🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نیکیاں کرنے اور رحمت الہی کے درپے رہنے کی تلقین
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1890 ترقیم فقہی: -- 2204
-" افعلوا الخير دهركم، وتعرضوا لنفحات رحمة الله، فإن لله نفحات من رحمته يصيب بها من يشاء من عباده وسلوا الله أن يستر عوراتكم وأن يؤمن روعاتكم".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی زندگی میں نیکیاں کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے عطیات کے درپے رہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے عطیات عطا کرتا ہے۔ تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ تمہارے معائب و نقائص پر پردہ ڈالے اور گھبراہٹوں اور بے چینیوں کو امن میں بدل دے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2204]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1890

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
طویل عمر، بہترین لوگوں کی صفت ہے، بشرطیکہ . . .
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2498 ترقیم فقہی: -- 2205
-" ألا أنبئكم بخياركم؟ خياركم أطولكم أعمارا إذا سددوا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کے لیے تمہارے بہترین افراد کی نشاندہی نہ کر دوں؟ تم میں سے بہترین افراد وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں، بشرطیکہ وہ راہ راست پر چلتے رہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2205]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2498

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع اور طلب مسکنت کی دعا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 308 ترقیم فقہی: -- 2206
-" اللهم أحيني مسكينا، وأمتني مسكينا، واحشرني في زمرة المساكين".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! مجھے مسکین کی زندگی اور مسکین کی موت عطا فرما اور میرا حشر بھی مسکینوں کی جماعت میں ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2206]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 308

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دنیوی فقر و فاقہ کے عوض اخروی خزانے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2168 ترقیم فقہی: -- 2207
-" لو تعلمون ما ذخر لكم ما حزنتم على ما زوي عنكم وليفتحن لكم فارس والروم".
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے تھے اور ہم پر معمولی قیمت کا کپڑا ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ کر فرماتے: اگر تمہیں پتہ چل جائے کہ تمہارے لیے کیا کچھ خزانہ کر دیا گیا ہے، تو تم اپنی غریبی وناداری پر غمزدہ نہیں ہو گے۔ عنقریب تم ایران و روم کو بھی فتح کر لو گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2207]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2168

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کفالت کرنے والا مال قلیل، غافل کر دینے والے مال کثیر سے بہتر ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 947 ترقیم فقہی: -- 2208
-" ما قل وكفى خير مما كثر وألهى".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کفایت کرنے والا قلیل مال غافل کر دینے والے کثیر مال سے بہتر ہوتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2208]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 947

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیوی آسائشوں کو ترجیح نہ دینا، دنیا کے عارضی پن کی مثال
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 438 ترقیم فقہی: -- 2209
-" مالي وللدنيا؟! ما أنا والدنيا؟! إنما مثلي ومثل الدنيا كراكب ظل تحت شجرة ثم راح وتركها".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور وغیرہ کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائی پر لیٹے، اس سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے، جب آپ بیدار ہوئے تو میں نے آپ کے پہلو پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں کیوں نہیں بتلایا، ہم آپ کے لیے چٹائی پر (کوئی گدا وغیرہ) بچھا دیتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے؟ میری دنیا سے کیا نسبت ہے؟ میری اور دنیا کی مثال اس سوار کی طرح ہے جو (سستانے کے لیے) کسی درخت کے سائے میں (چند لمحوں کے لیے) بیٹھا اور پھر اسے ترک کر کے چل دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2209]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 438

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 439 ترقیم فقہی: -- 2210
-" ما لي وللدنيا؟! ما مثلي ومثل الدنيا إلا كراكب سار في يوم صائف، فاستظل تحت شجرة ساعة من نهار، ثم راح وتركها".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور وغیرہ کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائی پر تشریف فرما تھے، اس سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! اگر آپ کوئی نرم بچھونا بنوا لیں (تو اچھا ہو گا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا (کی آسائشوں) سے کیا تعلق ہے؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی طرح ہے، جو گرمی والے دن سفر کرتا رہا اور (سستانے کی خاطر) دن کی ایک گھڑی کے لیے درخت کے سائے میں قیام کیا اور پھر اسے چھوڑ کر چل دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2210]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 439

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی بےوقعتی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2482 ترقیم فقہی: -- 2211
-" والذي نفسي بيده للدنيا أهون على الله من هذه على أهلها. يعني شاة ميتة".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری جس کو اس کے مالک نے (بے قیمت سمجھ کر) پھینک دیا تھا، کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ مردار جس قدر اپنے مالک کے لیے حقیر ہے، دنیا اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ پر حقیر (اور بے وقعت) ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2211]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2482

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مالداری میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن کب؟۔ صحت، غنی سے بہتر ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 174 ترقیم فقہی: -- 2212
-" لا بأس بالغنى لمن اتقى، والصحة لمن اتقى خير من الغنى، وطيب النفس من النعيم".
معاذ بن عبداللہ بن خبیب اپنے باپ سے، وہ اپنے چچا سیدنا یسار بن عبداللہ جہنی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور آپ کے سر پر پانی کے نشانات تھے۔ ہم میں سے کسی نے کہا: آج ہم آپ کو (پہلے کی بہ نسبت) خوشگوار موڈ میں دیکھ رہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، (بات ایسے ہی ہے) اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ پھر لوگ مالداری کی باتوں میں مشغول ہو گئے، آپ نے ان کی گفتگو سن کر فرمایا: اگر آدمی متقی ہو تو مالدار ہونے میں کوئی حرج نہیں، بہرحال پرہیزگار آدمی کے لیے صحت و عافیت، مال و دولت سے بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی ایک نعمت ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2212]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 174

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 764 ترقیم فقہی: -- 2213
-" إن آل أبى فلان ليسوا لي بأولياء إنما وليي الله وصالح المؤمنين".
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخفی انداز میں نہیں، بلکہ اعلانیہ فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک ابوفلاں کی آل والے میرے دوست نہیں ہیں۔ میرے دوست تو اللہ تعالیٰ اور نیک مومن ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2213]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 764

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں