعد إسلام، أو قَتَل نفسًا بغير حقٍّ يُقتَلُ به"؟ فوالله ما زَنَيتُ في جاهلية ولا إسلام، ولا ارتَدَدتُ منذ بايعتُ رسولَ الله ﷺ، ولا قتلتُ النفسَ التي حرَّم اللهُ، فبِمَ تقتلوني؟! (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8028 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8028 - على شرط البخاري ومسلم
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے (محصوری کے ایام میں) اپنے گھر کی چھت سے جھانک کر لوگوں کو مخاطب کیا اور فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”کسی مسلمان کا خون تین صورتوں کے سوا حلال نہیں ہے: شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا، یا اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جانا، یا کسی جان کو ناحق قتل کرنا جس کے بدلے اسے قتل کیا جائے“؟ پس اللہ کی قسم! میں نے نہ جاہلیت میں کبھی زنا کیا اور نہ اسلام میں، اور جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے تب سے کبھی مرتد نہیں ہوا، اور نہ ہی میں نے کبھی اس جان کو قتل کیا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، پھر تم مجھے کس جرم میں قتل کرنا چاہتے ہو؟!“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8226]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8226]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8226] [ترقيم الشركة 8127] [ترقيم العلميه 8028]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
3. الْمَرْءُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا
آدمی اپنے دین کے معاملے میں اس وقت تک وسعت میں رہتا ہے جب تک وہ ناحق خون نہ بہائے
حدیث نمبر: 8227
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم الرازي، أخبرنا [محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا] (1) أبو غسّان محمد بن يحيى بن علي بن عبد الحميد الكِنَاني، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَرْدي، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع عن ابن عمر أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يزالُ المرء في فُسْحةٍ من دِينِه ما لم يُصب دمًا حرامًا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه، وإنما يُعَدُّ في أفراد محمد بن يحيى الذُّهلي (1) عن محمد بن يحيى الكِنَاني. وله إسناد آخر صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8029 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه، وإنما يُعَدُّ في أفراد محمد بن يحيى الذُّهلي (1) عن محمد بن يحيى الكِنَاني. وله إسناد آخر صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8029 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان اپنے دین کے معاملے میں اس وقت تک وسعت و گنجائش میں رہتا ہے جب تک وہ کسی کا ناحق خون نہیں بہاتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے محمد بن یحییٰ الذہلی کی محمد بن یحییٰ الکنانی سے روایت کردہ انفرادی روایات میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ اس کی ایک اور صحیح سند بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8227]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے محمد بن یحییٰ الذہلی کی محمد بن یحییٰ الکنانی سے روایت کردہ انفرادی روایات میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ اس کی ایک اور صحیح سند بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8227]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل عبد العزيز الدراوردي» [ترقيم الرساله 8227] [ترقيم الشركة 8128] [ترقيم العلميه 8029]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8228
حدَّثَناه أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا أبو النَّضر، حدثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن أبيه، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"لن يزالَ المرءُ فِي فُسحةٍ من دِينِه ما لم يُصِبْ دمًا حرامًا" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8030 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8030 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان اپنے دین کے معاملے میں ہمیشہ وسعت میں رہے گا جب تک کہ وہ حرام خون (ناحق قتل) کا ارتکاب نہیں کرتا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8228]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8228] [ترقيم الشركة 8129] [ترقيم العلميه 8030]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8229
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتَيبة القاضي [حدثنا صفوان بن عيسى] (3) حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن أبي عَوْن، عن أبي إدريس الخَوْلاني، قال: سمعتُ معاوية بن أبي سفيان، وكان قليلَ الحديث عن رسول الله ﷺ، فسمعتُه يقول: قال رسول الله ﷺ:"كلُّ ذَنْبٍ عسى الله أن يَغْفِرَه إِلَّا الرجل يموتُ كافرًا، أو الرجلُ يقتُلُ مؤمنًا متعمدًا" (4) . صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8031 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8031 - صحيح
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت کم احادیث بیان کرتے تھے، میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف فرما دے گا سوائے اس شخص کے جو کفر کی حالت میں مرا ہو، یا اس شخص کے جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8229]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8229]
تخریج الحدیث: «صحيح بما بعده، وهذا إسناد حسن من أجل أبي عون» [ترقيم الرساله 8229] [ترقيم الشركة 8130] [ترقيم العلميه 8031]
الحكم على الحديث: صحيح بما بعده
حدیث نمبر: 8230
أخبرني عُبيد الله (1) بن أحمد بن البَلْخي التاجر ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل (2) ، حدثنا محمد بن المبارك الدَّمشقي، حدثنا صَدَقة، حدثنا خالد بن دِهْقان، حدثنا ابن أبي زكريا، قال: سمعتُ أمَّ الدرداء تقول: سمعتُ أبا الدَّرداء يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"كلُّ ذنبٍ عسى الله أَن يَغْفِرَه إِلَّا الرجلَ يموتُ مُشركًا، أو يقتل مؤمنًا متعمدًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8032 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8032 - صحيح
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کی مغفرت فرما دے گا سوائے اس شخص کے جو شرک کی حالت میں مرا ہو، یا جس نے کسی مومن کو قصداً قتل کیا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8230]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8230]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8230] [ترقيم الشركة 8131] [ترقيم العلميه 8032]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح