🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 765 ترقیم فقہی: -- 2214
-" إن أوليائي يوم القيامة المتقون، وإن كان نسب أقرب من نسب، فلا يأتيني الناس بالأعمال وتأتوني بالدنيا تحملونها على رقابكم، فتقولون: يا محمد! فأقول هكذا وهكذا: لا وأعرض في كلا عطفيه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن پرہیزگار لوگ میرے دوست ہوں گے، اگرچہ وہ نسب میں قریب تر ہوں (یا نہ ہوں)۔ (خیال رکھنا) کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ تو میرے پاس (نیک) اعمال لے کر آئیں اور تم دنیا (کی خیانتوں اور دوسروں کے غصب شدہ حقوق) کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر لاؤ اور پکارو: اے محمد! اور میں ادھر ادھر اعراض کرتے ہوئے کہوں: نہیں۔ پھر آپ نے اپنی دونوں جانب اعراض کیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2214]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 765

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
برے لوگوں کی نحوست
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1622 ترقیم فقہی: -- 2215
-" إن الله إذا أنزل سطوته بأهل نقمته وفيهم الصالحون، فيصابون معهم، ثم يبعثون على نياتهم".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کرے گا تو ان میں نیک لوگ بھی ہوں گے، کیا وہ بھی (برے لوگوں کے ساتھ) ہلاک ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ عذاب نازل کرتا ہے تو نیک لوگ بھی اس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، لیکن ان کا حشر ان کی نیتوں کے مطابق ہو گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2215]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1622

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہر بندے کو جو کچھ عطا کیا گیا وہ اس کے لیے آزمائش ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1658 ترقیم فقہی: -- 2216
-" إن الله تبارك وتعالى يبتلي عبده بما أعطاه، فمن رضي بما قسم الله عز وجل له بارك الله له فيه ووسعه، ومن لم يرض لم يبارك له فيه".
بنو سلیم قبیلے کا ایک آدمی بیان کرتا ہے: بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کو اپنی عطا کردہ نعمتوں میں آزماتا رہتا ہے۔ جو آدمی اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ان نعمتوں میں برکت اور وسعت عطا کرتا ہے اور جو راضی نہیں ہوتا اس کے لیے ان نعمتوں میں برکت نہیں کی جاتی۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2216]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1658

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کون سا عمل مقبول ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 52 ترقیم فقہی: -- 2217
-" إن الله عز وجل لا يقبل من العمل إلا ما كان له خالصا وابتغي به وجهه".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ایک آدمی اجر و ثواب اور صیت و شہرت کی خاطر جہاد کرتا ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کوئی (اجر و ثواب) نہیں ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ یہی فرمایا کہ اسے کوئی (ثواب) ملے گا۔ پھر فرمایا: بیشک اللہ عزوجل صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو اسی کے لیے خالص ہو اور اس کی ذات کی تلاش کے لیے کیا گیا ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2217]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 52

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
احکام الٰہی کی پاسداری سے فاقہ ختم ہو جاتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1359 ترقیم فقہی: -- 2218
-" إن الله يقول: يا ابن آدم تفرغ لعبادتي أملأ صدرك غنى وأسد فقرك وإن لا تفعل ملأت يديك شغلا ولم أسد فقرك".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! (ہر کام سے سبکدوش ہو کر) میری عبادت میں منہمک ہو جا، میں تجھے بے نیاز کر دوں گا اور تیرا فقر و فاقہ پورا کردوں گا۔ اگر تو نے اس طرح نہ کیا تو میں تجھے (دنیوی امور میں) مصروف کر دوں گا اور (کبھی بھی) تیری فقیری کو پورا نہیں کروں گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2218]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1359

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
صحت اور ٹھنڈے پانی کی اہمیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 539 ترقیم فقہی: -- 2219
-" إن أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة أن يقال له: ألم أصح لك جسمك وأروك من الماء البارد؟".
سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت بندے کا سب سے پہلے محاسبہ یوں ہو گا کہ اسے کہا جائے گا: کیا میں نے تیرے جسم کو تندرست نہیں کیا تھا، کیا میں نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2219]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 539

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آخرت کی گھاٹیاں طے کرنے کے لیے گناہوں کا بوجھ کم ہونا چاہیے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2480 ترقیم فقہی: -- 2220
-" إن بين أيديكم عقبة كؤودا، لا ينجو منها إلا كل مخف".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سامنے (آخرت کی) دشوار گزار گھاٹی ہے، جس سے نجات پانے والا وہی ہو گا جو (گناہوں کے بوجھ سے) ہلکا ہو گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2220]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2480

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کثرت عبادت دیندار ہونے کا معیار نہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1895 ترقیم فقہی: -- 2221
-" إن فيكم قوما يتعبدون حتى يعجبوا الناس، ويعجبهم أنفسهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم میں سے بعض لوگ اتنی عبادت کریں کہ لوگوں کو اور خود ان کو تعجب ہونے لگے گا، لیکن وہ دین سے (بیزار ہو کر) یوں نکلیں گے جیسے تیر شکار کو چیرتے ہوئے تیزی سے دوسری طرف سے نکل جاتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2221]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1895

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مال و دولت دوسرے لوگوں کے منافع کے لیے ملتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1692 ترقیم فقہی: -- 2222
-" إن لله أقواما يختصهم بالنعم لمنافع العباد، ويقرهم فيها ما بذلوها، فإذا منعوها نزعها منهم، فحولها إلى غيرهم".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نفع پہنچانے کے لیے کچھ لوگوں کو بطور خاص نعمتیں عطا کرتا ہے، اگر وہ خرچ کرتے رہیں تو وہ نعمتیں برقرار رہتی ہیں اور اگر وہ (صدقہ و خیرات کرنے سے) رک جایئں تو وہ ان سے سلب کر کے دوسروں کو عطا کر دیتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2222]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1692

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بندگان خدا اپنی عقل و فراست سے لوگوں کو پہچان لیتے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1693 ترقیم فقہی: -- 2223
-" إن لله عبادا يعرفون الناس بالتوسم".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے بعض بندے اپنی عقل و فراست سے دوسرے لوگوں کو پہچان لیتے ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2223]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1693

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں