🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69.  باب فضل من مات له الولد 
جس کا بچہ فوت ہو گیا اس کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
111/149 عن أم سليم قالت: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم يوماً فقال:" يا أم سليم! ما من مسلمين يموت لهما ثلاثة أولاد، إلا أدخلهما الله الجنة، بفضل رحمته إياهم"، قلتُ: واثنان؟ قال:" واثنان".
سیدہ امّ سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے امّ سلیم! جس مسلمان (میاں بیوی) کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اللہ ان پر اپنی رحمت کے سبب دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) اور دو بچے بھی۔ فرمایا: اور دو بھی۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 112
112/150 عن صعصعة بن معاوية أنه لقي أبا ذر متوشحاً قربة، قال: ما لك من الولد يا أبا ذر؟ قال: ألا أحدثك؟ قلتُ: بلى. قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" ما من مسلم يموت له ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحِنث، إلا أدخله الله الجنة، بفضل رحمته إياهم. وما من رجل أعتق مسلماً إلا جعل الله عز وجل كلّ عضوٍ منه، فكاكه لكل عضوٍ منه".
سیدنا صعصعہ بن معاویہ رضی اﷲ عنہ نے بیان کیا کہ ان کہ سیدنا ابوذر رضی اﷲ عنہ سے ملاقات ہوئی وہ ایک مشک گلے میں لٹکائے ہوئے تھے۔ صعصعہ نے کہا: اے ابوذر! آپ کے کتنے بچے ہیں، انہوں نے کہا: میں آپ کو نہیں بتاؤں گا۔ میں نے کہا: آپ ضرور بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مسلمان کے تین ایسے بچے فوت ہو گئے جو ابھی بالغ نہ ہوئے تھے اللہ ان پر رحمت کرنے کے سبب اس باپ کو جنت میں دخل کر دے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان کو آزاد کیا اﷲ عزوجل اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے نجات دے گا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 112]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 113
113/151 عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" من مات له ثلاثة لم يبلغوا الحنث، أدخله الله وإياهم؛ بفضل رحمته، الجنة".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے اس حال میں فوت ہو گئے کہ ابھی بالغ نہ ہوئے تھے اﷲ تعالیٰ اس شخص کو بھی اور ان بچوں کو بھی اپنی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70.  باب من مات له سقط 
جس کسی کا حمل ساقط ہو گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 114
114/153 عن عبد الله [هو بن مسعود ] : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله؟". قالوا يا رسول الله! ما منا من أحد إلا ماله أحب إليه من مال وارثه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"اعلموا أنه ليس منكم أحدٌ إلا مال وارثه أحب إليه من ماله، مالك ما قدمت، ومال وارثك ما أخرت".
سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم میں سے کوئی بھی نہیں مگر اسے اس کا اپنا مال اس کے وارث کے مال سے زیادہ عزیز ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان لو، تم میں سے کوئی ایک ا یسا نہیں مگر اس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز ہے، تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے خرچ کر کے آگے بھیج دیا اور تمہارے وارث کا مال وہ ہے جو تم نے جمع کر کے پیچھے چھوڑ دیا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 114]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 115
115/154 قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"ما تعدون فيكم الرقوب (1) ؟". قالوا: الرقوب الذي لا يولد له، قال:" لا؛ ولكن الرقوب: الذي لم يقدم من ولده شيئاً".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے میں سے بانجھ کسے شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: بانجھ وہ ہے جس کی کوئی اولاد نہ ہو۔ فرمایا: نہیں، بلکہ بانجھ وہ ہے جس نے اپنی اولاد میں سے آگے کچھ بھی نہیں بھیجا۔ (یعنی اس کا کوئی بچہ بچپن میں فوت نہیں ہوا۔) [صحيح الادب المفرد/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 116
116/155 قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ما تعدون فيكم الصرعة؟". قالوا: هو الذي لا تصرعه الرجالُ، فقال:" لا؛ ولكن الصرعة الذي يملك نفسه عند الغضب".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا؟ تم اپنے میں سے پہلوان کسے شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: وہ جسے کوئی شخص زیر نہ کر سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے اوپر قابو پا لے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 116]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71.  باب حسن الملكة 
اچھا سلوک کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 117
117/157 عن عبد الله (هو ابن مسعود) عن النبى صلى الله عليه وسلم قال:"أجيبوا الداعي، ولا تردوا الهدية، ولا تضربوا المسلمين".
سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعوت دینے والے کی دعوت قبول کیا کرو، ہدیہ واپس نہ کرو، اور مسلمانوں کو مارا نہ کرو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 117]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 118
118/158 عن علي صلوات الله عليه قال: كان آخر كلام النبي صلى الله عليه وسلم:"الصلاة، الصلاة! اتقوا الله فيما ملكت أيمانكم".
سیدنا علی صلوات اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری گفتگو یہ تھی: نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا اور غلاموں کے بارے میں اﷲ سے ڈرتے رہنا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 118]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72.  باب سوء الملكة 
بدسلوکی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 119
119/159 عن أبي الدرداء؛ أنه كان يقول الناس:"نحن أعرف بكم من البياطرة بالدواب؛ قد عرفنا خياركم من شراركم. أما خياركم: الذي يرجى خيره، ويؤمن شرّه. وأما شراركم: فالذي لا يرجى خيره، ولا يؤمن شره، ولا يعتق محرره" (1) .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے: ہم تم کو اس سے زیادہ پہچانتے ہیں جتنا کہ جانوروں کے ڈاکٹر جانوروں کو پہچانتے ہیں۔ ہم نے تم میں سے اچھوں، بروں کو پہچان لیا۔ تمہارے اچھے وہ ہیں جن سے بھلائی کی امید رکھی جائے اور ا ن کے شر سے محفوظ رہا جائے اور تمہارے برے وہ ہیں جن سے خیر کی توقع نہ کی جائے اور ان کے شر سے محفوظ نہ رہا جائے اور اس کے آزاد کو غلام نہ بنایا جائے۔ (یعنی ایک آدمی کو آزاد کر کے اس پر احسان جتلاتے ہوئے اس سے کام کرواتے رہنا۔) [صحيح الادب المفرد/حدیث: 119]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد موقوفاً)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73.  باب بيع الخادم من الأعراب 
لونڈی کو دیہاتی کے ہاتھ فروخت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 120
120/162 عن عمرة؛ أن عائشة رضي الله عنها دبرت أمة لها، فاشتكت عائشة، فسأل بنو أخيها طبيباً من الزّط (1) . فقال: إنكم تخبروني عن امرأةٍ مسحورة، سحرتها أمة لها، فأخبرت عائشة. قالت: سحرتيني؟ فقالت: نعم (2) . فقالت: ولمَ؟ لا تنجين أبداً. ثم قالت:"بيعوها من شر العرب مَلَكة (3) " (4) .
عمرہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اپنی ایک لونڈی کو مدبر کیا (یعنی اسے کہا کہ تم میری موت کے بعد آزاد ہو۔) اس کے بعد سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کی طبیعت خراب ہو گئی۔ آپ کے بھتیجوں نے ایک سوڈانی (ہندوستانی) قوم سے طبیب بلایا۔ اس نے کہا: تم لوگ ایسی عورت کے بارے میں بتا رہے ہو جس پر ان کی لونڈی نے جادو کر دیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کو اس کی خبر کی گئی۔ تو انہوں نے لونڈی سے پوچھا: تو نے مجھے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تم نے کیوں جادو کیا؟ اب تم کبھی بھی نجات نہیں پاؤ گی۔ پھر فرمایا: اسے کسی بدخو بدوی کے ہاتھ بیچ دو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 120]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں