🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
مومن کو ماحول سے متاثر نہیں ہونا چاہیے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2288 ترقیم فقہی: -- 2224
-" إن مثل المؤمن كمثل القطعة من الذهب، نفخ فيها صاحبها فلم تغير ولم تنقص، والذي نفسي بيده، إن مثل المؤمن كمثل النحلة أكلت طيبا ووضعت طيبا ووقعت فلم تكسر ولم تفسد".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ برے قول و فعل اور بدکلامی و فحش گوئی سے نفرت کرتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت قائم ہو گی جب امانتدار خیانت کرے گا، خائن کو امین سمجھا جائے گا اور بدگوئی فحش گوئی، قطع رحمی اور پڑوسیوں سے برا سلوک کرنے جیسی قبا حتیں منظر عام پر آ جائیں گی۔ بیشک مومن کی مثال سونے کے اس (خالص) ٹکڑے کی طرح ہے کہ مالک جسے (دھونکنی میں رکھ کر) پھونک مارتا ہے لیکن اس میں نہ تبدیلی آتی ہے اور نہ وہ کم ہوتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مومن کی مثال شہد کی مکھی کی مانند ہے، جو پاکیزہ چیز کھاتی ہے، پاکیزہ رس خارج کرتی ہے اور جس (پھول یا پتی یا پتے) پر بیٹھتی ہے، وہ نہ ٹوٹتا ہے اور نہ خراب ہوتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2224]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2288

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کھانے پینے کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 382 ترقیم فقہی: -- 2225
-" إن مطعم ابن آدم قد ضرب للدنيا مثلا، فانظر ما يخرج من ابن آدم وإن قزحه وملحه، قد علم إلى ما يصير".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے کھانے نے دنیا کے لئے ایک مثال بیان کی ہے، آپ دیکھیں کہ (کھانا کھانے کے بعد) ابن آدم سے (پائخانے کی صورت میں اس سے) کیا نکلتا ہے، اگرچہ کھانا مسالے دار اور نمکین ہو، وہ جانتا ہے کہ (بالآخر) اس نے کیا ہو جانا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2225]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 382

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نوع بنوع کے کھانوں کو ترجیح دینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1891 ترقیم فقہی: -- 2226
-" إن من شرار أمتي الذين غذوا بالنعيم، الذين يطلبون ألوان الطعام وألوان الثياب، يتشدقون بالكلام".
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جنہیں مختلف نعمتوں سے نوازا گیا، لیکن انہوں نے (آخرت کو بھلا کر) قسما قسم کے کھانوں اور رنگا رنگ کے کپڑوں پر بھر پور توجہ دینا اور فصیح و بلیغ گفتگو کرنے کے لیے باچھوں کو موڑنا شروع کر دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2226]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1891

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
خیر کا سبب بننے والے کے لیے سعادت اور شر کا سبب بننے والے کے لیے ہلاکت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1332 ترقیم فقہی: -- 2227
-" إن من الناس مفاتيح للخير مغاليق للشر وإن من الناس مفاتيح للشر مغاليق للخير، فطوبى لمن جعل الله مفاتيح الخير على يديه، وويل لمن جعل الله مفاتيح الشر على يديه".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض لوگ ایسے ہیں جو نیکی کا سرچشمہ اور برائی کی راہ روکنے والے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو شر کا منبع اور نیکی کی راہ روکنے والے ہیں۔ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ہاتھ پر خیر کی راہیں کھول دیں اور ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے شر کی راہیں کھول دیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2227]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1332

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آخرت کی خیر ہی خیر ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1102 ترقیم فقہی: -- 2228
-" إنما الخير خير الآخرة".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خندق کی کھدائی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کہتے تھے: ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تاحیات جہاد کرنے پر بیعت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اے اللہ! بھلائی تو آخرت کی ہی بھلائی ہے تو انصاریوں اور مہاجروں کو معاف کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور بدبو والا سالن لایا گیا، لیکن ان سب نے کھا لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخرت والی بھلائی ہی بھلائی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2228]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1102

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
موت استراحت ہے، اگر بخشش ہو جائے تو
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1710 ترقیم فقہی: -- 2229
-" إنما يستريح من غفر له".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دنیا اور اہل دنیا سے) آرام تو وہ کرتا ہے جسے (موت کے بعد) بخش دیا جاتا ہے۔ یہ حدیث سیدہ عائشہ، سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہما اور محمد بن عروہ سے مرسلاً روایت کی گئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2229]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1710

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اگر ہمیں اتنا علم ہوتا، جتنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا تو . . .
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1722 ترقیم فقہی: -- 2230
-" إني أرى ما لا ترون وأسمع ما لا تسمعون أطت السماء وحق لها أن تئط، ما فيها موضع قدر أربع أصابع إلا ملك واضع جبهته ساجدا لله، والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء على الفرش ولخرجتم إلى الصعدات تجأرون".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا» یقیناً انسان پر ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے کہ اس میں یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔۵-الإنسان:۱) پھر فرمایا: بیشک جو میں دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھ سکتے اور جو میں سنتا ہوں وہ تم نہیں سن سکتے۔ (سنو) آسمان چرچراتے ہیں اور انہیں چرچرانا ہی زیب دیتا ہے، کیونکہ وہاں چار انگلیوں کے بقدر بھی جگہ خالی نہیں ہے۔ ہر جگہ فرشتے سجدہ ریز ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمہیں اس کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسنا کم کر دو، رونا زیادہ کر دو، بچھونوں پر اپنی بیویوں سے لذتیں اٹھانا ترک کر دو اور (اللہ کی طرف) گڑگڑاتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف نکل جاؤ۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2230]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1722

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تقوی، جہاد، ذکر اور تلاوت قرآن کی نصیحت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 555 ترقیم فقہی: -- 2231
-" أوصيك بتقوى الله، فإنه رأس كل شيء وعليك بالجهاد، فإنه رهبانية الإسلام وعليك بذكر الله وتلاوة القرآن، فإنه روحك في السماء وذكرك في الأرض".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کریں۔ میں نے کہا: میں نے تجھ سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا تھا: میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہ عمل ہر چیز کی بنیاد ہے اور جہاد کو لازم پکڑ کیونکہ وہ اسلام میں رہبانیت (کی صورت) ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تلاوت قرآن کا اہتمام کر کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لیے باعث رحمت اور زمین میں باعث تذکرۂ خیر ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2231]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 555

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عالم برزخ کے لیے تیاری کا حکم
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1751 ترقیم فقہی: -- 2232
-" أي إخواني! لمثل اليوم فأعدوا".
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، اچانک آپ کی نگاہ لوگوں کے ایک گروہ پر پڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ لوگ کس چیز پر جمع ہیں؟ کہا گیا کہ قبر کھود رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے اور صحابہ سے سبقت لیتے ہوئے لپکے، قبر تک پہنچے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ میں آپ کے سامنے سے آیا تاکہ دیکھوں کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ (میں نے دیکھا) کہ آپ رو رہے تھے (اور اتنے روئے کہ) زمین آپ کے آنسوؤں سے تر ہو گئی، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میرے بھائیو! اس دن کے لیے تیاری کرو۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2232]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1751

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آدمی کا مال وہی ہے، جو وہ خرچ کر چکا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1486 ترقیم فقہی: -- 2233
-" أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله؟ قالوا: يا رسول الله ما منا من أحد إلا ماله أحب إليه من مال وارثه، قال: اعلموا أنه ليس منكم من أحد إلا مال وارثه أحب إليه من ماله، مالك ما قدمت ومال وارثك ما أخرت".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ محبوب ہو؟ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر شخص کو اپنے وارث کی بہ نسبت اپنا مال سب سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جان لو! تم میں سے ہر ایک کو وارث کے مال کی بہ نسبت اپنا مال زیادہ محبوب ہے۔ (یاد رکھو کہ) تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے (صدقہ و خیرات کر کے) آگے بھیج دیا اور جو کچھ پیچھے چھوڑ جاؤ گے وہ تمہارے وارث کا مال ہو گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2233]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1486

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں