صحيح البخاري سے متعلقہ
32. باب عظة الإمام النساء وتعليمهن:
باب: اس بارے میں کہ امام کا عورتوں کو بھی نصیحت کرنا اور تعلیم دینا (ضروری ہے)۔
حدیث نمبر: 98
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ عَطَاءٌ أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ، وَبِلَالٌ يَأْخُذُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَقَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے ایوب کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں، یا عطاء نے کہا کہ میں ابن عباس پر گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ایک مرتبہ عید کے موقع پر مردوں کی صفوں میں سے) نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کو خیال ہوا کہ عورتوں کو (خطبہ اچھی طرح) نہیں سنائی دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں علیحدہ نصیحت فرمائی اور صدقے کا حکم دیا (یہ وعظ سن کر) کوئی عورت بالی (اور کوئی عورت) انگوٹھی ڈالنے لگی اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کے دامن میں (یہ چیزیں) لینے لگے۔ اس حدیث کو اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے روایت کیا، انہوں نے عطاء سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں (اس میں شک نہیں ہے)۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی غرض یہ ہے کہ اگلا باب عام لوگوں سے متعلق تھا اور یہ حاکم اور امام سے متعلق ہے کہ وہ بھی عورتوں کو وعظ سنائے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 98]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عید کے دن مردوں کی صف سے عورتوں کی جانب) نکلے اور آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے، آپ کو خیال ہوا کہ شاید عورتوں تک میری آواز نہیں پہنچی، اس لیے آپ نے انہیں نصیحت فرمائی اور صدقہ و خیرات دینے کا حکم دیا، تو کوئی عورت اپنی بالی اور کوئی اپنی انگوٹھی ڈالنے لگی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ (ان زیورات کو) اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ اس حدیث کو اسماعیل (ابن علیہ) نے ایوب سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرِيتُ النَّارَ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ يَكْفُرْنَ، قِيلَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ، قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ".
اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، وہ امام مالک سے، وہ زید بن اسلم سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں۔ کہا گیا یا رسول اللہ! کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو۔ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 29]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے دوزخ دیکھی تو وہاں اکثر عورتیں تھیں (کیونکہ) وہ کفر کرتی ہیں۔“ لوگوں نے کہا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ وہ اپنے خاوند کا کفر کرتی ہیں، یعنی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہیں۔ وہ یوں کہ اگر تو ساری عمر عورت سے اچھا سلوک کرے پھر وہ معمولی سی (ناگوار) بات تجھ میں دیکھے تو کہنے لگتی ہے کہ مجھے تجھ سے کبھی آرام نہیں ملا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 29]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 304
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ، فَقُلْنَ: وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ، قُلْنَ: وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟ قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟ قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے زید نے اور یہ زید اسلم کے بیٹے ہیں، انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کی کہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 304]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحی کے دن عید گاہ تشریف لے گئے۔ پھر آپ کا گزر عورتوں پر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”اے عورتوں کے گروہ! تم صدقہ زیادہ کیا کرو کیونکہ میں نے تمہاری اکثریت جہنم میں دیکھی ہے۔“ وہ بولیں: یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم لعنت بہت کرتی ہو اور اپنے خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے تم سے زیادہ کسی کو دین و عقل میں نقص رکھنے کے باوجود پختہ رائے مرد کی عقل کو لے جانے والا نہیں پایا۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری عقل اور دین میں نقصان (کمی) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا عورت کی گواہی مرد کی نصف گواہی کے برابر نہیں؟“ انہوں نے کہا: بے شک ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا یہ حقیقت نہیں کہ جب عورت کو حیض آتا ہے تو وہ نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، یہ تو ہے۔ آپ نے فرمایا: ”بس یہی عورت کے دین کا نقصان ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 304]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 863
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ رَجُلٌ:" شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَى حَلْقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، ثُمَّ أَتَى هُوَوَبِلَالٌ الْبَيْتَ".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے ایک شخص نے یہ پوچھا تھا کہ کیا تم نے (عورتوں کا) نکلنا عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں دیکھا ہے اگر میں آپ کا رشتہ دار عزیز نہ ہوتا تو کبھی نہ دیکھتا (یعنی میری کم سنی اور قرابت کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے) کثیر بن صلت کے مکان کے پاس جو نشان ہے پہلے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سنایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں بھی وعظ و نصیحت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خیرات کرنے کے لیے کہا، چنانچہ عورتوں نے اپنے چھلے اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنی شروع کر دیے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھر تشریف لائے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 863]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے کسی آدمی نے دریافت کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کو کبھی باہر حاضر ہونے کا اتفاق ہوا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اور اگر میرا مرتبہ اور مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اتنا نہ ہوتا تو میں چھوٹے ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ حاضر نہیں ہو سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے قریب ہے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے، انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیا، چنانچہ کوئی عورت (اپنی بالی، کوئی انگوٹھی اور کوئی) اپنے زیور کی طرف ہاتھ بڑھا کر اسے اتار کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی چادر میں ڈالنے لگی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اپنے گھر لوٹ آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 863]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 962
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَكُلُّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ قَبْلَ الْخُطْبَةِ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ نے فرمایا کہ میں عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سب کے ساتھ گیا ہوں یہ لوگ پہلے نماز پڑھتے، پھر خطبہ دیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 962]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نماز عید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ پڑھی ہے، یہ سب حضرات خطبے سے پہلے نماز عید پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 962]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 964
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ تُلْقِي الْمَرْأَةُ خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے عدی بن ثابت سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کے دن دو رکعتیں پڑھیں نہ ان سے پہلے کوئی نفل پڑھا نہ ان کے بعد۔ پھر (خطبہ پڑھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے اور بلال آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا خیرات کرو۔ وہ خیرات دینے لگیں کوئی اپنی بالی پیش کرنے لگی کوئی اپنا ہار دینے لگی۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 964]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کے دن دو رکعت نماز پڑھی، اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی نماز ادا نہ کی، پھر عورتوں کی طرف تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے، عورتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو وہ خیرات ڈالنے لگیں، حتیٰ کہ عورتیں اپنی بالیاں اور ہار تک ڈالنے لگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 964]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 975
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ".
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالرحمٰن بن عابس سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عیدالفطر یا عید الاضحی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر عورتوں کی طرف آئے اور انہیں نصیحت فرمائی اور صدقہ کے لیے حکم فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 975]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک دفعہ عیدالفطر یا عیدالاضحیٰ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے اور وعظ و نصیحت فرمانے کے بعد انہیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 977
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قِيلَ لَهُ:" أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنَ الصِّغَرِ مَا شَهِدْتُهُ حَتَّى أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ بِأَيْدِيهِنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلَى بَيْتِهِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان ثوری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدگاہ گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اور اگر باوجود کم عمری کے میری قدر و منزلت آپ کے یہاں نہ ہوتی تو میں جا نہیں سکتا تھا۔ آپ اس نشان پر آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے قریب ہے۔ آپ نے وہاں نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ اس کے بعد عورتوں کی طرف آئے۔ آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ نے انہیں وعظ اور نصیحت کی اور صدقہ کے لیے کہا۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے ہاتھوں سے بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالے جا رہی تھیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ گھر واپس ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 977]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز عید میں شریک ہوئے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اگر میرا چھوٹے ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مرتبہ اور مقام نہ ہوتا تو میں عید کا مشاہدہ نہ کر سکتا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز عید کے لیے) نکلے یہاں تک کہ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا، نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں کو وعظ و نصیحت فرمائی اور صدقے کا حکم دیا، چنانچہ میں نے عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ جھکا کر اپنے زیورات حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالتی تھیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 977]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 979
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" شَهِدْتُ الْفِطْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يُصَلُّونَهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ يُخْطَبُ بَعْدُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ مَعَهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا: أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكِ قَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ: لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا، نَعَمْ لَا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ قَالَ: فَتَصَدَّقْنَ، فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ لَكُنَّ فِدَاءٌ أَبِي وَأُمِّي فَيُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: الْفَتَخُ الْخَوَاتِيمُ الْعِظَامُ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
ابن جریج نے کہا کہ حسن بن مسلم نے مجھے خبر دی، انہیں طاؤس نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھنے گیا ہوں۔ یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے اور بعد میں خطبہ دیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزرتے ہوئے عورتوں کی طرف آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ”اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کے لیے آئیں“ الآیہ۔ پھر جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ کیا تم ان باتوں پر قائم ہو؟ ایک عورت نے جواب دیا کہ ہاں۔ ان کے علاوہ کوئی عورت نہ بولی، حسن کو معلوم نہیں کہ بولنے والی خاتون کون تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کے لیے حکم فرمایا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ لاؤ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ چنانچہ عورتیں چھلے اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ عبدالرزاق نے کہا «فتخ» بڑے (چھلے) کو کہتے ہیں جس کا جاہلیت کے زمانہ میں استعمال تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 979]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں عید الفطر کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ شریک ہوا۔ یہ تمام حضرات نماز عید خطبہ سے پہلے پڑھتے، پھر خطبہ دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، گویا میں اب بھی آپ کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ اپنے ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے، پھر آپ صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس آئے۔ آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ﴾ [سورة الممتحنة: 12] ”اے نبی! جب آپ کے پاس اہل ایمان خواتین بیعت کے لیے حاضر ہوں۔۔“ پھر جب آپ اس کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تم سب اس وعدے پر قائم ہو؟“ تو ان عورتوں میں سے صرف ایک عورت نے ہاں میں جواب دیا۔ اس کے علاوہ کسی عورت نے آپ کی بات کا جواب نہ دیا۔ (راویِ حدیث) حسن کہتے ہیں کہ اس عورت کے متعلق علم نہیں وہ کون تھی؟ آپ نے فرمایا: ”تم صدقہ و خیرات کیا کرو۔“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ تم لاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں! چنانچہ وہ عورتیں اپنی انگوٹھیاں اور چھلے بلال کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ امام عبد الرزاق نے کہا: «الْفَتَخُ» سے مراد ”بڑی انگوٹھیاں“ ہیں جن کا عہد جاہلیت میں رواج تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 979]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 989
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا وَمَعَهُ بِلَالٌ".
ہم سے ابوولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نکلے اور (عیدگاہ) میں دو رکعت نماز عید پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس سے پہلے نفل نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 989]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن باہر تشریف لے گئے، وہاں دو رکعت نماز عید پڑھی لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد کچھ نہیں پڑھا، آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 989]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1431
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَدِيٌّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، ثُمَّ مَالَ عَلَى النِّسَاءِ , وَمَعَهُ بِلَالٌ فَوَعَظَهُنَّ , وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُلْبَ وَالْخُرْصَ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عیدگاہ میں) دو رکعت نماز پڑھائی۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف آئے۔ بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کے لیے حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں کنگن اور بالیاں (بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1431]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن باہر تشریف لائے، دو رکعت نماز پڑھائی جبکہ اس سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہ پڑھی، پھر آپ نے عورتوں کی طرف توجہ فرمائی، حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ہمراہ تھے، چنانچہ آپ نے عورتوں کو وعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتوں نے اپنے کنگن اور بالیاں (حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنی شروع کر دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1431]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1449
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , قَالَ: قَال ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلَالٌ نَاشِرَ ثَوْبِهِ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي، وَأَشَارَ أَيُّوبُ إِلَى أُذُنِهِ وَإِلَى حَلْقِهِ".
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل نے ایوب سے بیان کیا اور ان سے عطاء بن ابی رباح نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا اس وقت میں موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز (عید) پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عورتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں پہنچی ‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بھی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے جو اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو وعظ سنایا اور ان سے صدقہ کرنے کے لیے فرمایا اور عورتیں (اپنا صدقہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔ یہ کہتے وقت ایوب نے اپنے کان اور گلے کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1449]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً آپ نے خطبہ عید سے پہلے نماز عید پڑھی اور آپ کو خیال ہوا کہ ”میں عورتوں کو وعظ نہیں سنا سکا ہوں،“ اس لیے آپ عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، چنانچہ آپ نے عورتوں کو وعظ فرمایا اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں (اپنے ہار وغیرہ) ڈالنے لگیں۔ یہ حدیث بیان کرتے وقت ایوب راوی نے اپنے کان اور گلے کی طرف اشارہ کیا، یعنی بالیاں اور ہار بطور صدقہ دینے لگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1449]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1462
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ , فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ , فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ، فَقُلْنَ: وَبِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَذِهِ زَيْنَبُ، فَقَالَ: أَيُّ الزَّيَانِبِ، فَقِيلَ: امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: نَعَمْ ائْذَنُوا لَهَا، فَأُذِنَ لَهَا، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ أَمَرْتَ الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ لِي فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ‘ انہیں عیاض بن عبداللہ نے ‘ اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ پھر (نماز کے بعد) لوگوں کو وعظ فرمایا اور صدقہ کا حکم دیا۔ فرمایا: لوگو! صدقہ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف گئے اور ان سے بھی یہی فرمایا کہ عورتو! صدقہ دو کہ میں نے جہنم میں بکثرت تم ہی کو دیکھا ہے۔ عورتوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اس لیے کہ تم لعن وطعن زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے تم سے زیادہ عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو کار آزمودہ مرد کی عقل کو بھی اپنی مٹھی میں لے لیتی ہو۔ ہاں اے عورتو! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر پہنچے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ زینب آئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کون سی زینب (کیونکہ زینب نام کی بہت سی عورتیں تھیں) کہا گیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اچھا انہیں اجازت دے دو ‘ چنانچہ اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے آ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آج آپ نے صدقہ کا حکم دیا تھا۔ اور میرے پاس بھی کچھ زیور ہے جسے میں صدقہ کرنا چاہتی تھی۔ لیکن (میرے خاوند) ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے لڑکے اس کے ان (مسکینوں) سے زیادہ مستحق ہیں جن پر میں صدقہ کروں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا۔ تمہارے شوہر اور تمہارے لڑکے اس صدقہ کے ان سے زیادہ مستحق ہیں جنہیں تم صدقہ کے طور پر دو گی۔ (معلوم ہوا کہ اقارب اگر محتاج ہوں تو صدقہ کے اولین مستحق وہی ہیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1462]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن عیدگاہ تشریف لے گئے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، فرمایا: ”لوگو! صدقہ کیا کرو۔“ پھر عورتوں کے پاس گئے اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، میں نے تمہیں بکثرت جہنم میں دیکھا ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم لعن و طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہروں کی نافرمانی کرتی ہو، اے عورتو! میں نے عقل و دین میں تم سے زیادہ ناقص کسی کو نہیں دیکھا جو بڑے زیرک و دانا کی عقل کو مضمحل کر دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے، جب گھر تشریف لائے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، چنانچہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! زینب آئی ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا: ”کون سی زینب؟“ عرض کیا گیا: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا! انہیں اجازت دے دو۔“ چنانچہ اجازت دی گئی۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے آج صدقہ دینے کا حکم دیا ہے اور میرے پاس کچھ زیور ہے، میں چاہتی ہوں کہ اسے خیرات کر دوں، مگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وہ اور اس کے بچے زیادہ مستحق ہیں کہ انہیں صدقہ دوں، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن مسعود نے صحیح کہا ہے، تمہارے خاوند اور تمہارے بچے اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان کو صدقہ دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1466
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ. ح فَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً , قَالَتْ:" كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ تُنْفِقُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهَا، قَالَ: فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْكَ وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حَجْرِي مِنَ الصَّدَقَةِ؟ فَقَالَ: سَلِي أَنْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى الْبَابِ حَاجَتُهَا مِثْلُ حَاجَتِي، فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِي فِي حَجْرِي؟ وَقُلْنَا لَا تُخْبِرْ بِنَا، فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ , فَقَالَ: مَنْ هُمَا؟ , قَالَ: زَيْنَبُ، قَالَ: أَيُّ الزَّيَانِبِ؟ , قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے شقیق نے ‘ ان سے عمرو بن الحارث نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے۔ (اعمش نے) کہا کہ میں نے اس حدیث کا ذکر ابراہیم نحعی سے کیا۔ تو انہوں نے بھی مجھ سے ابوعبیدہ سے بیان کیا۔ ان سے عمرو بن حارث نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب نے ‘ بالکل اسی طرح حدیث بیان کی (جس طرح شقیق نے کی کہ) زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے ‘ صدقہ کرو ‘ خواہ اپنے زیور ہی میں سے دو۔ اور زینب اپنا صدقہ اپنے شوہر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور چند یتیموں پر بھی جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی تھیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھئے کہ کیا وہ صدقہ بھی مجھ سے کفایت کرے گا جو میں آپ پر اور ان چند یتیموں پر خرچ کروں جو میری سپردگی میں ہیں۔ لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم خود جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو۔ آخر میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کو پایا۔ جو میری ہی جیسی ضرورت لے کر موجود تھیں۔ (جو زینب ابومسعود انصاری کی بیوی تھیں) پھر ہمارے سامنے سے بلال گذرے۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیجئے کہ کیا وہ صدقہ مجھ سے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنی زیر تحویل چند یتیم بچوں پر خرچ کر دوں۔ ہم نے بلال سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا۔ وہ اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دو عورتیں مسئلہ دریافت کرتی ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں کون ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ زینب نام کی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون سی زینب؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! بیشک درست ہے۔ اور انہیں دو گنا ثواب ملے گا۔ ایک قرابت داری کا اور دوسرا خیرات کرنے کا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1466]
حضرت زینب رضی اللہ عنہا زوجہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مسجد میں تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتو! تم صدقہ کرو اگرچہ زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔“ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اپنے شوہر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان یتیم بچوں پر خرچ کرتی تھیں جو ان کی پرورش میں تھے۔ انہوں نے اپنے شوہر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں آیا میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں تم پر اور ان یتیم بچوں پر خرچ کروں؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم خود ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کر لو، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاریہ عورت کو پایا۔ اس کی حاجت بھی میری حاجت جیسی تھی۔ اتنے میں ہمارے پاس سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ گزرے تو ہم نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو، آیا میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں اپنے شوہر اور ان یتیم بچوں پر خرچ کروں جو میری پرورش میں ہیں؟ اور ہم نے یہ بھی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا ذکر نہ کرنا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دو عورتیں کون ہیں؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: زینب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون سی زینب؟“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اس کے لیے دو اجر ہیں۔ ایک قرابت داری (صلہ رحمی) کا ثواب اور دوسرا صدقے کا اجر۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1466]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 2895
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَوْمًا فِي بَيْتِهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُضْحِكُكَ، قَالَ: عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَيَقُولُ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَتَزَوَّجَ بِهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الْغَزْوِ، فَلَمَّا رَجَعَتْ قُرِّبَتْ دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَوَقَعَتْ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ فرمایا مجھے اپنی امت میں ایک ایسی قوم کو (خواب میں دیکھ کر) خوشی ہوئی جو سمندر میں (غزوہ کے لیے) اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی وہ ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین دفعہ ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ ان کو (اسلام کے سب سے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ) غزوہ میں لے گئے، واپسی میں سوار ہونے کے لیے اپنی سواری سے قریب ہوئیں (سوار ہوتے ہوئے یا سوار ہونے کے بعد) گر پڑیں جس سے آپ کی گردن ٹوٹ گئی اور شہادت کی موت پائی۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 2895]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت سے ایسے لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی جو جہاد کے لیے سمندر میں اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر فروکش ہوں۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی ان میں سے ہو۔“ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین مرتبہ ہوا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے لوگوں کے ساتھ ہو گی۔“ چنانچہ انھوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو وہ انھیں بحری غزوے میں اپنے ساتھ لے گئے۔ واپسی کے وقت جب وہ سوار ہونے کے لیے اپنی سواری کے قریب ہوئیں تو سوار ہوتے ہی گر پڑیں، جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی (اور انھوں نے شہادت کی موت پائی)۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 2895]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 5249
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَأَلَهُ رَجُلٌ:" شَهِدْتَ مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ أَضْحًى أَوْ فِطْرًا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلَى بِلَالٍ، ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وبِلَالٌ إِلَى بَيْتِهِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے ایک شخص نے یہ سوال کیا تھا کہ تم بقر عید یا عید کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار نہ ہوتا تو میں اپنی کم سنی کی وجہ سے ایسے موقع پر حاضر نہیں ہو سکتا تھا۔ ان کا اشارہ (اس زمانے میں) اپنے بچپن کی طرف تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور (لوگوں کے ساتھ عید کی) نماز پڑھی اور اس کے بعد خطبہ دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں خیرات دینے کا حکم دیا۔ میں نے انہیں دیکھا کہ پھر وہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھا بڑھا کر (اپنے زیورات) بلال رضی اللہ عنہ کو دینے لگیں۔ اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5249]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے کسی آدمی نے پوچھا: ”کیا تم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں اور اگر میرا مقام و مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نہ ہوتا تو میں اپنی صغر سنی کی وجہ سے ایسے موقع پر حاضر نہیں ہو سکتا تھا۔“ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے، لوگوں کو نماز عید پڑھائی اور خطبہ دیا۔ انہوں نے اس نماز کے لیے اذان و اقامت کا ذکر نہیں کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے انہیں وعظ و نصیحت فرمائی، نیز انہیں صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیا۔ میں نے ان کو دیکھا کہ وہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھیں، اپنے زیورات حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے کر رہی تھیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ دونوں اپنے گھر واپس تشریف لے آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5249]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 5770
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ"، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ، فَيُجْرِبُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانا، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اسے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگا دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5770]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”متعدی بیماری، صفر کی نحوست اور الو کی کوئی حقیقت نہیں۔“ ایک دیہاتی نے کہا: ”اللہ کے رسول! ان اونٹوں کے متعلق آپ کیا کہیں گے جو ریگستان میں ہرنوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن ان میں ایک خارشی اونٹ آ جاتا ہے تو وہ سب کو خارشی بنا دیتا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5770]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 5771
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ: سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ بَعْدُ يَقُولُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ"، وَأَنْكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَدِيثَ الْأَوَّلِ، قُلْنَا أَلَمْ تُحَدِّثْ أَنَّهُ لَا عَدْوَى فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَمَا رَأَيْتُهُ نَسِيَ حَدِيثًا غَيْرَهُ.
اور ابوسلمہ سے روایت ہے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے صحت مند اونٹوں میں نہ لے جائے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پہلی حدیث کا انکار کیا۔ ہم نے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) عرض کیا کہ آپ ہی نے ہم سے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ چھوت یہ نہیں ہوتا پھر وہ (غصہ میں) حبشی زبان بولنے لگے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ اس حدیث کے سوا میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اور کوئی حدیث بھولتے نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5771]
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ کہتے ہوئے سنا: ”کوئی شخص بیمار اونٹ کو صحت مند اونٹوں کے پاس نہ لے جائے۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی پہلی بیان کردہ حدیث کا انکار کر دیا۔ ہم نے (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے) کہا: کیا آپ ہی نے یہ حدیث بیان کی تھی کہ ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی؟“ تو انہوں نے غصے میں حبشی زبان میں کوئی بات کہی۔ ابو سلمہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے انہیں اس کے علاوہ کوئی دوسری حدیث بھولتے نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5771]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 5773
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا عَدْوَى".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت کی کوئی حقیقت نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5773]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5773]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 5880
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ" قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَزَادَ ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،" فَأَتَى النِّسَاءَ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ".
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف گئے (اور صدقہ کی ترغیب دلائی) تو عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5880]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔“ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لے گئے (آپ نے انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی) تو انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں انگوٹھیاں اور چھلے ڈالنا شروع کر دیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5880]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 5881
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تَصَدَّقُ بِخُرْصِهَا وَسِخَابِهَا".
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن (آبادی سے باہر) گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی آپ نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں پڑھی پھر آپ عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں اور خوشبو اور مشک کے ہار صدقہ میں دینے لگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5881]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن باہر تشریف لے گئے اور دو رکعتیں پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عید سے پہلے یا بعد کوئی نوافل نہیں پڑھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لے گئے، انہیں صدقہ کرنے کا شوق دلایا تو انہوں نے اپنی بالیاں اور خوشبودار ہار صدقہ کرنا شروع کیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5881]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَأَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً، ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ فَأَمَرَ بِلَالًا: فَأَتَاهُنَّ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں میں اس وقت کم سن تھا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھ کو اتنا نزدیک کا رشتہ نہ ہوتا اور کم سن نہ ہوتا تو آپ کے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے اور وہاں آپ نے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ انہوں نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ نے صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور گردنوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں زیوروں کا صدقہ دینے کے لیے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا، وہ آئے اور صدقہ میں ملی ہوئی چیزوں کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7325]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے پوچھا گیا: ”کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عید میں حاضر ہوئے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، میں اس وقت کم سن تھا، اگر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قربت (کا شرف) حاصل نہ ہوتا تو میں اپنے بچپن کے باعث حاضر نہ ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) نکل کر اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ دیا (راوی نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور گریبانوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عورتوں کے پاس جائیں، پھر وہ (ان سے صدقات لے کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس چلے گئے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7325]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»