🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80.  باب ليجتنب الوجه فى الضرب
مارنے میں چہرے سے بچنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 131
131/175 عن جابر قال: مر على النبي صلى الله عليه وسلم بدابة قد وسم يدخن منخراه! قال النبي صلى الله عليه وسلم:"لعن الله من فعل هذا، لا يمسنّ أحد الوجه ولا يضربنه".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جانور کے پاس سے گزرے جس کو داغا گیا تھا اور اس کی ناک کے نتھنوں سے دھواں نکل رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس آدمی پر لعنت کرے جس نے یہ کام کیا ہے تم میں سے کوئی نہ تو جانور کے چہرے کو داغ لگائے اور نہ اسے مارے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 131]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81.  باب من لطم عبده فليعتقه من غير إيجاب 
جو اپنے غلام کو طمانچہ مارے اسے چاہیے کہ اسے آزاد کر دے لیکن یہ واجب نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132
132/176 عن هلال بن يساف قال: كنا نبيع البزّ في دار سويد بن مقرن، فخرجت جارية، فقالت لرجل شيئاً، فلطمها ذلك الرجل. فقال له سويد بن مقرن: ألطمت وجهها؟! لقد رأيتني سابع سبعة وما لنا إلا خادم فلطمها بعضنا، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يعتقها.
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن کے گھر میں کپڑا فروخت کر رہے تھے۔ ایک لونڈی نکلی، اس نے کسی آدمی کو کو ئی بات کہہ دی۔ اس آدمی نے لونڈی کو طمانچہ مار دیا تو سوید بن مقرن نے اس سے کہا: کیا تم نے اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا؟ میں نے اپنے آپ کو سات اشخاص میں سے ایک پایا (یعنی ہم لوگ سات آدمی تھے) اور ہمارے پاس ایک ہی خادم تھا۔ ہم میں سے ایک آدمی نے اسے طمانچہ مار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے آزاد کر دیا جائے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 132]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132M1
132b/176 لطمت مولی لنا فقير، فدعاني أبي فقال (له) : اقتص، كنا ولد مقرن سبعة، لنا خادم فلطمها أحدنا، فذكر ذلك للنبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ”مرهم فليعتقوها.“ فقيل للنبي صلی اللہ علیہ وسلم: ليس لهم خادم غيرها. قال: فليستخدموها، فإذا استغنوا خلوا سبيلها / ۱۷۸.

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132M2
132c/176 وفي أخرى عن أبي شعبة عن سويد بن مقرن المزني - ورأى رجلا لطم غلامه - فقال: أما علمت أن الصورة محرمة؟ رأيتني وإني سابع سبعة إخوة، على عهد أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم، ما لنا إلا خادم، فلطمه أحدنا، فأمرنا النبي صلی اللہ علیہ وسلم ان نعتقه / ۱۷۹.

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
133/180 عن زاذان أبي عمر، قال: كنا عند ابن عمر، فدعا بغلام له كان ضربه فكشف عن ظهره، فقال: أيوجعك؟ قال: لا. فأعتقه، ثم رفع عوداً من الأرض فقال: ما لي فيه من الأجر ما يزن هذا العود؟ فقلت: يا أبا عبد الرحمن! لم تقول هذا؟ قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول – أو قال -:"من ضرب مملوكه حداً لم يأته، أو لطم وجهه، (وفي لفظ:" من لطم عبده أو ضربه حداً لم يأته/177) فكفارته أن يُعتقه".
ابوعمر زاذان سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے۔ تو انہوں نے اپنے غلام کو بلایا جسے انہوں نے مارا تھا۔ انہوں نے اس کی پیٹھ سے کپڑا ہٹایا۔ کہا: کیا تمہیں تکلیف ہو رہی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو انہوں نے غلام کو آزاد کر دیا، پھرتنکا زمین سے اٹھا کر کہا کہ مجھے اس کا اتنا بھی اجر نہیں ملے گا جتنا اس تنکے کا وزن ہے۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمان! آپ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے غلام کو بےقصور حد لگائے یا اس کی چہرے پر طمانچہ مار دے اور ایک روایت میں ہے: جس نے اپنے غلام کے چہرے پر تھپڑ مارا یا اسے ایسی حد لگائی جس کا اس نے ارتکا ب نہیں کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82.  باب قصاص العبد 
غلام کا قصاص لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 134
134/181 عن عمار بن ياسر قال:" لا يضرب أحدٌ عبداً له – وهو ظالم له – إلا أقيد منه (1) يوم القيامة".
عمار بن یاسر سے مروی ہے انہوں نے کہا: تم میں سے کوئی اپنے غلام کو نہیں مارتا اس حال میں کہ وہ ظالم ہو مگر اس سے قیامت کے دن قصاص لیا جائے گا [صحيح الادب المفرد/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 135
135/182 عن أبي ليلى قال: خرج سلمان فإذا علف دابته يتساقط من الآري (2) ، فقال لخادمه:"لولا أني أخاف القصاص (3) لأوجعتك".
ابولیلی نے بیان کیا کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نکلے جبکہ ان کے جانور کا چارہ کھرلی سے نیچے گر رہا تھا۔ اس پر انہوں نے اپنے خادم سے کہا: اگر مجھے قصاص کا ڈر نہ ہوتا تو میں تیری پٹائی کرتا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 135]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 136
136/183 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" لتؤدّن الحقوق على أهلها، حتى يقاد للشاة الجماء من الشاة القرناء".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرور حقوق ان کے مالکوں کو ادا کیے جائیں گے یہاں تک کہ بےسینگ بکری کا سینگ والی بکری سے قصاص لیا جائے گا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 136]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 137
137/185 عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"من ضرب ضرباً. [ظلماً/186] اقتص منه يوم القيامة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی کو ظلم کے طور پر مارا قیامت کے دن اس سے قصاص لیا جائے گا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83.  باب اكسوهم مما تلبسون 
غلاموں کو ویسا ہی لباس پہناؤ جیسا خود پہنتے ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 138
138/187 عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت قال: خرجت أنا وأبي نطلب العلم في هذا الحي من الأنصار، قبل أن يهلكوا، فكان أول من لقينا أبو اليسر (1) ، صاحب النبي صلى الله عليه وسلم ومعه غلام له، وعلى أبي اليسر بردة ومعافري، وعلى غلامه بردة ومعافري. فقلت له: يا عمي! لو أخذت بردة غلامك وأعطيته معافريك؛ أو أخذت معافريه وأعطيته بردتك كانت عليك حلة أو عليه حلة! فمسح رأسي وقال: اللهم بارك فيه. يا ابن أخي! بصر عيني هاتين، وسمع أذني هاتين، ووعاه قلبي – وأشار إلى نياط قلبه – النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" أطعموهم مما تأكلون، واكسوهم مما تلبسون"، وكان أن أُعطيه من متاع الدنيا أهون علي من أن يأخذ حسناتي يوم القيامة.
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے مروی ہے: میں اور میرے والد نکلے ہم انصار کے اس قبیلے میں علم کو تلاش کرتے تھے اس سے پہلے کہ وہ فوت ہو جائیں تو سب سے پہلے جس سے ہماری ملاقات ہوئی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابویسر تھے ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا، ابویسر پر ایک دھاری دار یمنی چادر تھی اور ایک معافری چادر تھی اور ان کے غلام پر بھی دھاری دار یمنی چادر اور معافری تھی۔ میں نے ان سے کہا: اے چچا جان! اگر آپ اپنے غلا م کی چادر لے لیتے اور اس کو اپنی معافری دے دیتے یا اس کی معافری لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے تو آپ پر بھی حلہ ہوتا اور ان پر بھی حلہ ہوتا، تو انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اس کو برکت دے، اے میرے بھتیجے! میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے خوب یاد رکھا اور اپنے دل کے درمیان کی طرف اشارہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ان کو کھلاؤ جہاں سے تم کھاتے ہو اور ان کو پہناؤ جہاں سے تم پہنتے ہو اور میں اسے دنیا کا سامان دے دوں یہ میرے لیے آسان ہے کہ قیامت کے دن یہ میری نیکیاں لے جائے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 138]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں