🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74.  باب العفو عن الخادم 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 121
121/163 عن أبي أمامة قال: أقبل النبي صلى الله عليه وسلم معه غلامان، فوهب أحدهما لعلي صلوات الله عليه، وقال:" لا تضربه؛ فإني نهيت عن ضرب أهل الصلاة، وإني رأيته يصلي منذ أقبلنا". وأعطى أبا ذر غلاماً، وقال:"استوص به معروفاً" فأعتقه، فقال:"ما فعل؟" قال: أمرتني أن استوصي به خيراً، فأعتقته.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو غلام تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک سیدنا علی صلوات اللہ علیہ کو دے دیا اور فرمایا: اس کو نہ مارنا، مجھے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور جب سے ہم آئے ہیں میں نے اس کو دیکھا ہے یہ نماز پڑھتا ہے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرا غلام دے دیا اور فرمایا: میری طرف سے اس کے متعلق اچھے سلوک کرنے کی نصیحت حاصل کر لو۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اسے آزاد کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا کیا کیا؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا تو میں نے اُسے آزاد کر دیا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 121]
تخریج الحدیث: (حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122
122/164 عن أنس قال: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وليس له خادم، فأخذ أبو طلحة بيدي، فانطلق بي، حتى أدخلني على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا نبي الله! إن أنساً غلام كيّس لبيب؛ فليخدمك، قال:"فخدمته في السفر والحضر، مقدمه المدينة، حتى توفي صلى الله عليه وسلم، ما قال لي لشيء صنعته: لم صنعت هذا هكذا؟ ولا قال لي لشيء لم أصنعه: ألا صنعت هذا هكذا؟".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی خادم نہ تھا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ اور کہا: یا نبی اﷲ! یہ انس سمجھدار اور ذہین لڑکا ہے، یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ سیدنا انس رضی اﷲ عنہ کا بیان ہے کہ پھر میں نے مدینہ میں تشریف آوری سے وفات تک سفر و حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی کام کرنے پر یہ نہ کہا کہ کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور نہ کسی کام کے نہ کرنے پر کبھی یہ فرمایا کہ ایسا کیوں نہ کیا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75.  باب الخادم يذنب
خادم غلطی کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
123/166 عن لقيط بن صبرة قال: انتهيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم، ودفع الراعي في المراح (1) سخلة (2) ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:"لا تحسِبَنّ – ولم يقل: لا تحسَبَنَّ– إن لنا غنماً مائة لا نريد أن تزيد، فإذا جاء الراعي بسخلة ذبحنا مكانها شاة". فكان فيما قال:" لا تضرب ظعينتك (3) كضربك أمتك، وإذا استنشقت فبالغ؛ إلا أن تكون صائماً".
لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہے کو باڑے کے اندر ایک بکری کا بچہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لاَ تَحْسِبَنَّ» اور یہ نہ کہا: «لاَ تَحْسَبَنَّ» (یعنی اس کو کسرہ کے ساتھ نہ پڑھا) یہ نہ سمجھنا ہم نے تمہارے لیے بکری ذبح کر دی ہے۔ ہمارے پاس سو بکریاں ہیں ہم نہیں چاہتے کہ سو سے زیادہ ہوں۔ جب چرواہا ایک بکری کا بچہ لاتا ہے ہم اس کی جگہ پر ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں تاکہ گنتی سو کی ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا اس میں یہ بھی تھا: اپنی بیوی کو یوں نہ مارنا جیسے تم لونڈی کو مارتے ہو اور جب تم ناک میں پانی چڑھاؤ تو مبالغہ کرو سوائے روزے کی حالت میں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76.  باب من ختم على خادمه مخافة سوء الظن 
مہر لگا کر خادم کے سپرد کچھ کرنا تاکہ بدگمانی سے بچا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 124
124/167 عن أبي العالية قال:" كنا نؤمر أن نختم على الخادم، ونكيل، ونعدها؛ كراهية أن يتعودوا خلق سوء، أو يظن أحدنا ظن سوء".
ابوعالیہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم خادموں کو کوئی چیز حوالہ کرنے سے پہلے اس پر مہر لگا دیں۔ اس کو ناپ کر اور گن کر چیز حوالہ کریں تاکہ اُن کی عادت بھی خراب نہ ہو اور ہمیں بھی بدگمانی نہ ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 124]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77.  باب من عد على خادمه مخافة الظن 
جو بدگمانی سے بچنے کے لیے اپنے خادم کو گن کر کوئی چیز دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 125
125/168 عن سلمان قال:"إني لأعدّ العراق (1) على خادمي، مخافة الظن (وفي رواية: خشية الظن/169) ".
سلمان سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے خادم کے لیے پْرگوشت ہڈیوں کو گن کر دیتا ہوں تاکہ بدگمانی کا کوئی موقعہ نہ رہے۔ ایک روایت میں «خشية الظن» کے الفاظ ہیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78.  باب أدب الخادم 
خادم کی ادب آموزی/خادم کو ادب سکھانے کے لیے مارنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
126/170 عن يزيد بن عبد الله بن قسيط قال: أرسل عبد الله بن عمر غلاماً له بذهب أو بورق، فصرفه، فأنظر بالصرف (1) ، فرجع إليه، فجلده جلداً وجيعاً، وقال:" اذهب. فخذِ الذي لي، ولا تصرفه".
یزید بن عبداللہ بن قسیط کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو سونا یا چاندی دے کر (بازار) بھیجا۔ اس نے اسے تبادلے میں بیچا تو تبادلہ لینے میں مہلت دے دی تو جب غلام واپس آیا تو انہوں نے اس کی بہت شدت کے ساتھ پٹائی کی۔ انہوں نے کہا: جاؤ وہ سرمایہ لے آؤ جو میرا تھا اور اس کے بدلے میں نہ لاؤ۔ (یعنی سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا نہ لاؤ۔) [صحيح الادب المفرد/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: (حسن الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
127/171 عن أبي مسعود قال: كنت أضرب غلاماً لي، فسمعت من خلفي صوتاً:"اعلم أبا مسعود! لله أقدر عليك منك عليه"، فالتفتّ، فإذا هو رسول الله صلى الله عليه وسلم. قلت: يا رسول الله! فهو حرّ لوجه الله. فقال:" أما لو (2) لم تفعل لمستك النار"، أو:" للفحتك النار".
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں، میں اپنے غلام کو مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی۔ اے ابومسعود! جان لو، اللہ تم پر زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر قدرت رکھتے ہو جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول یہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار اگر تم یہ کام نہ کرتے تو تجھے آگ اپنی لپیٹ میں لے لیتی یا تجھے آگ چھو لیتی۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79.  باب لا تقل: قبح الله وجهه 
یہ کبھی نہ کہو کہ اللہ اس کے چہرے کو داغ دار کر دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
128/172 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" لا تقولوا: قبح الله وجهه (1) ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ کہو، اللہ اس کے چہرے پر پھٹکار کرے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: (حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
129/173 عن أبي هريرة قال:" لا تقولن: قبح الله وجهك ووجه من أشبه وجهك ؛ فإن الله عز وجل خلق آدم صلى الله عليه وسلم على صورته" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ یہ ہرگز نہ کہا کرو: اللہ تیرے چہرے کو داغ دار کرے۔ اور اس کے چہرے کو بھی جو تیرے چہرے کے مشابہ ہو۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے آدم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی صورت پر پیدا کیا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: (حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80.  باب ليجتنب الوجه فى الضرب
مارنے میں چہرے سے بچنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 130
130/174 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"إذا ضرب أحدكم خادمه، فليجتنب الوجه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے تو اس کے چہرے کو بچا کر مارے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 130]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں