سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
صدقہ کی فضیلت
ترقیم الباني: 897 ترقیم فقہی: -- 2194
-" اجعلوا بينكم وبين النار حجابا ولو بشق تمرة".
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کوئی نیکی کر کے) اپنے اور آتش دوزخ کے درمیان پردہ لٹکائے رکھو، اگرچہ وہ کھجور کے ایک ٹکڑے (کا صدقہ کرنے کی صورت میں ہو)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2194]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 897
بعض مؤمنوں کے دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نرم ہوتے ہیں
ترقیم الباني: 2470 ترقیم فقہی: -- 2195
-" إن من المؤمنين من يلين لي قلبه".
ابوراشد حبرانی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”ابوامامہ! بعض مومن ایسے ہیں جن کا دل میرے لیے نرم (اور لچکدار) ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2195]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2470
مومن کے انجام خیر کے لیے دنیوی آزمائشیں بہتر ہیں
ترقیم الباني: 1220 ترقیم فقہی: -- 2196
-" إذا أراد الله بعبد خيرا عجل له العقوبة في الدنيا وإذا أراد الله بعبد شرا أمسك عليه ذنوبه حتى يوافيه يوم القيامة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو (اس کے گناہوں کی سزا) جلد ہی دنیا میں دے دیتا ہے (یعنی تکلیفوں اور آزمائشوں کے ذریعے سے اس کے گناہوں کی معافی کے اسباب پیدا کر دیتا ہے) اور جب کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے اس کے گناہوں کی سزا (دنیا میں) روک لیتا ہے، یہاں تک کہ قیامت والے دن اس کو پوری سزا دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2196]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1220
موت سے پہلے اعمال صالحہ کی فضیلت
ترقیم الباني: 1114 ترقیم فقہی: -- 2197
-" إذا أراد الله بعبد خيرا عسله، فقيل: وما عسله؟ قال: يفتح له عملا صالحا بين يدي موته حتى يرضى عنه من حوله".
سیدنا عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے لوگوں میں نیک شہرت بنا دیتا ہے۔“ کسی نے کہا: کہ نیک شہرت کیسے عطا کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس طرح کہ اس کے لیے اس کی موت سے قبل نیک اعمال آسان کر دیتا ہے، حتی کہ اس کے آس پاس والے اس سے خوش ہو جاتے ہیں (اور اس طرح وہ نیک نامی میں شہرت یافتہ ہو جاتا ہے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2197]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1114
غیر مستحق پر لعنت کرنے کا وبال
ترقیم الباني: 1269 ترقیم فقہی: -- 2198
-" إذا خرجت اللعنة من في صاحبها نظرت، فإن وجدت مسلكا في الذي وجهت إليه وإلا عادت إلى الذي خرجت منه".
عیزار بن جرول حضرمی کہتے ہیں: ہم میں ایک ابوعمیر نامی آدمی تھا، جس کا رشتہ اخوت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قائم تھا، سیدنا عبداللہ اس کے گھر آتے جاتے رہتے تھے۔ ایک دن وہ آئے لیکن سیدنا ابوعمیر رضی اللہ عنہ گھر پر نہیں تھے، وہ اس کی بیوی کے پاس بیٹھ گئے۔ بیوی نے اپنی خادمہ کو کسی کام کے لیے بھیج دیا، اس نے واپس آنے میں تاخیر کی۔ (جس کی وجہ سے) اس نے کہا: میری خادمہ پر اللہ لعنت کرے، اس نے بہت دیر کر دی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ باہر آ گئے اور دروازے پر بیٹھ گئے۔ جب سیدنا ابوعمیر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہیں کہا: آپ اپنے بھائی کے اہل کے پاس تشریف رکھتے۔ انہوں نے کہا: میں نے تو ایسے ہی کیا تھا، لیکن اس نے خادمہ کو کسی کام کے لیے بھیجا اور اس نے بہت تاخیر کر دی، جس کی وجہ سے اس نے اس پر لعنت کی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب لعنت ولا لعنت کرتا ہے تو دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ آدمی، جس پر لعنت کی گئی ہے، اس کا مستحق ہے۔ اگر (وہ حقدار) ہو تو ٹھیک وگرنہ وہ لعنت، لعنت کرنے والے کی طرف لوٹا دی جاتی ہے۔“ اور میں نے ناپسند کیا لعنت کے راستے پر بیٹھوں۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2198]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1269
نافرمانیوں کے باوجود دنیوی مال و دولت ملنا استدراج ہے
ترقیم الباني: 413 ترقیم فقہی: -- 2199
-" إذا رأيت الله يعطي العبد من الدنيا على معاصيه ما يحب فإنما هو استدراج ثم تلا: * (فلما نسوا ما ذكروا به فتحنا عليهم أبواب كل شيء، حتى إذا فرحوا بما أوتوا أخذناهم بغتة فإذا هم مبلسون) *".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ ایک آدمی کو اس کی برائیوں کے باوجود دنیا میں رزق دیا جا رہا ہے تو (سمجھ لو کہ) اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جا رہی ہے، جس کا تذکرہ اس آیت میں ہے: «فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ» ”پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کر دیے، یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہو گئے۔“ (۶-الأنعام:۴۴) [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2199]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 413
پرفتن دور کے احکام
ترقیم الباني: 205 ترقیم فقہی: -- 2200
-" إذا رأيت الناس قد مرجت عهودهم، وخفت أماناتهم وكانوا هكذا: وشبك بين أصابعه، قال (الراوي) : فقمت إليه فقلت له: كيف أفعل عند ذلك جعلني الله فداك؟ قال: الزم بيتك، واملك عليك لسانك، وخذ ما تعرف، ودع ما تنكر، وعليك بأمر خاصة نفسك، ودع عنك أمر العامة".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ ایک آدمی کو اس کی برائیوں کے باوجود دنیا میں رزق دیا جا رہا ہے تو (سمجھ لو کہ) اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جا رہی ہے، جس کا تذکرہ اس آیت میں ہے: «فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ» ”پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کر دیے، یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہو گئے۔“ (۶-الأنعام:۴۴) [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2200]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 205
برائی کے بعد نیکی کرنے کی تعلیم
ترقیم الباني: 1373 ترقیم فقہی: -- 2201
-" إذا عملت سيئة فأتبعها حسنة تمحها".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ، کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر برائی ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کرنا، تاکہ نیکی برائی (کے اثر) کو مٹا دے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ”لا الہ الااللہ“ کہنا بھی نیکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو سب نیکیوں میں افضل ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2201]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1373
امانت، سچائی، حسن اخلاق اور بقدر کفایت رزق کی اہمیت
ترقیم الباني: 733 ترقیم فقہی: -- 2202
-" أربع إذا كن فيك فلا عليك ما فاتك من الدنيا، حفظ أمانة وصدق حديث وحسن خليقة وعفة طعمة".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تجھ میں چار خصائل پائے جاتے ہوں تو تجھے دنیا کے کسی فائدے سے محرومی کا کوئی افسوس نہیں ہونا چاہیے: امانت کی حفاظت، سچا کلام، حسن فطرت اور رزق کی پاکدامنی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2202]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 733
چھ امور کی پابندی پر جنت کی ضمانت
ترقیم الباني: 1525 ترقیم فقہی: -- 2203
-" اكفلوا لي بست أكفل لكم الجنة: إذا حدث أحدكم فلا يكذب، وإذا ائتمن فلا يخن، وإذا وعد فلا يخلف، وغضوا أبصاركم، وكفوا أيديكم، واحفظوا فروجكم".
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دوں گا: جب تم میں سے کوئی آدمی کلام کرے تو جھوٹ مت بولے:، جب کسی کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت نہ کرے، جب وعدہ کرے تہ عہد شکنی نہ کرے، (نیز) اپنی نظروں کو جھکا کر رکھو، اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2203]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1525